بھگت سنگھ اور بنگہ کی حویلی ——– قاسم یعقوب

0

تاریخ کے اس موڑ پر ہم پیچھے مڑ کے دیکھتے ہیں تو ہمیں بھگت سنگھ جیسے نوجوان بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے کسی مصلحت کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے موت کو قبول کیا اور اُس کاررواں سے علیحدہ شناخت قائم کر لی جو آزادی کی تحریکوں کے ساتھ منزل کی طرف گامزن تھا۔ بھگت سنگھ پر بات کرتے ہوئے انگریز سامراج کے خلاف اُس کی مزاحمتی کردار کو پیش کیا جاتا ہے مگر بھگت بہت بڑا دانش ور بھی تھا۔ وہ اپس وقت کی سامراجی سازشوں کو علمی اور دانش ورانہ سطح پر بھی جان رہا تھا۔ بھگت کو کئی زبانوں پر عبور تھا۔ اپس نے مرنے سے پہلے جیل میں بیٹھ کے انگریزی زبان میں ۶۰۰ صفحات کی ڈائری لکھی جو اپنی تئیں الگ سے ایک تاریخی ڈاکومنٹ ہے۔ جیل میں ہی اس کے پاس نہایت اہم کتب کا سرمایہ موجود تھا جس کا وہ گاہے گاہے مطالعہ کرتا رہتا۔ اگر اسے زندہہ رہنے کا موقع ملتا تو وہ شاید برصغیر کے اُن ممتاز دانش وروں میں شمار ہوتا جو سیاسی سطح پر آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ بھگت سنگھ ایک نوجوان جو صرف بائیس تئیس سال کی عمر تک پہنچ پایا اور پھر قید کر لیا گیا۔ اُس کے خلاف مرضی کا ٹرائیل ہوا اور پھر چوبیس سال کی عمر میں اسے پھانسی دے دی گئی۔

سوال یہ ہے کہ اگر بھگت سنگھ فریڈم فائٹر تھا تو ہمارے ہاں وہ اُس درجے پر فائز کیوں نہ ہو سکا جو ٹیپو سلطان کو ملا۔ بھگت سنگھ کو نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ آج بھی حکومت اور ہماری نظریاتی اشرافیہ بھگت سنگھ پر بات کرتے ہوئے خوف زدہ کیوں ہے؟ ان سوالوں کی کھوج میں ہمیں تاریخ کے ان صفحات کو کھولنا ہوگا جس میں برصغیر کے عوام کو مذہب اور زبان کی بنیاد پر مختلف قوموں اور ثقافتوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھگت سنگھ کو پاکستان میں قبول نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ سکھ قوم کی تقسیم کے وقت مسلمانوں کی شدید مخالفت بھی ہے۔ مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ایک خون کی ہولی کھیلی گئی۔ وسطی پنجاب اس کا مرکز تھا۔ یہاں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو آپس کے تنازعے کی بھینٹ نہ چڑھا ہو۔ تنازعہ کیا تھا؟ کسی کو سمجھ نہیں آیا۔ آج ستر سال بعد ہم ایک دوسرے سے پشیمان بھی ہیں اور معافی کے طلب گار بھی۔ میرا خاندان خود اس ظلم و بربریت کا شکار رہا۔ میری نانا ، نانی اپنے بچوں کو لے کر بھاگے اور یہاں ملک وال شہر (منڈی بہائوالدین)کے ایک کونے میں آ دبکے۔ میں اکثر والدہ سے پوچھتا ہوں کہ سکھ قوم ہی ہماری نفرت کا مرکز کیسے بن گئی۔ وہ جوہندوتھے اس خطے میں، کہاں تھے؟ والدہ بتاتی کہ سکھوں کو استعمال کیا گیا۔ ادھر مسلوں کو بھی ایک خاص نفرت کے ساتھ سکھوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ہندو اس علاقے میں کم تھا اس لیے وہ اس طرح زیرِ عتاب نہ آ سکا۔ ضیا دور میں ہم سکھوں کے بہت قریب آئے۔ ایک دوسرے کو سمجھا۔ یہی وہ وقت تھا جب سکھوں نے ہندوستان میں اپنی شناخت کو نئی پہچان دینے کی کوشش کی۔ اسی دور میں اِندرا گاندھی پر حملے نے سکھوں کو اپنی پہچان کا نیا حوالہ فراہم کر دیا۔ خالصتان کی تحریکوں نے سکھوں کو نئی نظریاتی شناخت دینے کی کوشش کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سکھ قوم مسلمانوں کے بہت قریب آئی ہے مگرنظریاتی تاریخ ابھی بھی سکھوں کی مسلمان دشمنی کو قبول نہیں کر پارہی جو قیام پاکستان کے وقت دیکھنے میں آئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کی نظریاتی تاریخ کا بھی ازسرِ نَو جائزہ لیں۔

پاکستان کی نظریاتی تاریخ میں انگریز سے زیادہ ہندو اور سکھ دشمنی موجود ہے۔ ہمیں انگریز وں سے وہ نفرت نہیں جو ان دو قوموں سے ہے۔ ۱۸۵۷ سے پہلے ٹیپو سلطان کی انگریز وں کے خلاف مزاحمت کو تو ہم قبول کرتے ہیں اور ٹیپو کو فریڈم فائٹر کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر سرسید احمد خان کی انگریز مفاہمت پالیسی کے بعد ہماری نظریاتی تاریخ میں انگریزوں سے دشمنی یا مخالفت کو نکال دیا گیا۔ سرسید تحریک نے انگریزوں سے مخاصمت کے باوجود ان سے ایک خاموش معاہدہ بھی کر لیا تھا کہ آپ غاصب سہی مگر ہمارے حکمران بھی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے نصابات میں انگریز مخالف تحریک صرف ایک تحریک کے دور پر پڑھائی جاتی ہے مگر ان تمام عناصر کو نکال دیا جاتا ہے جو انگریزوں کے خلاف مزاحمت اور نفرت کو پیش کرتے ہوں۔ جلیانوالہ باغ میں بہت سے مسلمان بھی قتل ہوئے تھے مگر چوں کہ یہاں انگریز نفرت کا غلبہ ہے ، اس لیے اسے نصابات سے غائب کر دیا گیا ہے۔

سکھ قوم گذشتہ تین دہائیوں سے اپنی شناخت کی ازسرِ نَو تشکیل میں ہے۔ انھوں نے مغربی ممالک کی مختلف پارلیمنٹوں سے اپنے دھرم کے مطابقت گیسو رکھنے اور لباس پہننے کی اجازت لی ہے۔ اپنی زبان پر بہت کام کیا ہے۔ کلچر کو نیا مزاج دیا ہے۔ اپنی فلموں اور آرٹ کے ذریعے اپنے کلچر کودریافت کیا ہے۔ دنیا بھر میں گرومُکھی کو بڑی زبانوں کی طرح پیش کیا جارہاہے۔ اسی طرح سکھ قوم اپنے فریڈم فائٹرز کو بھی تلاش کر رہی ہے۔ بھگت سنگھ تو بہت بڑا فریڈم فائٹر تھا اس کے علاوہ بھی بہت سے سرفروش جو سکھوں کا مان اور فخر ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر کا فخر ہیں، کو سامنے لایا جا رہا ہے۔

بھگت سنگھ کا شہر لائل پور تھا۔ لائل پور سے صرف پندرہ کلومیٹر دور ’’بنگا‘‘ گائوں میں پیدا ہونے والا بھگت اپنی خاندانی روایت کے مطابق آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے نکلا۔ میں آپ کو بھگت سنگھ کے گائوں اور لائل پور کی زندگی کے متعلق بتانے کی کوشش کروں گا۔ بھگت سنگھ اور لائل پور؛ یہ ایسا موضوع ہے جس پر لکھا ہی نہیں گیا۔ بھگت کی ’جم پل‘ یہی گائوں تھا۔ وہ ’بنگا‘ سے نکلتا تو لاہور کو مرکز بنا لیتا اور وہیں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرتا۔

’بنگا‘ ایک چھوٹا سا گائوں ہے۔ اس کے آس پاس اور بھی بہت سے گائوں نظر آتے ہیں جو اپنی آبادی کے لحاظ سے ’بنگے‘ سے بڑے ہیں۔ اب یہ گائوں زیادہ تر اعوان قوم پر مشتمل ہے، اعوانوں کے ساتھ جٹ قوم بھی موجود ہے۔ اس وقت اس گائوں میں کوئی غیر مسلم آباد نہیں۔ سکھ دور میں اس گائوں میں مسلمان اور سکھ اکٹھے رہتے تھے۔ مگر زیادہ تعداد سکھوں کی تھی۔ آپس میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیاکہ سکھ اور مسلمان لڑے ہوں اور بہت بڑا جانی نقصان ہوا ہو۔ بھگت سنگھ کی پھانسی کے بعد اس کے بھائی اور قریبی رشتہ دار روپوش ہوگئے۔ خوف و ہراس نے کئی افراد کو گائوں چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اگر اس گائوں کا محل وقوع دیکھا جائے تو یہ گائوں مرکزی سڑک (جڑانوالہ لائل پور روڈ) سے کافی دورہے۔ حویلی کے موجودہ مالکان بتاتے ہیں کہ بھگت سنگھ کے والدین ۱۸۹۰ میں اس گائوں میں آباد ہوئے تھے اور اسی وقت یہ نیا گھر بنایا تھا۔ اُس وقت سے لے کر ابھی تک یہ گھر اُسی حالت میں موجود ہے۔ اس گائوں کا انتخاب بھی اسی پیشِ نظر سے کیا گیا کہ یہ چھپا ہوا اور مرکزی شاہ راہ سے کافی ہٹا ہُوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھگت سنگھ کے والد کشن سنگھ اور چچا جب انگریزوں کی طرف سے کسی مزاحمت کا سامنا کرتے تو دور سے سپاہیوں کو گائوں کی طرف آتا دیکھ کے روپوش ہو جاتے۔ بھگت سنگھ کے گھر کی چھت سے مرکزی شاہرا ہ سے آنے والے راستوں کو باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔ بھگت سنگھ جب خود فریڈم فائٹر بنا تو اسی طرح بھاگ کر لاہور نکل جایا کرتا اور واپسی پر اپنے گھر کے لیے خفیہ راستوں کا انتخاب کرتا۔

یہ حویلی کشادہ کمروں پر مشتمل ہے۔ اس حویلی کے مالک اب ثاقب اقبال ورک ہیں۔ ثاقب کے دادا ’فضل قادر ورک‘ جو گرداسپور سے ہجرت کر کے آئے تھے، نے اس حویلی کو بہت قربانیاں دے کر اپنے نام کروایا۔ تقسیم کے بعد ہجرت کرکے آنے والوں کو جب مختلف گھر الاٹ کیے جا رہے تھے تو اُس وقت کی پاکستانی حکومت نے اس گھر کے مختلف امیدوار ہونے کی وجہ سے اس پر شرائط لگا دیں۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اگر بھگت سنگھ کا گھر ملے گا تو پھر بھگت سنگھ کی صرف وہی جائیداد د ی جائے گی جو اُس کی ملکیت تھی۔ حکومت سب کو ۱۵۰ ایکٹر زمین اور ایک گھر دے رہی تھی مگر بھگت سنگھ کے گھر کی صورت میں صرف ۲۵ ایکٹر زمین ملنا تھی۔ ثاقب کے داد انے ۲۵ ایکٹر زمین ہی کافی سمجھی مگر بھگت سنگھ کا گھر نہیں چھوڑا۔ اگر مسلمان اور سکھ قوم میں کوئی نظریاتی نفرت تھی تو ایک مسلمان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ بہت بڑی قربانی تھی۔ ۱۲۵ ایکٹر زمین کی قربانی گویا بھوکے مرنے کے مترادف تھی۔ ثاقب کے دادا نے بھگت سنگھ سے اس پیار کو نبھایا جو اُس وقت مسلمانوں اور سکھوں کا مشترکہ پیار تھا جس کی بنیاد سامراج سے نفرت اور انگریزوں کے خلاف مزاحمت پر مبنی تھا جسے ایک منصوبے کے تحت نفرت میں بدلا گیا جس میں سکھ اور مسلمان دونوں استعمال ہوئے۔

’بنگہ‘ گائوں میں اس وقت تقریباً سبھی گھر نئے بنائے جا چکے ہیں۔ کئی گھر مکمل مسمار کرکے اور کچھ گھر ترامیم کرکے بنادیے گئے ہیں۔ مگر بھگت سنگھ کی حویلی کو جوں کا توں رکھا گیا ہے۔ بھگت سنگھ جب مختلف مقدمات کا سامنا کرکے واپس آتا تو اسی گھر میں پناہ لیتا۔ یہ گھر اُس کی جنت تھا۔ اُس کی ماں ایک بیری کی چھائوں کے نیچے بیٹھ کے اُس کے لیے کھانا تیار کرتی۔ اس حویلی میںوہ بیری کا درخت اور اُس کے نیچے چولہا ابھی تک اُسی حالت میں موجود ہے۔ بھگت سنگھ کی شادی کی تیاریاں بھی اسی گھر میں دھوم دھام سے جاری تھیں مگر اُس نے انقلاب کے راستے کا انتخاب کیا۔ اس گھر میں بھگت کی ماں کا چرخہ اور دوسرا قیمتی سامان بھی موجود ہے جو حویلی کی تقسیم کے ساتھ ہی ورک خاندان کو سونپ دیا گیا۔

فضل قادر ورک کے بیٹے اقبال ورک کے پاس جب یہ حویلی آئی تو اسے ایک تاریخی یادگار میں تبدیل کر دیا گیا۔ اقبال ورک صاحب تاریخ پر دسترس رکھتے تھے۔ انھوں نے بھگت سنگھ کی اس یادگار کو اُسی شکل میں بحال کر دیا جو صدیوں پہلے موجود تھی۔ ساتھ انھوں نے یہ کام کیا کہ اسے سکھوں کے لیے کھول دیا۔ عموماً یہ گھر پرائیویٹ شکل میں موجود تھا مگر جب اقبال صاحب کی ملکیت میں آیا تو اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ اقبال ورک نے بھگت سنگھ کی مزاحمت اور تاریخی کردار کو پاکستانی معاشرے میں اجاگر کرنے کے لیے بہت کام کیا۔ ان کی ذاتی کوششوں سے اس گھر میں مختلف پروگرام ترتیب دیے جاتے۔ عوام الناس کو بھگت سنگھ کی انقلابی کاوشوں سے آگاہ کیا جاتا۔ اُس کی شہادت کو یادگار دن کے طور پر منایا جاتا۔ گائوں کے کئی افراد ایسے موجود ہیں جو بھگت سنگھ کی عملی جدوجہد کو اپنے آبا و اجداد سے سنتے آ رہے ہیں۔ ثاقب نے بتایا کہ کچھ تو ابھی اکیسویں صدی کے آغاز تک موجود ہ تھے جو بھگت سنگھ کے بھائیوں اور گھر والوں کو جانتے تھے۔ ان کے پاس اس گائوں کے حوالے سے بھگت سنگھ کی بہت سی یادیں موجود تھیں۔

لائل پور گائوں ’بنگہ‘ سے صرف پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ لائل پور ایک بڑا شہر ہے۔ میں نے جب یہ جاننے کی کوشش کی کہ بھگت سنگھ اور لائل کا کوئی تعلق رہا تو مجھے کوئی خاطر خواہ مواد نہ مل سکا۔ معروف تاریخ دان اور دانش ور وقار احمد پیروز صاحب سے جب میں نے پوچھا کہ کیا بھگت سنگھ لائل پور بھی آتا جاتا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ بھگت سنگھ کالائل پور کے حوالے سے کوئی خاص تعلق نہیں ملتا۔ وہ ’بنگہ‘ میں سکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور نکل گیا تھا اور لاہور، امرتسر اور دہلی میں زیادہ سرگرم رہا۔ اس وقت لائل پور میں بھی تحریکوں کا عروج تھا، قائد اعظم بھی یہاں ایک جلسے کے سلسلے میں آئے مگر بھگت سنگھ کے حوالے سے کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ وہ لائل پور میں بھی سرگرم رہا ہو۔ وقار پیروز صاحب نے بتایا کہ بھگت سنگھ کا قریبی ساتھی اور اُس کے ساتھ پھانسی پانے والے ’سکھ دیو‘ کے والد کی دکان گول کپڑا والا میں تھی جہاں وہ سکھ دیو کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ وقار صاحب نے اسے خالی از امکان قرار نہیں دیا کہ وہ لائل پور نہ آتا ہو، یا کبھی نہ آیا ہو۔ ’بنگہ‘ گائوں کے اتنا ہی قریب جڑانوالہ شہر بھی ہے جتنا لائل پور شہر ہے۔ بنگے کے افراد لاہور جانے کے لیے جو راستہ اپناتے ہیں وہ جڑانوالہ سے لاہور جاتا ہے۔ یہ قوی امکان ہے کہ وہ لائل پور کی بجائے جڑانوالہ کی طرف سے لاہور نکلتے ہوں۔ اس لیے بھی بھگت سنگھ کی زندگی میں لائل پور کی سماجی زندگی کی جھلکیاں نظر نہیں آتی۔ لاہور میںوہ لالہ لجپت رائے کے کالج، نیشنل کالج میں داخل ہو گیا۔

بھگت سنگھ کو اپنے ماضی کا روشن باب قرار دینا اُس نظریاتی تاریخ سے انحراف ہے جو تقسیم ہندوستان کے ساتھ مختلف بیانیوں کی شکل میں مختلف قوموں کو تھما دیا گیا تھا۔ ثاقب ورک نے اب ایک یادگار میوزیم بنا دیا ہے جو اس حویلی میں آنے والے وزیٹرز کو بھگت سنگھ کی تاریخی جدوجہد سے آگاہ کرتا ہے۔ ثاقب ورک نے ایک مہمان خانہ بھی بنا رکھا ہے جو بھگت کی اس یادگار حویلی میں آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

ثاقب ورک تاریخ کے اُن نصابات کو بدلنے جا رہے ہیں جن کو بدلنا اب ہماری ہی ضرورت نہیں بلکہ تاریخ کی بھی ضرورت ہے۔ مسخ شدہ تاریخیں زیادہ دیر تک تاریخ کا حصہ نہیں رہتیں۔ ثاقب ورک یہاں اسکالرز کے لیے ایک ریسٹ ہائوس کا قیام بھی عمل میں لا رہے ہیں جہاں دنیا بھر سے اسکالرز آکے ٹھہر بھی سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک کتب خانے کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں سکھ مت، جلیانوالہ باغ اور بھگت سنگھ پر نایاب میٹریل جمع کیا جا رہا ہے۔ گویا یوں اس حویلی کو صحیح معنوں میں بھگت کا مرکز بنا دیا جائے گا۔
(جاری ہے)

(Visited 261 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: