پیشہ کا انتخاب: غیر روایتی میدان اور بچے کا رجحان — اسماء ظفر

0

ہنرمند و عصر حاضر سے شناسا ہے اگر
دوریاں بزم جہاں کی سمٹ آتی ہیں سب ہی

ہمیشہ سے ہمارے بزرگ اور اب ہم خود بچوں کی تعلیم اور انکے پیشے کے چناؤ کے معاملے میں کچھ غلطیاں کرتے چلے آرہے ہیں اب وقت ہے انہیں سدھارنے کا ہم بچے کے ہوش سنبھالتے ہی اسکو ڈاکٹر انجئنیر اور پائلٹ بننے کے خواب دکھانا اور دیکھنا شروع ہوجاتے ہیں اور اپنی کئی تشنہ خواہشوں اور امیدوں کا بوجھ اس معصوم پر لاد دیتے ہیں ہم یہ حقیقت تسلیم کیئے بغیر کہ بچے کا اپنا رجحان کیا ھے؟ وہ خود کیا بننا چاہتا ہے؟ اور کیا وہ اتنا قابل یا ذہین ہے کہ ایک سخت تعلیمی دوڑ میں شامل ہو پائے؟ کیا وہ خود بھی وہ پیشہ اختیار کرنا چاہتا ھے جو ہم چاہتے ہیں کہ وہ بنے؟ ۔۔۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے میرے بیٹے کی اپنے ایک کلاس فیلو سے ملاقات ہوئی، دونوں اسکول ختم ہونے کے بعد کافی عرصے بعد ملے گھر آکر بیٹے نے مجھے بتایا کہ اسکا فرینڈ شیف بن گیا ھے اور ایک معروف ھوٹل میں بطور شیف کام کررھا ھے ابتدائی تنخواہ پچیس ہزار ہے اسکی پرائیوٹ انٹر کرنے کے بعد گریجوئیشن کی تیاری بھی کررہا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ بچہ پڑھائی میں خاصا کمزور تھا والدین ایک بہترین اسکول میں موٹی تازی فیس ادا کرکے بھی اسکے مستقبل کے لیئے پریشان تھے پھر اسکول کے بعد رابطہ ختم ھوگیا اب ملاقات ھوئ تو پتہ چلا کہ میٹرک کے بعد تین برس کی شیفس ٹریننگ لے کر اب جاب پر ھے اور آگے یو کے جانے کی کوشش بھی کررھا ھے اور بہت خوش ھے اکیس برس کی عمر میں ماشاءاللہ اس نے اپنا راستہ چن لیا اور بہترین مستقبل بھی۔۔۔

یہ  کتھا سنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر اسکے والدین زبردستی کرتے اور وہ بمشکل گریجوئشن کر بھی لیتا تو جاب کیا ملتی اسے اس کوالیفیکیشن پر؟ اگر مل بھی جاتی تو آگے ترقی کے کیا چانسز تھے؟ اب تو وہ ایگزیکٹو شیف کی ٹریننگ کر کے دو تین برس کے تجربے کے بعد لاکھوں میں تنخواہ پاسکتا ھے مغربی ممالک میں بہت وسیع مواقع ہیں اس فیلڈ میں بروقت والدین نے بچے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے ایک عقلمندانہ فیصلہ کیا اور اپنے بچے کے لیئے ایک متبادل راستہ چنا ضروری نہیں کہ وائٹ کالر جاب ہی باعزت ہو آجکل بہت سے متبادل روزگار آپکے منتظر ہیں بس آپکو ان سے متعلق اپنی سوچ بدلنی ہوگی اور اب بدل بھی رہی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کیریئر کونسلنگ کا تصور نا ہونے کے برابر ہے جبکہ مغربی ممالک میں بچے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ بات گریڈ تھری میں ہی واضع کردی جاتی ہے والدین کو کہ انکے بچے کی دلچسپی کن مضامین میں زیادہ ہے۔ میری والدہ ایک اسکول ٹیچر تھیں انہوں نے بتایا کہ ہم اگر رجحان دیکھتے ہوئے والدین کو صرف یہ مشورہ بھی دیتے تھے کہ آپ بچے کو سائینس کے مضامین آگے نویں میں نا دلوایں اسکی دلچسپی آرٹس کے مضامین میں ہے تو والدین ایسے دیکھتے تھے جیسے ہم نے انکے بچے کی خدانخواستہ کوئی تذلیل کردی یہ بھی ایک بھیڑ چال ہے کہ سائنس یا کامرس ہی پڑھنا بہتر مستقبل کی ضمانت ہے چاہے بچے کی پسند ہو نا ہو مگر اسے مضامین والدین کی مرضی سے ہی چننے ہیں اپنی مرضی چلانے کے بجائے اسکے فیصلے کی عزت کریں۔ شیف اور باورچی میں فرق ھے اسی طرح ھئیر ڈریسر اور نائ میں بھی فرق ھے۔ وسیع القلب ھوکر اپنے بچوں کو نئی  راہوں کا تعین کرنے دیں بیوٹیشن۔ھئیر ڈریسر۔ شیفس یہ پیشے بہت معزز ھیں اور ان میں آگے جانے کے مواقع بھی بہت زیادہ ھیں ڈاکٹر کو بھی آجکل MBBS کے بعد ابتدا میں تیس پینتیس ہزار ہی ملتے ہیں آگے بہت پڑھنا ہوتا ھے زندگی گزر جاتی ھے تجربے اور ڈگری حاصل کرنے میں تب کہیں جاکر ہاتھ کچھ آتا ھے اگر تو بچے میں صلاحیت اور قابلیت ہے اور اسکا رجحان بھی ہے تو ضرور بھیجیں اسے میڈیکل اور انجئنیرنگ کالجز میں ورنہ متبادل ذرائع کھوجیئے اور ایک بہتر مستقبل کے لیئے کھڑکیاں کھولیں اپنے ذہن اور دل کی مقصد کہنے کا یہ ہر گز نہیں کہ تعلیم صرف ایک بہتر روزگار کے لیئے حاصل کریں تعلیم شعور دیتی ہے زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے ہمارے ملک میں کئی قابل ہنر مند صرف اپنی تعلیم کی کمی کی وجہ سے اپنے ہنر سے وہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے جو اگر وہ تعلیم یافتہ ہوتے تو انہیں مل پاتا
ووکیشنل ایجوکیشن کے لیئے اب تو بہت سے کالجز موجود ہیں ان سے استفادہ کریں۔

ایک پلمبر، موچ، ٫کارپینٹر٫،الیکٹریشن معاشرے کے کارآمد فرد ہیں انکے بغیر ہم ایک آرام دہ زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے انہیں عزت احترام دینا معاشرے کا فرض ہے لیکن ضرورت ہے تو اس بات کی کہ اپنے پیشے میں آگے بڑھنے اور اسمیں کمال حاصل کرنے کے لیئے اچھے انسٹیٹیوٹ جوائن کریں اور اپنے ہنر کو نکھاریں علم و ہنر مل کر کیا فوائد دے سکتے ہیں آپکو اسکا اندازہ جب ہوگا جب آپ عملی زندگی شروع کریں گے۔

آجکل اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو اکثر لڑکے بہت لوگریڈز لے رہے ہیں تعلیمی میدان میں اسلیئے ضروری ھے والدین آگے کا سوچیں تعلیم ضروری ھے اور ھنر اور بھی ضروری ھے کسی دانا نے کہا ہے کہ ہنر مند کبھی بھوکا نہیں مرتا صرف لڑکوں کے لیئے نہیں لڑکیوں کے لیئے بھی یہ بہت ضروری ہے اپنی تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر سیکھ لینے میں کوئ حرج نہیں یہ بات لڑکیوں کے لیئے اس لیئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اکثر گھرانوں میں اب بھی بچیوں کے باہر جاکر کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اگر ایک لڑکی گھر بیٹھ کر کچھ کرسکے تو کسی کڑے وقت میں وہ کام یا ہنر اسکی زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

بطور والدین ہمیں اپنے بچوں کو کھلا آسمان دینا ہوگا روایتی سوچ سے باہر نکلیں ضروری نہیں ہر بچہ ڈاکٹر انجینئر ہی بنے دنیا میں سینکڑوں پیشے اور کام ہیں انہیں اپنی مرضی کا پیشہ چننے کا موقع دیں اور اس سلسلے میں انکی رہنمائی کریں انکے راستے کا پتھر نا بنیں یقین جانیں جب کوئی شخص اپنی مرضی اور شوق سے کوئ کام کرتا ہے تو وہ اسکے کمال کو پہنچتا ہے اپنے بچوں کی ترقی آپ کو بھی خوشی اور سکون دے گی زبردستی سے دنیا میں کبھی کوئی کام اچھا نا ہوا ہے نا ہو سکتا ہے۔

(Visited 105 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: