کتاب اور ُبڈھی روح —— فارینہ الماس

0
  • 93
    Shares

اسد محمد خان کی ”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو،

”تمہارے یہاں کی ذہین لڑکیاں مائیکرو بیالوجی اور میڈیسن جیسے شعبوں میں جان کھپاتی ہیں اور تقریباً مڈل ایجڈ ہو جانے کے بعد شادی رچا لیتی ہیں اور شادی کے بعد بڑی یکسوئی سے اچاروں، چٹنیوں اور سوئیٹر کے چار سیدھے دو الٹے پھندوں کا لٹریچر جمع کرتی ہیں اور قسم ہے جو اپنے مضمون یا انسانی تاریخ یا ادب یا زندگی سے ایک سطر پڑھنے کا موقع آنے دیں۔ پھر ان کی تھوڑیاں دہری اور تہری ہو جاتی ہیں اور وہ درود تاج پڑھتے پڑھتے اللٰہ کو پیاری ہو جاتی ہیں۔ چلئے چھٹی ہوئی۔ ۔ ۔ “

ایسی بہتیریوں کو تو میں بھی جانتی ہوں جنہیں تام عمر درسی کتب کے علاوہ کسی کتاب کا ذائقہ تک معلوم نہ ہو سکا۔ میری ایک ہمجولی جس نے ادب کے رکھ رکھاؤ سے وابستہ ماحول کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے اردو ادب ہی میں ایم فل کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی اس کی ادب سے بے زاری کی مثال دیکھیں، چھٹکارہ ملتے ہی ادب کی تمام تر ضخیم کتابیں جو ایم فل کے تحقیقی مقالے کے لئے اکٹھا کر رکھی تھیں، ردی کے بھاؤ بیچ کر چند روپے کھرے کر لئے۔ اس سے بھی کہیں ذیادہ باعث حیرت بات یہ تھی کہ اس نے کسی بھی ادیب کو صرف مقالے کی حد تک ہی پڑھ رکھا تھا اس سے ہٹ کر اپنے مطالعے میں وہ بلکل صفر تھی۔ اب میں آپ کو اس سے بھی ذیادہ گھمبیر بات بتانے لگی ہوں وہ یہ کہ وہ اردو ادب کی تدریس ہی سے وابستہ ہے۔

میرا کتابوں کے بارے یہ تصور و فلسفہ ہے کہ یہ شیدے پہلوان کے ہاتھوں سے رگڑی گئی لسی کا گلاس نہیں کہ جسے ایک گھونٹ میں پی کر پیاس بھی بجھ جائے اور زبان کا چسکہ بھی پورا ہو جائے۔ اگر اسے چسکہ سمجھ کر پڑھا جائے تو قاری کی سوچ راجہ گدھ کے فلسفے سے ٹکرانے کی بجائے محض سیمی شاہ اور آفتاب کے معاشقے سے ہی الجھ کر رہ جائے منٹو کو پڑھنے والا اس کی سوچ کے باطن تک رسائی پانے کی بجائے اس کے نسوانی کرداروں کی انگیا اور گولائیوں میں ہی اٹک کر رہ جائے۔

ایسی کئی لڑکیاں جو محض درسی کتابوں سے تعلق داری رکھے ہوئے رہتی ہیں بعد ازاں ساری زندگی ان سے ہٹ کر کسی کتاب کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں رہتیں وہ کچھ اس طور ہی زندگی بسر کیا کرتی ہیں جس کی طرف اسد محمد خان صاحب نے اشارہ کیا۔ ہاتھ میں جھاڑن لئے، دن بھر گھر کی بے جان اشیاء کی مٹی دھول جھاڑتے ہوئے، گھر کے آئینوں سے بدنما داغ گیلے کپڑے سے رگڑتے ہوئے یا گھر کے کونوں کھدروں میں دبکے بیٹھے مکڑوں اور مکڑیوں کو گھر سے بھگاتے یا ان کے سیاہ جالے ہٹاتے ان کی زندگی گزر جاتی ہے۔ گھر کے کسی بے نام کونے کھدرے میں ان کی قابلیت کی تعلیمی سندیں برسوں سے مٹی دھول سے اٹی رہتی ہیں۔ عمر بھر ان کے شعور پر لاعلمی کی کائی اور ان کے وجدان پہ بے خبری کے سیاہ دھبے جمے رہتے ہیں جن کا قطعاً انہیں کوئی خیال نہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کتابی فارمولے رٹ لئے تو علم کی کمی ہمیشگی کو پوری ہو گئی۔ لیکن اس علم کا کیا جو صاحب کتاب نے اپنی روح کو نچوڑ کر تخلیق کیا، وہ تخلیق جو مصنف کے فہم و استدلال اور فکر کے منصفانہ، غیر متعصب اور بے باک اظہار سے جنم لیتی ہے۔ جس میں جھوٹ یا مصلحت کی آمیزش نہیں ہوتی۔

کتاب خواہ فلسفے کی ہو، ادب کی یا تاریخ و روایات کی تخلیق کا ر کے شعور، منطق، ادراک اور اس کے وجدان سے جنم لیتی ہے۔ محسوسات کے ان درجات سے اس کا عنوان کشید کیا جاتا ہے جس درجے تک ایک عام انسان کا پہنچنا عبث ہے لیکن وہ تخلیق کار کے تجربات و مشاہدات سے بہت کچھ سیکھتا، سمجھتا اور تخیلاتی طور پر اس تجربے سے خود بھی گزرتا ہے۔ کتابوں میں تحریر لفظ، پڑھنے والے کو بیک وقت ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی، اسے پرکھنے کا ہنر دے کر مردم شناس بھی بناتے ہیں اور آئینہ بن کر خود اپنے آپ کا عکس بھی دکھاتے ہیں۔ یہ لفظ اداس کرنے اور روح میں کرچیوں کی طرح کھبی اداسیوں کو چننے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں بیتے ہوئے یا آنے والے وقتوں کی چھبی دکھائی دیتی ہے۔ یہ انسان کو تنگیء حالات یا تنگیء خیالات کے دوران سخی بن کر عطا کرتے اور زندگی کے کئی رنجور و ملول لمحوں کی دوا کرتے ہیں۔

کتاب کو پڑھنے کے میرے کچھ اپنے ہی اصول ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے چسکہ سمجھ کر نہ پڑھا جائے۔ یہاں مجھے اپنی ایک ہم جماعت کی شدت سے یاد آرہی ہے جو کتابوں کی بہت رسیا تھی۔ کسی کے بھی ہاتھ میں کتاب دیکھ کر جھٹ اچک لیا کرتی اور ایک دو روز ہی میں بعد از مطالعہ اس کی واپسی کا بھی اہتمام کر دیا کرتی۔ کالج کی کتابوں سے کہیں ذیادہ رغبت اسے اردو ادب کے مطالعے سے تھی۔ لیکن مجال ہے کہ بھول کر بھی کسی کتاب کے عنوان، مرکزی خیال یا اس کے فلسفے پر کوئی دوچار شبد کہہ پائے۔ کبھی کسی مصنف کے انداز بیاں یا اس کی فکر و خیال پر کوئی سیر حاصل بحث کرنے کی ہمت جتا پائے۔ مجھے محسوس ہوا کرتا تھا کہ وہ لفظوں کی گھمن گھیریوں سے آگے نہیں جا پاتی بس لفظوں کو چھو کر ہی لوٹ جایا کرتی ہے۔ تو میرا کتابوں کے بارے یہ تصور و فلسفہ ہے کہ یہ شیدے پہلوان کے ہاتھوں سے رگڑی گئی لسی کا گلاس نہیں کہ جسے ایک گھونٹ میں پی کر پیاس بھی بجھ جائے اور زبان کا چسکہ بھی پورا ہو جائے۔ اگر اسے چسکہ سمجھ کر پڑھا جائے تو قاری کی سوچ راجہ گدھ کے فلسفے سے ٹکرانے کی بجائے محض سیمی شاہ اور آفتاب کے معاشقے سے ہی الجھ کر رہ جائے منٹو کو پڑھنے والا اس کی سوچ کے باطن تک رسائی پانے کی بجائے اس کے نسوانی کرداروں کی انگیا اور گولائیوں میں ہی اٹک کر رہ جائے۔ مجھے کتاب کو اس طور پڑھنا بھی نہیں بھاتا کہ بڑی سرعت اور تواتر سے کتب بینی کا مظاہرہ کرتے رہیں، کہ جیسے ایک ہی وقت میں لگاتار لفظوں کی چیونگم چبائی اور پھر اسے اگل دیا۔ سر کے دائیں بائیں درد سے پھٹتی کن پٹیوں کو خوب سہلا اور پر سکون ہو کر سو رہے۔ لفظوں کی بجائے خیال کی جگالی کرنا پائیدار عمل ہے۔ خیال لفظ سے ہی جنم لیتے ہیں لیکن خیال کا اپنا باطن ہوتا ہے جہاں ہمیں اپنی فہم اور ادراک سے پہنچنا ہوتا ہے اس شعور اور ادراک تک پہنچنے کا فاصلہ طویل ہوتا ہے جسے طے کئے بغیر گزرنا محض گزر جانا ہی رہ جاتا ہے۔ آپ ایک مصنف اور پھر فوراً ہی دوسرے یا تیسرے مصنف کے خیال کو پڑھ کر خود پر ایک ایسا بوجھ لاد لیتے ہیں جہاں سوائے تھکان اور خیالوں کے بیچ کے ٹکراؤ اور مدبھیڑ کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ درست سمت یہ ہے کہ پہلے ایک کتاب کو پڑھا جائے اور قدرے آرام اور سہولت سے اس پر غور و فکر کیا جائے۔ اس کی روح کو کریدا جائے اس کے بیانئے سے اپنے بیانئے کا ٹکراؤ ڈھونڈا جائے اس کا گہرا تقابل و تجزیہ غلط اور درست کا گیان دیتا ہے۔ پھر اک مخصوص وقفے کے بعد زبان کا ذائقہ بدلنے کو کچھ اور پڑھا جائے۔ تا کہ نئے خیال اور نئے ادراک کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جانا ممکن ہو سکے۔ اجلت میں پڑھنے والا بالائی سطح سے ٹکرا کر فوراً پلٹ جاتا ہے۔ خیال کے اندرون تک رسائی ہو ہی نہیں پاتی۔ وہ اندرون جس تک پہنچ کر ہماری بصیرت کی آنکھ کھل پاتی ہے۔

اب مطالعے سے وابستہ اہم بات ہے کتاب کا انتخاب۔ مطالعے میں موضوعات کی بندش کی میں قائل نہیں۔ بچپنے میں سکول کے دارالکتب سے اولاً نسیم حجازی کے تاریخی ناول پڑھے۔ منٹو کی صرف گنجے فرشتے ہی ہاتھ لگ سکی کیونکہ منٹو نامہ سکول کی لائبریری میں رکھا جانا قدرے ناممکن بات ہے۔ اور ویسے بھی منٹو کو پڑھنے کے لئے ذہن و عمر کی پختگی بہت ضروری ہے۔ منٹو کو تو خیر بعد میں تھوڑا بہت پڑھ ہی لیا لیکن نسیم حجازی کے ناولوں کو پھر سے دہرایا نہ جا سکا۔ اب جب کبھی آخری چٹان، خاک اور خون یا قرطبہ، سپین اور اندلس کی کہانیاں یاد آتی ہیں تو خیالوں میں سوائے مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں اور خوابوں میں طارق بن زیاد کے فرضی سراپے کے کچھ اور سجھائی ہی نہیں دیتا۔ کہانیاں تو بھول چکی ہیں لیکن شکست خوردگی کا احساس اور رنج و الم کے داغ یاد ہیں۔ اس زمانے میں بھی بچوں کی کہانیاں پڑھنے کا اتفاق نہ ہو سکا شاید طبعی عمر سے روحانی عمر کا خاصا تفاوت تھا۔ اس لئے مطالعے کے انتخاب پر مزاج کا عنصر ہمیشہ غالب رہا۔ اور ایک غیر کتابی، غیر ادبی ماحول میں سہیلیوں کے درمیاں اور گھر میں میرا نام بڈھی روح پڑ گیا۔ کالج کا زمانہ نیا نیا وارد ہوا تو واصف علی واصفؒ کی تمام کتابیں اور گفتگو کے سبھی سلسلے پڑھ لئے۔ قرة العین حیدر، عبد اللہ حسین، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، غلام عباس، کرشن چند، منٹو، امرتا پریتم اور ایسے ہی کئی ادباء کو پڑھا۔ لاہور کے دارالکتب جو گنتی کے دوچار ہی تھے اور اب بھی دوچار ہی ہیں ان کا رخ بھی کیا۔ لیکن تجربہ کچھ خاص اچھا نہ رہا۔ پنجاب پبلک لائبریری سے جس کتاب کو طلب کیا جاتا وہ مدتوں سے کسی اور ہی کی دسترس میں پائی جاتی۔ قائد اعظم لائبریری میں کتاب ایشو نہیں ہوتی تھی سو اس غائب شدگی کا احتمال تو نہ تھا لیکن عین اس وقت جب کتاب کی روح تک پہنچنے کا سمے آتا وہ اندرون کے اہم صفحات جلد سے کھرچے یا نوچے گئے ملتے اور مطالعہ ادھورہ رہ جاتا۔ ان دنوں گھر کے قریب واقع ایک بازار میں ایک بزرگ محترم کی چھوٹی سطح پر کھولی گئی لائبریری کا پتہ چلا۔ بہت خوشی ہوئی۔ شروع میں بڑے بڑے ادیبوں کے نادر نسخے کرائے پر گھر لا کر قدرے اطمینان و رغبت سے پڑھے بھی گئے۔ اچھا خاصا قدیم اور کلاسک ادب تھا بزرگ محترم کی دسترس میں۔ لیکن پھر ایک دل شکن جھٹکے کا شکار ہونا پڑا بزرگ وار نے اپنی مخدوش مالی حالت سے چھٹکارہ پانے کے لئے وہاں سے کتابیں ہٹا کر پاکیزہ، جاسوسی اور خواتین نما ڈائجسٹ اور اخبار جہاں جیسے رسائل کا کاروبار شروع کر ڈالا دل کو بہت رنج ہوا لیکن اس سے بڑا غم اس وقت ہوا جب اس دارالکتب کی تلفی کے بعد رسائل کا بھی کام سمیٹ کر وہاں سنہری و سلور رنگوں کے لیڈیز جوتے سجا دئیے گئے۔ لیکن اس سے اب کیا فرق پڑتا تھا کہ وہاں جوتوں کا کروبار کیا جائے یا لنڈے کے پرانے کپڑوں کا۔ اس رنجیدہ دلی میں سوچا گیا کہ اب کتابیں جو پہلے کبھی کبھار خریدی جاتی تھیں اب ان کا سلسلہ بڑھانا ہو گا۔ سو کتابیں گھر پر ہی جمع کرنی شروع کی گئیں۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایک کتاب کو جب چاہے اپنی بیڈ بک بنالیا جائے۔ جب چاہے اسے ختم کر کے کچھ مدت بعد دوبارہ شامل مطالعہ کیا جائے یہ سہولت دل کو بہت سکون دینے لگی۔ یونیورسٹی کا زمانہ شروع ہوا تو انگریزی ادب کے مطالعے سے دل بہت مسرور ہوا۔ میکسم گورکی، ہرمن ہیسے، شیکسپئیر، پائلو کوئیلو، گیبریل گارشیا کو بہت ذوق و شوق سے پڑھا گیا۔ سیاست کی طالبہ ہونے کے ناطے ارسطو، افلاطون، ایسپوزیٹو، کارل مارکس، ابن خلدون، فارابی وغیرہ کو بھی پڑھا۔ آج میرے ذاتی کتب خانے میں پہلے بیان کردہ سبھی ادباء مستنصر حسین تارڑ، جان ایلیا، پروین شاکر، منشا یاد، گرور جنیش، کملیشور، احمت امیت، اورحان یاموک، مہاتما گاندھی، ناصر عباس نئیر، مشتاق احمد یوسفی، ممتاز مفتی، یونس ادیب، احمد ندیم قاسمی، اسد محمد خان، رابندر ناتھ ٹیگور، جیسے اور کئی ادیبوں اور شعراء کی کتابیں موجود ہیں۔ شاید سب کا نام لیا جانا ممکن نہیں۔

ایسی کئی کتابیں ہیں جنہوں نے میری روح کو متاثر کیا۔ یا جن کی روح کی گہرائی میں مجھے اترنا بہت بھایا یا پھر یوں کہہ لیں کہ جن کی روح کے پاتال میں پڑے شعور کے پانیوں میں مجھے اپنی روح اور اپنی فکر کا عکس دکھائی دیا۔ میں کسی ایک کا نام لے کر کسی دوسری کو فراموش کرنے کا ثبوت نہیں دے سکتی۔ لیکن پھر بھی دوچار نام لے لیتی ہوں۔ مجھے پاؤلوکوئیلو کی تحریروں نے بہت متاثر کیا۔ گبرئیل گارشیا کو پڑھنا بھی ایک بہت ہی شاندار تجربہ رہا۔ خصوصاً اس کی کتاب hundred years of solitude ایک باکمال شاہکار ہے۔ یورپ میں لکھئے گئے ادب کی خوبی اس کا اختصار لیکن اس اختصار کے باوجود بہت بامعنی اور پر فکر ہونا ہے۔ خصوصاً وہ کہانیاں جو سمندروں اور دریاؤں پر لکھی گئیں مجھے ان کی گہرائی نے بہت متاثر کیا۔ اردو ادب میں محض کسی ایک کتاب یا مصنف کا نام لے لینا درست نہیں کیونکہ یہاں بہت سے نام بہت اہم ہیں۔

مجھے احساس ہے کہ میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں جتنا اسے ہونا چاہئے۔ بہت سے لوگوں کو پڑھنا تھا لیکن انہیں پڑھنے کا شرف تاحال میسر نہ آسکا۔ اپنی اس کم مائیگی کا پورا پورا احساس ہے۔ جس کے لئے اپنی غفلت اور طبیعت کی سستی کو قصوروار ٹھہراتی ہوں۔ لیکن اس بات کا فخر بھی ہے کہ حالات خواہ جیسے بھی رہے ہوں کتاب سے میں نے اپنا عشق تھوڑا بہت تو نبھایا ہی ہے۔ میں نے اس دلداری سے اس وقت بھی پیچھے نہیں ہٹی جب ہر طرف سے مجھے بڈھی روح کا لقب دیا گیا۔ ہاں اس بڈھی روح نے وقت سے پہلے شعور وآگہی دے کر مجھے زندگی کے ایک چلبلے و کھلنڈرے احساس سے بہت پہلے ہی دور کر دیا تھا لیکن میں نے پھر بھی کبھی اس عشق سے بیزاری محسوس نہیں کی۔ کیونکہ کتاب ہی وہ واحد ساتھی ہے جس نے ہر برے وقت میں مجھے سنبھالا دیا۔ مجھے خود میرے وجود کا احساس دلایا۔ جینا سکھایا۔ درد کو پینا سکھایا۔ خود شناسی و خود احتسابی کی خو عطا کی۔ بقول ایک عرب شاعر جاحظ” کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامدانہ تعریف نہیں کرتا، نہ ہی آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا نہیں ہونے دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت کے ذریعے آپ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا“

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: