بلیک ہولز، سائنسی اشرافیہ، عامی اور ایمان بالغیب —– علیم احمد

0
  • 48
    Shares

10 اپریل 2019ء، معلوم انسانی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن تھا جب ’’ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ‘‘ نامی عالمی تحقیقی منصوبے سے وابستہ سائنسدانوں نے ایک دور دراز کہکشاں کے مرکز میں ایک انتہائی ضخیم بلیک ہول کے ارد گرد کی تصویر ساری دنیا کے سامنے پیش کی۔ (سائنس کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے راقم یہ کہنا چاہتا ہے کہ موجودہ صدی میں ہگز بوسون، کائناتی افراط اور ثقلی موجوں کے بعد یہ چوتھی اہم ترین سائنسی دریافت ہے۔ )

اس اعلان کے بعد سے پوری دنیا میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے: ایک جانب سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں تو دوسری جانب سے اعتراضات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی، کم از کم سوشل میڈیا کی حد تک، حالیہ دریافت پر گفتگو ہورہی ہے اور مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ اس میں جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔ البتہ، بہت سے افراد اس بارے میں غلط فہمیاں بھی پیدا کررہے ہیں اور اس دریافت کو غلط یا منفی رنگ دے کر پیش بھی کررہے ہیں۔ یہ تحریر بھی اسی بارے میں ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ کل یعنی مؤرخہ 15 اپریل 2019ء کی رات، فیس بک کے ایک گروپ ’’سائنس کی دنیا‘‘ میں انعام الحق حقانی صاحب نے ’’سائنس اور عامی‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر زاہد مغل کی تحریر لگائی جس میں بلیک ہول سے متعلق حالیہ دریافت کو بنیاد بناتے ہوئے، سائنس اور اہلِ سائنس کو خوب لتاڑا گیا ہے۔ تحریر کی ابتداء ہی اس غلط لیکن عوامی تاثر سے ہوتی ہے کہ بلیک ہول کے وجود کو تسلیم کرنا بھی گویا ’’ایمان لانے‘‘ کی ایک صورت ہے جسے سائنس دانوں پر ایمان لانے سے مشروط کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں: ’’عامی تو کیا سائنس کی کسی ایک ہی فیلڈ کے اچھے بھلے پڑھے لکھے (ایم اے، ایم فل و پی ایچ ڈی) کیلئے بھی اوپری سطح کے چند ٹاپ کے ماہرین علم پر ایمان لانا لازم ہوتا ہے۔ ‘‘

اس کے جواب میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ معاملہ ایمان کا نہیں بلکہ ’’علم الیقین‘‘ سے ’’عین الیقین‘‘ تک کے سفر کا ہے۔ سائنس ایسی ہر گز نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے؛ کیونکہ سائنس میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ معروف و مقبول نظریات تک کو شک کی نظر سے دیکھنے کی آزادی ہوتی ہے تاکہ سائنس میں خوب سے خوب تر کا سفر جاری رہ سکے۔ پرتجسس ذہن رکھنے والا کوئی بھی شخص، جو کم از کم ایک خاص درجہ علم سے آراستہ ہو، وہ اس عمل میں شریک ہوسکتا ہے۔ کسی خاص طبقے سے تعلق کی کوئی شرط نہیں، صرف علم و تجسس کی ضرورت ہے۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ سائنس میں آپ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے بڑے سائنسدانوں تک کے نظریات کو چیلنج کرسکتے ہیں لیکن طریقہ بھی ’’سائنسی‘‘ ہونا چاہئے۔ اگر صرف یہی رٹ لگائے رکھیں گے کہ میں ’’جدید سائنسی نظریات کو اس لئے نہیں مانتا کیونکہ یہ اہلِ مغرب اور کافروں نے پیش کئے ہیں‘‘ تو پھر یہ جذباتی بات تو رہے گی لیکن سائنس سے اس کا کوئی واسطہ نہ ہوگا۔ غرض سائنس کے بارے میں یہ اور ان جیسی نہ جانے کتنی ہی غلط فہمیاں ہیں جو ایسے اذہان کی پیداوار ہیں جو سائنسی طرزِ فکر سے عاری اور سازشی نظریات کے عادی ہیں۔ وہ سائنس کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے ہی اس بارے میں مخاصمانہ سوچ بنا لیتے ہیں اور سائنس کو صرف منفی پہلوؤں ہی سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔

2016ء میں، جب ثقلی لہروں (گریوی ٹیشنل ویوز) کی دریافت کا اعلان کیا گیا، تو لاہور کے کسی صاحب نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ انہیں اس دریافت کے دعوے پر یقین نہیں اور وہ میڈیا کے سامنے، پریس کانفرنس میں، اس دعوے کے خلاف ’’ٹھوس ثبوت‘‘ پیش کریں گے۔ اگلے روز صحافیوں کی اچھی خاصی تعداد پریس کانفرنس میں پہنچ گئی۔ ان صاحب نے ’’گورے‘‘ سائنسدانوں کو خوب برا بھلا کہا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ’’ٹھوس ثبوت‘‘ کہاں ہیں جن کی بنیاد پر وہ ثقلی لہروں کی دریافت کا ردّ کر رہے ہیں، تو حضرت فرمانے لگے: ’’بس! مجھے پورا یقین ہے کہ یہ دریافت جھوٹی اور غلط ہے۔ ‘‘ غرض اسی طرح کی باتیں کرنے کے بعد انہوں نے یہ پریس کانفرنس مکمل کی… اللہ اللہ خیر صلیٰ۔ خیر سے اس پوسٹ کے ’’مصنفِ حقیقی‘‘ نے بھی وہی کچھ کیا ہے۔

ڈاکٹر زاہد مغل، سائنس پر مزید نکتہ چینی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس ایک نہایت elitist علم ہے جس کی اوپری اور اعلی سطحوں کی ابحاث کو چند نہایت ماہر نفوس کے سوا کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ ‘‘

سر پکڑے بیٹھا ہوں کہ یاخدا! ایک ایسا شخص جو پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے، ایسی بات کیونکر کہہ سکتا ہے۔

یقیناً، سائنس کے شعبے میں بھی ’’چوٹی کے‘‘ ماہرین موجود ہیں جن کی کہی ہوئی بات معتبر تسلیم کی جاتی ہے، لیکن صرف تب تک کہ جب تک وہ ’’معقول‘‘ اور اپنی مہارت کے شعبے سے متعلق ہی کوئی بات کریں۔ مثلاً آئن اسٹائن، کوانٹم میکانیات کا شدید مخالف تھی۔ ہرچند کہ اس نے ’’نظریہ اضافیت‘‘ پیش کیا تھا جو بلاشبہ بیسویں صدی کے عظیم ترین سائنسی نظریات میں سے ایک ہے، لیکن کوانٹم میکانیات پر آئن اسٹائن کے شدید اعتراضات بھی قبول نہیں کئے گئے۔ آئن اسٹائن کا مشہور جملہ ’’خدا کائنات کے ساتھ پانسے نہیں کھیلتا‘‘ دراصل کوانٹم میکانیات پر اس کے اعتراضات کا خلاصہ ہی ہے۔

یعنی اگر آپ بھی کسی خاص سائنسی شعبے کو پوری توجہ کے ساتھ، اس کی باریک ترین جزئیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھیں گے اور مہارتِ تامّہ حاصل کرلیں گے تو آپ بھی سائنس کی اسی ’’اشرافیہ‘‘ میں شامل ہوسکتے ہیں… صرف خاندانی تعلق یا مال و دولت سے اس مقام و مرتبے کا حصول ممکن نہیں… ایں سعادت بزورِ بازو نیست!

سائنس میں بڑے سے بڑا ’’ایلیٹ‘‘ بھی تنقید سے ماورا نہیں۔ مثلاً 2006ء میں، جب مشہور ملحد ڈاکٹر رچرڈ ڈاکنز نے God Delusion نامی کتاب لکھی جس میں خدا کے وجود کا تمسخر اڑایا گیا تھا، تو خود سائنسدانوں نے اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکنز صاحب نے خدا کے تصور پر اعتراضات کرنے میں وہی انداز اختیار کیا ہے جس پر ماضی میں وہ خود معترض رہے ہیں۔ پھر ذرا یاد کیجئے کہ کچھ عرصہ پہلے ڈی این اے کی ساخت دریافت کرنے والے ایک کلیدی ماہر اور نوبل انعام یافتہ سائنسداں ڈاکٹر جیمس واٹسن نے ’’سائنسی بنیادوں پر‘‘ کچھ نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کیا تھا تو سائنس کی عالمی کمیونٹی نے نہ صرف ان کی شدید مذمت کی تھی بلکہ ان سے کئی اعزازات بھی واپس لے لئے گئے تھے۔

ڈاکٹر مغل مزید لکھتے ہیں: ’’… چند elite جرائد جن میں اس فن کے چوٹی کی سطح کے لوگ اپنی علمی تحقیقات پیش کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو اس قدر فنی و پیچیدہ سطح کی ہوتی ہے کہ اس علم کا اچھا بھلا پی ایچ ڈی بھی اسے سمجھ نہیں سکتا، دراصل یہ چند لوگ کچھ خیالات کا آپس میں تبادلہ و مباحثہ کرتے ہیں…‘‘

یہ تاثرات پڑھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر زاہد مغل صاحب کو سائنسی تحقیقی جرائد کے بارے میں کوئی علم نہیں، ورنہ یہ جملے کبھی نہ لکھتے۔ ان تاثرات کے برعکس، امرِ واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی ’’سائنسی تحقیقی جریدے‘‘ میں کچھ مخصوص شرائط پوری کرنے کے بعد، تحقیقی مقالہ جات شائع کروائے جاسکتے ہیں جس کیلئے ’’چوٹی کی سطح کا‘‘ ہونا کوئی ضروری نہیں۔ ایسے مُجلّوں کو ’’پرائمری ریسرچ جرنلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کیسے شائع ہوتے ہیں؟ یہ عام جرائد/ مجلوں سے کیونکر مختلف ہیں؟ شاید موصوف مصنف اس بات سے یکسر ناواقف ہیں۔ یہ کیوں کہہ رہا ہوں؟ ملاحظہ کیجئے:

جب ایک سائنس داں/ سائنس دانوں کا گروپ کسی تحقیق کے بعد کچھ نئے نتائج حاصل کرتا ہے تو وہ اپنی اس تحقیق (اور اس سے حاصل شدہ نتائج) کو ایک تحقیقی مقالے (ریسرچ پیپر) کی شکل دے کر، اپنے متعلقہ شعبے کے ’’پرائمری ریسرچ جرنل‘‘ میں اشاعت کیلئے بھیجتا ہے۔ ریسرچ جرنل کے مدیران اس تحقیقی مقالے کو تنقیدی مطالعے کیلئے اسی شعبے کے (کم از کم) دو بلند پایہ ماہرین (ریفریز) کو ارسال کردیتے ہیں، لیکن اس طرح کہ ریسرچ پیپر کے مصنف/ مصنفین اور ادارے/ ادارہ جات کی شناخت پوشیدہ رکھی جاتی ہے۔ ریفریز اس مقالے کو پڑھتے ہیں اور اس بارے میں ریسرچ جرنل کو اپنی تنقیدی رائے سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ریسرچ جرنل کے مدیران یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ تحقیقی مقالہ من و عن شائع کردیا جائے، مصنف/ مصنفین کو اس میں ترمیم کیلئے کہا جائے، اس سے مزید معلومات/ اعداد و شمار طلب کئے جائیں یا پھر اشاعت سے معذرت کرلی جائے۔

سطورِ بالا میں مختصراً بیان کیا گیا عمل ایک باقاعدہ نظام ہے جسے Peer Reviewed System کہا جاتا ہے؛ اور اس نظام کی پابندی کرنے والے تحقیقی جرائد کو پرائمری ریسرچ جرنلز یا Peer Reviewed Journals بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے ہزاروں مجلے شائع ہوتے ہیں اور ان کے معیار پر کڑی نظر بھی رکھی جاتی ہے۔ ایسے جرائد میں شائع ہونے والی تحقیق کو بالعموم مستند تصور کیا جاتا ہے لیکن تنقید سے آزاد ہر گز نہیں سمجھا جاتا۔ کوئی دوسرا تحقیق کار/ ریسرچ گروپ، اس کی تردید میں اپنی تحقیق پیش کرسکتا ہے۔ البتہ اس تحقیق کو بھی اشاعت کیلئے ان تمام مراحل سے گزرنا ہوگا جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔

بعض ماہرین کو شکایت تھی کہ ریفریز اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے ان کی تحقیقات کو ردّ کردیتے ہیں۔ چند سال پہلے اس کا متبادل بھی ’’آرکائیو‘‘ (ArXiv.org) کے نام سے سامنے آچکا ہے۔ اس ویب سائٹ پر کوئی بھی تحقیق کار/ تحقیقی گروپ اپنے مقالہ جات (ریفریز یا مدیران کی مداخلت کے بغیر) اپ لوڈ کرسکتا ہے، اور کوئی بھی انہیں پڑھ سکتا ہے۔ یہاں دنیا بھر کے ماہرین بھی آتے ہیں، اپنے اپنے شعبے سے متعلق تازہ مقالہ جات دیکھ کر ان کے بارے میں رائے دیتے ہیں، اور علمی تنقید بھی کرتے ہیں۔ البتہ، پرائمری ریسرچ جرنلز کو آج بھی آرکائیو کے مقابلے میں کہیں زیادہ معتبر اور مستند قرار دیا جاتا ہے۔ (کیونکہ ان میں استناد و احتیاط کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ )

اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ڈاکٹر زاہد مغل صاحب نے اپنے ایک سادہ سے جملے میں سائنسی و تحقیقی مکالمے کے بارے میں کیسی فاش غلط فہمیاں پیدا کردی ہیں۔

مزید لکھتے ہیں: ’’ان جرائد کی کچھ نسبتاً آسان ابحاث کو مختلف سطحوں کی ٹیکسٹ بکس میں اجماعی اصول بنا کر شامل کرلیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹیکسٹ بکس کا مقصد متعلقہ علم کی سچائی پر ’’یقین بنانا‘‘ ہوتا ہے، تو یہ کتابیں پڑھنے والے طلباء ان میں درج ’’سچائیوں‘‘ اور اسے دریافت کرنے کے طریقہ کار کی سچائی دونوں پر ایمان لے آتے ہیں، ان ہی میں سے 1 فیصد سے بھی کم لوگ اوپری سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔ ‘‘

لیجئے! فاضل مصنف نے نصابی کتب کے معاملے میں بھی اپنی لاعلمی کا ثبوت دے دیا ہے۔

اصولی طور پر کسی بھی نصابی کتاب (ٹیکسٹ بُک) کا مقصد، طالب علموں کو کسی مخصوص شعبے میں کلیدی معلومات فراہم کرنا اور ان میں متعلقہ علمی و عملی مہارت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ البتہ، ابتدائی جماعتوں میں تعارفی نوعیت کی معلومات ہوتی ہیں؛ اور جیسے جیسے طالب علم مزید پڑھتے جاتے ہیں، ویسے ویسے تدریسی مباحث بھی مفصل، دقیق اور عمیق ہوتے جاتے ہیں۔ مثلاً میٹرک سائنس میں پہلے پہل ہمارا سامنا نیوٹن کے قوانینِ حرکت سے ہوتا ہے؛ اور یہی قوانین ہمیں ایم ایس سی فزکس تک ’’کلاسیکل مکینکس‘‘ کے تحت بار بار پڑھنے پڑتے ہیں لیکن ہر مرحلے پر ان کی جزئیات، تفصیل اور گہرائی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

اب طالب علموں تک وہ معلومات کس طرح پہنچائی جارہی ہیں؟ یہ نظامِ تعلیم اور اساتذہ پر منحصر ہے۔ سائنس کو ایمانیات کی طرح پڑھانا، اس پر یقین بنانا اور غور و فکر کے بجائے ’’رٹّا لگوانا‘‘ ہمارے نظامِ تعلیم کی خرابیاں ہیں۔ اس میں سائنس کا کیا قصور؟ اچھے اساتذہ آج بھی اپنے شاگردوں میں تجسس کو پروان چڑھاتے ہیں، انہیں سوال کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ برے اساتذہ لگے بندھے لیکچر نوٹس سے پڑھاتے ہیں، اِملا لکھواتے ہیں اور امتحان بھی رٹی رٹائی چیزوں ہی کا لیتے ہیں نہ کہ نفسِ مضمون سے متعلق اپنے شاگردوں کا فہم جانچنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایک فیصد سے کم لوگ ہی ’’اوپری سطح‘‘ تک پہنچ پاتے ہیں… لیکن اس میں سائنس کی نہیں بلکہ نظامِ تعلیم کی خرابی ہے۔

اپنی تحریر کے تیسرے نکتے میں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ’’تیسری سطح متاثرین سائنس کی ہوتی ہے، یہ لوگ پاپولر سائنس لکھنے والے ہوتے ہیں جو عوامی مقبول طریقے سے آسان الفاظ میں چند ’’نتائج‘‘ کو کتابوں، اخباری آرٹیکلز، بلاگز وغیرہ میں اپنے نظریات کے تڑکے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ایسا لٹریچر لکھنے والوں کی غالب اکثریت ان نتائج کے پس پشت علمی و فنی ابحاث کو سمجھنے کی بالکلیہ لیاقت نہیں رکھتی ہوتی، یوں سمجھئے کہ یہ سائنس کے اس سطح کے عام مبلغین و داعی ہوا کرتے ہیں جیسے مثلاً تبلیغی جماعت میں گشت کرنے والے عام مگر اچھی گفتگو کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی گفتگو کے اندر ایسے جملے اکثر سننے کو ملیں گے: ’’سائنس نے یہ ثابت کردیا، ‘‘ ’’سائنسدانوں نے یہ بتا دیا، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن باتوں کو یہ سچائی سمجھ کر بیان کررہا ہوتا ہے اوپری سطح کے سائنس دان اس کے صحیح یا غلط ہونے کی ایسی زبان میں بحث کررہے ہوتے ہیں جس کی اسے ہوا بھی نہیں لگی ہوتی۔ ‘‘

اگر کوئی صحافی یا قلمکار، سائنس سے نابلد ہونے کے باوجود سائنس کے بارے میں کچھ مواد (خبر، اخباری مضمون، کتاب، بلاگ یا پاپولر سائنس لٹریچر وغیرہ) تخلیق کرتا ہے تو ایسی غلطیاں بالعموم اور بکثرت ہوتی ہیں۔

یادش بخیر، جون 2000ء میں ’’ہیومن جینوم پروجیکٹ‘‘ کے تحت انسانی جینوم کا عبوری نقشہ (draft map) مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان امریکہ اور برطانیہ کے سربراہانِ مملکت نے (ممتاز ماہرینِ جینیات کے ہمراہ) ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا جس میں وہ اپنے اپنے ممالک سے بذریعہ سٹیلائٹ لنک شریک تھے۔ اسے ’’چاند پر انسان کے اترنے سے بھی بڑی کامیابی‘‘ قرار دیا جارہا تھا۔ دنیا بھر کے درجنوں بڑے نیوز چینلوں نے یہ پریس کانفرنس براہِ راست نشر کی۔ پاکستان کے صحافتی حلقوں نے بھی اس پریس کانفرنس کو خصوصی اہمیت دی… سائنس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کیونکہ یہ دو طاقتور ممالک کے سربراہان نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ اگلے روز ’’اردو کے سب سے بڑے اخبار‘‘ نے صفحہ اوّل پر دو کالمی سرخی لگائی: ’’انسان کا جین دریافت ہوگیا!‘‘

یہ اور اس جیسی فاش غلطیاں اسی لئے ہوتی آرہی ہیں کیونکہ پاکستان میں آج تک ’’سائنسی صحافت‘‘ اور ’’سائنسی قلم کاری‘‘ کی باضابطہ تربیت کا کوئی اہتمام نہیں۔ شعبہ ہائے صحافت/ ابلاغِ عامّہ/ ماس کمیونی کیشن میں سائنس کا داخلہ ممنوع ہے۔ اور تو اور، ہماری صحافت بھی آج عملاً ’’چورن فروشی‘‘ اور ’’منشی گیری‘‘ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے۔ جو رویہ دوسری خبروں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، عین وہی رویّہ سائنسی خبروں اور معلومات کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ چنگھاڑتی ہوئی سرخیوں اور سوشل میڈیا شیئرز کا مقصد ’’عوامی توجہ‘‘ حاصل کرنا ہوتا ہے، علم و شعور تقسیم کرنا ہر گز نہیں۔ ایک بار پھر، فاضل مصنف نے صحافیوں/ قلم کاروں کی حماقتوں اور جہالت پسند عوامی مزاج کو سائنس کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔

جنابِ عالی! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اگر کوئی صحافی/ لکھاری، سائنس سے واقف ہی نہیں، سائنس کے بارے میں جاننے کا شوق ہی نہیں رکھتا تو اس میں اہلِ سائنس کا اپنا کیا قصور ہے؟ یہ تو بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے والی بات ہوگئی۔

ایک سائنسی صحافی کی حیثیت سے واضح کرتا چلوں کہ آج دنیا بھر میں اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ سائنسی صحافت میں آنے والے افراد کے پاس سائنس کے کسی نہ کسی شعبے کی سند (ایم ایس، پی ایچ ڈی وغیرہ) ہو، تاکہ وہ صرف ’’خبر بنانے والے‘‘ بن کر نہ رہ جائیں بلکہ خبر کی بنیاد بننے والے سائنسی مباحث کو قدرے گہرائی میں جا کر سمجھ بھی سکیں۔ سائنس سے نابلد، عام صحافیوں سے جتنی شکایتیں پاکستان والوں کو ہیں، لگ بھگ اتنی ہی شکایتیں اہلِ مغرب کو بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ڈاکٹر ڈیوڈ سوزوکی، ڈاکٹر میشیو کاکو، نیل ڈی گراس ٹائسن اور ان جیسے ہزاروں قد آور ماہرینِ سائنس خود ہی میدانِ ابلاغ میں اترے ہوئے ہیں… تاکہ عامۃ الناس میں سائنس کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے، اور سائنس کو ان کے سامنے دلچسپ لیکن درست پیرائے میں پیش کیا جاسکے۔

اب اگر ہمارے صحافتی اداروں نے یہ کام ایسے صحافیوں پر چھوڑ دیا ہے جو بے چارے کسی ایک چیز کے بارے میں بھی ڈھنگ سے نہیں جانتے، تو میڈیا میں سائنس کا وہی حشر ہوگا جو باقی تمام چیزوں کا ہورہا ہے۔ ایسے میں صرف سائنسی خبر سازی کو مطعون کرنا کسی بھی درجے پر منصفانہ طرزِ عمل نہیں۔

آخری پیرے میں حضرتِ مصنف ارشاد فرماتے ہیں: ’’عامی بچارے کا نمبر تو ان تین کے بعد آتا ہے، وہ ان تیسری سطح والوں کی باتیں پڑھ کر جان پاتا ہے کہ ’’اچھا تو سائنس نے یہ کردیا ہے، ھممممم!‘‘ پھر ان عامیوں میں سے کچھ اپنے ہی جیسے عامیوں کے سامنے ’’سائنس کے حوالے‘‘ دے کر گفتگو کرتے ہیں! دوسرے عامی اس پہلے عامی کو سائنسی علم کا عالم سمجھتے ہیں۔ ‘‘

عامی اگر سنجیدہ ہو تو وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ ہاں! اگر کوئی ’’علمیت بگھارنے والا‘‘ فرد ہو تو وہ یقیناً ایسا ہی کرے گا۔ لیکن، ایک بار پھر، اس پورے معاملے میں (بطور علم) سائنس کا اپنا قصور کیا ہے؟ بنظرِ غائر دیکھا جائے تو ڈاکٹر زاہد مغل صاحب نے بھی یہی کیا ہے۔ انہوں نے سائنس پر تنقید نہیں کی محض نکتہ چینی اور ’’تنقیص‘‘ کی ہے کیونکہ موصوف اپنی اس پوری تحریر میں جابجا سائنس اور سائنسی طریقہ کار سے اپنی عدم واقفیت کے ثبوت، پے بہ پے، دے چکے ہیں… نتیجتاً سوشل میڈیا پر ان کی واہ وا ہوگئی اور خود انہیں اپنے ’’تابعین‘‘ (فالوورز) کی توجہ حاصل ہوگئی۔

لیکن سوال یہی ہے کہ اس طرح مقبولیت حاصل کرنے سے کس کا بھلا ہوا؟ کیا پڑھنے والوں کی فکر تازہ ہوئی؟ کیا عامۃ الناس کے علم میں واقعتاً اضافہ ہوا؟

اور کچھ نہ سہی لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اس پوسٹ کو پڑھ کر راقم اپنا جواب ریکارڈ پر لائے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کے باوجود، جو کچھ بھی میں نے لکھا، اس سے اختلاف رکھنا ہر قاری کا حق ہے۔ یہ اچھا بھی ہے کہ اور کچھ نہ سہی، برسوں بعد کسی سنجیدہ موضوع پر بحث تو ہو، تاکہ فریقین پر سائنس کی خوبیاں خامیاں اور حدود و قیود بھی واضح ہوں۔

یہ بھی دیکھئے:  بلیک ہول کیا ہے؟ —– نعمان کاکاخیل

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: