نُور ،وَقت اور عرفان ِ الٰہیؐ ——– مجیب الحق حقّی

0
  • 59
    Shares

اللہ کا یہ فرمان کہ وہ ہماری رگ ِ جاں سے زیادہ قریب ہے ،ہم سب کے لیے تجسّس اور حیرت کاسامان لیے ہے۔

اللہ کا قرب تو ہر مسلمان کی آرزو ہوتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اندرمقیم اپنے خالق کا قُرب یا عرفان کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ہمارا تجسّس یہ بھی ہے کہ ہمارے خالق کے قُرب کا حقیقی رنگ کیا ہو سکتا ہے اور کیا اللہ کی ہستی کا قُرب ہم جیسے عام مسلمان پا سکتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب کی تلاش میں ہم یہاں درجہ بدرجہ منطقی اور عقلی استدلال کے سہارے آگے بڑھیں گے تاکہ ہم جس نتیجے پر پہنچیں وہ غیر علمی نہ ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ضِمن میں ہماری پیش رفت کی بنیاد کیا ہو؟

اس سلسلے میں پہلے ہمیں اللہ کے کچھ اور ایسے ہی فرامین کہ جس میں خالق ِکائنات اپنی کسی اور تخلیق سے بھی کسی تعلّق و نسبت کا اظہار کرتا ہے ڈھونڈ نا ہونگے تاکہ اُن کی فعّالیت کے پیرایوں پر غور و فکر سے اللہ کی قدرت کی جہتوں سے شناسائی حاصل کریں ، اس طرح یہ ممکن ہے کہ ہم کسی ایسے اشارے کو پا جائیں جس کی بنا پرہم اللہ سے اپنے تعلّق کی تلاش کا کوئی زاویہ متعیّن کر سکیں۔

اس سلسلے میں دو مشہور فرامین ہمیں بآسانی مل گئے۔
ایک یہ کہ ،اللہ کائنات اور زمین کا نور ہے(قرآن) ،
اور دوسرا فرمان کہ ، میں وقت ہوں (حدیث ِ قُدسی)۔

گویا ہمارےسامنے تین فرامین ِ قدسی ہیں جن میں حق تعالٰی انسان، نور (روشنی ) اور وقت سے اپنی کسی نسبت کا اظہار فرماتے ہیں۔

متذکّرہ تینوں عوامل انسان، روشنی اوروقت ایک ہی ماحول میں باہم ملے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہاں ہم کائنات کے باسی انسان اوراللہ کے باہمی تعلّق پر غور کررہے ہیں تو کائنات کے عظیم الشّان توازن یا بیلینس پر اللہ کی قدرت کے حوالے سے اللہ کے ارشاد کا حوالہ یہاں مناسب ہوگا جو یہ ہے: قرآن سورۃ ۳۵ آیت ۴۱: یہی سچ ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹلیں نہیں ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اُس کے علاوہ کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے ۔

طبعیات کی رُو سے جو قوّت کائنات میں اجرام کو ایک توازن میں رکھے ہوئے ہے وہ کشش ثقل ہے لیکن یہاں اللہ اسے اپنی صفت سے منسوب کرکے اپنی قدرت ، گرفت اور قوّت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سادہ فرامین کی پس ِ پردہ علمی گہرائی کی وجہ سے ہمارا وجدان و گمان ہے کہ ان عوامل میں غور و خوض سے ہم اللہ کی ذات سے کسی قسم کے روحانی تعلّق کی کلید یا کسی پس ِپردہ راز کی ایسی جزوی حقیقت آشنائی تک پہنچ سکتے ہے جس کے اثرات ہمارے ایمان، اعمال اور آخرت کو بہتر کردیں ۔

تو آئیے خالق کائنات سےقُرب کے کسی کنائے کی تلاش میں اللہ کےمذکورہ فرامین کی روشنی میں کائنات کے مظاہر نور یعنی روشنی اور وقت کے سیلِ رواں پر غور کریں کہ جن میں ہم زندہ ہیں ۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم نہ یہ کہنے جا رہے کہ کائناتی روشنی اللہ کی ذات کا کوئی حصّہ ہے اور نہ ہی وقت کو کوئی ایسا درجہ دیتے ہیں کیونکہ ایسا سمجھنا ہمارا اپنے محدود شعور اور ادھورے علم کے باوصف ایک منطقی اور جائز حد سے آگے بڑھ کر غیر علمی اور غیر مستند رائے قائم کرنا ہوگا ۔ اس کے برعکس ہم ان دونوں مظاہر روشنی اور وقت کو اللہ کی عظیم الشّان قدرت یعنی ایک بہت برتر اور سپر سائنس کا پرتو سمجھتے ہیں۔ ان سپر سائنسی مظاہر کی طرف جسے انسان کا محدود علم یا ننّھی منّی سائنس نہیں سمجھ پائی اللہ کے صِفتی اشارے ان کی غیر معمولی اہمیت کو دوچند کرنے کے لیے ہیں ۔ یہ ارشادات انسان کو اللہ کی ذات کی طرف متوجّہ کرنے کے علاوہ اس بات کو عیاں کرنے کے لیے بھی ہوسکتے ہیں کہ کائنات کے علاوہ فرداً فرداً انسان کی اپنی ذات اور اس کے معاملات میں اللہ کی قدرت کتنا نفوذ رکھتی ہے۔ گویا اللہ ایک راز ہے ، نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، بجز اس کی تخلیقات میں تدبّر کے ذریعے اس کی ذات سے کسی تعلّق کے حصول کا۔ اللہ کا ملنا کسی طبعی جہت میں نہیں ہوتا ، بلکہ جیسا کہ ہم بزرگوں سے سنتے آئے کہ انسان کو جب اللہ کی قربت ملتی ہے تو ایک طرح کا سکون اس کی روح کو شاد کردیتا ہے۔ انسان کے اندر کیفیات میں ایسی پرکیف تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں جن کی سرشاری کا علم صرف اُسی کو ہوتا ہے۔ یہ قلبی اور روحی کیفیات انسان میں طمانیت اور مثبت اعمال کا باعث بنتی ہیں۔ یعنی اس کی روح کا کوئی خوابیدہ گوشہ یا کوئی غیر فعّال رگ ِجاں بیدار ہوکر کسی آفاقی فریکوئنسی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ آگے ہم اسی تعلّق کو پانے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ وقت کیا ہے ،یہ کیوں رواں ہے اور اس کا منبع کیا ہے ؟

روشنی کیا ہے؟
وقت اور روشنی کا کیا تعلّق ہے؟

ہمارے لیے نظام شمسی ہی وقت کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے جو دن، رات اور موسم کی تبدیلی سے ہمیں وقت کی روانی کا فہم دیتا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی سورج کے گرد گردش ،دن اور رات کی گردش اور وقت کی پیمائش دراصل روشنی اور ثقل کی انتہائی باریک بیں اور نازک حسابی مساوات پر قائم ہے۔ یوں سمجھیں کہ اگر زمین کی گردش رکتی ہے تو وقت کی فطری پیمائش کے ذرائع ساکت ہو جائیں گے۔ یعنی ماحولیاتی تناظر میں وقت ٹھیر جائے گا۔ہماری گھڑیاں وقت گزرنے کا احساس تو دلائیں گی لیکن اس کی تصدیق ماحول کرنے سے قاصر ہوجائے گا۔ یہ جان لیں کہ بظاہر سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والے یہ عوامل وقت اور روشنی اپنے اندر بہت پیچیدگیاں لیے ہوئے ہیں جو ہم آگے جانیں گے۔ عام انسان کو ان پیچیدگیوں کو جانے بغیر وقت کا اتنا ادراک تو ہوتا ہے کہ دن اور رات آتے جاتے ہفتہ مہینہ اور سال بناتے ہیں ،جو ہمارے معمولات کی اساس اور عمروں کی پیمائش ہیں۔ وقت کے منبع کی درست نشاندہی تو کوئی سائنسدان اور اسکالربھی نہیں کرسکا بلکہ جو کچھ مشاہدے اورعلم سے حاصل ہوا اس کے تئیں اس کی ابتدا کو مجبوراً بگ بینگ سے منسلک کیا گیا جبکہ وقت کی جو بھی دیگرتعریف یا وضاحتیں ہیں وہ محض تبدیل ہوتے ماحول کی تشریح و توجیہہ ہیں۔ فزکس میں وقت وہ ہے جو گھڑی پیمائش کرتی ہے۔حقیقت میں وقت ایک سحر انگیز ،بظاہرسادہ مگر اصل میں پیچیدہ مظہر ہے جو انسانی خیال ، ادراک اور اعمال میں اتنا گہرا پیوست ہے کہ عام انسان اس کی حقیقت کے بارے میں غور کرنے سے بھی معذور ہی ہےجبکہ ایک اسکالر زِچ ہوکر اسے مسٹری کہتا ہے ۔ دیکھیں یہ دو حوالے۔

(۱) فزکس سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں وقت کا مطالعہ کیا جاتا ہے لیکن ماہرین طبعیات متّفق ہیں کہ سمجھنے میں وقت کائنات کے مشکل ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔
http://www.exactlywhatistime.com/physics-of-time/

(۲)لیکن کچھ فلسفیانہ معمّے طبعیات کی ترویج میں اکثرسامنے آتے ہیں جن میں بہت عام یہ سوال کہ فزکس کے تصوّر وقت اور فلسفے کے تصوّر وقت میں کیا فرق ہے۔
https://www.encyclopedia.com/humanities/encyclopedias-almanacs-transcripts-and-maps/time-physics

اِدھر وقت کی ماہیت پرنظر ڈالیں تو بظاہرانسانی شعور ہی انسان کو ادراک ِ وقت دیتا ہے ۔ وقت موجود اس لیے ہے کہ ہمیں اس کا شعور ہے، حواس نہیں تو وقت کی روانی کی پیمائش ہی نہیں بلکہ وقت ہی نہیں ۔ یہاں سوچنے کا نکتہ یہ ہے کہ:

وقت تو ایک غیر مرئی بیرونی مظہر ہے تو اس کا ادراک ہم اپنے ذہن میں کیونکر کرتے ہیں ،یعنی انسانی حواس اور وقت کے درمیان کون سا واسطہ ہے جو انسان کے ادراک میں احساس ِوقت اور سیل ِ وقت یعنی وقت گزرنے کا احساس تخلیق یا ثبت کرتا ہے؟

جواب یہ ہے کہ ہمارے حواس اور وقت کے بیچ ایک نوکھا مظہر روشنی ہے جس کے ذریعے ہمیں وقت کی روانی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی انوکھی بات اس کا مستقل پن یا لا تغیّر ہونا ہے ۔وضاحت یہ ہے کہ کائنات کا ہر مظہر یا چیز تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن روشنی کی رفتار کبھی نہیں بدلتی ۔ روشنی کا دوسرا انوکھا پن یہ ہے کہ یہ خود نظر نہیں آتی لیکن ہر چیز کو دکھاتی ہے۔ روشنی، پارٹیکل بھی ہے اور نوری لہر بھی ۔ روشنی کا بنیادی جوہر فوٹون ایک توانائی پارٹیکل ہے جس کا کوئی وزن نہیں مگر جو برق رفتار ہے۔یہی توانائی اور سیمابی صفت اس کو رواں رکھتی ہے۔یوں سمجھیں کہ ہم جسے اُجالا کہتے ہیں وہ نظر آنیوالی روشنی ہے جو درحقیقت خاکی ذرّات سے ٹکرا کر فضا روشن کرتی ہے، جبکہ حقیقتاً اس کے بہت سے پیرائے یا جہتیں لہری ہیں جو الیکٹرو میگنیٹک تابکاری کہلاتی ہیں، جیسے ریڈیائی، گاما اور کاسمک لہریں۔انسان نے وقت کی اکائی اور پیمانے روشنی ، کشش ِثقل اور گردش ِ اجرام کی آمیزش میں ایجاد کیے۔

آیئے ذرا روشنی کے بنیادی یونٹ فوٹون کی پراسراریت کے بارے میں بھی مختصراً جانیں:

Definition :A photon is the smallest discrete amount or quantum of electromagnetic radiation. It is the basic unit of all light. Photons are always in motion and, in a vacuum, travel at a constant speed to all observers of 2.998 x 108 m/s. This is commonly referred to as the speed of light, denoted by the letter c.
https://www.zmescience.com/science/what-is-photon-definition-04322/

فوٹون الیکٹرومیگنٹک تابکاری کا سب سے چھوٹا پارٹیکل ہے جو لائٹ کا بنیادی یونٹ ہے اور خلا میں ہمیشہ تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی معیّن رفتار سے حرکت میں رہتا ہے۔ سائنسدانوں کے پاس اس کا علمی جواب نہیں کہ ایک لائٹ پارٹیکل جس میں وزن نہیں اس میں زبردست حرکت وتوانائی کہاں سے اور کیوں آتی ہے کہ نہ اسے فنا ہے اور نہ ہی اسے ثبات۔ لیکن اس مظہر کی تعریف پرمختلف تشنہ سائنسی تشریحات کا لُبّ ِ لباب یہ ہے کہ کیونکہ روشنی توانائی ہے اس لیے اس میں حرکت ہے اورمتحرّک اس لیے کہ یہ توانائی ہے،اور یہی اس کی پُراَسراریت ہے۔ یہاں آپ صرف یہ سمجھ لیں کہ کائنات کی ابتدا سےہی نور یا روشنی خلا میں اپنی پوری رفتار سے حرکت میں ہے جس میں آج تک رمق برابر بھی فرق نہیں پڑا اور اتنا ہی حیرت انگیز یہ سائنسی انکشاف ہے کہ کائنات اپنی ابتدا سے آج تک روشنی کی رفتار سے پھیل بھی رہی ہے

اِدھر ہمارا بصری نظام ہمارے شعور کی آنکھ ہے جس سے ہمیں خارج کا مشاہدہ اور وقت کا ادراک ہوتا ہے۔ ہمارے لیے کائنات اس لیے موجود، ہموار اور رواں ہے کہ روشنی سے ہمارا بصری نظام ہم آہنگ ہے ۔ ہم روشنی کی انتہائی تیز رفتارحرکت کے تئیں ماحول کی تبدیلیوں کو جذب کرتے ہیں اسی وجہ سے ہمیں وقت ہمواررفتار سے گزرتا لگتا ہے۔ انسانی شعور کا خارج سے رابطہ حواس اور الیکٹرو میگنیٹک و میکینکل لہروں سے ہی ہے۔گویا روشنی اور وقت انسانی حیات کی بقا اور ارتقا کے مآخذ ہیں۔ دوسری جانب شعور کے بموجب غور کریں تو وقت انسان کا گہرا ذہنی تائثر ہے جو اسےمعاملات میں مصروف ِ کار رکھتا ہے۔ یہ انسان کے اطراف پھیلا ہوا اور اسکی زندگی میں انتہائی درجے کی سرائیت رکھنے والاسب سے پراسرار اور غیر مرئی مظہرہے جس پر انسان کا ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں ۔ گویا وقت جس کی اساس روشنی ہے اس ماحول کی جبلّت ہوا جس میں انسان آنکھ کھولتا ہے اسی لیے انسان اسکو لاشعوری طور پر ایک فطری اور لازمی مظہر کی حیثیت سے قبول کرتاہے۔ انسان کے لیے معمولات زندگی بنیادی اور وقت اس سے منسلک ثانوی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہم معمولات زندگی کو وقت کےمعیّن بہاؤ یعنی دن اور رات کے گھٹتے بڑھتے پیرائے میں ہی پروتے زندگی گزار تے ہیں ۔گویا انسان وقت کے سمندر میں تیرتا ایک وجود، جو وقت کی جبلّت میں آنکھ کھولتا اور بالآخر وقت ہی کے کسی انجانے بھنور میں ڈوب جاتا ہے۔

واضح رہے کہ انسان اپنے حواسوں کی حقیقی صلاحیت سے واقف نہیں کیونکہ حواس کے محدود پیرایوں اور دماغ سے ہماری علمی واقفیت اس وقت ہم پر مسلّط تعمیر شدہ ماحول میں مخصوص طبعی قوانین کے زیر نگیں ہے۔ ہمارے حواس ہمیں وقت کی بدلتی جہتیں اُسی وقت دکھاسکتے ہیں جب ہم روشنی کی رفتار سے آگے نکلنے کی صلاحیّت پا جائیں یا ہم کسی ایسے ماحول میں جا بسیں جہاں روشنی کے پیرائے اور فطری قوانین جدا ہوں ۔ یعنی یہ ماحول اورہمارے حواس ہمیں ایک دھوکے میں غرق رکھتے ہیں اور ہم مسلسل عمل اور ردّعمل میں مشغول و محصور ہوکر زندگی گزارتے ہیں۔ سائنس فی الوقت ایسی کسی قوّت کو نہیں جان پائی جو ایسے کسی نظام کو تخلیق یاکنٹرول کررہی ہو۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روشنی، وقت، انسانی حیات اور انسانی شعور ایسے مظاہر ہیں جن کی موجودگی کی کوئی سائنسی وضاحت بھی نہیں ہے ۔

اتنا جان کر ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ۔
جیسا کہ ہم نے سمجھا کہ دن اور رات کی گردش اور وقت کی پیمائش دراصل روشنی اور ثقل کی انتہائی باریک بیں اور نازک حسابی مساوات پر قائم ہے اس لیے اگر کسی عقیدے کی بنیاد میں دن اور رات کا نظم کلیدی حیثیت کا حامل ہوگا تو عقلی نقطہ ٔ نظر سے وہ ایمان اور عقیدہ اتنا ہی کمزور بنیاد رکھے گا کیونکہ فطرت تو کبھی بھی کوئی انجانی کروٹ لے سکتی ہے جس سے وقت کی روانی تلپٹ ہو جائے۔ مگرکیا کبھی ہم نے دیکھا کہ کسی خطّے میں وقت کی روانی میں کوئی غیر معمولی تبدیلی آئی؟ یہی اٹل اور باریک بیں نظم اپنے اندر سوچنے والوں کے لیے غور کے سامان لیے ہے۔ سائنس اور الحاد کے پاس کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر ان کو یقین ہے کہ کائناتی قوّتیں جیسے روشنی وثقل وغیرہ اپنی سرشت تبدیل نہیں کر سکتیں یا نہیں کرینگی؟ سائنسداں ان کو بطور فطری مظاہر اسی لیے کانسٹینٹ یا ناقابل تبدیل سمجھتا ہے کہ کیونکہ یہ انسان کا صدیوں کا مشاہدہ ہے جسے نیچر یا فطرت کا نام دے دیا گیاجو مستحکم قوانین اور اُصولوں پر قائم تو ہے مگر ان قوانین کے کنٹرولنگ مرکز سے سائنسداں لاعلم ہیں۔
اب ایک اہم تر سوال:
انسان کواپنی ذات کا عمومی شعور تو روشنی ، حواس اور ماحول کے بموجب ملا کہ اس کو ادراک ہوا کہ وہ ایک ہستی ہے اور موجود ہے لیکن کیا انسان وقت اور روشنی سے اپنے تعلّق کے تناطر میں اپنے خالق کی ذات کا تعلّق بھی حاصل کر سکتا ہے؟
کیا وقت ہمیں خدا تک لے جاسکتا ہے ؟

اس سلسلے میں ادیان میں وقت سے منسلک عبادات کا نظم ہی ہماری توجہ کا مرکز بنے گا۔ دنیا کے چیدہ بڑے مذاہب میں اسلام واحد ہے جس میں عمومی عبادات زیادہ تعداد میں اورسختی سے وقت کے ساتھ منسلک ہیں۔ جیسے نماز جو ہر روز کم از کم پانچ دفعہ معیّن اوقات میں ادا کرنی ہوتی ہے ۔ عبادات کا یہ ایک مربوط نظام ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ صبح صادق سے رات تک روزآنہ پانچ مختلف اوقات میں نماز تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے ادا ہورہی ہیں ۔ فرض عبادات کے علاوہ نوافل کے اوقات بھی سورج کے مقام ( اترنے اور چڑھنے )سے منسلک ہیں۔ 24 گھنٹوں میں تہجّد کو ملا کر چھ نمازوں کا گزرتے وقت کے اندر انعقاد بظاہر ہمارے لیے معمول کی بات صرف اس لیے ہے کیونکہ صدیوں پر پھیلا یہ منطّم عمل ہماری زندگی کے مشاہدات اور معمولات میں سِن ِ شعور سے ہی گھل مِل کر لاشعور میں بطور ایک فطری وصف جگہ بنا لیتا ہے۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا گردش ِ لیل و نہار میں ذرا سی لغزش یا تبدیلی مسلمان کے ایمان کا امتحان بن نہ جاتی؟

اسلامی عبادات کا اس باریکی سے متعیّن اوقات میں لازم کرنادراصل خالق کی زبردست قدرت کا اظہارہے کہ ڈیڑھ ہزار سال میں ایک بھی نماز کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوا۔ خالق نے عبادات کو سورج اور چاند کی منزلوں پر موقوف اسی لیئے کیا ہے کہ رواں وقت میں تبدیلی کوئی نہیں کرسکتا کیونکہ یہی اللہ کی ہمہ گیر گرفت ہے خواہ آپ اسے کشش ِثقل، نظام شمسی یا فطری قوّتوں کا پرتو کہیں۔

اب تک کی بحث سے جو تصویر کشی ہوئی اس کا لُبّ ِ لباب یہ ہے کہ کائنات میں اجرام کی گردش اور توازن کشش ِچقل کی وجہ سے ہے اور اس گردش میں روشنی کی وجہ سے دن اور رات بنتے ہیں جو گزرتے وقت کی پیمائش کے فطری پیمانے ہیں گویا حرکت اور روشنی ہی ایک غیر مرئی عنصر یعنی وقت کی تشکیل کرتے ہیں ۔ غور کریں توثقل اور روشنی مشترک طور پر کائنات میں وہ بنیادی اور مرکزی محور (دن رات) بناتے ہیں جس پر تمام انسانی معاملات گردش کر رہے ہیں۔

یہاں مذکورہ حدیث ِ قدسی کا مکمل ذکر مناسب ہوگا جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح فرمایا:

’’انسان مجھ کو بُرا کہتاہے جب وہ وقت کوکوستا ہے کیونکہ میں وقت ہوں اور میرے قبضہ قدرت میں ہی دن اور رات کا تبدیل کرنا ہے۔”

خالق ِ کائنات کا وقت سے کسی انجانی نسبت کا اعلان نہ صرف حیران کرتا بلکہ وقت کی پراسراریت کو اور گھمبیر بناتا ہے،اسی لیے شاید وقت بھی انسان کے لیے خدا کی طرح ایک معمّہ ہے لیکن اسی زاویے سے وقت انسان اور خدا کے درمیان ایک بفر زون بھی ہے۔ وضاحت یہ ہے کہ ایک طرف ہم وقت میں قیام پذیر ہیں اور وقت کو محسوس کرتے ہیں تو دوسری طرف یہی وقت اللہ سے کسی اجنبی پیرائے کی نسبت لیے ہوئے بھی ہے۔ لہٰذا خالق سے اپنے انجانے تعلّق کی بنا پر یہ حرکت کرتا وقت اللہ اور انسان کے درمیان ایسا واسطہ بن سکتا ہے جس کے بموجب ہم اللہ سے کسی درجے کے تعلّق کو حاصل کرسکتے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رات اور دن کے آنے جانے کو بارہا اپنی نشانی قرار دیا ہے۔ اب دیکھیں تو رات دن کی گردش ہی تو رواں وقت ہے اور اس میں اللہ کی نشانی ہونے کا مطلب تو وقتِ رواں میں بھی نشانی ہونا ہوا۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ دن اور رات کے ذَیل ہر گزرتا لمحہ اپنے اندر اللہ سے تعلّق کی کوئی خُو رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اللہ کی عظیم الشان ہستی کا اپنی مخلوق سے ہر دم ایک لازوال تعلّق ہے۔ لہٰذا ہمارا یہ موقف کہ اللہ کی قربت لمحہ ٔ موجود میں مل سکتی ہے منطقی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو آگے ہمارے کام آئےگا۔ مزید یہ کہ جدید اسکالر ز کا انسانی حیات، انسانی شعور ،روشنی اور وقت کی کسی عقلی اور منطقی توجیہہ سے عاجز ہونا مذکورہ عوامل کی خصوصی حیثیت کی دلیل بھی ہے اس لیے اس کوشش میں ہمارے رہبری آلات وقت اور شعور ہی ہوں گے کہ یہی واسطے ہمیں ہمارے خالق تک کسی طرح کی رسائی دینے کی خصوصیت کے حامل ہیں۔

ایک نکتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اللہ نے انسان کی تخلیق مادّی وجودیت کے دائرے میں کی جس میں انسان اپنے حواس کے سانچے میں ہی ماحول کو جذب کرتا ہے ۔ یہ سانچے بظاہر معیّن مگر حقیقتاً سیّال ہیں یعنی کسی مخصوص اجنبی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیّت کے حامل بھی۔ اسی طرح ہمارا شعور بھی ایک سیّال مظہر ہے جس کا کوئی گوشہ روح کی توانائی سے فیضیاب ہوکرخالق کے انجانے ماحول سے کسی پیرائے میں ہم آہنگ بھی ہے ۔ یہاں عدم کے اُس بیش قیمت ثانیے کو یاد رکھیں جب روح پر خالق متوجّہ ہوا اور دریافت کیا ، اَلَستُ بِربِّکُم ، کیا میں تمہارا رب نہیں ، تو روح بیدار ہوئی اور عبدیت کا اقرار کیا۔ ۔۔ یعنی جب اللہ نے پوچھا کہ کیا میں تیرا رب نہیں تو میں نے کہا تھا بے شک تُو میرا رب ہے۔ یہاں یہ بھی عیاں ہوا کہ روح میں شعور تھا، اس لیے شعور ہمارا وہ وصف ہے جو خالق کا برا ہ راست مشاہدہ کر چکا۔ خالق کا مخاطب ہونا اور روح کا جواب ایک لازوال مظہر ہے جس کا روح میں ثبت ہونا اور محفوظ ہونا منطقی اور یقینی ہے کہ یہی عبدیت کا جوہر ہے جو انسان کے لاشعور میں لازوال ارتعاش کی صورت کُندہ بھی ہے ۔یعنی اللہ کا مکالمہ معمولی نہیں کہ معدوم ہوجائے ۔ یہاں ہمیں امّید کی کرن نظر آئی اور وہ یہ کہ جب ہمارا ذہنی ارتکاز جو ارتعاشات ہیں عدم کے اس اِرتعاش سے ہم آہنگ ہوگا تو یہ ہم آہنگی ہمیں اس روحانی کیفیت و سرُور سے فیضیاب کر سکے گی کہ جو روح میں محفوظ ہے۔ ہمارا عدم سے منسلک اُس روحانی میراث یعنی عبدیت کے جوہر سے ہم آہنگ ہونا عبادت کے رنگ میں ہی ممکن ہے اور عبادت اور کچھ نہیں بس خالق کی طرف بالواسطہ اور بلا واسطہ متوجّہ رہنا ہے، گویا لمحہ موجود کو اللہ کے عرفان کی تلاش میں غور کی شکل دینا عبادت ہے کیونکہ ہمیں تدبّر کی تلقین بھی کی گئی ہے۔لہٰذا قُرب ِ الٰہی یعنی اللہ کی پہچان کے حصول کی اس کاوش میں روح میں جاگزیں اُسی اَمر مکالمے کی بازگشت کا شعوری و روحانی اطلاق ہی اب ہمارا زاد ِسفر ہوگا۔

تو آئیں ہم اپنے فکری ارتکاز اور وجدانی استعداد کو بروئے کار لاکر اور وقت ِ رواں کو وسیلہ بناکر اُس گمشدہ روحانی میراث کی تلاش کرتے ہیں جو ہماری روح میں مدفون خالق اور مخلوق میں مکالمے کی کوئی نیم خوابیدہ فریکوئنسی یا ارتعاش ہے۔جیسا کہ ہم نے جانا کہ اس کے لیے لمحہ ٔ موجود میں شعوری ارتکاز ہی ہمیں ہمارے مطلوب اَسرار تک پہنچا سکتا ہے کیونکہ وقت کا ہر ثانیہ اور ہمارا تحت الشعور اللہ کی ذات کے کسی رخ سے تعلّق کا خوگر ہے۔ یعنی ہم اپنے آپ کو وقت سے منطبق کریں اور اس میں غوطہ زن ہوں ، اور اس میں کھو جیں !

وقت میں کھوجنا یا اترنا وقت کی روانی پر غور کرنا ہے۔
مگرکیسے؟

سب سے پہلے اپنے اُس روحی اقرار کو کہ بے شک آپ ہمارے رب ہیں، اور پھر اللہ کے مذکورہ فرمان کو کہ ، میں تمہاری رگ ِ جاں سے زیادہ قریب ہوں، حرز جاں بنائیں ۔ سوچیں کہ اللہ میرے وجود میں قیام پذیر تو ہے لیکن کیونکہ میں اُسے بھولا بیٹھا ہوں تو وہ بھی مجھ سے بے نیاز ہے مگر اب مجھے اس کومنانا اوراپنی طرف متوجّہ کرنا ہے۔اس کے لیے ایک معمول کا ارادہ کریں اور اس کا آغاز اس طرح کریں کہ:

صبح بیدار ہوں تو اُس ثانیے پرغور کریں کہ یہ تو صبح ہے، رات کہاں گئی ،صبح کیوں اور کیسے آئی؟ دن روشن کیوں ہو جاتا ہے؟

جب نماز پڑھنے کھڑے ہوں تو ایک لمحے کو سوچیں کہ نماز کا وقت کون لے آتا ہے۔

ایک کے بعد دوسری نماز کا وقت کیوں آتا ہے۔

اپنے کام کے دوران لمحے بھر کو رک جائیں اور سوچیں کہ میں وقت کی کس گردش میں مصروفِ کار ہوں۔کچھ دیر میں ماحول کیوں بدل جائے گا؟

شام ہو تو غور کریں کہ میری کسی کاوش کے بغیر شام کیوں آئی؟ ہر شام اندھیرا کیوں ہوتا ہے؟ دن اور رات کا چکّر کیوں جاری ہے؟

اندھیرے اور روشنی کاماحول ہم پر کیوں طاری ہوتا ہے؟ یہ روشن اوربجھتا ماحول کس کی گرفت میں ہے؟

اس اندھیرے اُجالے کے مدّوجزر میں ڈوبتا ابھرتا میں کہاں جارہا ہوں۔

اللہ کی حمد کریں، سبحان اللہِ وَبحمدِہ ٖ سبحانَ اللہِ العظیم،
استغفار بھی پڑھیں، استغفر اللہ رَبّی،

اللہ سے باتیں کریں کہ اے اللہ میں آپ کو بھول بیٹھا تھا مجھے اپنی رحمت میں لے لیں۔

فجر سے قبل کبھی اُٹھ جائیں تو رات کے سنّاٹے میں دیواری گھڑی کی ٹِک ٹِک کے ساتھ اللہ اللہ کہہ کر گزرتےوقت پر غور کریں اور اسے ہی وقت کا مراقبہ بنا لیں ، اللہ سے قُرب کے اپنے گمان کو پختہ کرتے رہیں کہ ماں سے زیادہ محبّت کرنے والا ربّ مجھ پر التفات ضرور کرے گا۔ غرض بار بار وقتِ موجود پر اپنی فکر اور تجسس کی مدھم چوٹ لگاتے رہیں اس گمان کے ساتھ کہ خالق کا وعدہ ہے کہ جو اُس کی طرف چل کر آتا ہے تو اللہ اس کی طرف دوڑ کر بڑھتا ہے۔ شاید کہ تمنّا کی یہ لگن ، یہ التجائی پکار اللہ کو بھا جائے اور اللہ کی رحمت ہم پر مہربان ہوجائے اور ہمارا وجود اللہ کی قُرب کی کسی جہت سے آشنا ہوکر سرشار ہوجائے۔ کیا عجب کہ ہماری جان، ہماری روح سے بھی زیادہ قریب کہیں قیام پذیر ،ہمارا خالق وہ حَیّ القیّوم ہم پر مہربان ہوکر ہمیں اپنی رحمت کی چھائوں میں سمیٹ لے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے،، لیس َ للِانسان َ الّا ما سعٰی ،،، یعنی انسان کے لیے وہی ہے کہ جس کی کوشش کرتا ہے، تو اس فرمان کے باوصف ہماری یہ کوشش کبھی رائیگاں نہیں جائے گی بس یقین شرط ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ کے ارشاد کے مطابق علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔بس اللہ کی ذات اور اس کی تخلیقات میں غور کی عادت ڈال لیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اسی کیوں کا تعاقب نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ایمان میں بھی۔اللہ کی قربت کے حصول کی طرف پیش قدمی کا نہایت آسان نسخہ ایک اللہ کے ولی بھی بتا گئے کہ انسان کی مثبت طرز ِ زندگی میں دو طرح کے معاملات ہوتے ہیں ایک اس کی مرضی کا اور دوسرا اس کی مرضی کے خلاف۔ اب مرضی کے مطابق معاملات پر شکراور مرضی کے خلاف معاملات پر صبر کرنے سے ہم اللہ کے قُرب یا عرفان کی طرف پیش قدمی کرتے جبکہ اس کے برخلاف کرنے سے ہم دور ہوتے ہیں لہٰذا ۔۔۔ اَلّھمَّ لکَ الحمدُ و لکَ الشّکر اور استغفر اللہ۔۔ ایسے ہر دو لمحات میں طمانیت اور کامیابی کی کنجی ہیں۔

یہاں اہم سوال یہ کہ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ ہم اللہ کے قُرب کے حصول کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں؟

جناب، اس کا پیمانہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنی قلبی کیفیات، اطوار اور ردّ عمل میں مثبت تبدیلی دیکھیں جیسا کہ:

جب ہمیں اللہ کا ذکر بھانے لگے، جب اللہ کے نیک بندوں کی صحبت کی طرف دل کھنچے، جب دل میں مخلوق سے کدورتیں کم ہونے لگیں، جب لوگوں کو معاف کرنا اچھا لگنے لگےاورہم لوگوں کی برائی کے بجائے ان کی اچھائی پر نظر ڈالنے لگیں ، جب اپنا حق معاف کرنا اور فرائض ادا کرنا طمانیت دینے لگے، جب مخلوق کی خدمت کی طرف رغبت ہونے لگے، ہمارا غصّہ کم اور رواداری بڑھنے لگے، ہمیں برائی اور برے لوگوں سے کراہیت محسوس ہونےگگے، ہم اپنے گھر والوں کی دل جوئی اور ان کی اصلاح کی طرف مائل ہونے لگیں، ، ہماری طبعیت کا میلان نیکی اور عبادات کی طرف بڑھنے لگے ۔ اور جب کبھی کبھی قلب کی کیفیات بدلنے لگیں اورقلب رقیق ہوجائے اور اللہ کے ذکر پر آنکھ بھر آئے تو سمجھ لیں کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں۔

بالفرض اگر ہم اپنے کمزور گمان کے بموجب اس کاوش میں کامیاب نہیں ہوتے تو بھی یہ یاد رکھیں کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق ایک لمحے کا تدبّر ہزار رات کی عبادات سے افضل ہے لہٰذا یہ ثواب توہم سمیٹ ہی رہے ہیں کیونکہ ہم کمال ِ تخلیق کے باوصف اللہ کی ذات میں غور کر رہے ہیں۔
وماَ تَوفیِقی اِلّا با ِاللہ

(Visited 218 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: