کھوکھلا انداز تعلم اور طلبہ میں بڑھتا جذباتی بگاڑ ——– فارینہ الماس

0
  • 112
    Shares

دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ کبھی وہ بھی انتہا کے غیر مہذب ہوا کرتے تھے، لوٹ مار، چھینا جھپٹی، فساد، قتل و غارت گری، بربریت ان کی بھی معاشرتی اقدار کا منفی حصہ رہ چکے تھے۔ مذہبی جنونیت ان بیمار معاشروں میں بھی پنپتی تھی جہاں اہل علم کو واجب القتل ٹھہرا دیا جاتا تھا۔ اہل علم و دانش کا نقصان معاشرے کی جہالت و لاعلمی سے برپا ہونے والا وہ بحران تھا جسے کئی نسلوں کی تباہی و بربادی کی صورت بھگتنا پڑتا اور ایسے نقصان کے لئے عموماً مذہب کے ذریعے جواز فراہم کیا جاتا۔ مذہبی عالموں کے فتوے بادشاہوں تک کو نیست و نابود کر سکتے تھے۔ قدیم یورپ خصوصاً روم اور یونان جیسی ریاستوں میں پوپ مذہبی علم کے علاوہ تمام اصناف علم کا دشمن ہوتا۔ کوئی بھی عالم یا فلاسفر جب بھی سر اٹھانے کی کوشش کرتا اسے کچل دیا جاتا مذہبی کتابوں کے علاوہ دیگر علمی کتابیں تلف کر دی جاتیں۔ لیکن پھر تعلیم کو چرچ کے اثر سے نکالا گیا۔ یہ وہ دور تھا جسے نشاة ثانیہ کے دور کا نام دیا جاتا ہے۔ ان معاشروں نے اس حقیقت کو پہچاننا شروع کیا کہ سماج کو مہذب معاشرے میں ڈھالنے کے لئے نظام سازی سے بھی پہلے افراد کی ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ ایسی ذہن سازی جو فرد کو متعصبانہ و فرقہ ورانہ گھٹن سے آذادی دلا سکے۔ ذہن سازی و سماج سازی کا تعلیم سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی ذریعے سے انسان کی ناصرف شخصیت سازی ممکن ہو پاتی ہے بلکہ اس کی انفرادی، طبقاتی یا مسلکی زندگی کو تعصبات و تفرقات سے بالا تر بنا کر انسانیت اور سماج کی زندگی میں بدلا جا سکتا ہے تاکہ معاشرہ، فکری تفرقات و توہمات میں گھرے لوگوں کی کٹی پھٹی اور منتشر تصویر بن کر نہ رہ جائے۔

علم انسان کی زندگی کو اجڈ وحشتوں کی ہنگامہ آرائیوں سے کہیں دور بہت دور لے جاتا ہے۔ بلاشبہ معاشرے کی تہذیب کے وارث اور محافظ اس کے اساتذہ کو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ علم کی اچھی یا بری ترسیل اساتذہ ہی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ ایک حقیقی اور سچے استاد کا کردار یہ ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو مہذب بنانے میں سنجیدہ اور مخلصانہ رویہ اپنائے۔ وہ اپنے طلبہ کو ایک خاص ضابطہء حیات کی تدریس کا فرض تو انجام دے لیکن تصورات و نظریات، زبردستی ان کے دماغ میں ٹھونسنے کی بجائے ان کے لئے غور و فکر کا روزن کھولے تا کہ وہ اپنے ذاتی تجربے و فکر کے حساب سے نا صرف اچھائی کو منتخب کریں بلکہ اسے اپنی روح کا حصہ بنا سکیں۔ فہم و ادراک کے اس رستے میں اگر استاد زور زبردستی کا اصول اپنائے گا تو شاگرد کی ناصرف فطری نشونما میں بگاڑ پیدا ہو گا بلکہ اس میں غصہ، نفرت، بربریت اور تشدد کے منفی اوصاف بھی پیدا ہو جائیں گے۔

استاد علم کی ترسیل کے علاوہ اگر خودشناسی کے اس سفر میں اپنے طالب علموں کی کوئی مدد کر سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ ان سے مخلصانہ، دوستانہ اور مہربانی کا رویہ اپنائے رکھے تاکہ طلبہ اپنی عمر، فہم اور دانست کے حساب سے بلا جھجک یابلا خوف سوال اٹھا سکیں۔ وہ پورے اعتماد اور اپنی ذہنی قابلیت کے حساب سے چیزوں کو سمجھنے اور جاننے کا موقع پا سکیں۔ وہ اپنے طلبہ پر اپنے علم یا تجربے کی دھاک بٹھا نے کی بجائے انہیں کھلی دعوت دے کہ وہ ان نظریات پر خود سوچیں اور اپنی ذاتی رائے قائم کریں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ استاد کا اپنا علم و فہم اس بارے میں محدود ہو یا جس واقعے کو وہ تاریخ کا سچ سمجھ رہے ہوں وہ سچ نہیں بلکہ ایک سنگین جھوٹ ہو۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام عموماً اپنے علم یا اپنے خیالات کی پارسائی کی شاگردوں پر دھاک بٹھانے کے لئے اپنے مضمون سے ہٹ کر مذہب یا تاریخ کے مطالعے کا سہارا لیتے ہیں ان کے اس فعل کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ اپنے مضمون پر کلی دسترس نہ ہونا، یا اپنے مضمون سے متعلق جدید علم یا ریسرچ سے بے بہرہ ہونا۔ یہی وجہ ہے کہ فرسودہ اور گھسی پٹی کتابی باتیں کر لینے کے بعد مذید طلبہ کو دینے کے لئے ان کے پاس جب کچھ اور رہ نہیں جاتا، تو وہ یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ وقت گزاری کے لئے، مذہبی و تاریخی واقعات،بنا کسی تحقیق و مستند ذرائع کی کھوج لگائے اپنے شاگردوں کو منتقل کر دیں۔ دوم، ہمارے یہاں سمجھا جاتا ہے کہ مذہب اور تاریخ دو ایسے موضوعات ہیں جن پر ہر کسی کی دسترس ہے اور ان پر بات کرنے کے لئے عموماً کسی صلاحیت و سند کی ضرورت نہیں۔

عموماً طلبہ کو تاریخ اس تناظر میں پڑھائی جاتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے سیاہ پہلوؤں سے بے خبر رہتے ہوئے محض دوسری قوموں کی خامیوں اور کوتاہیوں کے راز کھنگالتے رہ جاتے ہیں۔ یہ خود فریبی اور خود پرستی انہیں کبھی بھی حقیقت پسندانہ تجزیہ نگار ی کے قابل نہیں بننے دیتی۔

مذہب کے معاملے میں ہماری تعلیم کا معیار کیا ہے یہ کہ اکثریتی سکولوں میں اسلامیات کا مضمون پڑھانے کے لئے کسی خاص صلاحیت اور سند کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جاتی۔ بنا دینی فہم اور علم کی بابت اندازہ لگائے، سکول میں کسی بھی مضمون کا استاد ضرورت کے تحت اسلامیات یا دینیات پڑھانے پر بھی فائز کیا جا سکتا ہے۔ جو بچوں کو بنا استدلال و جواز کے انتہائی غیر منطقی و غیر علمی طریقے سے دین سمجھانے لگتا ہے۔ تاریخی و دینی علوم،دو ایسے علوم ہیں جو فرد کے گہرے تصورات و عقائد کو بناتے ہیںاس لئے ان کی ترسیل کے لئے سب سے ذیادہ علم اور معیاری مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ استاد کی ان میں کم علمی یا کم فہمی کے نتیجے کے طور پر ایک پوری نسل کھوکھلے تصورات یا فرسودہ عقائد میں گھر سکتی ہے۔

بلاشبہ مذہب کو علم سے الگ تھلگ کر دینے سے علم مکمل نہیں ہوتا یا سائنس کے علم کی ترسیل کے دوران بچوں کو مذہب سے دور رکھنا ترقی کا کوئی طے شدہ فارمولہ نہیں۔ تخلیق کائنات کے تمام مظاہر اللہ تعالیٰ کی آیات قرآنی میں موجود ہیں۔ اللہ نے مشاہدے اور تجربے سے دور رہنے کی تلقین نہیں کی بلکہ ان مظاہر کائنات کو مسخر کرنے اور جمادات، نباتات کے علاوہ علم حیوانی و علم انسانی کے تنوع اور اختلاف پر تفکر کی دعوت دی ہے۔ اسی طرح ہر حدیث مبارکہ کی علمی و سائنسی حیثیت کو بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مثلاًمختلف احادیث مبارکہ کے احکامات سے سائنسی نقطہءنظر کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے جیسے کھانا کھانے کے بعد آرام کیوں ضروری ہے۔ کیونکہ خون کا بہاؤ معدہ کی طرف ہو جاتا ہے دماغ و دوسرے اعضاءکی طرف کم ہوتا ہے ایسی صورت میں فوراً چلنا، دوڑنا یا کام کرنا دل کے دورے کا سب بن سکتا ہے۔ مثلاً پانی تین سانسوں میں پینے کا حکم ہے ہر سانس میں گہرا سانس لینا ہماری صحت کے لئے فائدہ مند ہے۔ چھینکتے، کھانستے، جمائی لیتے وقت منہ کو نہ ڈھانپا جائے تو فاسد مادے اور جراثیم دوسروں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ دسترخوان پر سبز رنگ کی سبزیوں کا موجود ہونا حدیث میں کیوں کہا گیا کہ اس کا جواب آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ پھیپھڑوں اور سینے کے کینسر سے بچاتی ہیں، ان میں وٹامن اور آئرن کی بھی مقدار ذیادہ ہوتی ہے۔ گویا ہر حدیث مبارکہ کی علمی و استدلالی حیثیت کو ثابت کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ آپﷺ نے غصہ، حسد، کینہ، نفرت، حرص، بغض سے بھی دور رہنے کی تلقین کی جس کی بابت آج کی سائنس بتا رہی ہے کہ انسان میں بلڈ پریشر، معدہ کے امراض، اعصابی تکالیف ایسے ہی افعال کا نتیجہ ہیں۔

لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہاں ہمارے اکثریتی اساتذہ کرام آج بھی بچوں کو ان علمی وعقلی دلائل کی بجائے یہ تاویلیں پیش کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ”جمائی منہ کھول کے لی جائے تو شیطان منہ میں گھس جاتا ہے“۔ آرٹ ہر سکول میں بطور مضمون پڑھایا جا رہا ہے لیکن اسلامیات کا استاد کہتا ہے ”آرٹ کا کام کرنے والے جو انسانوں، جانوروں کی تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے روز ان میں جان ڈالنا پڑے گی“۔ مذہب کو گویا ایسی کمزور حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے کہ بچہ جب شعور کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے تو وہ مذہب کو فرسودہ، قصے کہانیوں کا مجموعہ سمجھنے لگتا ہے۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اکثر اساتذہ اپنے اپنے مسلکی یا گروہی نظریات بھی معصوم ذہنوں میں ٹھونسنے لگتے ہیں۔ وہ جہاد کے بارے درست اور مثبت طریقے سے دلائل دینے کی بجائے اسے تشدد اور بربریت سے جوڑ کر بچوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ وہ توہم پرستی اور فرقہ پرستی کا سبق پڑھاتے پائے جاتے ہیں۔

کم سن بچوں کے ذہن کچی مٹی کی زمین جیسے ہوتے ہیں سوچ کا جو بیج اگاؤ، وہ اسے فوراً سینچ لیتے ہیں۔ مشکل مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب سکول کی تعلیم سے فراغت پا کر وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اب یہاں صورتحال بلکل برعکس ہو جاتی ہے۔ یہاں تمام اساتذہ نہیں تو کوئی ایک استاد ایسا ضرور ہو گا جو تعلیم کی کوئی ڈگری بیرون ملک سے حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہو گا۔ اسے اپنی تعلیم کے دوران باہر کی یونیورسٹی کے روشن خیال اساتذہ، اور کسی ایک آدھ الحادی پروفیسر سے بھی مستفید ہونے کا موقع مل چکا ہو گا تو لازماً وہ ایک ایسی روشن خیالی اپنے ساتھ لے کر آئے گا جسے فرسودہ خیالی کے اذہان بآسانی ہضم نہ کر سکیں گے۔

یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ روشن مزاج اساتذہ طالب علموں کے تصورات و ذہنی معیار کا اندازہ کئے بغیر، بنا کسی خاص، قابل قبول تدریسی فارمولے کے براہ راست اسلامی مزاج و روایات کے خلاف بولنا اپنا حق سمجھیں گے۔ اس دوران انہیں اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں کہ ان کی فکری و تصوراتی آزادی، طلبہ کے خیالات و اعتقادات کو کیسا شدید دھچکا پہنچائے گی۔ وہ کس قدر جذباتی و تصوراتی الجھنوں اور عدم تخفظ کا شکار ہوں گے۔ کس طور جذبات کا لاوا ان کے اندر پکتا رہے گا۔ اور جیسے ہی موقع پائے گا وہ ابلے گا بھی۔ یہ لاوا تھم بھی سکتا تھا اگر تھوڑی سی صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ کو ابتدائی درجہء تعلیم پر دنیا کو وسعت النظری سے دیکھنے اور غورو فکر کی خو اپنانی سکھائی جاتی۔ انہیں نامعلوم سے معلوم کی طرف سفر میں سوال اٹھانے اور چیزوں کو عقل و خرد سے سمجھنے کا سلیقہ سکھایا جاتا۔ اگر شاگرد کی اپنے استاد سے ذہنی طور پر ایسی تعلق داری ہوتی جس کی مدد سے اس کے دل و دماغ کی گومگو کیفیت کا ازالہ کر پانے کی کوئی سبیل نکل آتی۔ اگر طلبہ کو ابتدائی درجے پر اسلامیات کا مضمون کوئی قابل اور اپنے مضمون میں طاق استاد پڑھاتا۔ اگر قرآن کی تعلیم دینے والے قاری صاحب انہیں صرف ڈرانے دھمکانے کے علاوہ قرآن کا حقیقی علم بھی بہم پہنچاتے۔ یہاں والدین بھی ان کے کسی سوال کا جواب دینے سے قاصر ہی ہوتے ہیں۔ یہ کچلے ہوئے اذہان، بٹی ہوئی، متذبذب و لاغر، بے دلیل وغیر استدلالی حقیقتوں سے اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ انہیں صحیح غلط کا فیصلہ کرنا محال دکھائی دیتا ہے۔ سالہا سال کی پنپتی فرسودہ خیالیاں یکدم روشن خیالیوں سے بدل دینا ان کے اختیار میں نہیں اس لئے انہیں اپنے روشن خیال اساتذہ کے خیالات کافرانہ اور گمراہ کن محسوس ہوتے ہیں۔ اکثر طلبہ تو استاد کے لئے محض دل میں نفرت پال لینے پر اکتفا کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو وہ نفسیاتی و جذباتی طور پر اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیںکہ ان سے کسی بھی وقت مذہب کے معاملے پر تشدد و اشتعال پذیر رویے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

اگر طریقہء تدریس ایسا ہو کہ طلبہ اپنے علم کو اپنی سوچ اور مزاج کے دائرہء کار میں لاتے ہوئے درست و استدلالی نقطہء نظر اپنانے سے قاصر رہیں۔ تو پھر کئی بپھرے ہوئے جذباتی طلبہ مشال جیسوں کے بے رحمانہ قتل میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں اور خطیب حسین جیسوں کے ہاتھوں خالد حمید جیسے بے قصور اساتذہ بھی موت کے گھاٹ اتر سکتے ہیں۔ اور ایسے واقعات سے جہالت و گمراہی کی بھیانک داستانیں رقم ہوتی ہی رہیں گی۔ اب آپ قصوروارجہادی تنظیموں کو ٹھہرائیں یا مولانہ خادم رضوی کے سپہ سالاروں کو لیکن سوچنے کی بات پھر بھی یہی ہے کہ سالہا سال سے اسے علم سکھانے والوں کا تعلم اس قدر کمزور کیوں پڑنے لگا کہ کسی اور کا دوچار روز سے پڑھایا ہوا سبق اس پر بھاری ہو گیا؟

(Visited 256 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: