مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں ——– نعیم الرحمٰن

0

محمد حامد سراج صف ِ اول کے اردو افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’بخیہ گری‘‘ ، ’’برائے فروخت‘‘ ، ’’چوبدار‘‘ ، ’’وقت کی فصیل‘‘ اور تازہ مجموعہ برادہ کے علاوہ ناولٹ ’’آشوب گاہ‘‘ اور بے مثال طویل سوانحی خاکہ ’’میا‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ میا پر انہیں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ افسانوی کلیات ’’مجموعہ حامد سراج‘‘ اور جہلم بک کارنر کے امر شاہد کا انتخاب ’’محمد حامد سراج کے شاہکار افسانے‘‘ بھی قارئین کی بھرپور داد سمیٹ چکے ہیں۔ ’’ہمارے بابا جی حضرت مولانا خواجہ خواجگان خان محمد‘ کی حیاتِ مبارک کا تذکرہ بھی شائع ہو چکا۔ اس کے علاوہ محمد حامد سراج کی تالیفات میں ’’عالمی سب رنگ افسانے‘‘ اور ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ بھی شامل ہیں۔ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں میں انہوں نے میر تقی میر اور اسد اللہ غالب سے لے کر قرۃ العین حیدر اور جیلانی بانو تک ستر سے زائد اردو ادیبوں کی شاہکار آپ بیتیوں کا انتخاب اور تلخیص کر کے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ اس کتاب میں محمد حامد سراج نے بیحد عرق ریزی کے ساتھ ان آپ بیتوں کی اس طرح تلخیص کی ہے کہ ہر آپ بیتی کا نچوڑ اس میں موجود ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے ’’جنرلوں کی آپ بیتیاں‘‘ ، ’’سیاستدانوں کی آپ بیتیاں‘‘ اور ’’بادشاہوں کی آپ بیتیاں ‘پر کام کرنے کا مژدہ بھی سنایا تھا۔

’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ محمد حامد سراج کے اس سلسلے کی دوسری کتاب ہے۔ جس میں علم و دانش کے ستائیس درخشاں ستاروں کی آپ بیتیاں شامل کی گئی ہیں۔ جن میں ’’ملا عبد القادر بد ایونیؒ‘‘، ’’میر غلام علی آزاد بلگرامیؒ‘‘، ’’نواب سید محمد صدیق حسن خانؒ‘‘، ’’مولانا جعفر تھانیسریؒ‘‘، ’’مولوی فقیر محمد جہلمیؒ‘‘ ، ’’مولانا شبلی نعمانیؒ‘‘، ’’مولانا محمد حبیب الرحمٰن خاں شروانیؒ‘‘، ’’مولانا عبید اللہ سندھیؒ ‘‘، ’’مولانا سید حسین احمد مدنیؒ‘‘، ’’مولانا اسلم جیراج پوریؒ‘‘، ’’پروفیسر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع‘‘، ’’مولانا سید سلیمان ندویؒ‘‘، ’’ملا واحدی‘‘، ’’مولانا ابولکلام آزاد‘‘، ’’ مولانا عبد الماجد دریا آبادی‘‘، ’’مولانا عبد المجید سالک‘‘، ’’غلام رسول مہر‘‘، ’’شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریاؒ‘‘، ’’علامہ محمد اسدؒ‘‘، ’’ڈاکٹر غلام جیلانی برق‘‘، ’’سید ابو الاعلیٰ مودودی‘‘، ’’مولانا منظور نعمانیؒ‘‘، ’’صاحبزادہ سید افتخار الحسن زیدیؒ‘‘، ’’خرم مراد‘‘، ’’مولانا محمد عبد المعبودؒ‘‘، ’’جاوید احمد غامدی‘‘ اور ’’عبد المالک مجاہد‘‘ کی آپ بیتیاں شامل ہیں۔ اس طرح قارئین کے سامنے آپ بیتیوں پر مبنی دوسری کتاب کا وعدہ پورا ہو گیا۔ بک کارنر جہلم اور نصیر احمد ناصر کے ادبی جریدے تسطیر چھ میں ’’امیر تیمور‘‘ کی آپ بیتی شائع ہوئی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد حامد سراج نے ’’بادشاہوں کی آپ بیتیاں‘‘ پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ جو جلد سامنے آنے والی ہے۔

’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ بڑے سائز کے چار سو چوبیس صفحات پر مبنی ہے۔ جس کے اعلیٰ ایڈیشن کی قیمت اٹھارہ سو اور عام مجلد ایڈیشن کی قیمت بارہ سو روپے بہت مناسب ہے۔ جہلم بک کارنر کی اعلیٰ طباعت نے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ عام ایڈیشن بھی صرف کاغذ کے فرق کے ساتھ بہترین انداز سے شائع ہوا ہے۔

’’زمین کے آسمان‘‘ کے عنوان سے پیش لفظ میں محمد حامد سراج لکھتے ہیں کہ ’’علما کی آپ بیتیاں ایک ایک کر کے مطالعہ سے گزریں۔ یہ سارے شب و روز مشک بار ہو گئے۔ اس محنت میں نواب صدیق حسن خان کی آپ بیتی کی ورق گردانی شروع کی تو علم ہوا کہ آپ کا سلسلہ نسب تینتیس واسطوں سے براہِ راست سیدنا علی مرتضیٰؓ تک پہنچتا ہے۔ کتاب ایک طرف رکھ دی، ادب کا تقاضا تھا کہ با وضو مطالعہ کیا جائے ۔ با وضو آپ بیتی کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی سی کوشش کی کہ تمام آپ بیتیوں کا مطالعہ باوضو کیا جائے۔ میں نے با ادب، با وضو اپنا وقت دوزانو، ان علمائے کرام کی صحبت میں گزار ااور رُوح کی سیرابی کا سامان کیا۔ آپ بیتی کا مکمل مطالعہ کر لینے کے بعد تلخیص گری کا مرحلہ بڑا جانگسل ہے۔ تلخیص گری کرتے ہوئے اس بات کو مد ِنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اصل آپ بیتی کی روح متاثر نہ ہواورشخصیت کی زندگی کے روشن اور اُجلے پہلو اپنی چمک دمک اور خوشبو سے محروم نہ ہوں۔ میں اس قابل ہرگز نہیں تھا کہ اس کام کی ذمہ داری لوں۔ مجھے اپنے جہل اور کم علمی کا مکمل اعتراف ہے۔ یہ کسرِ نفسی نہیں سچ ہے۔ لیکن میرے دوست امر شاہد نے مٹھی بھر حوصلہ مجھے دان کیا اور میں نے ہمت کی پگڈنڈی پر تقویٰ کا زادِ راہ ساتھ لیا اور ربِ کریم کی رحمت کی گھنیری چھاؤں میں سفر پکڑا۔ ادارے نے پُرکشش سرورق اور اعلیٰ طباعتی مراحل سے گزار کر اسے قاری تک پہنچایا۔ قاری کی تحسین اور پذیرائی سے ہمیں حوصلہ ودیعت ہوا اور ہم نے ’’نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ کے بعد یہ سلسلہ جوڑے رکھنے اور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلہ میں ہماری محنت ’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کتاب پر آپ نے جو رقم خرچ کی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ میں نے قاری کی دلچسپی کے لیے اس بات کو مکمل دھیان میں رکھا ہے کہ آپ بیتیوں کے مطالعہ میں اکتاہٹ کا عنصر نہ ہو اور دلچسپی کے ساتھ قاری کو عملی زندگی میں رہنمائی اور روشنی ملے۔‘‘

’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ کی تلخیص کے لیے محمد حامد سراج صاحب نے اٹھارہ آپ بیتیوں کا مکمل مطالعہ کیا اور تلخیص گری کے دوران اس امر کو یقینی بنایا کہ کسی بھی آپ بیتی کی روح متاثر نہ ہو۔ ان آپ بیتیوں میں شیر شاہ سوری اور اکبر دور کے ملا عبد القادر بد ایونی سے دورِ حاضر کے جاوید احمد غامدی اور عبد المالک مجاہد تک شامل ہیں۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی آپ بیتی خاکہ نما ہے۔ جس میں زیادہ تر انہوں نے اپنے عہد کے مشاہیر کی مختصر خاکے تحریر کیے ہیں۔ مولانا شبلی نعمانیؒ کی آپ بیتی ڈاکٹر خالد ندیم نے واحد متکلم کے انداز میں بہت خوبی سے مرتب کی ہے۔ جس میں شبلی نعمانی کے مکتوبات اور سفرناموں سے اقتباسات اور ذاتی ڈائریوں کی مدد لی گئی ہے۔ جاوید احمد غامدی کی کتاب ’مقامات‘ سے صرف ان کا بچپن، تعلیم، علمی مشاغل اور مشاہیر علما کے ساتھ صحبتوں کے ثمرات مل سکے۔ مولانا حسین احمد مدنی ؒاور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کی طویل علمی آپ بیتیوں میں انتہائی احتیاط کے ساتھ عام قاری کے لیے مکمل فیض یاب ہونے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مولانا منظور نعمانیؒ کی آپ بیتی ’تحدیث نعمت‘ کمال علمی اور صوفیانہ علم و ادب کے خزینے سے بھرپور ہے۔ ان کی سات جلدوں پر تالیف ’’معارف الحدیث‘‘ احادیث ِنبویؓ کا ایک ایسا مستند علمی خزانہ ہے۔ جو لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر مقبول رہا ہے۔ علمائے کرام سے لیکر عام اردو داں طبقہ اس سے مستفید ہوتا چلا آ رہا ہے۔ محمد اسد (سابق لیو پولڈویز) کی آپ بیتی ’طوفان سے ساحل تک‘ انتہائی ایمان افروز ہے۔ جس کا دیباچہ مولانا سید ابو الحسن ندویؒ نے لکھا ہے۔ مولانا جعفر تھانیسریؒ کی ’کالا پانی‘ کو اردو کی پہلی آپ بیتی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ قید و بند کی سختیاں خندہ پیشانی سے جھیلنے والے مولانا جعفر تھانیسریؒ کی داستانِ زیست اللہ پر کامل توکل اس آپ بیتی کا خاصہ ہے۔ جس سے ایمان کو جلا ملتی ہے اور اللہ پر یقین گہرا اور مضبوط ہو جاتا ہے۔

ان آپ بیتیوں کے ساتھ چند اہم ترین مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ جن کی آپ بیتیوں کے بغیر یہ کتاب ادھوری سی محسوس ہوتی۔ یہ کمی محمد طفیل کے نقوش آپ بیتی نمبر سے آٹھ آپ بیتیوں کو شامل کر کے پوری کی گئی۔ محمد حامد سراج نے بالکل بجا کہا ہے کہ’ انہوں نے قاری کی دلچسپی کے لیے اس بات کو مکمل دھیان میں رکھا ہے کہ آپ بیتیوں کے مطالعہ میں اکتاہٹ کا عنصر نہ ہو اور دلچسپی کے ساتھ قاری کو علمی زندگی میں رہنمائی اور روشنی مل سکے۔‘

لگ بھگ چار سو سال کے مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیوں کے مطالعے سے قاری کے سامنے اس پورے عرصے کی تاریخ، ہر دور کا علمی اور ادبی ماحول پوری طرح اجاگر ہوتا ہے۔ کتاب میں شامل مشاہیر کی پرورش و پرداخت، علم کی جستجو، کمتر وسائل کے باوجود حصول علم کی تڑپ اور لگن کا بھی اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔ بعض واقعات سے عبرت اور بعض سے قاری کو سبق بھی ملتا ہے۔ جیسے ملا عبد القادر بد ایونی لکھتے ہیں کہ ’’محرم 972 ہجری میں بادشاہ نے مندوسے قصبہ نالجہ کا رُخ کیا۔ بادشاہ نے شہر نگر چین اسی سال تعمیر کرایا تھا۔ جس وقت اکبر نامہ کی تصنیف ہو رہی تھی ابو الفضل نے اس شہر کی تعمیر میں چند سطریں مجھ سے لکھوائی تھیں۔ اب اس شہر اور اس کی عمارتوں کا کوئی نشان نہیں رہا۔‘‘ جس سے قاری کو یہ علم ہوتا ہے کہ بادشاہ شہر تعمیر تو کر سکتے ہیں لیکن انہیں آباد کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ بادشاہ کے بسائے شہر کا چند سال میں نام و نشان بھی مٹ گیا۔ یہ تاریخ کا بہت بڑا سبق ہے۔

نواب سید محمد صدیق حسن خان اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ ’’میں شریف النسب ہوں۔ لیکن یاد رہے کہ تقویٰ کے بغیر یہ شرف قطعاً نفع بخش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو احسان فرمائے ہیں۔ ان میں ایک شرفِ نسب بھی ہے۔ میرے جد پنجم سلطان تلمسان تھے۔ اسی طرح میرا شجرہ نسب تینتیس پشتوں کے واسطے سے آنحضرت حضرت محمدﷺ سے جا ملتا ہے۔ ان تینتیس پشتوں میں آٹھ آئمہ کرام اہل بیت ہیں۔ جن کا شمار اثنا عشر میں ہوتا ہے۔ پھر جعفر ذکی سے لے کر مخدوم جہانیاں بلکہ جلال رابع تک غالباً تمام اولیا و صلحا تھے اور سید تاج الدین سے لے کر جد امجد علی بن لطف اللہ تک تمام اہل دولت ہوئے ہیں۔ میرے دادا جو سید اولاد علی خاں کے نام سے مشہور ہیں، انہیں ریاست حیدر آباد دکن سے نواب انور جنگ بہادر کا خطاب ملا تھا اور وہ پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کا علاقہ اور ایک ہزار سوار و پیادہ رکھتے تھے۔ میرے نانا مفتی محمد عوض ساکن بانس بریلی عالم، عارف باللہ، صحیح النسب قریشی اور خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی اپنی جگہ مضبوط نسب نامہ ہے۔‘‘

نواب صدیق حسن خان کے اسی نسب نامہ کو دیکھ کر محمد حامد سراج نے باوضو ہو کر ان آپ بیتیوں کو پڑھنے اور ان کی تلخیص کا فیصلہ کیا۔ لکھتے ہیں کہ ’’میں سات برس کا تھا۔ میرے گھر کے دروازے پر مسجد تھی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ صبح کے وقت اذان ہوتے ہی والدہ مرحومہ مجھے بیدار کر دیتیں اور وضو کرا کے مسجد بھیج دیتیں تھیں اور گھر میں نماز کبھی نہ پڑھنے دیتی تھیں۔ اگر نیند کی سستی کی وجہ سے نہ اٹھتا تو منہ پر پانی ڈال دیتی تھیں۔ اسی وجہ سے بچپن ہی سے نماز کی عادت پڑ گئی۔ شاید دس برس کی عمر میں والدہ نے روزہ رکھوایا اور اس وقت سے روزہ رکھنے کی عادت پڑ گئی۔ مجھے اپنی والدہ سے بہت محبت تھی۔ میرے پاس جو روپیہ پیسہ یا کوئی چیز ہوتی، میں ان کو دے دیتا تھا۔ اپنے پاس نہیں رکھتا تھا اور ضرورت کے وقت ان سے لیتا تھا۔ وہ بھی مجھ سے بہت محبت فرماتی تھیں۔ اولاد پر ماں کی خدمت اور تعظیم کا حق باپ کی نسبت تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔ ورنہ حتی المقد ور ان کی خدمت بجا لانے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتا۔ میری والدہ مرحومہ جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو وہ مجھ سے راضی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے اس قدر بکثرت مال عطا فرمایا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ میں نے حتی الامکان اپنی والدہ ماجدہ کو خوش رکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کے سامنے اس طرح رہا ہوں جیسے کوئی کنیز یا غلام اپنے آقا کے سامنے رہتا ہے۔‘‘

کیا خوبصورت سبق اور تعلیم ہے تمام قارئین کے لیے۔ جو اس کتاب کا حاصل ہے۔ مولانا محمد جعفر تھانیسریؒ کی آپ بیتی ’’کالا پانی‘‘ اردو زبان کی نایاب اور پہلی آپ بیتی قرار دی جاتی ہے۔ جسے حال ہی میں بک کارنر جہلم نے دلکش انداز میں شائع کیا ہے۔ جس میں وہ اپنی گرفتاری کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’میرے گھر سے جو خطوط سپرنڈنٹنڈنٹ پولیس کو میرے گھر سے ملے تھے۔ ان کو دیکھ کر گورنمنٹ نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔ میں اس اندیشے سے پہلے ہی فرار ہو گیا تھا۔ سینکڑوں گھروں کی تلاشی ہوئی، پچاسوں لوگ پکڑے گئے۔ جن پر سخت عذاب اور مار پیٹ شروع ہوئی۔ ان مار کھانے والوں میں میرا بھائی محمد سعید کمسن اور لذت ایمانی اور فضائل ثابت قدمی سے سراسر بے بہرہ تھا، وہ اس مار پیٹ کو نہ برداشت کر سکا اور ڈر گیا اور اپنی جان بچانے کے واسطے بول اٹھا کہ میرا بھائی دہلی کو گیا ہے۔ یہ خود میری غلطی تھی کہ ایسے راز پر ایک نابالغ بچے کو آگاہ کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ میری گرفتاری ہوئی۔ اسی وقت پارسن صاحب، میری بھائی کو ساتھ لے کر بسواری ڈاک دہلی پہنچا۔ دس ہزار روپیہ کا اشتہار میری گرفتاری کے واسطے جاری ہوا۔‘‘

جعفر تھانیسریؒ نے کالا پانی کی انتہائی کڑی سزا کا سامنا کیا۔ جس زمانے میں وہ دیگر افراد کے ساتھ پھانسی گھروں میں قید تھے۔ انہیں ایام میں ایک مقبول بارگاہ الہٰی پر اللہ رب العزت نے یہ منکشف کیا کہ ہم لوگوں کو پھانسی نہ ہو گی مگر کالے پانی بہ عبور دریائے شور کو جانا ہو گا اور وہاں سے بھی پھر زندہ با عزت واپسی ہو گی۔ ہماری پھانسی کی موقوفی اس پیشین گوئی کے کوئی دو ماہ بعد ہوئی۔ اس وقت جب ساری سلطنت انگریز با اتفاق ہمیں پھانسی دینے پر مستعد تھی اور ظاہراً موقوفی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ میں نے اپنی بھائی اور دوستوں کو اسی وقت یہ خوش خبری کی اطلاع بھی دیدی تھی۔ کالا پانی کی قید کے دوران بھی یہی یقین مولانا کے ساتھ رہا اور انہوں نے قیدکے دوران نوٹس بنانے جاری رکھے۔ جن کی بنیاد پر اپنی آپ بیتی تحریر کی۔ جس میں جزائر انڈیمان، وہاں کے اصل باشندوں کے بارے میں قیمتی معلومات جو اس سے قبل کبھی سامنے نہیں آئی تھیں، پہلی بار لوگوں کے علم میں آئیں۔

مولانا جعفر تھانیسری گیارہ جنوری اٹھارہ سو چھہتر کو انبالہ سے کالے پانی میں داخل ہوئے۔ یہاں لگ بھگ اٹھارہ سال گزار کر تیرہ نومبر اٹھارہ سو تراسی کو رہا ہو کر کلکتہ واپس پہنچ گئے۔ یہاں ایک بیوی اور دو چھوٹے بچے چھوڑ کر گئے تھے۔ وہاں دو بیویاں اور آٹھ بچے اللہ پاک نے عنایت کر دیے۔ سامان نقد و جنس ہر ایک چیز کا نام بنام نعم البدل اس قید خانے میں عطا ہوا۔ اس میں اللہ پر توکل کا سبق حاصل ہوتا ہے۔ مشاہیرِ علم و ادب کی آپ بیتیاں میں ایسے بہت سے ایمان افروز اور چشم کشا واقعات قاری کے ذہن کو وسعت اور علم سے مالا مال کرتے ہیں۔

کتاب کی آخری آپ بیتی عبد المالک مجاہد کی ہے۔ جو انیس سو پچپن میں وزیر آباد ضلع گو جرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’ہمارے خاندان کے اکثر لوگ خطاطی کے پیشے سے منسلک تھے۔ خاندان کی متعدد لوگ طبیب بھی تھے، بعض امامت کرتے تھے، ان حضرات کا کہنا تھا کہ ہم لوگ امامت اللہ کو راضی کرنے کے لیے، طبابت خدمت خلق کے لیے اور کتابت گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ وہ دور ہی ایسا تھا کہ پیسہ بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا تھا۔ کسی نے کچھ دے دیا تو الحمد للہ! ورنہ اگر کسی گھر میں سال بھر کے لیے گندم موجود ہوتی تو پھر کی کوئی بات نہ ہوتی تھی۔‘‘

’’مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں‘‘ میں ایسی دلچسپ اور معلومات افزا ستائیس زندہ جاوید شخصیات کی آپ بیتیاں شامل ہیں۔ جن میں علم و دانش کے ایسے آب گینے شامل ہیں جو ہر قاری کے لیے دلچسپ ہی نہیں علم کے فروغ کا باعث ہیں۔ دو کتابوں کے بعد محمد حامد سراج کی اس سلسلے کی تیسری تالیف کا قارئین کو انتظار رہے گا۔

(Visited 95 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: