پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پڑوسی ——– میر افسر امان

0
  • 15
    Shares

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے مخصوص اندرونی حالات اور بین الاقوامی ضروریات کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ پاکستان کے مخصوص اندرونی حالات یہ ہیں کہ پاکستان جس وژن پر بنا تھا اس پر وہ پورا نہیں اُتر سکا، اگر پورا اُترتا تو آج دنیا کا عظیم ملک اور مسلم امہ کا پشتی بان ملک ہوتا۔ بانی ِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی قائدانہ صلاحیت سے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر جمہوری انداز میں ایک ذبردست تحریک اُٹھا کر اسلام کے نام، یعنی پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پر پاکستان حاصل کیا تھا۔ ویسے تو تحریک پاکستان کے دوران کی گئیں قائدؒ کی ساری تقریریں اس کا ثبوت ہیں۔ مگر اس وژن کو قائد ؒ نے اپنے موت سے دو دن پہلے دُورایا بھی تھا۔

حوالہ :۔ قائدؒ کے ذاتی معالج، ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ کی ڈائری کا صفحہ کے حوالے سے قائد اعظم کی گفتگو جو ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہی بخش کی موجودگی میں قائد اعظم ؒ نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا ’’آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول ؐ ِ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدین ؓ کا نظام قائم کریں‘‘ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے عام مسلمانوں نے تو خلوص کے ساتھ اسلامی پاکستان کے لیے ساتھ دیا تھا۔ جن صوبوں میں پاکستان نہیں بننا تھا، انہوں نے بھی تحریک پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مگر جو تحریک پاکستان چلا رہے تھے ان میں کچھ کے اپنے مخصوس مفادات تھے۔ شاید اسی لیے قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ ان کھوٹے سکوں میں ایک تو جاگیر طبقہ تھا جو اپنے زعم سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کیوں کہ اسلام نے کچھ پابندیاں لگائی ہیں جس کے وہ تیار نہیں تھے۔ دوسرے کیمونسٹ لوگ تھے جو پاکستان بننے کے بعد اپنے نظریات پھیلانے کے لیے مصروف عمل رہے۔ راولپنڈی سازش کیس اس کا ثبوت ہے۔ تیسرا ایک خاص طبقہ قادیانیوں کا تھاجسے انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف اُٹھایا تھا۔ وہ تحریک پاکستان کے دوران کہتے تھے، ابھی تو پاکستان بن رہا اس لیے مجبوراً! ہم اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مگر بعد میںاس واپس اکھنڈ بھارت میں شامل کرنیکی مہم میں شامل ہو جائیں گے۔ اس ثبوت یہ ہے کہ قائد اعظمؒ نے خود اگست۱۹۴۷ء میں ہی ایک واحد ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا جس کا نام ’’ ڈیپا ٹمنٹ آف اسلامک ڈیکرلیشن‘‘ ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ مشہور نو مسلم علامہ محمد اسدؒ کو بنایا گیا تھا۔ علامہ محمد اسد ؒکے ذمے پاکستان کا اسلامی آئین بنانا تھا۔ جس میں اسلامی معاشیات، اسلامی تعلیم اوراسلامی سوشل سسٹم ہو۔ اس ڈیپارٹمنٹ کے لیے بجٹ کے لیے قائد اعظم ؒنے خود خط پاکستان کے مالیاتی ادرے کو بھی لکھا تھا۔ جو اب بھی ریکارڈ کے اندر موجود ہے۔ اس ڈاکومنٹ کی کاپی قائدؒ خط کے ساتھ منسلک تھی۔ حکومت میں موجود اسلام دشمن ایک قادیانی بیروکریٹ نے اکتوبر ۱۹۴۸ء میں ریکارڈ کو آگ لگا کر اس ریکارڈ کو ضائع کر دیا تھا۔ اندرونی حالت کے بعداب بیرونی حالات بیان کرتے ہیں۔

قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ ان کھوٹے سکوں میں ایک تو جاگیر طبقہ تھا جو اپنے زعم سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کیوں کہ اسلام نے کچھ پابندیاں لگائی ہیں جس کے وہ تیار نہیں تھے۔ دوسرے کیمونسٹ لوگ تھے جو پاکستان بننے کے بعد اپنے نظریات پھیلانے کے لیے مصروف عمل رہے۔

پاکستان ایشیا کے وسط میں واقع ہے۔ اس لیے سب کے مفادات مشترکہ ہیں۔ اس کی تازہ مثال سی پیک کا منصوبہ ہے۔ ددسرا پاکستان ایک ایٹمی ؍ میزائل طاقت ہے۔ پاکستان مخالف گریٹ گیم کے کل پرزے بھارت، امریکا اور اسرائیل پاکستان کو ختم کرنے پرمتفق ہیں۔ اس ہی تناظر میں ۹؍۱۱ کا جعلی واقع کرایا گیا۔ ساری دنیا میں مسلمانوں اور خاص کر پاکستان دہشت گرد بنا دیا گیا۔ گریٹ گیم والوں نے بھارت کو سامنے رکھاہوا ہے۔ اس کا ثبوت گریٹ گیم والوں کا پاکستان پر راجستان، بہاول پور اورمظفر آباد کے راستے بیک وقت حملے کا منصوبہ ٓاشکار ہو چکا ہے۔ بھارت نے تو پاکستان پر حملہ کر بھی دیا ہے اور ابھی مذید دھمکیاں بھی دے رہاہے۔ صرف ایک چین پاکستان کا دوست ہے جس وجہ سے پاکستان بچا ہوا ہے۔ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ اسلامی ملکوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو ترتیب دینا ہے۔ ۹؍۱۱ سے پہلے تک پاکستان نے اس پر کامیابی سے عمل بھی کیا۔ ایٹمی دھماکوں کے موقعہ پر اسلامی ملکوں کی مدد ہمارے سامنے ہے۔ اب بین الاقوامی حالات میں تبدیلی سے اسلامی ملکوں کے ساتھ خارجہ تعلوقات میں خرابی پیدا ہوئی ان شاء اللہ جلد ٹھیک ہو جائی گی۔

پاکستان کے پڑوسی ملک جس میں چین،بھارت، افغانستان، ایران شامل ہیں۔ ان میں چین سے پاکستان کے ساتھ پاکستان کے مثالی تعلوقات ہیں۔ مثالیں دی جاتی ہیں کہ پاکستان چین کی سدا بہار دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ ثبوت بھارت کی طرف سے پاکستان مخالف خلاف قراراردادوں کو ویٹو کرنا ہے۔

بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ بھارت نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس نے پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے۔ اب دس ٹکڑے کرنے کے لیے پاکستان پر دبھائو ڈال رہا ہے۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے۔ تحریک پاکستان کے دوران بھارت کے لیڈر کہتے تھے جب قائدؒ کے دو قومی نظریہ کو ہم کمزرو کر دیں گے تو پاکستان کو واپس اکھنڈ بھارت میں شامل کر لیں۔ اس ڈاکٹرائن پر مشرقی پاکستان کو بنگلہ قومیت کی بنیاد پر بنگلہ دیش بنایا گیا۔ ثبوت یہ ہے کہ اُس موقعہ پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ دو قومی نظریہ ہم نے خلیج بنگال میں ڈوبو دیا مسلمانوں ایک ہزار سال کی غلامی کا بدلہ بھی لے لیا۔ مودی نے بھی اس کی تصدیق کی۔

قوم پرست پڑوسی مسلمان ملک افغانستان نے پاکستان بننے پر تسلیم نہیں کیا تھا۔ قوم پرستی اور بھارت کی آشیر اباد پر ہمیشہ پاکستان کا مخالف رہا۔ پاکستان بنتے وقت ریفرنڈم میں قائداعظمؒ سے شکست کے بعد بھارت کا دوست (مرحوم) سرخ پوش سرحدی گاندھی غفار خان صاحب افغانستان میں بیٹھ کر ڈیورنڈ لین کی بنیاد پر، پاکستان توڑ کر صوبہ خیبر پختونخواہ کو افغانستان کے ساتھ ملا کر پشتونستان کی مہم چلاتا رہا۔ غفار خان صاحب کو اس میں بھارت، سویٹ یونین اور دوسرے قوم پرستوں کی مدد حاصل تھی۔ (مرحوم) ولی خان صاحب نے افغانستان کے قوم پرست حکمران سردار دائو خان کو ۱۹۷۲ء میں پیغام بھیجا تھا کہ بھارت سے شکست سے پاکستان کی فوج کا مورل ڈائون ہو گیا ہے۔ لہٰذا پاکستان پر حملہ کر دیا جائے۔ حوالہ نیشنل عوامی پارٹی کے منحرف لیڈر جمعہ خا ن صوفی صاحب کی کتاب’’ فریب ناتمام‘‘ سویٹ یونین نے پاکستان توڑ کر گرم پانیوں تک رسائی کے لئے اپنے پٹھو ببرک کارمل کو ٹینکوں کے ساتھ بھیج کر افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ اللہ کا کرنا کہ ساری اسلامی دنیا کے مجاہدین، افغان طلبان اور امریکا کی مدد سے سویٹ یونین کو نشانہ عبرت بنایا۔ مشرقی یورپ کے ساتھ ساتھ چھ اسلامی ریاستیں آزاد ہوئیں۔ دیوار برلن ٹوٹی۔ بلا آخر (مرحوم) ملا عمرؒ صاحب نے افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کر دی۔ تاریخ میں صرف افغان طالبان کی پانچ سالہ اسلامی حکومت کے وقت افغانستان اور پاکستان کے تعلقات مثالی تھے۔ اگر اب بھی پاکستان امریکا کو افغانستان سے نکالنے میں طالبان کی مدد کرے تو افغانستان ہمیشہ کے لیے پاکستان کا دوست بن جائے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت فوج اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے اور یہ کوشش جاری ہے۔ سویٹ یونین اور پاکستان کے تعلقات دوست نما دشمن امریکا کی وجہ سے ہمیشہ خراب رہے۔ جواب موجودہ روس اور پاکستان کے ا چھے تعلقات کی شروعات ہو چکی ہیں۔

ایران برادر اسلامی ملک ہے۔ اس سے پاکستان کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایران نے ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاکستان کی مدد کی تھی۔ ۱۹۷۲ء میں سردار دائود نے جب (مرحرم) ولی خان صاحب کی ایما پر بلوچوں کو دہشت گردی کی ٹرینیگ دے کر پاکستان میں بغاوت کروائی تو ایران نے( مرحرم) ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو ہیلی کاپٹرز دے کر مدد کی تھی۔ اب بھارت نے اقتصادی مدد سے چاہ بہار بندر گاہ بنا کر ایران کو پاکستان مخالف بنا لیا۔ امریکا نے جنداللہ بنا کر پاکستان کی سرزمین سے ایران میں دہشت گردانہ کارورائیاں کروا کر پاکستان مخالف کیا۔ سعودی عرب نے شیعہ سنی بلاک اور عرب نیٹو بنا کر پاکستان ایران تعلوقات خراب کیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی تعلقات درست ہو جائیں گے۔

صاحبو! گریٹ گیم کے کل پرزوں، امریکا، اسرائیل اور بھارت کو قائد اعظمؒ کا اسلامی، ایٹمی پاکستان ہرگز منظور نہیں۔ اسے ختم یا سیکولر بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایک پر امن اور ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر دنیا، اسلامی ملکوں اور خاص کر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات درست کرنے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی تو ہر دور میں اسلامی پاکستان کے مقابلے میں روشن خیال ایجنڈے پر ہی رہی۔ نون لیگ نے قائدؒ کے دو قومی نظریہ کی مخالفت کی۔ اپنے دور میں وزیر خارجہ ہی تعینات نہیں کیا۔ عوام کی نظریں اب پی ٹی آئی پر لگی ہوئی ہیں۔ ان کے پاس تجربہ کار زیر خارجہ موجود ہے۔ عمران خان صاحب کو ایک نائب وزیر خاریہ برائے کشمیر اور مسلم ممالک لگانا چاہیے۔ جو ہر وقت آزادی ِ کشمیر کے لیے مصروف عمل رہے۔ مملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ایٹمی قوت ہوتے کے ناطے مسلم امہ کو تحفظ کی یقین دھانی کرائے۔ مسلم امہ کے درمیان اتحاد و اتفاق کی کوششیں جاری رکھے۔ مسلم دنیا کا متوقہ لیڈر ایٹمی پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔

(Visited 60 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: