ٹنڈو آدم سے کراچی، ایک عام آدمی کی آپ بیتی ——– نعیم الرحمٰن

0
  • 26
    Shares

راشد اشرف کی زندہ کتابیں کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ ان کے اس قافلے میں ڈاکٹر پرویز حیدر، وسیم رضا، ڈاکٹر ظفریاب قاضی، ڈاکٹر رضوان اللہ خان، ایمن خان اور مریم خان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ دوستوں کے تعاون سے اب زندہ کتابیں پیپر بیک کے بجائے عمدہ سفید کاغذ پر مجلد شائع ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود ان کتب کی قیمت پیپر بیک سے بھی کم ہے۔ اس سلسلے کی پینتیس ویں کتاب ’’ٹنڈو آدم سے کراچی ‘‘ ہے۔ ساڑھے چار سو صفحات اور کئی تصاویر سے مزین کتاب کی قیمت اس دور میں بھی ساڑھے چار سو روپے انتہائی کم ہے۔

’’ٹنڈو آدم سے کراچی‘‘ ڈاکٹر رضوان اللہ خان کی یاد داشتیں ہے اور یہ زندہ کتابیں کی پہلی نئی کتاب ہے۔ اس سے قبل اردو کی نایاب اور طویل مدت سے عدم دستیاب کتب ہی شائع ہوتی رہی ہیں۔ اس بارے میں راشد اشرف صاحب دو باتیں میں لکھتے ہیں کہ ‘‘ زندہ کتابیں سلسلے کی یہ 35 ویں کتاب ہے۔ یہ سلسلے کی وہ پہلی کتاب ہے جو پہلی مرتبہ شائع ہو رہی ہے۔ اس سے قبل اس سلسلے کے تحت پرانی کتابوں کی از سر نو اشاعت ہی کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ خان کتاب لکھنے پر آمادہ نہ تھے۔ مودبانہ عرض کیا کہ اس کے پڑھنے سے کسی ایک شخص کی زندگی میں بھی تبدیلی آ جائے تو یہ سودا برا نہیں ہے؟ یہ تجربات ایسے ہیں جو پڑھنے والوں کو حوصلہ فراہم کرنے کا سبب بنیں گے۔ آخری باب ایسا ہے کہ شاید کسی قاری کی زندگی کی ڈگر کی تبدیلی کا سبب بن سکے اور پھر قاری ہی سب سے بڑا منصف ہے۔ کرنے دیجے اسے فیصلہ۔ یہ آپ بیتی ایک عام انسان کی داستان ِحیات ہے۔ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے، بہتوں کے لیے کڑی جد و جہد کا نام ہے۔ میں یہ باتیں ڈاکٹر رضوان اللہ کی زبانی زمانہ طالب علمی سے سنتا آیا ہوں۔ گزشتہ دس برسوں میں مصنف کے بابا صاحب کی باتیں بھی شامل ہوتی چلی گئیں۔ یہ دنیا جس کا تذکرہ آپ کتاب کے آخری باب میں پڑھیں گے، ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے،یہ ایک متوازی نظام ہے۔ آپ نہ مانیے تب بھی یہ نظام اپنا کام کرتا رہے گا، بابا صاحب کا قصہ طولانی ہے مگر دلچسپ اور ایسا کہ آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ بہت سے راز ہائے دروں سے ان کا سینہ لبریز تھا۔ آج تک ان کا فیض جاری ہے، پیغامات پہنچ رہے ہیں۔ پیامبر مستعدی سے اپنا کام کر رہے ہیں اور کتاب کے مصنف تک وہ پیغامات اور احکامات پہنچا رہے ہیں۔ پیغام لانے والا بھی ایک عجیب کردار ہے۔ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد مرحوم کو ان شخصیات کا علم ہوتا تو ان کے تذکروں سے متعلق دو حضرات کی کتابوں میں کئی صفحات شامل ہو جاتے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے قبل کوئی کتاب تحریر نہیں کی۔ اس لیے انہوں نے سیدھے سادے انداز میں آخری باب تحریر کیا ہے، زیبِ داستان والا عنصر اس میں عنقا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر پرویز حیدر نے’ ٹنڈو آدم سے کراچی‘ کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ میرے لیے یہ آپ بیتی کئی طرح سے دلچسپ ہے۔ کئی باتوں میں مماثلت بھی ہے۔ میں بھی گورنمنٹ کے محکمہ صحت سے ستمبر 2017ء میں ریٹائر ہوا اور ڈاکٹر رضوان اللہ خان ایک ماہ بعد اکتوبر میں ریٹائر ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی ایف ایس سی میری طرح 1975ء میں کیا۔ وہ محکمہ صحت سندھ میں جبکہ میں پنجاب میں تھا۔ راشد اشرف کی تحریک پر انہوں نے اتنی جامع اور بہترین آپ بیتی تحریر کی اور اس کے ساتھ انہوں نے کمپیوٹر سیکھ کر کتاب خود کمپوز بھی کی۔ جس طرح ٖڈاکٹر صاحب ذکر کرتے ہیں کہ ان کی والدہ تیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں اور کس قدر ہمت سے انہوں نے اپنے پانچ بچوں کی پرورش نامساعد حالات میں کی اور انہیں تعلیم دلائی۔ معلوم نہیں اس زمانے کی کم پڑھی لکھی خواتین میں اتنی ہمت کہاں سے آتی تھی کہ وہ خود کو ہر طرح کے حالات میں ڈھال لیتی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ نے ٹنڈو آدم سے حیدر آباد آنے کا فیصلہ کیا تا کہ بچوں کو بہترین تعلیم دلائی جا سکے۔ ‘‘

کتاب کے بارے میں ان دو تحریروں سے اس کی افادیت کا اندازہ ہو جاتا ہے اور اس وجہ کا بھی کہ زندہ کتابیں میں نئی کتاب شائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ یہ ایک انتہائی دلچسپ اور سبق آموز آپ بیتی ہے۔ جس سے قارئین کو ایک عام انسان کی مشکلات اور مصائب کو جاننے اور اس کی جد و جہد کا علم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں بھی اس طرح ہر قسم کی صورتحال کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ ملتا ہے۔ مصنف نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر رضوان اللہ خان کا طرزِ تحریر دلچسپ اور پر اثر ہے۔ سیدھے سادے انداز میں بیان کردہ کئی واقعات قاری کے دل میں گھر کر لیتے ہیں اور جس طرح ان کی والدہ نے شوہر کی وفات کے بعد بچوں کی پرورش کی۔ اس پر ہر زبان سے بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔

رضوان اللہ صاحب کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ ’’ریٹائرمنٹ کے بعد عزیزم راشد اشرف سے ملاقات ہوئی جو میری خواہرِ نسبتی کے ہونہار صاحبزادے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجیئر ہیں لیکن ملازمت کے علاوہ اپنی ساری توانائی اردو ادب کی خدمت میں صرف کرتے ہیں۔ راشد اشرف نے ایک روز اچانک مجھ سے کہا، ڈاکٹر صاحب آپ کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ کی پریکٹس شروع کر دیں۔ میں نے پوچھا کیوں بھئی؟کہنے لگے آپ اپنی یاد داشتیں تحریر کر لیں۔ کتاب کی کمپوزنگ بھی ہو جائے گی۔ اس طرح کتاب چھاپنے میں سہولت اور بچت بھی ہو جائے گی۔ زندگی بسر کی ہے؟ زندگی بیت گئی ہے؟ یا زندگی گزاری گئی ہے؟ عنوان دینا مشکل ہے۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو جزوی کامیابیاں ہیں۔ جزوی ناکامیاں ہیں۔ پوری کامیابی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے والا خواب اور پوری ناکامی بھی خارج از امکان۔ نہ حد سے زیادہ مایوسی نہ حد سے زیادہ پرامیدی۔ بس متلون کہنا ہی مناسب ہو گا۔ اس زندگی نے ہنسایا بھی ہے تو رلایا بھی ہے۔ جگایا بھی ہے تو سلایا بھی ہے۔ کمایا بھی تو گنوایا بھی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ خوب محنت اور پلاننگ کے باوجود گوہر مقصود حاصل نہ ہو سکا اور ایسا بھی ہوا کہ کوشش کے بغیر گوہرِ مقصود جھولی میں آ گیا۔ فاقہ مستی سے تنگدستی اور خرمستی سے سرمستی سب ہی لذتوں سے آشنا رہا۔ میری اکسٹھ سالہ زندگی کے اس سفر میں تین پڑاؤ ہیں۔ پہلا پڑاؤ ٹنڈو آدم جہاں پیدائش سے میٹرک کا سفر مکمل ہوا۔ اس سفر کا دورانیہ سولہ برس ہے۔ دوسرا پڑاؤ حیدر آباد جہاں کالج سے میڈیکل کالج اور ہاؤس جاب تک کا سفر طے ہوا۔ اس سفر کا دورانیہ گیارہ برس ہے۔ تیسرا پڑاؤ کراچی۔ اس میں تین سال کا ایک موڑ بھی آیا جو سانگھڑ میں بسر ہوا۔ ملازمت، شادی اور ریٹائرمنٹ کے معاملات ہوئے۔ یہ سفر تا حال جاری ہے جس کا دورانیہ تینتیس برسوں پر محیط ہے۔ ٹنڈو آدم سے کراچی اسی سفر کی داستان ہے۔ ‘‘

کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ابتدائی تین باب ڈاکٹر رضوان اللہ کے بیان کردہ تین پڑاؤ کے تذکرے پر مشتمل ہیں۔ چوتھا باب ’بدلا ہوا کراچی‘ اور پانچواں’ چند انمول ہستیاں‘ ہے جبکہ چھٹا باب ’پڑی گوش جاں میں عجب نگاہ ‘ڈاکٹر رضوان اللہ کے بابا صاحب کا تذکرہ ہے۔ تصوف کی دنیا کے اس بھرپور اور انتہائی دلچسپ ذکر کا موازنہ قدرت اللہ شہاب کی آپ بیتی ’’شہاب نامہ‘‘ کے آخری باب ’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ رضوان اللہ نے بابا صاحب اور دیگر صاحبِ تصوف افراد کے بعض مافوق الفطرت واقعات بھی بلا کم و کاست سادگی سے بیان کر دیے ہیں جبکہ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب ساری زندگی ممتاز مفتی اور اپنے دیگر مریدین کی جن باتوں کی سختی سے تردید کرتے رہے انہیں بڑھا چڑھا کر اس باب میں پیش کر دیا اور خود کو مستند اولیاء میں شامل کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہی نہیں شہاب نامہ واحد آپ بیتی ہے۔ جس میں شہاب صاحب کے کسی استاد کا ذکر نہیں۔ لیکن ان کے والد، والدہ اور اہلیہ بڑے مقام پر فائز نظر آتے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایسے کسی دعوے کے بغیر اس دلچسپ تذکرے کو قاری کی فہم پر چھوڑ دیا ہے۔

ہمارے بڑے شہرہی نہیں چھوٹے شہر اور قصبات ماضی میں کتنے صاف ستھرے ہوتے تھے۔ یہ ذکر ذرا ڈاکٹر صاحب کی زبانی ہی ملا حظہ کریں۔ ’’ یہ حقیقت ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں ٹاؤن پلاننگ اور صفائی ستھرائی کے بہترین نظام کی وجہ سے ٹنڈو آدم کو سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا۔ زراعت، صنعت و حرفت، تجارت، تعلیم، صحت، کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے یہ چھوٹا سا شہر نہ صرف اپنے باسیوں کو بلکہ ارد گرد کئی کلومیٹر رقبے میں آباد گوٹھوں کے رہائشیوں کو بہترین سہولیات مہیا کر رہا تھا۔ گندم، کپاس اور گنے کی فصلیں۔ آم، کیلے، شہتوت اور فالسے کے باغات، سبزی منڈی۔ فروٹ مارکیٹ، ٹیکسٹائل ملیں، کپاس صاف کرنے کے کارخانے، ہاتھ سے کپڑا بنانے والی کھڈیاں جو بعد میں پاور لومز بن گئیں۔ برف کے کارخانے، برف کی قلفی بنانے والی فیکٹریاں، دوا ساز کمپنی، گندم اور کپاس کی خرید و فروخت کے مراکز، مال گاڑیوں سے آنے والے سامان کے گودام، ٹرکوں سے آنے والے سامان کے لیے گڈز اسٹیشن، شہر کی تجارتی سرگرمیوں کی عکاس تھے۔ سندھ کو صوفیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے اور بالکل صحیح کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں بھی جمن شاہؒ اور حیدر شاہؒ کے مزار مرجع خلائق تھے۔ مہاجر، سندھی، پنجابی، بلوچ، پٹھان سب یہاں امن، محبت، رواداری، بھائی چارے، کی فضا میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ سندھی اور غیر سندھی آبادی کا تناسب برابر ہی ہو گا۔ لسانی ہنگاموں میں یہاں چند گھنٹوں کی کشیدگی کے بعد سندھی اور غیر سندھی معززین نے جلد قابو پا لیا۔ ‘‘

ایک چھوٹے سے شہر کا یہ تعارف آج کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ محبت کی ایسی فضا بقول امجد اسلام امجد

محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا
محبت ایسا پودا ہے جو تب بھی سبز رہتا ہے کہ جب موسم نہیں ہوتا

ڈاکٹر رضوان اللہ نے کئی پرانی چیزوں کی یاد بھی دلائی ہے۔ جیسے باورچی خانے میں دو چیزیں اب ناپید ہو گئی ہیں۔ وہ ہیں پھونکنی اور سل بٹہ۔ پھون کو سے چراغ بجھے نہ بجھے لیکن آگ ضرور جلائی جاتی تھی۔ اسی لیے پھونکنی ہر باورچی خانے کا لازمی جزو تھی۔ ایندھن کے طور پر لکڑی استعمال ہوتی،جو آگ پکڑنے میں کچھ وقت لیتی اور شروع میں دھواں بھی بہت دیتی تھی۔ اس دھوئیں کو کم اور آگ کو تیز کرنے میں پھونکنی بہت ضروری ہوتی تھی۔ سل پتھر کا ایک بڑا ٹکڑا اور بٹہ اس کا چھوٹا ٹکڑا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں پسے ہوئے مصالحے عام نہیں تھے اس لیے ثابت مصالحے سل پربٹے سے پیسے جاتے تھے۔ کوفتے اور کباب اسی سل بٹے پر پیس کر بنائے جاتے تھے۔ اب یہ چیزیں کتنے لوگوں کو یاد ہیں۔

اسی طرح مسلسل سائیکل چلانے کے مظاہرے کا ذکر بھی ناسٹلجیا کو دعوت دیتا ہے۔ سائیکل چلانے والا پہلے اپنی ہی سائیکل پر خود ہی اعلان کرتا اور سائیکل چلانے کی جگہ اور تاریخ بتاتا۔ پھر سائیکل چلانا شروع کر دیتے۔ سائیکل پر ہی کھانا کھا رہے ہیں، چائے پی رہے ہیں۔ نہانا اور کپڑے تبدیل کرنا بھی سائیکل پر۔ اس کے علاوہ کچھ کرتب وغیرہ بھی دکھا رہے ہیں۔ ایک ہفتے بعد وہ خود تو سائیکل سے اتر نہیں پاتے تھے۔ لوگ انہیں اتارے اور انعام و اکرام دیا جاتا۔ بہروپیہ بھی ایک فن تھا۔ بہروپیے مختلف سوانگ بدل کر شہر میں گھومتے اور فن کی داد حاصل کرتے تھے۔

اپنے اساتذہ کرام کے مختصر تذکرے میں ڈاکٹر صاحب نے خاکہ نگاری کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ شمس الدین صاحب کا ذکر یوں ہے کہ ’’ کلین شیو، گندمی رنگ، درمیانہ قد، کم گو، باوقار، عمدہ لباس۔ وہ سائیکل پر سوار دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اسکول آتے۔ کوٹ پتلون اور ٹائی ان کا پسندیدہ لباس، نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ شاگردوں سے بے تکلف بھی نہ ہوتے اور شاگرد بھی ان سے خوفزدہ نہ ہوتے۔ ان کا، اٹھنا، بیٹھنا، پڑھانے کا انداز، ان کی بات چیت کا انداز، اساتذہ اور شاگردوں سے برتاؤ مثالی تھا۔ مار پیٹ کا کبھی سہارا نہ لیتے۔ نہ کبھی ڈانٹے ہوئے دیکھا نہ غصہ کرتے ہوئے۔ ‘‘

کیا اس مختصر تحریر میں ایک عمدہ خاکہ موجود نہیں ہے؟ اپنے دیگر اساتذہ کا ذکر بھی ڈاکٹر صاحب نے اسی دلنیشن انداز میں کیا ہے۔ جس میں ان کا سراپا، طالب علموں کے ساتھ رویہ اور پڑھانے کا انداز اور ذاتی فطرت قاری پر واضح ہو جاتی ہے۔ میٹرک کا رزلٹ آیا تو والدہ نے بچوں کی تعلیم کی خاطر حیدر آباد منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور مخالفت کے باوجود اس پر عمل بھی کر گزریں۔

والدین اولاد کے لیے کیا جو کھم اٹھاتے ہیں۔ اس کا ادراک کبھی اولاد کو نہیں ہوتا اور ماں کی ہستی کیا ہوتی ہے، ہم اسے بھی نہیں سمجھ پاتے۔ رضوان اللہ صاحب کی والدہ انہیں ڈاکٹر بنانے کے لیے اس عزم و حوصلے کے ساتھ ٹنڈو آدم سے حیدر آباد منتقل ہوئی تھیں۔ لیکن موصوف نے فیصلہ کیا اور انٹر کے امتحانات کے لیے محنت ہی نہیں کی کہ نہ نمبر آئیں گے اور نہ میڈیکل میں داخلہ ہو گا۔ لکھتے ہیں کہ ’’ آج سوچتا ہوں تو گھن آتی ہے۔ رزلٹ آیا تو اٹھاون فیصد نمبر آئے۔ این سی سی کا سرٹیفیکیٹ بھی اسی سازش کے تحت نہیں لیا تھا داخلے کے لیے این سی اے کے بیس نمبر پر بھی گئے۔ اب تو میڈیکل میں داخلہ ناممکن ہے۔ والدہ کہتیں انشا اللہ داخلہ مل جائیگا۔ کچھ دن بعد میرٹ لسٹ لگی۔ نوٹس بورڈ پر دیکھا۔ ضلع سانگھڑ میں میرا نمبر باون ہے اور سیٹیں بیالیس ہیں۔ میں مطمئن ہو کر واپس آ گیا۔ والدہ کا اب بھی یہی جواب ہو جائے گا ایڈمیشن۔ چند دن بعد انٹرویوز ہوئے تو وہی معاملہ تھا۔ انٹرویو تو رسمی ہوتے تھے۔ فیصلہ تو میرٹ لسٹ کے مطابق ہی ہوتا تھا۔ دو ہفتے بعد ایک خط یونیورسٹی کے پتے پر آیا، جس میں میڈیکل کالج میں داخلے کی اطلاع اور فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ دی گئی تھی۔ میڈیکل کالج کی فائنل لسٹ میں بھی میرا نام موجود تھا۔ آفس سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ پہلی لسٹ این سی سی کے بیس نمبر شامل کر کے بنائی گئی تھی اور انٹرویو بھی اسی لسٹ کے مطابق ہوئے تھے۔ لیکن اب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ این سی سی کے نمبر آئندہ سال سے شامل کیے جائیں گے۔ ‘‘یوں رضوان اللہ صاحب کی تمام کاوشیں رائیگاں گئیں اور ان کی والدہ کا یقین اور عزم سرخرو ہو گئے۔

ٹنڈو آدم سے کراچی ایسے بے شمار سبق آموز واقعات سے بھرپور ہے اور کسی وقت بھی قاری کی توجہ ہٹنے نہیں دیتی۔ کتاب کے ہر باب کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب نے اس دور میں متعارف ہونے والی اہم شخصیات کے مختصر اور بعض طویل خاکے لکھے ہیں۔ جن میں ایک بھرپور خاکہ نگارنظر آتا ہے اور ایسا نہیں لگتا رضوان اللہ صاحب کی یہ پہلی تحریر ہے۔ وہ مستقبل میں مزید خاکے بھی لکھ سکتے ہیں۔ کتاب کا پانچواں باب ’’چند انمول ہستیاں‘‘ تو ہے ہی مختلف افراد کے خاکوں پر مبنی، جن میں اولین خاکہ والدہ کے بارے میں ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’جب وہ بیوہ ہوئیں تو ان کی عمر تیس سال بھی نہیں تھی۔ انہوں نے کیا کیا نہ سہا اور کیا کیا نہ دیکھا۔ وہ باتیں اب بھی دہرائی جائیں تو ان کو کوفت ہوتی ہے۔ ان کا حال کیا ہوتا ہو گا جب کوئی ان کے سامنے ان کی اولاد کے بٹوارے کی بات کرتا ہو گا لیکن انہوں نے سب کچھ بہت تحمل سے برداشت کیا اور اپنے عمل سے بولنے والوں کی زبان پر تالے ڈال دیے۔ کبھی گھر سے قدم نہ نکالا، بچوں کو تعلیم دلانے کا جو جنون ان کو تھا اس کے لیے انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ خود بے انتہا محنت کی اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد بس اپنی کامیابی پر مسرور اور شاداں ہیں۔ کسی توقع اور صلے کے بغیر۔ بولنا کم اور کام زیادہ اور اللہ کی ذات پر بھروسہ اس جہاں زندگانی میں ان کے ہتھیار تھے۔ دو باتیں یا خوشیاں ایسی ہیں جو مجھے کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ایک تو یہ کہ ان کی نظر میں میں دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر ہوں اور وہ صرف مجھ سے علاج کرانا پسند کرتی ہیں اور دوسری بات یہ کہ میں ان کے سامنے آج بھی بچہ ہوں۔ مجھے ڈاکٹر بنانے لے لیے کتنے جتن اور کتنی قربانیاں انہوں نے دی ہیں۔ ان کا شمار ممکن نہیں۔

میرے سادکھ اور صدمے مجھ سے بڑھ کر سہتی ہے
چاہت کی خوشبو سے اس کی دل کی ندیا بہتی ہے
ایسی بے لوث محبت کس ہستی سے مل سکتی ہے
چلتے وقت دعائیں دے کر مجھ کو رخصت کرتی ہے
مجھ کو بڑھاپے کی سرحد سے کھینچ کے واپس لاتی ہے
بیٹا بیٹا کہہ کر مجھ کو بچپن یاد دلاتی ہے
اس کی دعائیں میری خوش بختی کی نوید بنی ہیں
اس کے تبسم کی کرنیں ظلمت کی تمہید بنی ہیں

ماں کی نعمت کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں اور وہ لوگ خوش قسمت ہیں، جنہیں ماں کی دعائیں میسر ہیں اور وہ اس کی قدر بھی جانتے ہیں۔ ڈاکٹر رضوان اللہ نے بھی والدہ کا ذکر کتاب میں بار بار اور بہت محبت سے کیا ہے۔ اس باب میں انہوں نے والدہ کے علاوہ بہن نگہت اور اہلیہ روبینہ کا بھی ذکرِ خیر کیا ہے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ کے بھائیوں سے بڑھ کر دوست ڈاکٹر واحد بلوچ تھے۔ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’ میں جذباتی وہ متحل، میں ترش وہ میٹھا، میں شور مچانے والا وہ خاموش، میں غصہ والا وہ خوش دل۔ میرا ہمدم و ہمراز، ہم نوالہ و ہم پیالہ، میرا ساتھ نبھانے والا، میری ہاں میں ہاں ملانے والا۔ میرا دلبر میرا جانی۔ میں آگ وہ پانی۔ یہ آگ اور پانی والی بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ میرے اور ان کے رہنما اور مرشد نے کہی تھی۔ تینتیس برس کی رفاقت کے بعد وہ وہاں چلا گیا جہاں بالآخر ایک نہ ایک دن سب کو جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر ہمیں اپنا سر جھکانا ہے۔ وہ بہتر جاننے والا ہے۔ انیس سو چوراسی میں جس کہانی کا آغاز ہوا وہ چھ جنوری دو ہزار اٹھارہ کو اچانک بظاہر اختتام پذیر ہو گئی۔ دوستی کے بارے میں بہت کچھ پڑھا بھی ہے اور سنا بھی مگر بچپن میں پڑھی ایک کہانی نے میرے ذہن میں دوستی کا معیار قائم کر دیا تھا۔ اس سے کم پر میرا ذہن کبھی تیار ہی نہیں ہوا۔ اسکول، کالج، میڈیکل کالج اور ملازمت کے دوران بے شمار لوگوں سے تعلقات بھی رہے۔ ملنا جلنا بھی رہا۔ ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شریک بھی ہوئے۔ کچھ سے تا حال مراسم قائم ہیں اور کچھ بچھڑ گئے ہیں۔ واحد بلوچ میری دوستی کی کہانی کا مثالی کردار حقیقت کا روپ دھار کر میری زندگی میں داخل ہوا۔ مجھے احساس تحفظ مل گیا تھا۔ چونتیس برس سے زیادہ ہم نے اس طرح شیر و شکر ہو کر گزارا کہ ہم ایک دوسرے کی پہچان بن گئے۔ وہ میرے خاندان کا فرد اور میں اس کے خاندان کا فرد بن گیا۔ ‘‘

آج کے دور میں ایسے مثالی دوست کا مل جانا بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ایک ایک لفظ سے ڈاکٹر واحد بلوچ کے لیے جو محبت اور وارفتگی عیاں ہے۔ اس سے مرحوم کی مثالی شخصیت قاری پر واضح ہو جاتی ہے۔ اور یہی ٹنڈو آدم سے کراچی کے مصنف کی تحریر کا جادو ہے۔

آخری باب ’’پڑی گوشِ جاں میں عجب نگاہ‘‘ کے بارے میں ڈاکٹر رضوان اللہ کا کہنا ہے کہ ’’اس باب میں کچھ ایسی شخصیتوں کا ذکر ہو گا جو دنیا کی حقیقت کو سمجھ چکے تھے اور جو اپنی جھکی ہوئی نگاہوں میں سارا عالم چھپائے بیٹھے تھے اور جن کی صحبت میں بنا پوچھے مجھے میرے ان سوالوں کے جواب مل گئے جنہوں نے ذہن کی الجھنوں کو سلجھا دیا۔ ایسے واقعات اور مشاہدات ہوئے جنہوں نے مجھے ورطہء حیرت میں مبتلا کر دیا اور ہو سکتا ہے کہ پڑھنے والے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ جب میں ان باتوں کو ان ہستیوں کے ساتھ منسوب کرتا تھا تو وہ مجھے ہمیشہ یہ نصیحت کرتے تھے کہ کرنے والی ذات اس قادر مطلق کی ہے۔ آپ کا دھیان اسی طرف رہنا چاہیے۔ ہم تو ایک ذریعہ ہیں۔ وہ مالک جس سے چاہے کام لے۔ ‘‘

ان اہلِ تصوف کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ اس باب میں کئی اہل ِ تصوف کا ذکر ِ خیر ہے۔ لیکن ان میں کرامات کے بجائے عام زندگی کے واقعات ہیں۔ جن میں بعض انسانی فہم سے بالاتر ضرور ہیں۔ تا ہم ان کے بیان میں تصرف اور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا گمان نہیں ہوتا۔ اس باب کا موازنہ اشفاق احمد کی کتاب ’’بابا صاحبا‘‘ سے کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر رضوان اللہ خان کو اتنی دلچسپ اور ریڈایبل آپ بیتی لکھنے پر مبارک باد۔ انہوں نے کوئی اور کتاب نہ بھی لکھی تو ’’ٹنڈو آدم سے کراچی‘‘ انہیں اردو ادب میں زندہ رکھے گی۔ راشد اشرف صاحب کو بھی زندہ کتابیں میں اسے شائع کرنے پر خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: