پوسٹ ماڈرن درویش کی جانب سے ایک ’برگِ سبز‘ —– جمیل احمد عدیل

1

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی جواں سال نقاد، نظم گو اور روشن بصر دانشور ہیں۔ دس(۱۰) سے زائد وقیع کتب کے سرورق ان کے دستخط سے مزین ہیں۔ مطالعے میں تنوع اور وسعت کے عملی طور پر قائل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کی تخلیقی نگارشات سے لے کر تنقیدی/تحقیقی مساعی تک کچھ بھی عموم کے زمرے میں اسیر نظر نہیں آتا؛ گویا انھوں نے شعور کی بیداری کے ساتھ مصابرت کے دشوار گزار راستے کا چنائو کیا ہے اور فی زمانہ یہ جادہ قریب قریب متروک ہو گیا ہے کہ اب سریع الرفتار علیم و ادیب و شاعر مسابقت کے جنون میں دائمی گرفتاری کو اعلانیہ ترجیح قرار دے کر ناموری کی جنگ لڑ رہے ہیں؛ ایسے میں کوئی دیوانہ کامل دو برس عزلت گزیں رہ کر محض ایک خُشک سی‘ کتاب کے مساوی ترجمہ شدہ مواد کو پیش کش بنا پائے ___بظاہر کوئی غیر معمولی کارنامہ محسوس نہیں ہوتا!! لیکن واقعہ یہ ہے انھوں نے اردو میں یکسر نئے خمکدے کا بنیادی پتھر اپنے ہاتھ سے رکھنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے!!

ڈاکٹر نیازی کی شبانہ روز کاوش کا ثمر: ’ماحولیاتی تنقید: نظریہ اور عمل‘ سے معنون ہو کر سامنے آیا ہے۔ فی الاصل یہ دس منتخب علمی/فکری مقالات ہیں،جنھیں انگلش سے اردو کے قالب میں ہنرمندی کے ساتھ ڈھالا گیا ہے۔ (۱)

ہر تحریر کا مصنف جدا ہے لیکن موضوعی تشارک جملہ مشمولات کو ایک منطقے میں یکجا کر رہا ہے۔ مذکورہ موضوع کم از کم انتقادیات کی ترجمان مقامی روایت میں کافی اجنبی ہے: جی ہاں ____ Ecocriticism ____اسی کو ’ماحولیاتی تنقید‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس باب میں میسر آنے والی توضیح کی تلخیص یوں بھی ترتیب پا سکتی ہے:

’’(Ecology) یہ اصطلاح یونانی لفظ ’Oikes‘بمعنی گھر یا رہنے کی جگہ سے ماخوذ ہے۔ ۱۸۷۳ء میں یہ اصطلاح Ernst Haeckel نے علم حیاتیات کی اس شاخ کے لیے وضع کی تھی جو اجسام نامیہ اور ماحول کے باہمی رشتوں کا مطالعہ کرتی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔۔۔ نباتیات کے سلسلے میں اس علم کو حیوانات کے مقابلے میں زیادہ فروغ حاصل ہوا۔۔۔ ماحولیات کو متعدد ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے، مثلاً؛ آبادیاتی، ارتقائی، گروہی، نفسیاتی اور کرداری۔۔۔‘‘ (تشریحی لغت/ص:۲۵۸)

سادہ الفاظ میں Ecology/Bionomics شعبہ حیاتیات سے منسلک وہ شاخ ہے جس میں اجسامِ نامیہ اور ان سے وابستہ ذی روح/غیرذی روح مجموعی قدرتی ماحول کے مابین ارتباط کو مطالعے کا مرکزہ بنایا جاتا ہے۔

اس ضمن میں دو اساسی سوالات اہمیت اختیار کر جاتے ہیں:
l ارض اور اس کے متعلقات پر ماحول کی معنویت کن جہتوں سے محیط ہے؟
l اس تناظرمیں آرٹ اور لٹریچر کے ساتھ کیا نئے رشتے ظہور پذیر ہوتے ہیں؟

یوں غور کیا جائے تو تصدیق کرنی پڑے گی کہ استفہامی زاویے اپنی عمیق زرخیزیوں کے باعث خاص منہاج پر نشوونما پاتے ہوئے ایک مربوط فکری نظام کو برابر تشکیل دیتے چلے جا رہے ہیں___اور غائر نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جہاں ایک تازہ طرزِ احساس کو فروغ مل رہا ہے وہاں کچھ قدیم کلیے ہاتھ سے پھسلے ہوئے نازک زجاج کی طرح تیزی سے کرچیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں____اور کسی آئیڈیالوجی کے جاندار ہونے کا ایک پیمانہ ردوقبول کی توانائیوں کا یکایک Generate ہوجانا بھی ہے، جیسے Emotional Intelligence کا کرشمہ!! ہاں! یہ ہوتا دفعتاً ہے لیکن Fool’s bolt soon shot والی مضحکہ خیزی کا اس میں شائبہ تک موجود نہیں____سو، اِس مکتبِ فکر پر تحدید کی تہمت عاید ہو گی بھی تو زیادہ سے زیادہ یہی کہ یہاں اثرونفوذ کا علاقہ اُس بیضوی گولے تک محدود ہے جِسے ارض کہا جاتا ہے، کیا ہوا اگر ایک علمی اور عملی مسئلے کی اہمیت کے پیش نگاہ زمین کو ایک زنار کے ذریعے مقید کر لیا گیا ہے____علاوہ ازیںمانا کہ اکوان و عوالم کے سلاسل لامتناہی ہیں مگر شوقیہ آفاق میں گم ہونا یا بطور تعلی آفاق کو اپنے وجود میں گمکرنے کا ادعا، آخر اس کی معاً احتیاج ہی کیا ہے؟ نیز کیا زمینی عملداری (Jurisdiction) کے تمام قضایا کسی منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں؟ اس سلطنت کا ایک اہم مقدمہ بہررنگ ’ماحول‘ ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری سے چشم پوشی کا نتیجہ ہمہ اقسام کی آلودگی اور ہلاکت ظاہر و باہر ہے:’’ماحول کو متاثر کرنے والے بعض بڑے حادثات___ مثلاً:۳دسمبر ۱۹۸۴ء کو بھوپال میں یونین کاربائیڈ کے کارخانے سے زہریلی گیس کا اخراج___پچیس سو(۲۵۰۰) اموات___ اور چرنوبل (روس) کے جوہری ری ایکٹر کا حادثہ____۲۶؍اپریل ۱۹۸۶ء جس میں چھتیس(۳۶) اموات فوری طور پر ہوئیں، دو سو اکتیس(۲۳۱) افراد شدید ریڈیائی امراض میں مبتلا ہوئے، نیز اندازہ لگایا گیا کہ کم و بیش چونتیس ہزار(۳۴۰۰۰) متاثرہ افراد کی موت اسی مادے کی وجہ سے آئندہ چالیس(۴۰) برس میں متوقع ہے۔‘‘ یوں بجاطور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکا اور مغربی یورپ سمیت کئی ممالک میں ’ماحول بچائو‘ قانون سازی توجہ پا رہی ہے___برسبیل تذکرہ یاد آیا، رحیم گُل کے ناول: ’جنت کی تلاش‘ میں جب جھیل سیف الملوک کا Stunning منظرسامنے آتا ہے تو راوی یہ دیکھ کر دم بخود رہ جاتاہے کہ___ چاروں طرف دودھ کی طرح سفید برف میں لپٹے ہوئے سربفلک پہاڑ اور ان کے درمیان ڈیڑھ میل سبزوشفاف پانی کی جھیل یوں لگ رہی تھی جیسے سفید سونے کی انگوٹھی میں سیال زمرد کا نگینہ____مگر ایک چیز اسے پسند نہیں آتی: ’’مجھے وہ ہٹ بری طرح کھل رہا تھا جو جھیل کے مغربی جانب اکیلا ایستادہ تھا۔ انسانی ہاتھوں کی بنی ہوئی یہ مصنوعی چیز فطرت کے اس حسین منظر کا جزو بننا مجھے گوارا نہیں تھی۔‘‘(ص:۲۱۰)

اگرچہ بادی النظر میں تاثر یہی مرتسم ہوتا ہے کہ Ecology میں نباتات کو فوقیت دی گئی ہے لیکن حیوانات کو بھی ’مظاہر فطرت‘ کا جزو تسلیم کیا گیا ہے اور انسان بڑا دلچسپ ’مظہر‘ ہے کہ ایک طرف حیوانات سے اپنا لگائو ظاہر کرتا ہے لیکن جانے کیوں انھیں مطیع کرنے کے چکر میں رہتا ہے؛ شاید منفعت پرستی کا مسلک اپنانے کے باعث اس کا Object یہی رہا ہے کہ چوپایوں کے ہر ہر جزو سے فائدہ کشید کیا جائے___ اور اس کے متوازی بہائم کے ساتھ باقاعدہ عداوت بھی انسانی وتیرہ ہے؛ اس کے ذہن میں یہ بات پختہ ہو چکی ہے کہ وہ دیگر ارضی مخلوقات کا رقیب ہے، نیز یہ سمجھتا ہے وحوش و طیور سے اس کی رقابت دو طرفہ ہے (۲) ڈاکٹر وزیر آغا نے ایک جگہ لورین ایز لے کی کتاب:The Immense Journey کےContents پر بات کی ہے کہ زندگی سمندر سے برآمد ہوئی اور پھر نباتات و حیوانات اور پرندوں کی صورت میں مصروفِ سفر ہوئی اور لاکھوں کروڑوں برس تک کروٹ پر کروٹ لیتی چلی گئی مگر آج سے محض چند لاکھ سال پہلے انسان بھی اس کارروائی میں شامل ہو گیا اور چرند پرند کے لیے یہ ابھی اجنبی ہے!!ایزلے کے الفاظ ہیں: ’’جب میں صبح کے جھٹپٹے میں بیدار ہوتا ہوں اور نیویارک کی کسی بلندوبالا عمارت کی چھت پر سے پرندوں کی چہکار کو سنتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے پرندے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں: ’کیا وہ (انسان) ابھی گیا نہیں؟‘___!!‘‘

ماحولیات کے اس خاص پہلو کو طرزِ فکر بنانے والوں کو پڑھیں تو یہ سوال اپنے آپ ابھرتا ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں صدیوں سے راسخ یہ خوش فہمی کیا کبھی رخصت ہو سکتی ہے__ کہ__ زمین کیا وہ کائنات کا نیوکلیسہے؟ بلکہ ذرا رومانوی لہجے میں بات کی جائے تو وہ کاسموس کو برات سمجھتا ہے اور خود کو دولھا!! ماحولیات کے مخصوص مباحث اس نقطہ ماسکہ کو معروضی انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ متذکرہ ’بشری نرگسیت‘ فطرت سے دوستی کے معاملے میں سدراہ ثابت ہو رہی ہے، اس کا سدِّباب ہونا چاہیے!! اس کتاب میں شامل سکاٹ رسل سینڈرز کا مضمون: ’فطرت کی حمایت میں‘ بڑے پرلطف استدلال کے ساتھ بعض مغالطوں کو نام زد کرتے ہوئے اس امر کی طرف بلیغ اشارے کرتا ہے___مثال کے طور پر اس کا کہنا ہے: ’’فطرت کے بارے میں ہمارے نظریات جس قدر بلند اور ٹھوس ہیں، ہمارا ذاتی تجربہ اتنا ہی کھوکھلا ہے۔‘‘ پھر وہ جدید فکشن کو موضوعِ نقد بناتے ہوئے اپنے بیانیے کو قوتپہنچاتا ہے کہ ناول/افسانہ نگار اکثر انسانی قلم رو سے آگے نہیں دیکھ سکتا___اب اس موقف کو یک قلم مسترد کر دینا ایسا سہل بھی نہیں کہ انسان نے Egoisticہو کردھرتی کے ساتھ اپنے ناتے کو ’نفسیاتی مسئلہ‘ بنایا، یوں، ’راکب‘ اور ’مرکب‘ کی آویزش نے زور پکڑا، نتیجہ معلوم ایک خاص قسم کا عُجب اور احساسِ عظمت ہمراہ Radicalism اعصاب پر سوار ہو گیا!!____!! اس پس منظر میں ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی اصولی صراحت کرتے ہیں:

’’ایلڈولیو پولڈ نے ’زمینی اخلاقیات‘ کا تصور پیش کرکے بشر مرکزیت کے اس تصور کو چیلنج کیا جس کی رو سے انسان اس کائنات کا مرکز اور واحد متکلم موضوع ہے اور فطرتی دنیا کی ترتیب میں اسے دیگر مخلوقات اور موجودات پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔۔۔ اس مفروضے نے اِنسان اور فطرت کی اس ثنویت اور تشکیلی علاحدگی کی بنیاد رکھی جس نے انسان کو فطرت پر غلبے اور اس کے استحصال کا حق تفویض کیا۔‘‘ (ماحولیاتی تنقید/ص:۷)

اس نقطہ مرکزیہ کی صورت سارا Narrative ایک لمحے میں کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ اردو ادب اور تنقید کو ایک مختلف Sensibility کے ذریعے نئی کمک فراہم کی جا سکتی ہے جو ایک جدید فکری کلچر کی بنیاد بن سکتی ہے___ظاہر ہے یہ متوازی تعبیر بجائے خود مابعد جدیدیت کے اس خیال کی موید ہے جس میں Single Interpretation کی راجدھانی پر سوالیہ نشان عاید کیا گیا تھا۔ اب اسے چاہے ’طرزِ مطالعہ‘ ایسا مہذب تسمیہ دیا جائے یا باقاعدہ دبستان/مکتبِ فکر/تھیوری سے موقر کیا جائے لیکن یہ بہرحال طے ہے کہ وقت کی گزران روایت کے Static Pressure کے درپے ہے۔ اس ہنگامۂ داروگیر میں تصور تصور سے، نظریہ نظریے سے اور خیال خیال سے متصادم ہو رہا ہے؛ یوں فکری جدلیت کی بدولت نئی سے نئی امتزاج کاری مشاہدے میں آ رہی ہے؛ اسی تغیر کو ثبات نصیب ہو رہا ہے؛ حتمیت کے صنم کو غالباً پہلے اتنے خطرات درپیش نہیں تھے!!

Eco critics نے فطرت کے دلدادگان سے اختلاف بھی کیا ہے اورگویا یہ جدت دی ہے کہ ہمدردی کی صفت کے ساتھ اگر سکوتِ(۳) لالہ و گل سے کلام کیا جائے تو ممکن ہے اُدھر سے یہ جواب سماعت سے ٹکرائے: ’میں جمالِ فطرتِ حُسن ہوں، میری ہر ادا ہے حسین تر!‘اب تک تو انسان نے بزعم خود اپنے آپ ہی کو فطرت کا سب سے حسینانگ قرار دیا ہواہے، یہ حق دوسرے کو بھی ملنا چاہیے!! حُسنِ بے پروا اپنی بے نقابی کے لیے شہر سے زیادہ بن پر بھی انحصار کر سکتا ہے!! ’’بن، غیر ذات کے مقابل ذات کی شناخت کے لیے ہماری آگہی کو بلند ترین سطح تک لے جانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘(بروس برجر)یہی وہ مقام ہے جہاں رومان زدہ فطرت نگار پیچھے رہ جاتا ہے کہ اس نے جو بھی نغمہ سرائی کی ہے اِنسان ہی کو مرکزی درجے میں رکھ کر کی ہے____تفصیل کے لیے سکاٹ سلووک کے مضمون: ‘’’فطرت نگاری اور ماحولیاتی نفسیات‘‘ کا دقتِ نظر سے مطالعہ کرنا ہوگا!!

ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی کی یہ کوشش اس لیے بھی متوجہ کرتی ہے کہ انھوں نے سبقت کے توام یعنی عجلت کے طلسم سے خود کو بچا کر بڑی طمانیت کے ساتھ اس کتاب پر کام کیا ہے؛ اسی لیے وہ پورے اعتماد کے ساتھ اردو متن میں علمی، ادبی، فکری، نظری تخلیقی، شیون کے پیہم پاسبان بنے رہے ہیں۔ اس کتاب کو ’محض ترجمہ‘ کہنے میں مجھے تامل ہے، درحقیقت یہ دستاویز مولف کی تحقیقی/تنقیدی بصیرتوں کا لٹمس ٹیسٹ ثابت ہوئی ہے کہ اگر انتقادی تناظر میں جائزہ لیں تو وہ عمومی تنقیدی کلامیوں کا گہرا درک رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں___نیز بطور خاص یقینا مذکور مباحث کی شعریات سے بھی وہ پورے طور پر واقف ہیں وگر نہ وہ ان ادق قضیوں کے لیے ایسا پُرسہولت اور شاندار اسلوب وضع نہ کر پاتے___ البتہ ایک بات کہنی ہے کہ ڈاکٹر نیازی نے قوسین (Brackets) کا استعمال قدرے زیادہ کیا ہے___انگلش کی اصل اصطلاح درج کرنے کی حد تک تو یہ عمل باجواز ہے لیکن جملہ معترضہ یا مجرد توضیح کے نقطہ نظر سے شاید اسے سراہانہ جا سکے___اگر بالفرض Original English Text میں بھی صورت حال یہی ہے تب بھی خطوط و حدانی میں موجود عبارتوں کو کسی طرح اصل اردو متن میں جذب کرنے کی مشقت اٹھائی جا سکتی تھی اور بعض صورتوں میں پاورقی حواشی کا اضافہ بھی کیا جا سکتا تھا۔ بہرکیف اس طرح متن کا بہائو مزید رواں ہو جاتا لیکن یہ کوئی نمایاں عیب نہیں ہے، کتاب میں خوبیاں واضح رنگ میں غالب ہیں اور یہ کیا کم ہے کہ ڈاکٹر نیازی نے قدم قدم پر تحقیقی ضوابط سے واقفیت کا بھرپور ثبوت دیا ہے، حوالہ جات کے اہتمام میں حساس رہے ہیں، آخر میں اہم اصطلاحات کی عمدہ تشریحات، مضمون نگاروں کا مختصر تعارف، مآخذ، بہ ترتیب تہجّی (Alphabetical) اسما کی دولسانی جدول بندی۔۔۔ غرض ہر مقام پر محنت شاقہ کلام کرتی ہے، چناں چہ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے اس تاثر کی تائید کیے ہی بنتی ہے:

’’بلاشبہ اس کتاب کو اردو سائنس بورڈ کی چند اہم ترین اشاعتوں میں شمار کیا جائے گا!!‘‘

ماحول دوست مفکرین کی نگاہ میں فطرت سے وابستہ نشوونما کا عمل سبزر نگ کی علامت رکھتا ہے___اگرچہ سرورق کے مصور جناب الیاس کبیر نے اس شیڈ کو زیادہ نمائندگی نہیںدی (۴)لیکن مقاصد فطرت کے نگہبان، پوسٹ ماڈرن درویش ڈاکٹر نیازی کی جانب سے ملنے والے اس علمی تحفے کو ’برگِ سبز‘کہا جا سکتا ہے!!


(۱) ۱۔ ماحولیاتی تنقید: آغاز و ارتقا اور امکانات/شیرل گلاٹفیلٹی ۶۔ فطرت نگاری اور ماحولیاتی نفسیات/سکاٹ سلووک ۲۔ فطرت کی حمایت میں/سکاٹ رسل سینڈرز ۷۔ خواہش کی زبان اور وطن/سوئیلن کیمپ بیل ۳۔ فطرت اور خاموشی/کرسٹوفرمینز ۸۔ ماحولیاتی بصیرت: باختن کے نظریات کی روشنی میں    مائیکل جے۔ میکڈول ۴۔ فطرت سے متعلق تصورات پر نظرثانی/گلین اے۔ لو ۹۔ ماحولیات اور مابعدنوآبادیات/راب نکسن ۵۔ ادب اور ماحولیات/ولیم روئیکرٹ ۱۰۔ ماحولیاتی تانیث، ماحولیاتی مارکسیت اور سماجی ماحولیات   گریگ گیرارڈ
(۲) انسان کے تو جذباتِ نفرت و کراہت بھی اظہار کے لیے جنسی اعضا کے بعد جانوروں کے ناموں سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں!!
(۳) ’سکوت‘ ایسی سادہ شکل کا پیش کار نہیں۔ اس کی لطیف اطراف سے آگہی کی جستجو ہو تو کتاب میں شامل کرسٹوفرمینز کا مضمون: ’فطرت اور خاموشی‘ کی خواندگی کابطور خاص حصہ ہوا جائے!!
(۴) ویسے ٹائٹل بہت جاذبِ نظر ہے!

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: