انسداد بے نامی جائیداد ایکٹ کا نفاذ — ایک رہنما تحریر

0
  • 82
    Shares

قریبی دنیا میں بینامی جائیداد ایکٹ 1980 سے نافذ العمل ہے، اس کے برعکس ہمیں اس بات کا خیال لگ بھگ تین عشروں کے بعد آیا جس کے تحت سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار صاحب کا بینامی ایکٹ ڈرافٹ اگست۔2016 میں سٹینڈنگ کمیٹی فائنانس کو پیش ہوا لیکن بعض ضروری ترامیم کیلئے ریمانڈ بیک ہوگیا۔

مجوزہ ترامیم کے بعد یہ ایکٹ خاقان عباسی صاحب نے کیبنٹ کمیٹی فار لیجسلیٹیو کیسز، سی۔سی۔ایل۔سی، کو منظوری کیلئے فارورڈ کیا جسے جنوری 2017 میں منظور کرلیا گیا لیکن ایکٹ اور رولز میں تفاوت کی وجہ سے فوری طور پر اس کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔

انسداد بینامی ایکٹ کا نفاذ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات سے مطلع رہیں کہ انسداد بینامی جائیداد ایکٹ۔2017 اپنے منظور شدہ رولز۔2019 کیساتھ اب رواں سال کے مارچ سے مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

سادہ زبان میں یوں سمجھ لیں کہ ایکٹ وہ قانون ہوتا ہے جس کے تحت سوسائٹی کو کسی نظم کا پابند کیا جاتا ہے اور اس نظم کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیلئے کچھ سزائیں بھی مقرر کی جاتی ہیں۔

پھر اس ایکٹ کو چلانے کیلئے کچھ رولز متعین کئے جاتے ہیں جو اس ایکٹ کا نفاذ کرنیوالی سرکاری مشینری کو مقدمہ قائم کرنے، مجرم پکڑنے، تفتیش کرنے اور عدالت میں پیش کرنے تک ہر معاملے میں مختلف پاورز اور ان کے استعمال کا طریقہ کار طے کرکے دیتے ہیں۔

ایف۔بی۔آر کو یہ رولز پریکٹس کرنے کا مکمل اختیار دیا جا چکا ہے جس کے تحت وہ کسی بھی مشکوک جائیداد کی تفتیش کرکے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا اور جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم سنا سکتی ہے۔

عوام کیلئے اس ایکٹ کے رولز اینڈ ریگولیشن جاننا بہت اہم ہیں اسلئے ہر خاص و عام کیلئے اس قانون کا ابلاغ یہاں پیش خدمت ہے لیکن یہ آرٹیکل چونکہ عوامی تفہیم کیلئے ہے لہذا اسے قانونی ریفرینس کے طور پہ کہیں پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قانونی ریفرینس صرف اوریجنل ایکٹ اور کیس لاز کی صورت میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔

بینامی ایکٹ کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایکٹ بنیادی طور پر اس پارکنگ اسپیس کو ختم کرنے کیلئے ہے جو بدعنوان عناصر ناجائز ذرائع سے پیسہ کما کے اس رقم کو چھپانے کیلئے استعمال کرتے ہیں، ان لوگوں میں ٹیکس چور، رشوت خور، ان۔رجسٹرڈ بزنس اور دیگر ان۔ٹیکسڈ ذرائع سے آمدنی حاصل کرنیوالے لوگ شامل ہیں جو اپنی جائیداد قانون کی نظروں سے بچانے کیلئے اپنے بہن بھائیوں، بیوی بچوں، رشتیداروں، نوکروں یا انجان لوگوں کے نام پہ رکھتے ہیں۔

بینامی ایکٹ کے مقاصد؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینامی جائیداد رکھنے کی حوالہ شکنی کرنا۔
ایسی جائیدادوں کی فردر ٹرانسفر کو روکنا۔
ایسی جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کرانا۔

بینامی کیا چیز ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانون کی نظروں میں کسی جائیداد کا مالک وہ فرد ہوتا ہے جس کے نام پر وہ جائیداد حکومت کے کاغذوں میں رجسٹرڈ ہو لہذا ایسے بندے کو ہم “قانونی مالک” کہیں گے۔

لیکن جب قانونی مالک اپنے نام پہ رجسٹرڈ اس جائیداد کی ملکیت سے مکر جائے تو پھر اس جائیداد کا وارث کوئی نہیں رہتا، اس وجہ سے ایسی جائیداد کو “بینامی جائیداد” کہا جائے گا۔

پھر جب ہم ایک ایسے بندے کو دیکھتے ہیں جو اس جائیداد کا قانونی مالک بھی نہیں لیکن وہ اس جائیداد میں رہائش پزیر ہے یا کسی کو کرائے پر دیکر اس کا کرایہ وصول کرتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے اور کس حیثیت سے اس جائیداد کا فائیدہ اٹھا رہا ہے۔

دراصل یہ وہ بندہ ہوتا ہے جس نے ناجائز کمائی سے بنائی ہوئی اپنی جائیداد کسی اور کے نام پہ رجسٹر کرا رکھی ہوتی ہے لہذا ہم اسے “اصلی مالک” کہیں گے۔

بینامی ایکٹ کے اندر ان دونوں افراد کو بالترتیب بینامی۔دار اور بینیفشری کہا جاتا ہے لیکن عوامی تفہیم کی آسانی کیلئے ہم انہیں “قانونی مالک” اور “اصلی مالک” کے نام سے بیان کریں گے۔

بینامی جائیداد کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینامی فارسی اور اردو میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جسے کا کوئی نام نہ ہو لیکن جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے اس لفظ کا مطلب یہ ہوگا کہ؛

ایسی جائیداد جس کا مالک اس جائیداد کی قیمت کے ہم پلہ اپنے قانونی ذرائع آمدنی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

یا ایک ایسی جائیداد جو کسی ایسے بندے کے نام پر رجسٹرڈ ہو جو حقیقت میں اس جائیداد کا مالک نہ ہو۔

یا ایک ایسی جائیداد جو کسی فرد نے اپنی کمائی سے خرید کر کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ کرا رکھی ہو لیکن اس شخص کو فائیدہ دینے کی بجائے صرف اپنی ناجائز دولت کو اس کے نام پر چھپانا مقصود ہو۔

یا ایک ایسی جائیداد جس کے قانونی مالک کو اس بات کا علم نہ ہو کہ اس کے نام پر کوئی جائیداد بھی رجسٹرڈ ہے جس کی قیمت اس نے کبھی ادا نہیں کی اور نہ ہی وہ اس کے محل وقوع سے واقف ہے۔

یا ایک ایسی جائیداد جس کا قانونی مالک اس جائیداد کی ملکیت سے انکاری ہو خواہ اس کی قیمت اس کے اپنے اکاؤنٹ سے یا کسی اور کے اکاؤنٹ سے ادا کی گئی ہو۔

بینامی ٹرانزیکشن کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینامی ٹرانزیکشن سے مراد وہ رقوم ہیں جو بینامی جائیداد خریدنے کیلئے اس بندے نے ادا کی ہوں جو قانونی طور پر تو اس جائیداد کا مالک نہیں لیکن حقیقت میں اس جائیداد کا مالک وہی ہو اور اس جائیداد کا نفع بھی وہی اٹھا رہا ہو۔

یا وہ رقوم جو کسی فرد نے کسی جعلی نام سے جائیداد خریدنے کیلئے ادا کر رکھی ہوں۔

یا وہ رقوم جن سے خریدیں گئی جائیداد کا قانونی مالک اس رقم کی ادائیگی اور اس جائیداد کی ملکیت سے لاعلم اور منکر ہو۔

یا وہ رقوم جو جائیداد خریدنے کیلئے کسی ایسے نامعلوم فرد نے ادا کی ہوں جسے شناخت اور تلاش نہ کیا جا سکے۔

یا وہ رقوم جو کسی کے بینک اکاؤنٹ میں آئی گئی ہوں یا بینک بیلنس کی شکل میں موجود ہوں لیکن اکاؤنٹ ہولڈر اپنے نام پر موجود اس اکاؤنٹ اور ان ٹرانزیکشنز کے وجود سے قطعی لاعلم یا انکاری ہو۔

بینامی جائیداد کی ممکنہ شکلیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان جائیدادوں میں ہر چھوٹے بڑے منقولہ، غیر منقولہ، لمسی، غیر لمسی، ٹینجیبل، نان۔ٹیجیبل، کارپورئیل، انکارپورئیل اور ایسے تمام کنورٹیبل اوبجیکٹس اور انسٹرومنٹس شامل ہیں جن کی اکنامک مارکیٹ میں کوئی نہ کوئی کیش ویلیو موجود ہو اور وہ بوقت ضرورت کیش کرائے جا سکتے ہوں تو وہ سب اس بینامی ایکٹ کے تحت زیر سوال یا زیر تفتیش آسکتے ہیں۔

غیر لمسی، انٹینجیبل یا انکارپورئیل وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کی کوئی مارکیٹ ویلیو تو موجود ہو مگر وہ بذات خود کسی ٹھوس جائیداد کی شکل میں موجود نہ ہوں مثلا قانونی دستاویزات یعنی کوئی سپلائی ایجنسی کا لائسینس، ڈسٹریبیوشن شپ، فرینچائزشپ، ٹریڈ مارک، کاپی رائٹ، مارکیٹنگ رائٹس، بینک گارنٹی، سرٹیفیکٹ آف انویسٹمنٹ، شئیر ہولڈنگ سرٹیفکیٹ، ٹرانسفر لیٹر، اتھارٹی لیٹر یا پاور آف اٹارنی وغیرہ۔

ٹھوس، ٹینجیبل یا کارپورئیل ایسٹ میں رہائشی، کمرشل و صنعتی پلاٹ، گھر، فلیٹ، دفتر، شاپنگ پلازہ، مارکیٹ، دکانیں، ہاؤسنگ اسکیم، گاڑیاں، جیولری، کیش، پرائزبانڈ، فارن کرنسی اور بینک اکاؤنٹ وغیرہ شامل ہیں۔

اس دائرے میں ریزیڈنٹ یعنی مقامی شہریت اور مقامی سکونت رکھنے والے لوگوں کی وہ غیر ملکی جائیدادیں، آفشور کمپنیاں، بیرونی کمپنیوں میں حصص اور بیرونی بینک اکاؤنٹ بھی شامل ہوں گے جو انہوں نے کسی دوسرے پاکستانی کے نام پر بیرون ملک میں بنا رکھے ہوں اور ان کی رقوم پاکستان سے وہاں منتقل کی گئی ہوں یا وہ جائیداد ان کے اپنے نام پر ہو لیکن ابھی تک انہوں نے اپنے سالانہ ویلتھ ریٹرنز میں ظاہر نہ کی ہو۔

مشکوک جائیداد کا تعین؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی جائیداد مشکوک اس وقت ہوگی جب کوئی اس کی مخبری کرے گا، اس کام کیلئے وسل۔بلؤورز کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا تزکرہ آگے آئے گا۔

یا کوئی جائیداد اسوقت مشکوک ہوگی جب اس کے قانونی مالک کو روٹین کی سکروٹنی میں بذریعہ نوٹس یہ سوال بھیجا جائے گا کہ آپ نے ٹیکس گزار نہ ہونے کے باوجود جو فلاں جائیداد خریدی تھی یا آپ کے نام پہ جو فلاں بینک اکاؤنٹ چل رہا ہے اس کا سورس آف انکم اور ٹیکس نہ دینے کی وجوہات بتا دیں اور جواب میں وہ بندہ اپنے نام پہ ان کی رجسٹریشن سے لاعلمی اور ان کی ملکیت سے انکار کا اظہار کر دے گا۔

بینامی جائیداد کا تعین؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی جائیداد پر بینامی کا کیس بنانے کیلئے اوپر بتائی گئی بینامی جائیداد و ٹرانزیکشنز کی چھ آٹھ تعاریف میں سے اس پر کم از کم دو کا لاگو ہونا بہت ضروری ہے۔

پہلی یہ کہ جائیداد کی خرید اور قیمت ادا کرنیوالا بندہ قانونی مالک کے علاوہ کوئی اور ہے، یا جعلی ہے یا ان۔ٹریس ایبل ہے۔

دوسری یہ کہ جائیداد کی قیمت کسی ایسے بندے نے ادا کی ہے جو اس جائیداد سے بالواسطہ یا بلاواسطہ فائیدہ اٹھا رہا ہے یا مستقبل میں اس سے فائیدہ اٹھائے گا۔

مثال کے طور پر؛
اصغر کے نام پر ایک جائیداد رجسٹرڈ ہے جس کی قیمت اکبر نے ادا کی ہے تو یہ جائیداد اس وقت تک بینامی شمار نہیں ہوگی جب تک کہ درج بالا دونوں کنڈیشنز اکبر کیخلاف قائم نہ ہو جائیں۔

پہلی یہ کہ جائیداد کی قیمت واقعی اکبر نے ادا کی ہے اور دوسری یہ کہ فوری طور پر اس کا فائیدہ بھی اکبر ہی اٹھا رہا ہے یا مستقبل میں اٹھائے گا۔

اس دوسری شرط کا تعین کرنا پراسیسنگ کیلئے نہایت ضروری ہے ورنہ اسے بینامی قرار دینا مشکل ہو جائے گا۔

پہلی بات کا تعین مخبر کی اطلاع یا قانونی مالک کے انکار اور جائیداد کی پیمنٹ کے ریکارڈ سے ہو جائے گا۔

اور دوسری بات کا تعین اس میں رہنے والوں کے بیان سے ہو جائے گا کہ وہ اکبر کی فیملی ہیں یا رشتیدار یا اس کے کرایہ دار ہیں۔

لہذا مالک کی حیثیت سے وہاں رہنے والا یا کرایہ وصول کرنیوالا اکبر ہی اصلی مالک قرار پائے گا البتہ کوئی جائیداد تاحال بند پڑی ہو تو وہاں مقدمہ قائم کرنے سے قبل اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ اصلی مالک کب اس کا فائیدہ اٹھانے کیلئے سامنے آتا ہے تاکہ یہ کنفرم ہو جائے کہ وہ اکبر ہی ہے یا کوئی اور ہے۔

کوئی دوسرا بندہ نکلنے کی صورت میں اس بات کو ایسٹیبلش کیا جائے گا کہ جب پیمنٹ کرنیوالا اکبر ہے اور بطور اصلی مالک سامنے آنیوالا کوئی دوسرا ہے تو یقیناً یہ دونوں آپس میں پارٹنرز ہیں۔

پیمنٹ میکر اور بینیفشری کے درمیان اگر راست تعلق قائم نہ ہوا تو مقدمہ بھی قائم نہیں ہو سکے گا البتہ تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔

بینامی جائیداد رکھنے کی سزا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ایکٹ کے تحت ایسی تمام جائیدادیں بحق سرکار کلی طور پر ضبط کر لی جائیں گی جو لیگل پروسیسنگ میں بینامی ثابت ہوں گی خواہ اس کا اصلی مالک گرفتار ہو یا فرار ہو جائے۔

اس پراسیسنگ میں جائیداد کا قانونی مالک اس کی ملکیت سے جب انکاری ہو تو پھر بینامی ٹرانزیکشن کرنیوالا بندہ ہی اس کا اصلی مالک سمجھا جائے گا یعنی وہ بندہ جس نے اس جائیداد کی قیمت ادا کی ہو گی۔

اس صورت میں جائیداد کی ضبطی کے علاوہ اس بینامی ٹرانزیکشن کرنیوالے بندے کو بھی ایک سے سات سال کی قید بامشقت سنائی جا سکتی ہے خواہ وہ بھی سزا کے خوف سے اس جائیداد کی ملکیت سے منکر ہو جائے۔

بینامی جائیداد کا قانونی مالک اگر اصلی مالک کیساتھ شریک جرم ثابت ہو جائے تو اسے بھی ایک سے سات سال کی قید بامشقت ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر ایک شخص نے اپنی بیوی کے نام پر ایسی جائیداد بنا رکھی ہے اور بیوی اس جائیداد کا فائدہ اٹھا رہی ہے تو اسے بھی شریک جرم ہونے کی سزا مل سکتی ہے۔

بینامی جائیداد کا حقیقی مالک اگر فوت ہو گیا ہو، ملک سے باہر ہو یا کسی طرح ٹریس۔ایبل نہ ہو تو قانونی مالک اگر اس جائیداد کا فائیدہ اٹھا رہا ہے تو وہ بھی شریک جرم اور مستوجب سزا شمار ہوگا، جیسے کہ بعض لوگ اپنے نوکر کے نام پہ جگہ لیکر اسے وہاں ٹھہرا دیتے ہیں۔

قانونی مالک، کرایہ دار یا زیر تفتیش جائیداد سے متعلق کوئی بھی فرد غلط بیانی سے کام لے گا تو وہ اس جرم میں شریک نہ ہونے کے باوجود تفتیشی عمل کو گمراہ کرنے کے جرم میں چھ ماہ سے پانچ سال تک کی سزا کا حقدار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور اسے جائیداد کی ویلیو کا دس فیصد بطور جرمانہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

تفتیش، ایڈجوڈیکیشن اور عدالت؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروجہ ایکٹ کے تحت کسی مشکوک جائیداد کی جانچ پڑتال اور تفتیش کیلئے کمشنر آئی۔آر انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 208 کی پاورز استعمال کرتے ہوئے اپنے ماتحت ڈپٹی کمشنر آئی۔آر کو تفتیش پر مامور کر سکتا ہے یا وائس۔ورسہ کوئی ڈی۔سی۔آئی۔آر کمشنر آئی۔آر سے اجازت لیکر کسی مشکوک جائیداد کی تفتیش کر سکتا ہے۔

دوران تفتیش شک درست ثابت ہونے پر ڈی۔سی۔آئی۔آر 120 دن یا چار ماہ کے اندر اس کیس کا چالان مکمل کرکے ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی کے سامنے فیصلے کیلئے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی دو ممبران اور ایک چیئرپرسن پر مشتمل ہوگی جو ڈی۔سی۔آئی۔آر کی تفتیش اور اس کے پیش کردہ ثبوتوں سے مطمئن ہو تو وہ جائیداد کو ضبط کرنے اور اصلی مالک کو ایک سے سات سال قید بامشقت کی سزا سنا سکتی ہے جس کے خلاف ملزم کو فیڈرل اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا جائے گا۔

فیڈرل اپیلیٹ ٹریبونل ابھی زیر تشکیل ہے جس میں چند ممبران اور ایک جج صاحب ان کے سربراہ ہوں گے، یہ فورم اتھارٹی کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے اگر ملزم کی سزا کو قائم رکھے تو ملزم اس کے بعد ہائیکورٹ کی سپیشل عدالت میں مزید ایک اپیل دائر کر سکے گا، یہ سپیشل کورٹ بھی ابھی زیر تشکیل ہے۔

اسی طرح ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی کا فیصلہ اگر ٹریبونل منسوخ کر دے تو کمشنر آئی۔آر بھی ملزم کیخلاف اپنا کیس لیکر سپیشل کورٹ میں جا سکتا ہے۔

تفتیش کے دوران اس جائیداد کی فروخت اور ٹرانسفر پر مکمل پابندی عائد ہو جائے گی جو کمشنر کے حکم سے تین ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے لیکن تفتیش کا دورانیہ چار ماہ کا ہے پھر اتھارٹی کا فیصلہ آنے تک بھی کچھ وقت لگے گا لہذا کوئی شاطر مجرم پہلا نوٹس آنے سے پہلے یا فوراً بعد یا دوران تفتیش کسی طرح اپنے پیسے کھرے کرنے کیلئے اپنی بینامی جائیداد کسی گاہک کے ہاتھ فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سرکار کی طرف سے اس ڈیل کو کینسل نہیں کیا جائے گا نہ ہی گاہک کے نام ٹرانسفر میں رکاوٹ ڈالی جائے گی لیکن تفتیش بہرحال مکمل ہو گی اور کامیاب تفتیش کے نتیجے میں اس فروخت شدہ جائیداد کے عوض اس نقدی کو بینامی جائیداد قرار دیکر بحق سرکار ضبط کرلیا جائے گا جو مجرم نے گاہک سے وصول کی ہوگی۔

وِسل بلؤور کا کردار؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لوگ جو کسی غیرقانونی کام کی خبر حکومت کو پہنچاتے ہیں انہیں “وِسل بلؤور” یا عرف عام میں مخبر کہا جاتا تھا۔

کسی بینامی جائیداد کی مخبری کرنیوالا اگر ایسی خبر لا کے دے جو واقعی اہم ہو، پہلے سے ایف۔بی۔آر کے پاس موجود نہ ہو اور نہ ہی کسی پبلک ریکارڈ پر موجود ہو تو اسے کیس کی تمام پروسیڈنگ ختم ہونے کے بعد خواہ وہ کسی اسٹیج پر بھی فائنل طور پہ ختم ہو جائیں اور ایف۔بی۔آر اس جائیداد کو نیلام کرنے کی پوزیشن میں آ جائے تو اس موقع پر مخبر کو جائیداد کی مالیت کے اعتبار سے نقد انعام اس طرح سے دیا جائے گا کہ؛

جہاں بیس لاکھ تک کی جائیداد ضبط ہوگی اس پر پانچ فیصد، جہاں جائیداد کی قیمت بیس لاکھ سے اوپر اور پچاس لاکھ سے کم ہوگی وہاں چار فیصد اور جہاں پچاس لاکھ سے زائد کی مالیت ہوگی وہاں تین فیصد انعام دیا جائے گا۔

بینامی سے مستثنیٰ جائیدادیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی جائیداد جو جائز کمائی سے پیمنٹ کرنیوالے فرد نے امانت کے طور پر یا کسی اور وجہ سے کسی دوسرے کے نام پہ رجسٹرڈ کر رکھی ہو۔

ایسی جائیداد جو کسی فرد نے اپنی قانونی آمدنی سے خرید کے اپنے بیوی بچوں یا کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ کر رکھی ہو۔

ایسی جائیداد جو کسی فرد نے اپنی قانونی آمدنی سے اپنے کسی عزیز رشتیدار کیساتھ جوائنٹ ملکیت میں رجسٹرڈ کر رکھی ہو۔

ان عزیز رشتیداروں میں لائنیئل اسینڈینٹ یعنی دادا، دادی، نانا نانی یا ان کی اولادیں اور لائنیئل ڈیسینڈینٹ یعنی پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں وغیرہ سب شمار کئے جا سکتے ہیں۔

بینامی ایکٹ سے بچاؤ کی تدابیر؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایکٹ آنے کے بعد اب ہر بندے کو اس ضمن میں ہوشیار رہنے کی سخت ضرورت ہے کہ اوپر بیان شدہ کسی بھی قسم کی جائیداد خریدتے وقت ٹرانسپیرنٹ اور لیگل ٹرانسفر کیلئے وائٹ۔منی اور ڈیو۔پراسس سمیت تمام قانونی تقاضے ضرور پورے کریں تاکہ کسی کمی کی وجہ سے ان کی خریداری بینامی جائیداد میں نہ شمار ہو جائے۔

بہتر ہے کہ لاکھوں یا کروڑوں کی جائیداد خریدنے سے قبل معمولی سی فیس ادا کرکے قانونی ماہرین سے ان تمام امور پر مشاوت ضرور کریں جن امور کا خیال رکھنا اب نہایت ضروری ہو گیا ہے، اس سلسلے میں صرف اسٹیٹ ایجنٹ کی معلومات کے رحم و کرم پر مت رہیں۔

کسی دوست کی خریداری کیلئے کبھی بھی اپنے اکاؤنٹ سے پیمنٹ مت کریں، دوست کی مدد کرنا لازمی ہو تو پھر اپنے اکاؤنٹ سے دوست کے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کر دیں تاکہ جسے دینی ہو وہ اپنے اکاؤنٹ سے دے۔

اسی طرح کسی کو کیش کا کراس چیک بھی ہرگز نہ پیش کریں کیونکہ کیش کا کراس چیک کسی کے اکاؤنٹ میں بھی جمع ہو سکتا ہے، ہمیشہ اس بندے کے نام کا چیک پیش کریں جسے ڈائریکٹ پیمنٹ دینا مقصود ہو۔

علاوہ ازیں ہر خاص و عام کو بھی اس ضمن میں ہوشیار رہنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ اس کی لاعلمی میں اس کا شناختی کارڈ اور دستخط کسی بینامی جائیداد، بینامی ٹرانزیکشن یا بینک اکاؤنٹ کھولنے میں استعمال نہ ہو جائیں، اسلئے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی کبھی بھی کسی حال میں بھی کراس کئے بغیر اور اس کے اوپر موقع یا مقصد برائے استعمال بیان کئے بغیر کہیں بھی مت دیں۔

کون کون سے طبقات
اس ایکٹ کی زد میں آئیں گے
اور اپنے بچاؤ کیلئے انہیں اب کیا کرنا چاہئے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں سیاستدان، سرکاری ملازمین اور بزنس کمیونٹی میں یہ رجحان بہت عام پایا جاتا ہے کہ اوپر کی کمائی سے بنائی گئی جائیدادیں وہ عموماً اپنے رشتیداروں اور نوکروں کے نام پہ ہی رکھتے ہیں۔

بیشتر بزنس۔پرسن اپنے کاروباری بینک اکاؤنٹ اپنے رشتیداروں یا ملازمین کے نام پر چلاتے ہیں۔

بعض لوگ جو کسی فرد یا بینک کے مقروض ہوتے ہیں وہ بھی خود کو دیوالیہ ظاہر کرکے ان کے تقاضوں سے بچنے کیلئے اپنی پونجی اور انویسٹمنٹ کسی بینامی جائیداد یا بینامی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتے ہیں۔

لارج سائز انفارمل اکانومی اور درج بالا دو تین فیکٹرز کے تحت بینامی جائیدادیں بنانیوالے لاکھوں لوگ اب روز بروز ایک تواتر کیساتھ انسداد بینامی جائیداد ایکٹ کی زد میں آنا شروع ہو جائیں گے کیونکہ ان کا تمام ڈیٹا ایف۔بی۔آر کے پاس کچھ پہنچ چکا ہے اور باقی پہنچ رہا ہے۔

فائنانس ایکٹ۔2018 کی ڈائریکٹیوز کے تحت تمام بینک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایسے بینک اکاؤنٹس کی ماہانہ رپورٹ ایف۔بی۔آر کو دیا کریں جو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں لیکن روزانہ پچاس ہزار یا اس سے زائد یا ماہانہ دو لاکھ روپے یا اس سے زائد کی ادائیگیاں کرتے ہیں یا ایسے اکاؤنٹس جن کی پیمنٹس پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے۔

اسی طرح جائیداد رجسٹر کراتے وقت دیا جانے والا سی۔وی۔ٹی بھی خریدی جانیوالی ہر جائیداد کی رپورٹنگ براہ راست ایف۔بی۔آر کو دے جاتا ہے، مزید یہ کہ دبئی وغیرہ میں بینامی جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا بھی ایف۔بی۔آر نے حاصل کر لیا ہے۔

ان حالات میں آنے والے کچھ ماہ کے اندر رئیل اسٹیٹ مارکیٹ، بینکنگ سرکل، بزنس سیکٹرز اور ٹیکسیشن کے نظام میں اس ایکٹ کے تحت بہت دور رس اثرات مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور قوم کا ایک بڑا حصہ کچھ گھمبیر قسم کی تکالیف میں بھی مبتلا ہوگا۔

اس مشکل سے بچنے کیلئے ہر شخص کو اپنے احوال کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ جہاں ضرورت ہو وہاں حالیہ ایمنسٹی اسکیم کا فائیدہ اٹھا لیا جائے، ایمنسٹی کے موضوع پر بھی ایک الگ اور تفصیلی مضمون دانش کے اسی فورم پر موجود ہے، عوام کو اپنی سیفٹی کیلئے اسے بھی ضرور پڑھنا چاہئے، اس اسکیم کی بدولت آپ اپنی بینامی جائیداد اور بینک اکاؤنٹ سب کچھ کور کر سکتے ہیں، ایمنسٹی ختم ہونے کے بعد ڈیٹیکشن اور ضبطی سے بچنے کا کوئی حل بھی دستیاب نہ ہو سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پبلک سروس میسیج پریسٹیج لاء فرم کے تعاون سے مفاد عامہ کیلئے پیش کیا گیا ہے، مزید تفصیلات یا قانونی معاونت کے لئے رابطہ:

Cell No: 0321 30 20 420,  WhatsApp: 0321 25 81 855
E-mail: plmc.khi@gmail.com

Page: facebook.com/plmcpak
ID: facebook.com/prestige.consultancy.3

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: