ایمنسٹی کی اہمیت اور حقیقت حال کا جائزہ ——– لالہ صحرائی

0
  • 3
    Shares

ترقی پذیر ممالک میں ٹیکس ہالیڈے اور فائنانشیل ایمنسٹی کی اہمیت ہمیشہ قائم رہتی ہے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں بنیادی فیکٹر ڈبل اکانومی کا اثر انداز ہوتا ہے، جس کا ذمہ دار بزنس پرسن کی بجائے نظام مملکت ہے جو اپنے گرے ایریاز کو کسی مثبت اور انسان دوست پالیسی سے سرسبز و شاداب نہیں کر پاتا۔

*gray areas
چونکہ فیلؤور نظام کی طرف سے ہے اسلئے بزنس پرسن کو ان۔ڈیکلئیرڈ ایسٹ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، یہ بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی جب تک کہ کچھ مثالیں نہ پیش کر دی جائیں کہ یہ فیلؤور کیسے پیدا ہوتا ہے اور بزنس پرسن کو اس کا ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

*failure
*undeclared
ان۔ڈیکلئیرڈ ایسٹ رکھنے والوں میں پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو باقائدہ ٹیکسیشن کے نظام تلے نہیں آتے۔

مثال کے طور پہ؛
ریڑھی بان اور شاپ کیپر جو فروٹ چاٹ، سموسے، نان چنے یا برگر بیچتا ہے، یہ سماجی طور پر اپنا گزارہ چلانے والا نچلے درجے کا محنت کش طبقہ شمار کیا جاتا ہے جو کسی ٹیکس کیٹگری میں نہیں آتا، یہ بات واقعی مضحکہ خیز ہوگی کہ آپ ریڑھی بان اور نچلے درجے کے محنت کشوں کو ٹیکس سرٹیفکیٹ رکھنے پر مجبور کریں لیکن نصیب اپنا اپنا کے تحت انہی لوگوں میں سے ایک ایکسیپشنل کلاس بھی پیدا ہو جاتی ہے جن کا کاروبار موقع محل یا اپنی ریسیپی کی بدولت اتنا چمک جاتا ہے کہ وہ فقط پانچ سال میں اپنی باقائدہ جائیدادیں بھی بنانے لگتے ہیں۔

*exceptional
*recepie
یہ لوگ اپنے کاروبار کے آغاز میں چونکہ ٹیکس قوانین سے مستثنیٰ ہوتے ہیں اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کے متعلق ایجوکیٹڈ بھی نہیں ہوتے اسلئے یہ ٹیکس۔ایبل سلیب میں آنے کے بعد بھی اپنی اسی پرانی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں، اسٹیٹ اب تک ایسا کوئی نظام وضع نہیں کر سکی کہ سال بہ سال کسی طرح سے انہیں چیک کرتی رہے تا کہ جب وہ ٹیکس۔ایبل حدود کو چھونے لگیں تو ان سے ٹیکس کی وصولی شروع ہو جائے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو ایف۔ٹی۔آر ریجیم میں آتے ہیں، ان کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن عام آدمی کو سمجھانے کیلئے ٹرانسپورٹر کی مثال بہتر رہے گی، ایک بندہ جس کے پاس دس بارہ ٹرک، بسیں یا کوچز ہیں اور وہ پیسنجر یا کارگو کمپنی چلاتا ہے وہ انکم ٹیکس تھریشولڈ کی پابندی سے مستثنیٰ ہے، اس کی گاڑیوں پر ایکسائز کی طرف سے جو ٹوکن ٹیکس وصول کیا جاتا ہے وہی اس کی فائنل ٹیکس لائبلٹی بنتی ہے لیکن حقیقت میں دس بارہ گاڑیاں رکھنے والا بندہ آرام سے پچاس ساٹھ لاکھ روپے سالانہ کما کے بلاشبہ انکم ٹیکس تھریشولڈ کراس کر جاتا ہے البتہ ایک گاڑی رکھنے والا بندہ ٹیکس۔ایبل لیول سے نیچے ہی رہتا ہے۔

*threshold
اسٹیٹ نے یہ استثنیٰ ایک گاڑی والے کو محنت کش سمجھ کے دیا ہے لیکن ایسا کوئی نظام وضع نہیں کر سکی جس کے تحت وہ بھاری فلِیٹ رکھنے والوں کو ٹیکس کے نظام میں لاسکے، یا اس بات کا جائزہ لے سکے کہ دس سال میں کس بندے نے گروتھ کرکے ایک سے تین گاڑیاں بنا کر آمدنی کے اعتبار سے ٹیکس۔ایبل تھریشولڈ کو چھو لیا ہے، سو ریڑھی بان اور ٹرانسپورٹر اپنی دھن میں ترقی کرتے رہتے ہیں اور انتظامیہ اپنی نیند میں مست رہتی ہے۔

*fleet
تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو درمیانے درجے کی دکانداری کرتے ہیں لیکن چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ٹیکس لائبلٹی پوری طرح ڈسچارج نہیں کرتے جس کی بدولت ان کے پاس بھی ان۔ٹیکسڈ ویلتھ اکیومولیٹ ہو جاتی ہے پھر اسے چھپانے کی کوئی جگہ نہیں ملتی، ایسے ٹریڈرز، دکاندار، آڑھتی چھوٹے شہروں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔

* accumulate
چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو رجسٹرڈ بزنس کرتے ہیں اور اپنی ٹیکس لائبلٹی کو بھی پورا کرتے ہیں مگر انتظامیہ کی غفلت یا اسٹیٹ کا ڈھیلا پن انہیں بعض ایسے خطرات سے دوچار کر دیتا ہے جن کی وجہ سے بعض اوقات تو ان بیچاروں کی کیپیٹل انویسٹمنٹ بھی ضائع ہو جاتی ہے، اسلئے اپنے کاروبار اور اپنی انویسٹمنٹ کی سیفٹی کیلئے دوہرے کھاتہ داری نظام میں اترنا ان کی مجبوریاں بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک بندہ اعلیٰ کوالٹی کا گھی بناتا ہے اور اپنی ٹیکس لائبلٹی بھی پوری ادا کرتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور بندہ اسی کوالٹی کا گھی بنا کے اس کے مقابلے میں آجاتا ہے لیکن بااثر ہونے کی بنا پر وہ ٹیکس کی رقم بچانے کیلئے خود کو ان۔رجسٹرڈ رکھتا ہے اور ٹیکس گزار کے مقابلے میں سستا مال بیچنے لگتا ہے تو ٹیکس گزار اس کے مقابلے میں سروائیو نہیں کرسکے گا لہذا اپنے سروائیول کیلئے وہ بھی ٹیکس چوری کا ہی رستہ اختیار کرے گا جس کے بہت سے طریقے اِن۔پریکٹس ہیں جن کی بدولت اس کے پاس بھی کالا دھن اکیومولیٹ ہو جاتا ہے۔

یہ تیسری اور چوتھی قسم کے لوگوں کا کامن مسئلہ ہے جسے حل کرنے میں اسٹیٹ انتظامیہ ہمیشہ ناکام رہی ہے، اب یا تو ہر کوئی بزنس بند کرکے کہیں باہر چلا جائے یا پھر انہی جھوٹے سچے راستوں پر اپنی بقا کا سامان جاری رکھے، تیسرا کوئی راستہ نہیں لہذا بیشتر لوگوں کو جزوی ایویژن کا آپشن اختیار کرنا پڑتا ہے۔

*evasion
پانچویں قسم ان لوگوں کی ہے جو رجسٹرڈ پرسن ہونے کے باوجود جان بوجھ کے ٹیکس چوری کرتے ہیں، ایسے لوگ ہر بزنس کیٹگری میں موجود ہیں لیکن ان کی سب سے زیادہ تعداد دکانداری اور ٹریڈنگ سے وابستہ ہے، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہے، ہمارے مشاہدے کے مطابق سچ یہی ہے کہ رجسٹرڈ بزنس پرسن کی اکثریت ٹرو۔اینڈ۔فئیر ٹیکس لائبلٹی ڈسچارج کرنا چاہتی ہے لیکن کہیں مارکیٹ کے دو نمبر لوگ، کہیں افسر شاہی، بطور خاص آڈٹ کا نظام اور دیگر مجبوریاں انہیں تھرٹی۔پرسنٹ تک ٹیکس ایویژن پر مجبور کئے رکھتی ہیں۔

اگر اسٹیٹ اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتی کہ رجسٹرڈ پرسن جب ٹرو۔اینڈ۔فئیر طریقے سے اپنی ٹیکس لائبلٹی ڈسچارج کرکے ایک ٹن وزنی کتابیں بھی حساب کتاب کیلئے پیش کر دے تو وہ ٹیکس آڈیٹر کی نظر میں چور نہیں کہلائے گا اور اسے ہرحال میں ایک ڈیڑھ کروڑ روپے کا ڈیمانڈ لیٹر نہیں تھما دیا جائے گا تو پھر اس قدر ایویژن حکومت کو برداشت کرنی چاہئے۔

اب آپ اگر یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ ڈبل اکانومی اور ڈبل کاروباری کھاتے داری کیسے پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے پاس کالا دھن پیدا ہو جاتا ہے تو ایمنسٹی کی اہمیت سمجھنا قدرے آسان ہو جائے گا۔

جب بیلو۔دی۔ریڈار چلنے والا ریڑھی بان، ٹرانسپورٹر، چھوٹے شہروں کے لکھ پتی دوکاندار، لیگل ایویژن کرنے والا رجسٹرڈ پرسن یا کوئی پروفیشنل ٹیکس چور جب کسی ضرورت کے تحت اپنا اکیومولیٹڈ سرمایہ سامنے لاتا ہے تو قانون کی تین پروویژنز ان طبقات سے سخت ٹکر کھانے لگتی ہیں، ایک یہ کہ مروجہ قانون کے تحت اس رقم پر ٹیکس لے لیا جائے جو 35% تک ہوتا ہے، پھر اس پر 2.5% جرمانہ اور 12.5% لیٹ پینلٹی، اس فارمولے کے تحت ان لوگوں سے ان۔ڈیکلئیرڈ موو۔ایبل یا اموو۔ایبل ایسٹ کا پچاس فیصد تک گورنمنٹ ہتھیا سکتی ہے اور کوئی عدالت اسے ریلیف بھی نہیں دے سکتی۔

*moveable, immoveable asset
ایسے لوگوں کو اس قانونی مصیبت سے بچانے کیلئے گاہے بگاہے ٹیکس ایمنسٹی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے حساب کتاب سیدھے کر لیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ڈرائیو میں ہمیشہ بددیانت طبقہ ہی بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے جس میں کرپٹ اشرافیہ، رشوت خور عناصر اور پروفیشنل ٹیکس چور شامل ہیں کیونکہ یہ ایمنسٹی ہمارے ہاں صرف اس وقت دی جاتی ہے جب حکومت کو اپنی ضرورت کیلئے کچھ سرمایہ درکار ہو لہذا وہ جینوئن بینیفشری تلاش کرنے کی بجائے اس سکیم کو اوپن رکھتی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ طبقات کھل کے سامنے آجاتے ہیں اور نتیجے کے طور پہ چند سو ارب روپے رجسٹرڈ اکانومی میں شامل ہو جاتے ہیں اور اسی پروپورشنیٹ سے حکومت کو کچھ ٹیکس مل جاتا ہے۔

اس کے برعکس ہونا یہ چاہئے کہ ایمنسٹی صرف تین قسم کے افراد کو ملنی چاہئے؛

ایک وہ لوگ جو نچلے طبقات سے ترقی کرکے ٹیکس ایبل سلیب میں داخل ہوتے ہیں لیکن اپنی اگنورینس کی وجہ سے کبھی ٹیکس نہیں دیتے جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
*ignorance

مثال کے طور پہ ایک بندے کے پاس بارہ عدد رکشے ہیں، یہ بنیادی طور پر رکشہ ڈرائیور ہونے کی حیثیت سے کسی ٹیکس ایبل کیٹگری میں نہیں آتا لیکن جب ہر رکشہ روزانہ چھ سو روپیہ کما کے دے تو مہینے کے دولاکھ اور سال کی چوبیس لاکھ روپے آمدنی بنتی ہے جس کی بنیاد پر یہ ٹیکس۔ایبل ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ محض پانچ سال بعد وہ ایک کروڑ روپے کا گھر خریدنے کے قابل بھی ہو جاتا ہے۔

یہ رقم اس کے اکاؤنٹ میں پکڑی جائے یا گھر خریدنے کے بعد اس کا نوٹس لیا جائے تو ہر صورت میں یہ پچاس فیصد رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے گا، اگر کسی طرح فائن اور پینلٹی معاف بھی ہو جائے تو بھی اسے پینتیس لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، لہذا ریڑھی بان، ٹرانسپورٹر اور ان جیسے دیگر اگنورنٹ طبقات کیلئے دس فیصد ٹیکس کے عوض ایمنسٹی پورا سال کھلی رہنی چاہئے۔

دوسرا وہ رجسٹرڈ پرسن طبقہ جو مذکورہ بالا مجبوریوں کے تحت اکیومولیشن کرتا ہے اسے بھی ہر سال جولائی کا مہینہ ایمنسٹی دینی چاہئے تاکہ پچھلے سال کی اکیومولیشن وہ پانچ فیصد ٹیکس کے عوض دوبارہ اپنے کیش فلو میں شامل کر سکے، یہ جس قدر اس بزنس پرسن کیلئے فائدے مند ہے اسی قدر اکانومی کیلئے بھی سود مند ہے لہذا اس میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے۔

تیسرا وہ بندہ جو پہلی بار کوئی بزنس شروع کر رہا ہے یا موجودہ رجسٹرڈ پرسن جو ایک اضافی بزنس شروع کرنا چاہتا ہے اسے اجازت ہونی چاہئے کہ دس فیصد کے عوض اس موقع پر جتنی رقم چاہے وائٹ کرلے لیکن وائٹ کرنے کے بعد اگر پانچ سال سے پہلے وہ نیا بزنس بند کرنا چاہے گا تو پھر اس رقم پر مزید پچیس فیصد ٹیکس ادا کرکے بزنس سے باہر ہو جائے تاکہ اس رقم پر مروجہ تھریشولڈ کے حساب سے 35% ٹیکس لگ جائے ورنہ لوگ وائٹ منی کیلئے آئے دن ایک کمپنی کھولیں گے اور دو ماہ بعد بند کر دیں گے۔

حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو جو لوگ ان تین کیٹگریز میں فال نہیں کرتے وہ کسی طرح بھی ایسی کسی ایمنسٹی کے حقدار نہیں بنتے کیونکہ اس کا بیشتر فائیدہ صرف پروفیشنل کرپٹ لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ کالے دھن کو ترجیحی بنیادوں پر رجسٹرڈ اکانومی کا حصہ بنانا چاہئے جس کے بیہولڈرز اکثریت میں کرپٹ لوگ ہی ہیں لیکن اس کا بہترین طریقہ ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنل ٹیکس، فردر ٹیکس اور نان۔فائلر ٹیکس کے بچھائے ہوئے جال میں موجود تھا جوایک تدریجی عمل کیساتھ کالے دھن کو روز بروز ٹیکس نیٹ میں لاتا جا رہا تھا، اس جاری نظام کو ریورس کرکے کسی جز وقتی ایمنسٹی سکیم تک محدود کرنا ٹیکس نیٹ میں وسعت انگیز عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے البتہ ٹیکس ایمنسٹی اپنی اہمیت کے باعث اپنی جگہ درست فیصلہ ہے جسے کم از کم چھ ماہ تک کھلا رہنا چاہئے۔

اس ٹیکس ایمنسٹی کی اہمیت اسلئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کالے دھن سے بنائی گئی جائیدادیں ضبط کرنے کا قانون، انسداد بینامی جائیداد ایکٹ۔2017، رواں سال کے مارچ سے نافذ العمل ہو چکا ہے، اس قانون پر بھی ایک الگ اور تفصیلی مضمون دانش کے اسی فورم پر موجود ہے، عوام کو اپنی سیفٹی کیلئے اسے بھی ضرور پڑھنا چاہئے۔

یہاں مختصراً عرض ہے کہ یہ ایکٹ اپنی مبادیات میں انتہائی تُرش اور بے رحم قانون ہے جس کے تحت بینامی جائیداد پر صرف دو کنڈیشنز قائم ہونے سے نہ صرف وہ بحق سرکار ضبط ہو جائے گی بلکہ اس کے بینیفشری مالک کو ایک سال سے سات سال تک کی قید بامشقت بھی بھگتنا ہوگی اور ان دونوں سزاؤں سے کسی بھی فورم پر ریلیف ملنا تقریباً ناممکن ہوگا۔

اس ایکٹ کے نقصان سے بچنے کیلئے، جو لوگ درج ذیل قسم کی ان۔ڈیکلئیرڈ جائیداداوں کے مالک ہیں، انہیں فوراً اس ایمنسٹی اسکیم سے فائیدہ اٹھا کے یہ چیزیں ریگولرائز کرا کے اپنی ویلتھ میں ڈیکلئیر کر دینی چاہئیں بصورت دیگر یہ سب کچھ انسداد بینامی جائیداد ایکٹ کے تحت ضبط ہو جائیں گی کیونکہ ایسے لوگوں کی انتہائی تیز رفتاری کیساتھ سیکروٹنی ہو رہی ہے جو درج ذیل چیزوں کے بینیفشری اونر ہیں۔

*وہ خواتین و حضرات جو اندرون ملک اور بیرون ملک ایسی جائیداد رکھتے ہوں جو ابھی تک اپنی ویلتھ میں ڈیکلیئر نہ کی ہو۔

*یا ایسی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے مالک ہوں جو انہوں نے ٹیکس بچانے یا ناجائز آمدنی چھپانے کیلئے کسی دوسرے کے نام پر رکھے ہوئے ہوں۔

* یا ایسی ان۔ڈیکلئیرڈ جائیداد جس پر دولاکھ روپے سالانہ سے زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہوں، یا اس کے کرائے پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹتا ہو۔

*یا ایسے ان۔ڈیکلئیرڈ بینک اکاؤنٹس جن پر ودہولڈنگ ٹیکس کٹتا ہو۔

* یا بھاری ٹرانزیکشن پر مبنی ان۔ڈیکلئرڈ بینک اکاؤنٹس رکھتے ہوں۔

* یا کوئی ان۔ڈیکلئیرڈ انویسٹمنٹ رکھتے ہوں۔

* یا اپنے مختلف منقولہ و غیر منقولہ، ٹینجیبل و انٹینجیبل ایسٹ کسی دوسرے کے نام پہ رکھ کے بیٹھے ہوں۔

* یا کسی بیرونی کمپنی میں پارٹنر/ ڈائریکٹر ہوں۔

*یا کسی ایسی آفشور کمپنی، آفشور بینک اکاؤنٹ یا آفشور جائیداد کے مالک ہوں جو انہوں نے کسی اور کے نام پر بنا رکھی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پبلک سروس میسیج پریسٹیج لاء فرم کے تعاون سے مفاد عامہ کیلئے پیش کیا گیا ہے، مزید تفصیلات یا قانونی معاونت درکار ہو تو پریسٹیج کے مستعد ماہرین کی ٹیم آپ کی مکمل رہنمائی اور معاونت کیلئے دستیاب رہے گی۔

 

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: