رات کا اقبال، دن کا اقبال —— ڈاکٹر غلام شبیر

3

علامہ محمد اقبال برصغیر میں شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ کی فکری روایت کا تسلسل ہیں۔ مجددالف ثانی نے جب اکبرکے دین الٰہی کو چیلنج کیاتو یہ دراصل اسلام کوہندومذہب کے بلیک ہول سے بچانے سے بھی کہیں زیادہ دوقومی نظریے کی تخم ریزی تھی۔ شاہ ولی اللہ کی فکر اوراس سے جنم لینے والی تحریکوں کا مرکزی نکتہ اسلام کو ہندوازم کے غاروں میں دفن ہونے سے بچانے ہی کی سعی اورجدوجہد رہا۔ تاہم شاہ ولی اللہ اوران کے نظریاتی ورثاء کی جدوجہد کا مرکزومحوراسلام بمقابلہ ہندوازم یا اسلام بمقابلہ سکھ ازم رہا۔ یہ کشمکش اتنی گہری تھی کہ خود شاہ ولی اللہ کے عہد میں انگریز کلکتہ تک پہنچ چکے تھے مگریہ پیش رفت ان کی نظروں سے اوجھل رہی۔ جب اقبال نے ہوش سنبھالا تو برطانوی اقتدار کا سورج نصف النہارپر تھا۔ برطانوی راج صرف سیاسی ہی نہیں تہذیبی اور ثقافتی نوعیت کا بھی تھا۔ ایسے میں فطری تھا کہ ابتدائی ردعمل معذرت خواہانہ ہو۔ بقول ڈاکٹر اقبال احمد جب برطانوی مصنف ولیم میوراوفرانسیسی مفکررینان وغیرہ نے اسلام کو عرب کی بدو تہذیب کا سائنس اورترقی دشمن مذہب قراردیا تواس نے اول اول کے مسلم مفکرین کی دفاعی جبلتوں کو بھڑکایا وہ اسلام کا ہمہ جہت آزادانہ مقدمہ پیش کرنے کے بجائے دفاع میں جت گئے۔ سرسید اورسیدامیرعلی وغیرہ اسلام کا معذرت خواہانہ موقف لیے ملتے ہیں۔ اور یہ عین فطری بھی ہے کیونکہ قدامت پسندی کا ترکش عہد جدید کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب نہیں رکھتا تھا۔

مصنف

تاہم یہ مدافعانہ رویہ اقبال تک پہنچتے ہی جارحانہ نوعیت اختیارکرلیتا ہے۔ پہلے فکرمغرب کا ایک گھونٹ پینے سے بہک جانے کی روایت تھی، اب فکرمغرب کو دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، دریا بہ دریا جو بہ جو پیا گیا، مگر بہکاوا تو کیا ایک ادنیٰ سی سرسراہٹ بھی محسوس نہ ہوئی۔ تہذیب مغرب کے باطن میں اتر کر اس کی مادہ پرستانہ بدبو اور استعمارانہ تعفن کو محسوس کیا گیا۔ بندگان مغرب کے چہروں کی لالی اوررونق کوغازہ یا بادہ ومینا کی کرامات قراردیا گیا۔ کلیسا سے بلند تر بینکوں کی عمارات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وحی خداوندی سے محروم ہوتی تہذیب مغرب کو شاخ نازک کا ناپائیدار آشیانہ قرار دیا گیا۔ جس خدا دشمن فکر چالاک نے یہ آشیانہ تعمیر کیا تھا، “اسی کی بے تاب بجلیوں سے خطرمیں ہے اس کا آشیانہ” کی پیغمبرانہ پیش گوئی کی گئی۔ ایٹمی صلاحیت کا جوہراسی تہذیب کے باطن سے پھوٹا ہے جولمحہ بھرمیں اس کرہ ارضی سے زندگی کے تمام آثار مٹاسکنے پرقادر ہے۔ اس اعتماد اورتبحرعلمی کی حامل شخصیت اقبال نے جب برطانوی ہند میں دوقومی نظریے کا تصورپیش کیا تویہ محض شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ کے فکری سرمائے کی جگالی نہ تھی بلکہ تسلسل تھا۔ جگالی پرمائل تحریکیں بارہا ساحل سے ٹکراکراپنا سرپھوڑچکی تھیں۔ اقبال نے اسلام کا مقدمہ جدید پیرائے میں پیش کیا، “خطبات” میں روحانی جمہوریت کو اسلام کی حتمی منزل قراردیا۔ برصغیرکے مسلمانوں کو جدید تصورقومیت کی ہرتعریف کے اعتبارسے ایک قوم قراردیا۔ مغرب کی سائنسی ترقی کو تہذیب اسلامی کی ترقی یافتہ شکل قراردیا۔ اس کی طرف مراجعت کو اپنی اصل کی طرف لوٹ جانے سے تعبیرکیا۔ گزشتہ روایت کے برعکس اقبال نے ہندوئوں یا انگریزوں سے تصادم کے بجائے جمہوری جدوجہد سے آزاد اسلامی ریاست کے قیام پرزور دیا تویہ برصغیرکے مسلمانوں کا Rallying Cry بن گیا۔

تاہم قیام پاکستان کے بعداقبال کا وہی حال ہواجونظریاتی تحریکوں کیساتھ منزل پالینے کے بعد ہوا کرتاہے، انقلاب فرانس کے بعدرہنما اصولوں کاکیا ہوا، کیا بالشیوک انقلاب کے بعد مارکس کیساتھ انصاف ہوا؟ یاکیا انقلاب ایران کی منزل یہی تھی؟قیام پاکستان کے بعدفکراقبال کو سب سے بڑاچیلنج اشتراکیت کی طرف سے پیش آیا۔ ہم جانتے ہیں کہ کیپٹلزم ہویا کمیونزم دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ دونوں مادی تصورحیات رکھتے ہیں۔ اشتراکیت جواپنی معراج پرپہنچ کردہریت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اقبالیات اس کی راہ کا سنگ عظیم تھا۔ اقبال کو Discreditکرنے کی تحریک چلی۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد تیسری دنیا کے ممالک میں سوویت روس کے تعاون سے انقلاب برپا ہورہے تھے، مارکسزم کیلئے ماحول ہموارہورہاتھا یاں بھی یارلوگوں نے اشتراکی انقلاب کی کوشش کی، راوالپنڈی سازش کیس ایسی کوششوں کا نتیجہ تھا، لیکن عوام الناس اقبال سے یک قدم دوری نہیں چاہتے تھے تو Demolish Iqbal کا نعرہ مستانہ بلند ہوا، تصورپاکستان کی معاشی تعبیرکی گئی کہ یہ ملک مسلمانوں کے معاشی مفاد کیلئے بنایا گیا ہے، مگرجوحال ہی میں بڑی بڑی جائیدادوں اورخونی رشتوں کی قربانیاں دے کرپاکستان پہنچے تھے وہ کہاں ماننے والے تھے۔ ادھرسویت روس میں اقبال پرکتابیں چھپ رہی تھیں، پھر یار لوگوں نے اقبال کیساتھ کچھ لو کچھ دوکی ترکیب لڑائی۔ تھوڑا ہم اپنے تصورمیں مذہب کو جگہ دیتے ہیں، آپ اشتراکیت کو قبول کرلیں۔ “نیست پیغمبرولیکن دربغل داردکتاب” والا مصرعہ آگے بڑھا کر” دین ایں پیغمبرحق ناشناس، ، برمساوات شکم دار داساس” والا شعرچھپا دیا گیا۔ افغانی سے کیپٹلزم اورکمیونزم سے متعلق سوال کا جوجواب آیا تھا کہ “زندگی ایں را خروج، آں را خراج، ، درمیان ایں دوسنگ آدم زجاج” کمیونزم کے نزدیک زندگی بغاوت کا نام ہے اور کیپٹلزم کے نزدیک زندگی خراج کی وصولیوں کا نام ہے اوران دوپتھروں کے بیچ شیشہ آدم ہے کہ کرچی کرچی ہواجاتا ہے، یہ نظروں سے اوجھل رہا۔ غرض کیا کمیونزم، اورکیا مادہ پرستانہ جمہوریت؟ کیا اقتدارکی کاسہ لیس ملائیت؟ اورکیا اقتدارسے حصہ وصول کرنے والی تصوف کی روایت، مزدورکے جسم سے خون نچوڑتا سرمایہ داریا غریب کے روح وبدن کا مالک جاگیردارسب نے فکراقبال پراپنے مفادات کی قلمکاری کے پیوند لگائے۔

ہمارے ہاں کوئی تقریراقبال کے اشعار کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، مگربات آجائے اقبال کی منظم فکر کی جو ان کی نثرمیں موجود ہے تومنہ بسورے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسراراحمد جن کی قلب ودماغ پراقبال کا کلام وحی بن کر اترتا رہاوہ خطبات اقبال کو رذالت سے تعبیر کرتے ہیں۔ سید سلمان ندوی کا یہی خیال تھا اور دیگرعلماء نے بھی یہی کہا کہ بے شک اقبال کی شاعری نے مسلمانوں لہوکو گرمانے میں اہم کردار ادا کیا، مگراے کاش وہ “خطبات” تحریرنہ کرتے۔

علامہ اقبال نے “Reconstruction of Religious Thought in Islam” جیسی معرکۃ الآراکتاب لکھی جوعہد جدید کے چیلنجزسے عہدہ برآہونے کیلئے نسخہ کیمیا ء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں اقبال نے دوٹوک اندازمیں لکھا کہ اسلام کا زوال ڈکٹیٹرشپ، ملائیت اورتصوف کے اتحاد ثلاثہ کا مرہون منت ہے۔ مسلم کمیونٹی کو کشتہ سلطانی و ملائی پیری قراردیا۔ مگردیکھیے کہ تینوں طبقات اسلام کا وارث رہ کرآج بھی اپنی تقاریر تحاریرمیں اقبال کا دم بھرتے ہیں۔ اقبال نے کہا کہ آج ہمیں عہد جدید میں اگر چیلنجزکے جواب میں اسلاف سے ہٹ کرنئی راہ اختیارکرنا پڑے تو کی جائے کیونکہ جس طرح انہیں اپنے مخصوص حالات میں اپنی راہیں منتخب کرنیکا حق تھا بعینہ یہ حق ہمیں بھی ہونا چاہئے۔ اس جملے کی Strenghth & Inspiration کا یہ لیول ہے کہ اکسفوررڈ شعبہ تھیالوجی کے سابق چیئرمین ڈاکٹرطارق رمضان نے Radical Reforms in Islam لکھی اور مصنف کی عرق ریزی اورجرات استدلال کا یہ عالم ہے کہ لکھتے ہیں نئے مکمل طورپرتبدیل شدہ حالات میں ہم Adaptive Reforms سے اسلام کوکچھ دینے سے قاصرہیں، زمانہ آگے بڑھتا ہے اور ہم تھوڑی بہت اجتہادی ایڈجسٹمنٹ سے اس کے قریب پہنچتے ہیں، زمانہ پھرآگے بڑھ جاتاہے اورہم وہی عمل دہراتے ہیں یوں اسلام عالمی سطح پرایک سست رفتارفالوور رہتا ہے اوریہ اسلام کا مقصود نہیں ہے اسلام لیڈ کرنے کیلئے آیا ہے، اگریہ چاہتے ہو تو کایاپلٹ اصلاحات”Radical Reforms”کی ضرورت ہے۔ وہ اقبال سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کرلکھتا ہے “Even Quran needs to be liberated from that particular temporal history.” یعنی قرآن کواس عہدکی تاریخ کا پابند نہ رکھاجائے قرآن کے رہنما اصولوں کو عہد حاضرکے چیلنجزکی روشنی میں دیکھا جائے۔ ہمارے ہاں کوئی تقریراقبال کے اشعارکے بغیرمکمل نہیں ہوتی، مگربات آجائے اقبال کی منظم فکرکی جو ان کی نثرمیں موجودہے تومنہ بسورے جاتے ہیں۔ ڈاکٹراسراراحمد جن کی قلب ودماغ پر اقبال کا کلام وحی بن کراترتا رہا وہ خطبات اقبال کو رذالت سے تعبیرکرتے ہیں۔ سیدسلمان ندوی کا یہی خیال تھا اوردیگرعلماء نے بھی یہی کہا کہ بے شک اقبال کی شاعری نے مسلمانوں لہوکوگرمانے میں اہم کردار ادا کیا، مگراے کاش وہ “خطبات” تحریرنہ کرتے۔ ہمارے رجعت پسند طبقے کے دانشوروں نے سید سلمان ندوی کے ان افکار پرمشتمل مضمون چھاپے جنہیں ضبط تحریرمیں لانے کی خود موصوف کو جرات نہ ہوئی تھی اوروہ نجی محفلوں میں بات کرتے رہے اورجب جدید سوچ کے حامل سیکولراور کمیونسٹ دانشوروں نے ان تحریروں کیخلاف اقبال کا دفاع کیا تو خود اقبال اکیڈمی کے زعماء نے سیدسلمان ندوی کے موقف کی ترجمانی کی۔ یوں ہمارے مزاح نگار دانشورکی وہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی جو اقبال اکیڈمی کے کراچی سے لاہورشفٹ کیے جانے پرکی گئی تھی۔ پوچھا گیا کہ اس تبدیلی سے فکراقبال پرکیا اثرات مرتب ہوں گے، کہا “کچھ نہیں، بس اب لاہورمیں ایک کے بجائے اقبال کے دومزارہوں گے”۔

فکر اقبال کیساتھ ہمارے ہاں طرفہ تماشا ہوا۔ اقبال کوٹکڑیوں میں تقسیم کرکے اپنا اپنا الوسیدھا کیا گیا۔ ملائی دانش نے نثرکا اقبال قالین کے نیچے چھپایا اورشاعری سے خوب مزے لیے کہ اس کی تعبیرمن مانی ہو سکتی تھی۔ یہی حال ڈکٹیٹرز نے کیا۔ جب ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو پی ٹی وی پراقبال کے اشعارتو خوب چلائے گئے مگرصوفی دانشوراشفاق احمدنے اپنے پیرومرشد قدرت اللہ شہاب اورممتازمفتی کی راہ اپنائی کہ انہوں نے جو خدمات ایوب خاں کیلئے بجا لائیں اب ایسی ہی خدمات ضیاالحق کو درکارتھیں۔ خطبات میں روحانی جمہوریت سے متعلق اقبال کے تصورات مارشل لاء کی راہ کھوٹی کرتے تھے۔ یوں روایت پسندعلماء کے طرح مصرعہ پرنظم بندی کی گئی۔ کہا گیا اقبال کو دوحصوں میں تقسیم کرلیا جائے رات کا اقبال اوردن کا اقبال۔ دن کا اقبال فلسفی اورسیاسی دانشورہے، اس سے احترازبرتا جائے۔ رات کا اقبال، شاعر ہے اسے مضبوط دانتوں سے پکڑلیا جائے۔

اقبال نے اپنی شاعری میں مغربی جمہوریت پرتابڑتوڑحملے کیے ہیں وہ دراصل مغربی جمہوریت کی روح میں پنہاں مادہ پرستی، ہوس پرستی اورجبرواستبداد کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے مغربی ترقی کی چمک دمک کوجھوٹے نگوں کی ریزہ کاری قراردیتے ہیں، وہ اس جمہوریت میں پنہاں ظلم و استیصال کوٹارگٹ کرتے ہوئے شرف انسانی کی ہرلمحہ اڑتی دھجیوں کوتنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ورنہ وہ اسلامی اقتدارکے ابتدائی تیس سالوں کوروحانی جمہوریت کا عظیم مظہرقرادیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگراسلام ملوکیت کی بھینٹ نہ چڑھتا تواپنے ارتقاء میں پارلیمانی مشاورتی نظام اس کی حتمی منزل ہوتا۔ ڈکٹیٹرزنے انفرادی مجتہدین کی حوصلہ افزائی کی کہ ان سے نمٹناآسان تھااوراگرکوئی پارلیمنٹ وجودمیں آتاتویہ ملوکیت کے پرکاٹ سکتا تھا اس لیے ملوکانہ طرزسیاست نے اسے پنپنے توکیا وجود میں آنے ہی نہ دیا۔ لہذا اقبال نے جب مغربی جمہوریت کی ہوس ناکی سے پردہ اٹھایاتوہمارے شدت پسند طبقے نے اسے خلافت کی طرف رجوع کی دلیل سمجھا۔ دوسری جانب اقبال کے تصور “روحانی جمہوریت” کو مارکسی فکرنے شکم کی مساوات سمجھا۔ چونکہ اقبال نے ر وس کی معاشی اصلاحات کیساتھ ہی روحانی جمہوریت کا ذکرکیا ہے تومانا جائے کہ وہ ایسی جمہوریت چاہتے تھے جس میں معاشی مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔ کجاکہ اقبال کی روحانی جمہوریت سائل ومحروم، عبدومولیٰ اورحاکم ومحکو م کی تفریق مٹنے سے عبارت ہے۔ ـ”کس نہ باشد درجہاں محتاج کس، ، ، نکتہ شرع مبیں ایں است وبس!اقبال کی روحانی جمہوریت شریعت اسلامیہ کے اس نکتے پرمبنی ہے کہ کوئی بھی جہاں میں کسی کا محتاج نہ ہو۔ اس روحانی جمہوریت کا تصورنہ تو کمیونزم کے جبرواستبدادپرمبنی نظام میں ہے اورنہ ہی بظاہرروشن مگراندروں چنگیزترمادہ پرستانہ جمہوریت میں ایسی کوئی گارنٹی ہے۔ یہ قرآن کے روحانی تصورجمہوریت میں ملفوف ہے۔ “شام اوروشن ترازصبح فرنگ” جس کی شام اہل مغرب کی صبح سے زیادہ تابندہ اورروشن ہے۔

جب فکراقبال کی گتھیاں نہ سلجھتی دکھائی دیں تو ہمارا سیکولرطبقہ اقبال کو مجموعہ اضداد قراردیتے ہوئے ساتھ ہی عقل وخردکا دشمن قراردیتا ہے۔ دیکھیں جی اقبال نے جا بجا عشق پرزوردیتے ہوئے عقل کو کینہ پرور، مکار وعیار قراردیا ہے۔ عقل عیار ہے سوبھیس بدل لیتی ہے، ، عشق بے چارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم، بے خطرکود پڑا آتش نمرود میں عشق، ، عقل ہے محوتماشائے لب بام ابھی۔ اس طرح کے اشعاربطوردلیل پیش کیے جاتے ہیں کہ اقبال سائنس اور ترقی کا دشمن ہے، پھریہ ڈانڈے جوڑے جاتے ہیں کہ کیونکہ امام غزالی نے بھی صوفی تجربات کے بعد سائنس اورفلسفے کورد کرکے عشق کی راہ اختیارکی۔ مانا امام غزالی نے تحافۃ الفلاسفہ یعنی فلسفے پرلعنت لکھی، مگراس کا جواب ابن رشد کی جانب سے تحافۃالتحافہ یعنی لعنت پرلعنت کی شکل میں آیا تھا۔ اس کا ذکر اقبال نے خطبات میں کیا ہے۔ اورخطبات میں ہی اقبال نے سائنسدانوں کو Mystic Seekers قراردیاہے۔ انہیں صوفی قراردیاہے کہ سائنسی اصولوں کی تلاش بھی حقیقت عظمیٰ کی طرف جست عظیم ہے، مگروہ صرف سائنس کو” ادھ مواـ “سچ قراردیتے ہیں اور سائنس کی مختلف شاخوں کو Body of knowledge پرگدھوں کا حملہ قراردیتے ہیں جو اپنے حصے کا گوشت لے اڑتی ہیں اور حقیقت مطلقہ کی طرف ہماری کامل رہنمائی سے قاصر ہیں۔ یہ دراصل ہمارے عہد کے سب سے بڑے المیے یعنی Fragmented knowledge پرنوحہ خوانی ہے جو وحدت سے محروم ہے، علم کی مختلف شاخیں جو کسی Organic link سے محروم ہیں وہ فساد عظیم کا سبب بن رہی ہیں۔ علم جس کا بنیادی وظیفہ تلاش سچ ہے وہ عالمی طاقتوں کا ہتھیار بن چکا ہے۔ اقبال جب عقل عیارپر حملہ آورہوتے ہیں توان کی مراد وحی خداوندی سے محروم ڈیکارٹ کا وہ طرزاستدلال ہے جس کی لپیٹ میں پورا یورپ آچکا ہے۔ جس نے عیسائیت کو خیرباد کہہ کر زبان، کلچر، رنگ اور نسل کی بنیاد پرنیشنلزم کے مصنوعی تصورات سے یورپ کی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے۔ جس کے باطن سے سیکولرازم پھوٹا ہے جو تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ المناک انسان دشمن تصورہے۔ اقبال مذہب سے محروم سیاست کو چنگیزی قراردیتے ہیں۔ وہ ابن خلدون کے استدلال کومضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں کہ مذہب سے بڑی کوئی ایسی اتھارٹی نہیں جوکسی طاقت کو لگام میں رکھ سکے۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ علم سمع وبصراورفئواد کے متفقہ فیصلے سے نموپانے والی حقیقت کا نام ہے۔ سمع وبصرتجرباتی سائنسزکی طرف اشارہ ہے اور فئواددل کی گہرائیوں سے پھوٹنے والے استدلال کا نام ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ اس نے صرف سمع وبصریعنی سائنس پرقناعت اختیارکرلی ہے اورمشرق نے صرف فئواد(Intuition)کو حقیقت کلی سمجھ رکھا ہے۔

غربیاں را زیرکی سازحیات شرقیاں را عشق راز کائنات
زیرکی از عشق گردد حق شناس عشق را از زیرکی محکم اساس
خیز، ونقش عالم دیگربنہ عشق را از زیرکی آمیزدہ

اہل مغرب نے عقل کو سازحیات سمجھ لیا ہے۔ اہل مغرب نے عشق(Intution) حقیقت کلی سمجھ رکھا ہے۔ سچ یہ کہ عقل عشق کی مدد سے حق شناس ہوتی ہے اورعشق کو عقل سے مضبوط بنیاد ملتی ہے، اٹھوعالم کا نقشہ بدل دیجیو! عقل اورعشق کے امتزاج سے نئے جہاں کی بنیاد ڈال دو۔ اقبال اس عقل کو فتنہ گرسمجھتے ہیں جودل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے طوفان حقیقت کو پرکاہ تک نہ سمجھے وہ دل جس کی بابت خود پاسکل نے کہا تھا” The Heart has reasons that reason does not know!”
ہمارا سیکولراورکمیونسٹ طبقہ اقبال کے فن شاعری پربھی سوال اٹھاتاہے۔ ایک تواقبال کی اردوشاعری پرفارسی اورعربی کے اثرات ان پرگراں گزرتے ہیں، انہیں معرب ومفرس اردوگدلی گدلی سے محسوس ہونے لگتی ہے۔ تکلیف یہ ہے ہمارا نظریاتی، تہذیبی اورثقافتی ورثہ عربی اورفارسی سے ہی مستعار ہے تو سیکولرازم یا الحاد پسند طبقے کو تو یہ برا لگنا عین فطری ہے۔ مگراس بنیاد پراقبال کے فن شاعری پرسوال اٹھانا بدنیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رام بابو سکسینہ جواردوادب کے تنقید نگاروں میں معروف نام ہیں اقبال کی نظم “مسجدقرطبہ” پراپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نظم میں اقبال کے فن کا جلال وجمال اس نوعیت کا ہے کہ یہ نظم خود مسجد قرطبہ سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے۔ ڈاکٹراقبال احمد کتنی سادگی سے کہہ گئے کہ انڈین پارلیمنٹ میں دوو وٹوں کی کمی سے اقبال کا ترانہ منظورنہ ہوسکا اوررابندراناتھ ٹیگورکی شاعری سے بھارت کو قومی ترانہ مل گیا، اسی طرح بنگلہ دیش کو بھی اقبال کے بجائے رابندرا ناتھ ٹیگورہی میسرآئے۔ بس اقبال کا ایک ہی ترانہ تھاجو منظورہوبھی جاتا تو بھارت کیلئے ہوتا، اقبال برصغیرکے تینوں ملکوں کو کوئی ترانہ دینے سے قاصررہے۔ سوال اٹھتاہے کہ کیا مصورپاکستان کا کوئی ملی ترانہ ریاست پاکستان کیلئے موزوں نہیں تھا یا تجاہل عارفانہ برتا گیا۔ اورجس ملک کو توڑکرنئے ملک بنانے کا خواب دیکھا گیا تھا وہاں کے پارلیمنٹ میں اقبال کے ترانے پردو وٹوں کی کمی بھی اقبال کے جاودانی کلام کیلئے ایک Tribute نہیں ہے؟

تاہم اقبال خطبات کی تمہید میں یہی لکھتے ہیں کہ جن نتائج پرمیں پہنچا ہوں یہ حرف آخرنہیں ہیں۔ آج فلسفہ اورسائنس مختلف راہوں پرہیں عین ممکن ہے کل یہ ہم آہنگی کی پینگیں بڑھا رہے ہوں۔ تلاش کا سفر جاری رہنا چاہئے۔ اقبال نے شاعری کے مقابلے میں نثری لٹریچربہت کم چھوڑا ہے۔ شاعری منظم فکرکا مجموعہ نہیں ہوا کرتی۔ فکراقبال کونئے افق تک پہنچانے کا فریضہ اس امت پرہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اقبال پر جتنا لٹریچرملتاہے وہ تنقیدی سے زیادہ تحسینی ہے۔ اورکوئی قوم اپنے اکلوتے دانشورسے اس سے زیادہ کیا سلوک کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے بجا طورپرلکھا ہے کہ “بے شک اقبال قرآن کی کچھ آیات کی نایاب بصیرت رکھتے تھے مگرانہیں قرآن کا سنجیدہ طالبعلم نہیں کہا جا سکتا”۔ یہ دعویٰ صرف ڈاکٹر فضل الرحمان ہی کو زیب دیتاہے Because he was man of systematic study of Quran.اوریہ شکایت ڈاکٹر فضل الرحمان کو مغرب کے قرآن کے طالبعلم مستشرقین سے بھی ہے کہ وہ قرآن کی ریشہ نما آیات پرتوخاصا غوروفکررکھتے ہیں مگران سے جو رنگارنگ جاذب نظر متنوع مگر اضداد سے پاک حتمی فیبرک بنتا ہے وہ مسلم مفکرین اورمستشرقین کی کبھی مرکز نگاہ نہیں رہا۔ مصورپاکستان کی برسی پراگراقبال کے پیغام کا مرکزی نکتہ ہے تویہی ہے کہ جامد فکری سرمائے کبھی قوموں کو ترقی کیطرف نہیں لے جاسکتے۔ “بندہ مومن زقرآں برنخورد، ، ، درایاغ اونہ مئے دیدم نہ دردــ” بندہ مومن نے شاخ قرآن پرلگے پھل کو چکھا ہی نہیں اوربندہ مومن کاجام فکرقرآن کی مئے تو درکنار تلچھٹ سے بھی محروم ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان اور ڈاکٹرطارق رمضان نے بلا شبہ فکر اقبال کونئی بلندیوں سے آشنا کیا ہے، کام کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ سلسلہ رکنے کے بجائے آگے بڑھنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیئے:  “فکر اقبال کا المیہ” یا تفہیم اقبال کا المیہ —- جلیل عالی
(Visited 604 times, 3 visits today)

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. حضرت علامہ محمد اقبال سے وابستہ چند حقائق :-
    ==> 1901 میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات ہوئی اور اسی دن عیدالفطر بهی تهی. علامہ اقبال نے اس موقع پر ملکہ وکٹوریہ کے غم میں ایک سو دس اشعار پر مشتمل پردرد اور طویل مرثیہ لکھا اور اس مرثیے کا انگریزی ترجمہ خود علامہ اقبال نے کیا. اس کا نام رکھا گیا “Tears of Blood”
    اس مرثیہ میں اقبال کے اشعار ملاحظہ ہوں:-
    آئی ادهر نشاط ادهر غم بهی آ گیا
    کل عید تهی تو آج محرم بهی آ گیا
    برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو
    سامانِ اشک ریزئی طوفاں لئے ہوئے
    میت اٹهی ہے شاہ کی تعظیم کے لیے
    اقبال اڑ کے خاک سراہگزار ہو
    وکٹوریہ نہ مرد کہ نام نکو گزاشت
    ہے زندگی یہی جسے پروردگار دے
    ملکہ کے وجود سے ہندوستان کی محرومی کو انتہائی بدنصیبی بتاتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ
    اے ہند تیرے سر سے اٹها سایہ خدا
    ==> انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں انگریز گورنر پنجاب شریک ہوئے تو علامہ اقبال نے منظوم ہدیہ عقیدت پیش کیا اس کے یہ اشعار دیکهیے.
    ہے کون زیب دہ تخت صوبہ پنجاب
    کہ جس کے ہاتھ نے کی قصرِ عدل کی تعمیر
    جو بزم اپنی ہے طاعت کے رنگ میں رنگین
    تو درس گاہ رموزِ وفا کی ہے تفسیر
    اس اصول کو ہم کیمیا سمجھتے ہیں
    نہیں ہے غیر اطاعت جہان میں اکسیر
    ==> 22 جون 1911 کو شہنشاہ جارج کا جشنِ تاج پوشی منایا گیا اور اس تاجپوشی کے لئے مسلمانوں نے بادشاہی مسجد کو مناسب و موزوں جگہ سمجھا.
    تاج پوشی کی رسوم منانے کیلئے جو اعلان نامہ شائع ہوا اس کا عنوان تها.
    “لاہور میں کارونیشن ڈے کی اسلامی رسوم”
    ==> تاج پوشی کے حوالے سے علامہ اقبال کی نظم کے دو اشعار ملاحظہ کیجئے.
    ہمائے اوج سعادت ہے آشکار اپنا
    کہ تاج پوش ہوا آج تاج دار اپنا
    اسی سے عہد وفا ہند یوں نے باندها ہے
    اسی کی خاک قدم پر ہے دل نثار اپنا
    ==> 1918 میں لاہور کے ٹاون ہال میں سر مائیکل اوڈائر گورنر پنجاب کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا اس جلسہ کے انعقاد کا مقصد یہ تها کہ مصارف جنگ کیلئے پیسہ جمع کیا جائے اور پنجاب سے کم از کم دو لاکھ نوجوان میں بهرتی کئے جائیں.اس موقع پر علامہ اقبال نے ایک نظم پڑهی جس کے دو اشعار میں دعائے پر خلوص دیکهئے.
    جب تک نسیمِ صبح عنادل کو راس ہے
    جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
    قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح
    دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح
    ==> جاوید اقبال اپنی کتاب میں کہتے ہیں:-
    “جہاں تک اقبال صاحب کا انگریزی حکام کی مدح میں یا فرمائش پر اشعار لکهنے کا تعلق ہے تو اقبال نے کئی نظمیں کہی ہیں جو خاص مواقع پر انہوں نے طبعاً، اخلاقاً یا مصلحتاً تحریر کیں اور جنہیں اس قابل نہ سمجھا کہ اپنے مطبوعہ کلام میں شائع کریں”، پهر اچانک ہی لکهتے ہیں کہ، “اقبال کا تعلق سر سید کے سیاسی مکتبہ فکر سے تها وہ کلمہ حق کہنے سے باز نہیں رہ سکتے تھے”
    (زندہ رود صفحہ 399)
    ==> “ہندوستان کے مسلمان شاید اسلامی ممالک کی حالت کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ حکومت برطانیہ کے سبب جو امن اور آزادی اس ملک کے لوگوں کو حاصل ہے وہ اور ممالک کا ابهی نصیب نہیں ہے”
    (کلیاب مکاتیب اقبال جلد 1 صفحہ 168)
    ==> علامہ اقبال نے اپنے لئے سر کا خطاب پسند کیا اور اپنے استاد سید میر حسن کے لئے شمس العلماء کیلئے خود پنجاب کے گورنر سرایڈورڈ میکلیگن کو سفارش کی!
    گورنر صاحب سید میر حسن سے آشنا نہ تها..اقبال صاحب سے جب گورنر پنجاب نے پوچھا کہ ان کی کوئی تصنیف کا نام بتائیے تو اقبال صاحب برجستہ بولے:-
    “ان کی سب سے بہترین تصنیف میں ہوں”
    ==> رابندر ناتھ ٹیگور کو بهی دینا چاہا تها انگریز حکومت نے سر کا خطاب لیکن انہوں نے یہ تاریخی جملے بول کر وہ خطاب واپس کر دیا.
    “The time has come when honours and awards are being looked down up.on my part, without such awards I want to be in the midst of my countymen who are being contemptuous and inhumanely treated. Therefore, I shall request you to take back the honour bestowed upon me by his imperial crown”
    حوالہ جات: کلیات اقبال ، زندہ رود از جاوید اقبال ، کچھ شامیں فکر اقبال کے ساتھ از سید نصیر شاہ

    علامہ اقبال کے بارے میں جون ایلیا کا اظہار خیال ——–
    جون نے شمس الرحمان فاروقی سے کہا وہ شاعر عظیم کیسے ہو سکتا ہے جس کرداروں کی مدح سرانی کی ہو
    جیسے ؟؟؟،
    مثلا ڈاکٹر اقبال کا ہیرو بیک وقت اورنگ زیب بھی ہے اور سرمد بھی ۔۔۔ ایک ہی شاعر بیک وقت قاتل اور مقتول دونوں کو بلند کردار کہہ رہا ہے۔۔ سولینی میں عظیم انسان کی کون سی خوبیاں تھی؟ وہ ڈاکٹر اقبال کا ہیرو کیسے ہوگیا؟ برٹش امپائر کے شہنشاہ کے سامنے اقبال نے سر تسلیم کیسے خم کردیا؟ کیا عظیم شاعر کا یہی کردار ہوتا ہے کے وہ ہر طبقے کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے؟ اور شاہین ایک ایسا خونخؤار طائر ہے جس میں رحم کا جذبہ ہرگز نہیں ہوتا۔۔کیا اقبال نے شاہین کو علامت بنا کر انسان کو خونخواربننے کی تعلیم نہیں دی ؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس گرما گرمی کے سبب محفل پر کچھ دیر کے لیے خاموشی طاری ہوگئی

    حفصہ نور

Leave A Reply

%d bloggers like this: