شیش محل : با ادب با ملاحظہ ہوشیار، ماضی زندہ ہوتا ہے —— محمد جاوید

0
  • 9
    Shares

یہ کہانی کسی تخت یا شہنشاہ کی نہیں ہے بلکہ اس جیتے جاگتے شاہی قلعے کی ہی جو تاحال شائقین فن کی توجہ کا مرکز ہے۔ سیاحت ایک ایسی سرگرمی ہے جسکے شایقین کبھی نہیں تھکتے۔ پاکستان ٹورازم کی تاریخ میں پہلی بار عوام الناس کے لیے شام کے وقت شیش محل کی سیر کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ویسے تو شاہی قلعہ لاہور غروب آفتاب سے آدھا گھنٹہ قبل ہی عوام کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہی جگہ ہے جہاں آج سے چار سو سال پہلے مغل بادشاہوں یا شاہی مہمانوں کے لیے نا صرف شام بلکہ رات کو بھی قلعے کے دروازے کھلے رہتے تھے۔ پھر حکومت ِ پاکستان کے سٹیٹ گیسٹ رات کے وقت شاہی قلعے میں منعقدہ پروگرامز میں شرکت کر سکتے تھے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کا یہ شاندار کارنامہ ہے کہ  گزشتہ سال ’’ہسٹری بائے نائٹ ٹورز‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ ٹور شام سات بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک کروایا جاتا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی خاصی تعداد اس میں شرکت کرتی ہے۔

بادشاہی مسجد سے منسلک فوڈ سٹریٹ تو پہلے ہی عوام کی توجہ کا مرکز ہے لیکن اب شاہی قلعے کا دروازہ کھلنے کے بعد سے اس کی رونقیں دوبالا ہوئی ہیں۔ پہلا گروپ رات ساڑھے سات بجے روشنائی دروازے کے پاس آ جاتا ہے اور ایک گائیڈ ان تمام سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ملتا ہے۔ باقی مہمان دوسرے گروپ کے جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ ٹور ڈرامائی شکل اختیار کر لیتاہے جس میں شاہی دربار سے شاہی دربان خصوصی ملبوسات کے ساتھ اپنے مہمانوں کو ملتے ہیں۔ روشنیوں سے جگمگاتا شیشی محل اپنے چاہنے والوں کو دیکھ کر مزید روشن ہو جاتاہے۔ سارنگی اور طبلہ ضیافت طبع کے لیے موجود ہوتے ہیں، موسیقی کے علاوہ کتھک اور کلاسیکل رقص کی پرفارمنس بھی شائقین کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ شیش محل گویا کسی بادشاہ کے تخت کا منظر پیش کرتا ہے جہاں مشروبات کا دور بھی چلتا ہے اور کھانوں کی سوغاتیں بھی خوشبوئیں بکھیرتی ہیں۔

پہلا گروپ جب روشنائی دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے تو ایک مشعل بردار چوبدار اسے سلام کرتاہے۔ راس لیلا سجی ہے جس میں چوبدار والڈ سٹی کے گائیڈ کے ہمراہ اس طائفے کو لے کر چلتا ہوا شیش محل تک جاتاہے جہاں بادشاہ سلامت شاہ جہاں اپنی چہیتی بیوی ارجمند بانو ملکہ ممتاز محل کے ساتھ براجمان ہوتے ہیں۔ گائیڈ اپنے قافلے کو مزارِ اقبال، بادشاہی مسجد، سرسکندر حیات اور گردوارہ ڈیرہ صاحب کے تاریخی قصے کہانیاں سناتے ہوئے حضوری باغ میں داخل ہوتے ہیں جہاں کوہِ نور ہیرے کی کہانی بھی سنائی جاتی ہے۔ جسے حاصل کرنے کی خوشی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے حضوری باغ تعمیر کروایا تھا۔ سکھ مذہب کے مطابق اس کے سات بڑے تخت یعنی گردوارے ہی جن میں سے ایک گردوارہ صاحب مہاراشٹرا میں ہیں جس کا نام گردوارہ حضور صاحب ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس باغ کا نام حضوری باغ رکھا تھا۔ بادشاہ سلامت اپنے مہمانوں کے ساتھ بانسری کی میٹھی دھنیں سنتے ہیں اور عالمگیری دروازے پر موجود رنگیلے رکشوں میں بیٹھ کر پوسٹم گیٹ سے گزر کر پکچر وال کے پاس آ جاتے ہیں۔ یہ خوبصورت خواب آفریں منصوبہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان کے اشتراک سے جاری و ساری ہے۔

اس ٹور کو آپ ناوپن ائیر تھیٹر سمجھ سکتے ہیں جس میں ہر کردار پوری ایمان دار ی سے اپنے فن کا مظاہرہ کرتاہے۔ فرضی بادشاہ کی جانب سے تخلیہ کا لفظ سننے کے بعد مجمع اپنے اپنے گائیڈ کے ساتھ نیچے سرد خانوں میں چلا جاتاہے جہاں سے باہر ان کے لیے مینا بازار سجایا جاتاہے۔ اس بازار میں مغلیہ دور کی پرانی اشیاء رکھی جاتی ہیں۔ شاہ برج وہ جگہ ہے جہاں کبھی سوار ہاتھیوں پر بیٹھا کرتے تھے اور جو وہاں ہاتھیوں کی لڑائی بھی دیکھی جاتی تھی۔ دیوار مصور چون میٹر اونچی اور ساڑھے چار سو میٹر لمبی ہے جس کی خوبصورتی کی بنا پر اسے اور شیش محل کو ۱۹۸۱ ء میں یونیسکو کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ دیوار مغل تاریخ کا بیان ہے جس پر بادشاہوں کی زندگی کے ایک سو سولہ مناظر قید ہیں جن میں ہاتھیوں کی لڑائی، شکار، پریاں، شیر، بکری اور بندر تماشا، اژدھے اور دیگر جانوروں کی تصویریں چھوٹی چھوٹی ٹائلیں کاٹ کر بنائی گئی ہیں۔ شمالی جانب کچھ بادشاہوں کے خاکے کاشی کاری کے نمونوں کی صورت میں ہیں۔

شاہی قلعے کا کل رقبہ 49.5 ایکڑ ہے جس کی بنیاد ایک روایت کے مطابق تین ہزار سال قبل ہندو دیوتا رام اور سیتا جی کے بیٹے لوہ نے رکھی۔ اسے اکبر بادشاہ نے 1556ء میں پکی اینٹوں سے دوبارہ تعمیر کروایا اور پھر جہانگیر، شاہ جہان اور اورنگ زیب نے قلعے میں تعمیرات کروائیں۔ 1799ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور 1849ء میں انگریزوں نے اپنے اپنے ادوار میں بھی کچھ تعمیرات کروائیں۔ موجودہ قلعہ اکیس عمارات پر پھیلا ہے جو تقریباً ایک سو سات سال میں مکمل ہوا۔ یہاں روزانہ تقریباً نو سے تیس کے قریب قافلے آتے ہیں جو رنگیلے رکشوں پر سوار ہو کر حضوری باغ سے فوڈ سٹریٹ سے ہوتے ہوئے روشنائی دروازے پر اترتے ہیں۔ جہاں امیرِ کارواں سپہ سالار اور چوبدار بادشاہ سلامت کے تمام مہمانوں کو الوداع کہتے ہیں۔ یوں تاریخ ایک بار پھر سے خود کو دہرانے کے عمل سے گزرتی ہے اور شاید گزرتی رہے گی۔ پھر کوئی قافہ سخت جان آنے کو ہے، مسند بچھ چکی ہے، شیش محل روشن ہے، غلامان بڑے بڑے رنگدار پنکھے جھولنے لگے ہیں کہ قرب و جوار سے صدا آ رہی ہے، با ادب باملاحظہ ہوشیار!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: