ایک ناکام لبرل کی داستان —– ملک آفتاب اعوان

1

صاحبو یوں تو ہماری ساری زندگی ہی ناکامیوں اور نامرادی کی ایک طویل داستان ہے جس میں مختلف میدانوں میں طبع آزمائی کر کے منہ کی کھانے کے کئی دُکھ بھرے قصے موجود ہیں مگر جس ہزیمت نے ہمیں سب سے زیادہ احساس کمتری کا شکار کر رکھا ہے وہ ہماری ایک سچا پاکستانی لبرل بننے میں کوششوں میں عبرت ناک ناکامی ہے۔ اس ناکامی نے ہماری نفسیات پر جو اثرات چھوڑے ہیں وہ ان اثرات سے بالکل کم نہیں جو مرحوم سویت یونین کے سانحہ ارتحال نے ہمارے سرخ ساتھیوں پر چھوڑے تھے۔ جن کی حالت سویت یونین کے انتقال پر ملال کے بعد دھوبی کے اس پالتو جانور کی طرح ہو گئی تھی جو نہ گھر کا ہوتا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا۔ مگر ان اصحاب نے تو پھر بھی کچھ ہی عرصے کے بعد اپنے لئے ایسا مناسب گھاٹ تلاش کر لیا جہاں پہلے سے مقدار اور مزے دونوں میں زیادہ راشن موجود تھا۔ مگر لبرل بننے میں ناکامی کے بعد ہم ابھی تک گھاٹ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

تفصیل اس اجمال پر ملال کی یہ ہے ہم نے ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائی جس میں غلطی سے پڑھنے کا رجحان بہت زیادہ تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس پڑھنے کے رجحان میں کسی خاص رجحان کی پیروی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ہمارے گھر میں اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ بھی آتے تھے اور اپنے زمانے کا مشہور دھنک بھی۔ سب رنگ کے بھی ہم سب باقاعدہ قاری تھے اور جناب صلاح الدین اور مجیب الرحمان شامی کے مختلف جرائد بھی ہمارے گھر بلا ناغہ آتے تھے۔ ۔ وہاں مولانا اشرف تھانوی کی تفسیر اور کتب بھی موجود تھیں اور نیاز فتح پوری کی کتب بھی اسی شیلف میں ہوتی تھی۔ مولانا مودودی اور لینن بھی اکٹھے ہمارے گھر میں براجمان تھے۔ نسیم حجازی اور ابنِ صفی بھی ساتھ ساتھ پڑے مل جاتے تھے۔ اور تو داستان امیر حمزہ اور عمرو عیار کے قصے پڑھنے پر ھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ ہمارے والد محترم اور برادرانِ بزرگ کی اس عاقبت نا اندیشی کا یہ انجام ہوا کہ ہم کوئی خاص پختہ نقطہ نظر بنانے میں بالکل ناکام رہے۔ بلکہ ہمارے کچے ذہن ایک خاص قسم کی کجی آ گئی جس میں تمام مکاتب فکر اور نقطہ ہائے نظر کے لئے ایک خاص قسم کی برداشت موجود تھی۔ نہ ہی ہم کسی مخصوص نقطہ نظر کو زبردستی درست منوانے کے قائل رہے۔ ظاہر ہے ملک عزیز میں اس بیماری کو بالکل اچھا نہیں سمجھا جاتا اور ایسے مریضوں کو بعض اوقات سخت علاج بھی تجویز کیئے جاتے ہیں۔ مگر خوش قسمتی سے ان دیسی علاجوں سے ہم بچے رہے۔

جب یونیورسٹی تک پہنچے تو یہ بے ترتیب اور بے ڈھنگے مطالعے کی عادت مزید پختہ ہوتی گئی۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہی نکلا کہ ہم اور زیادہ گمراہ ہو گئے۔ فرد کی آزادی کے بھی مزید قائل ہوگئے۔ لوگوں کے مذاہب اور مسالک کے بارے میں بھی کوئی خاص نقطہ نظر باقی نہیں رہا۔ ہم بس سب کو یہ کہنے لگے کہ بھئی آپ جو چاہے مرضی مذہب اور مسلک رکھو بس دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑاؤ۔ اسی طرح انسانوں کے حقوق کی برابری کے بھی قائل ہو گئے۔ جب یاروں دوستوں میں ہماری اسی کجئی فکر کی داستان پھیلنا شروع ہوئی تو ایک دوست نے ایک دن ہمیں لبرل ہونے کا طعنہ دے ڈالا۔ پہلے پہل تو یہ طعنہ سن کر ہم بڑے پریشان ہوئے۔ اور لگے کتابیں کھنگالنے کہ اس نے ہمیں کوئی گالی تو نہیں دے ڈالی۔ مگر جب اِدھر اُدھر سے پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس نے تو انجانے میں ہماری تعریف کر ڈالی ہے – لبرل تو بڑے اچھے لوگ ہوتے ہیں – انسانی حقوق کے، آزادیء فکر کے، برابری اور مساوات کے، لوگوں کے اپنی مرضی کی زندگی جینے کے حق کے قائل اور علمبردار ہوتے ہیں۔ اب ہم نے بڑے فخر سے خود کو لبرل کہنا اور کہلوانا شروع کر دیا۔

ہونہی خود کو لبرل سمجھتے سمجھتے کئی سال گزر چکے تھے کہ شومئی قسمت ہم نے سوشل میڈیا میڈیا میں قدم دھر دیا۔ یہاں پر نئی شناسائیاں بھی ہوئیں، کئی دوستیاں بھی بنیں اور کئی استانذہ کے سامنے ورچوئل انداز میں زانؤئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ یہاں ہمارا سامنا ایسے ساتھیوں سے ہوا کہ جو ہماری طرح بڑے فخر سے خود کو لبرل لکھتے اور کہلواتے تھے۔ سچی بات ہے کہ ان کو پا کر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ہمیں ایسا لگا کہ آج صحرا میں بھٹکتے راہی ہو نخلستان مل گیا۔ ہمیں ہم زبان اور ہم خیال مل چکے تھے۔ پھر کیا تھا۔ ہم بھاگ کر اُن سب کی محفل میں جا بیٹھے۔ ہماری مثال اب صاحب کی مانند تھی جن کے بارے میں مولانا ظفرؔ علی خان نے فرمایا تھا کہ ” بدھو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں۔ گو مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں”۔

ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ لبرل ہونے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کچھ کتابیں پڑھ لی جائیں اور آزادی فکر اور مساوات وغیرہ کا قائل ہوا جائے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً اہل مذہب کی موقع ملنے سے بھد اڑائی جائے اور جب بھی کوئی تہوار آئے تو فرد کی اپنے عقائد کے مطابق اس کو منانے کے حق کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو یہ احساس دلانا کہ کہ وہ حماقت اور جہالت میں مبتلا ہے، ایک سچے پاکستانی لبرل کا فرضِ عین ہے جو ہم نے اب تک نہیں نبھایا تھا ۔ اسی طرح ہم اب تک یہی سمجھتے رہے کہ پاکستان کے قیام کے جواز کا قائل ہونا اور لبرل ہونا ایک ساتھ ممکن ہے۔ اسے لئے ہم مطالعہ پاکستان کی افادیت سے بھی انکار نہیں کرتے تھے۔ ان سوشل میڈیائی محفلوں میں ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر آپ قیام پاکستان کے جواز کے قائل ہیں تو آپ کی لبرلیت بروزنِ ولدیت میں شک ہو گا۔ یہاں ہم پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ پاکستان کے کسی بھی اقدام کی حمایت اور کسی بھی پالیسی کی تعریف اور اور لبرل ازم آپس میں بالعکس متناسب ہیں۔ اگر آپ سچے لبرل ہیں تو پاکستان کی ہر پالیسی اور قدم کی مخالفت کرنا آپ کا فرض اولین ہونا چاہیئے۔ اور افغانستان اور ہندوستان پر پاکستان نے جو ظلم ڈھائے ہیں ان کا بھی وقفے وقفے سے ماتم کرنا آپ کو انٹرنیشنل لبرل قرار دلوانے کے لئے ضروری ہے۔ جب کہ ہمارے جیسے احمق ابھی تک یہی سمجھتے تھے کہ ہندوستان اور افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کے ذمہ داری جتنی پاکستان پر عائد ہوتی ہے اتنا ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ذمہ دار ہندوستان اور افغانستان بھی ہیں۔

یوں تو ہمیں معلوم تھا کہ سب انسان آپس میں برابر ہیں اور سب کا قتل ایک ہی جیسا بھیانک جرم ہے مگر یہ علم بھی یہاں پر ہوا کہ گو سب انسان آپس میں برابر ہیں مگر کچھ انسان زیادہ برابر ہیں۔ اگر پختون بھائیوں کا قتل ہو یا بلوچ بھائیوں کا تو سب پر مل کر افسوس کا اظہار کرنا تو لازم ہے مگر اگر کہیں کوئی گروہ پنجابیوں کو شناختی کارڈ دیکھ مار ڈالے تو تو اس پر خاموشی اختیار کرنا اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کی سازشیں تلاش کرنا بھی ایک لازمی امر ہے۔ ہمارے جیسے خام لبرلوں کا اب تک یہ خیال تھا کہ خون سب کا ایک جیسا سرخ ہوتا ہے اور پیاروں کے مرنے کا سب کو ایک جیسا افسوس ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو خبر ملی کہ پنجابی خون میں سرخی ذرا کم ہے اور شاید ان کے پیاروں کو ان کا مرنے کا دکھ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا اگر طالبان انسانوں کو اور فوجیوں کو ہلاک کریں تو وہ تو دہشت گردی ہوتی ہے مگر اگر بلوچ علیحدگی پسند لوگوں کو چن چن کر ماریں تو وہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہوتا ہے۔ اور ہاں ایک اچھے لبرل کی یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ مولانا آزاد کو دل و جان سے قائد اعظم سے بڑا قائد سمجھتا ہو۔

جب ان تمام تقاضوں کو جاننے کے بعد ہم نے اپنے گریبان میں جھانکا تو شرمندگی اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا۔ ہمارا لبرل ازم کا سارا سرمایہ لٹ چکا تھا اور ہم تہی دامن کھڑے تھے۔ اپنے مساوات اور آزادئی فکر اور فرد کی اہمیت کے سارے تصورات کے باوجود نہ ہمارے پاس کوئی مولانا آزاد کی برتری کے دلائل تھے اور نہ ہی افغانستان اور ہندوستان پر ڈھائے گئے پاکستانی مظالم کا نوحہ۔ نہ ہی ہمیں طلبان اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں کوئی فرق محسوس ہوتا تھا کیونکہ ہماری دانست میں تو دونوں کو راتب ایک ہی پلیٹ سے ملتا ہے اور نہ ہی آج تک پاکستان کا قیام ہمیں ایک عظیم غلطی محسوس ہوا بلکہ ہم تو وقتاً فوقتاً قائد اعظم کا شکریہ بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہمیں یقین ہو چکا ہے کہ اب ہمارا ایک کامیاب پاکستانی لبرل بننے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ ۔ اب ہمارا اُن سب کے ساتھ چل کر پاکستان کو ایک لبرل اور ترقی پسند ملک بنانے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ جسے ہم لبرل ازم اور ترقی پسندی سمجھتے تھے وہ مال تو ان سب کی نظر میں رجعت پسندانہ نکلا۔ اب ہم اس عمر میں اپنے سرخ سلام والے ساتھیوں کی طرح نئے قبلوں کی تلاش میں نکلنے سے بھی قاصر ہیں۔ آپ ہی بتائیے کہ کیجئے تو کیا کیجئے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: