اقبال کا پیغام، اقوامِ مشرق کے نام ——– فتح محمد ملک

0

علامہ اقبال نے اپنی مثنوی ’’پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘ آج سے۸۳ برس پیشتر لکھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عالمِ مشرق غلامی کی تہ در تہ تاریکیوں میں محوِ خواب تھا۔ علامہ اقبال نے اپنی اس نظم میں مشرق کی آزادی کی بشارت دی تھی:

پس چہ باید کرد ای اقوام شرق
باز روشن می شود ایّام شرق
در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید

اقبال ایک مدت سے اقوامِ مشرق کی بیداری کے ساز پر نغمہ سنج چلے آ رہے تھے مگر دُنیائے اسلام تب بھی میروسلطاں کے پنجۂ استبداد میں اسیر تھی اور اب بھی ہے۔ اقبال یہ شعور عام کرنے میں مصروف تھے کہ:

زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے

پُرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے

مگر دنیائے اسلام بدستور میر و سلطاں کی چاکری کو عبادت کا درجہ دینے میں منہمک تھی۔اقبال نے مثنوی ’’پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘میں عالمِ مشرق کو مغربی استعمار کے پنجۂ استبداد سے آزادی کے بعد اپنی سیاسی اور روحانی زندگی کی تعمیرِ نو کا ایک نیا اور انقلابی نصب العین پیش کیا تھا- غلامی نے دین اور سیاست کا مفہوم بدل کر رکھ دیا تھا- دنیائے اسلام حکمتِ کلیمی کو فراموش کر کے حکمتِ فرعونی کے زیرِ اثر قوتِ فرمانروا کی پرستش کو کارِ ثواب سمجھنے لگی تھی- نوبت یہاں آ پہنچی تھی کہ:

شیخِ او لُردِ فرنگی را مرید
گرچہ گوید از مقامِ بایزید
گفت دیں را رونق از محکومی است
زندگانے از خودی محرومی است
دولتِ اغیار را رحمت شمرد
رقص ھا گردِ کلیسا کرد و مرد
عصر ما مارا زما بیگانہ کرد
از جمالِ مصطفی بیگانہ کر

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اپنی اس مثنوی میں علامہ اقبال نے دنیائے اسلام یا دنیائے شرق کی بجائے اقوامِ شرق کی اصطلاح کیوں استعمال کی ہے؟اس لیے کہ دنیا اُس وقت امپیریلزم کی بجائے نیشنلزم کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ دنیائے اسلام بے شک ابھی تک خلافت کے نام پر ملوکیت کی گرفت میں پڑی سسکتی تھی مگر اقبال کی نگاہ مستقبل کے تقاضوں پر مرکوز تھی اور دل روحانی جمہوریت کے خیرمقدم کو بے تاب تھا۔ اس مثنوی کی تخلیق سے چودہ پندرہ برس پیشتر اقبال اپنے فلسفیانہ خطبات میں’’ مسلم لیگ آف نیشنز‘‘کا تصورپیش کر چکے تھے۔چنانچہ زیرِنظر نظم میں اُنھوں نے ملتِ اسلامیہ کی بجائے اقوامِ مشرق کو مخاطب کیا ہے۔ اپنے The Principal of Movement in the Structure of Islam کے عنوان سے اپنے خطبے میں مسلم لیگ آف نیشنز کا تصور پیش کیا تھا۔اس باب میں اُن کا استدلال پیشِ خدمت ہے:

“For the present every Muslim nation must sink into her town deeper self, temporarily focus here vision on herself alone, untill all are strong and powerful to form a living family of republics. A true and living unity, according to the nationalist thinkers, is not so easy as to be achieved by a merely symbolical overlordships. It is truly manifested in a multiplicity of free independent units whose racial rivalries as adjusted and harmonized by he unifying bond of a common spiritual. It seems to me that God is slowly bringing home to us the truth that Islam is neither Nationalism nor Imperialism but a League of Nations which recognizes artificial boundaries and racial distinctions for facility of reference only, and not for restricting the social horizon of its members.”1

مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے قیامِ پاکستان سے ۱۱برس پیشتر ہی پورے مشرق کو آزادی کی بشارت دے دی تھی- اپنی اِس نظم میں انھوں نے سیاسی آزادی کے طلوع کے ساتھ ہی تہذیبی آزادی کی منزل تک کی راہوں کی نشاندہی کر دی تھی- اِن راہوں پر برق رفتاری کے ساتھ سفر کی پہلی شرط یہ بتائی تھی کہ : ’مومنِ خود ، کافرِ افرنگ شو‘ -فرنگ یعنی مغربی استعمار کی غلامی سے انکارسچی آزادی کی جانب پہلا قدم ہے-اقبال اپنے مشاہدہ اور تخیل کی روشنی میں دورِ غلامی کی میراث کو نئی تعمیر کی راہ کی سب سے بڑی رُکاوٹ سمجھتے تھے- چنانچہ اُنھوں نے اپنی اِس طویل نظم میں غلامی کے آثار کی نشان دہی بھی کی اور اِن آثار کو مٹا کر بندگانِ آزاد کے فکر و عمل کی درخشندہ روایات کو بھی تازہ کیا ہے-برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جس تجارتی سیاسی کلچر کو جنم دیا اور برطانوی حکمرانوں نے جسے پروان چڑھایا تھا اُس کی رُو سے دُکان کا تھڑا اور تختِ حکومت یک جا کر دیے گئے تھے-اِن تاجر حکمرانوں سے نجات کی آرزو میں اقبال اہلِ سیاست کو خبردار کرتے ہیں کہ:

دانی از افرنگ و ازکارِ فرنگ
تا کجا در قید زُنارِ فرنگ
زخم ازو نشتر ازو، سوزن ازو
ما و جوے خون و امید رفو
خود بدانی پادشاہی قاہری است
قاہری در عصر ما سوداگری است
تختۂ دکان شریکِ تخت و تاج
از تجارت نفع و از شاہی خراج
آن جہانبانے کہ ہم سوداگر است
بر زبانش خیر و اندر دل شر است

خود انحصاری ہی سے اِس تاجرانہ سیاسی کلچر سے نجات ممکن ہے- مشرق کی سیاسی آزادی کے آثار دیکھتے ہوئے اقبال مشرق کی قوموں کو ذہنی غلامی ترک کرکے خود اپنے وسائل پر انحصار اور اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ کرنے کا چلن اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال اِس سرمایہ دارانہ سیاسی کلچر کے ردِ عمل میں نمودار ہونے والے اشتراکی انقلاب کا خیرمقدم کرتے ہیں:

ہمچناں بینی کہ در دور فرنگ
بندگی با خواجگی آمد بہ جنگ
روس را قلب و جگر گردیدۂ خوں
از ضمیرش حرفِ لا آمد بروں
آن نظام کہنہ را برہم ز داست
تیز نیشی بر رگِ عالم ز داست
کردہ ام اندر مقاماتش نگہ
لا سلاطین، لا کلیسا، لا الہ

اقبال اپنے فلسفۂ ارتقا کی روشنی میں اشتراکی نظام لا کے مقامِ نفی سے اِلّا اللّٰہ کے مقامِ اثبات کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا مگر افسوس کہ یہ نظام مقامِ لا پر ہی رُک کرناکامی سے دوچار ہو گیا۔ وجہ یہ کہ:

در مقام لا نیا ساید حیات
سوی اِلّا می خرامد کائنات
لا و اِلّا سازو برگِ اُمتاں
نفی بی اثبات ، مرگِ اُمتاں

لا و اِلّا کی اسی صداقت کی روشنی میں اقبال اپنی اِس مثنوی میں اسلام کے بنیادی تصورات کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں- اِن میں لا الہ الا اللّٰہ، فقر، مردِ حُر کے ساتھ ساتھ اسرارِ شریعت، اسرارِ طریقت شامل ہیں- اسرارِ شریعت پر روشنی ڈالتے وقت اپنی تان اِس بات پر توڑتے ہیں: ’’کس نباشد در جہاں محتاجِ کس/ نکتۂ شرعِ مبین این است بس‘‘ – اور طریقت کو اسرارِ شریعت دل و جاں میں بسا دینے کا نام دیتے ہیں: ’’پس طریقت چیست اے والا صفات/ شرع را دیدن بہ اعماقِ حیات‘‘- اقبال اسی طرح اسلام کے بنیادی تصورات کو مُلائیت اور ملوکیت کی گرد سے پاک کر کے اُن کی حقیقی صورت میں پیش کرتے ہیں- وہ اپنی پیش بینی سے اِس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح دیکھ لیتے ہیں کہ اب مشرق سے مغرب کا سامراجی غلبہ ٹوٹنے کو ہے- وہ اِس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ کہیں مغربی سامراج کی براہِ راست غلامی کے چُنگل سے رہائی کے بعد مشرق مغرب کے مقلد سیاستدانوں کی گرفت میں پڑا سسکتا نہ رہے- چنانچہ وہ مشرق کی حقیقی آزادی کا منظوم منشور پیش کرتے ہیں- ہمارے حکمران طبقے نے اب تک اِس منشور کو نہ پڑھا ہے نہ سمجھا ہے اور نہ ہی اِس سوال پر غور کیا ہے کہ سیاسی آزادی کو حقیقی آزادی بنانے کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہیے- اقبال نے مشرق کی قوموں سے ۱۹۳۶ء میں جو سوال کیا تھا وہ ہنوز اپنے جواب کو ترس رہا ہے۔مثنوی کے آخر میں اقبال نے حضورِ اکرم کی بارگاہ میں بھی اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ:

در عجم گردیدم و ہم در عرب
مصطفی نایاب و ارزاں بولہب
ایں غلام ابن غلام ابنِ غلام
حریت اندیشۂ اُو را حرام
مکتب از وی جذبۂ دیں در رمود
از وجودش ایں قدر دانم کہ بود
ایں ز خود بیگانہ این مستِ فرنگ
نانِ جو می خواہد از دستِ فرنگ
ما ہمہ افسونیِ تہذیبِ غرب
کُشتۂ افرنگیاں بے حرب و ضرب
آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ

افسوس کہ مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے اقوامِ مشرق کی حقیقی آزادی کا جو منشور پیش کیا تھا وہ ہمارے ہاں آج بھی رُو بہ عمل آنے کو ترس رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھی اقبال ہی کے لفظوں میں ہماری غلام ابنِ غلام ابنِ غلام قیادت ہے۔ اقبال سچ کہتے تھے کہ حقیقی آزادی اس غلامانہ ذہنیت سے آزادی کے بغیر ناممکن ہے!

حواشی

1. The Reconstruction of Religious Thought, Allama Muhammad Iqbal, Lahore, 3rd edition, 1996, p.126.

(Visited 133 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: