دانش کا عزم اور ماٹو —– لالہ صحرائی

0

 کہتے ہیں بڑے درختوں کے نیچے چھوٹے پودے مرجھا جاتے ہیں، کسی بھی پودے کو پھلنے پھولنے کیلئے کھلے آسمان تلے آزاد فضا اور کھلی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کچھ پودے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں سب سے پہلے ایک چھتر چھایہ کی ضرورت پڑتی ہے۔

دانش ایک ایسا پودا ہے جو دانشمندوں کے زیر سایہ ہی پروان چڑھ سکتا ہے اور دانشمند لوگ ہی وہ شجر سایہ دار ہیں جن کی سرپرستی میں علم و حکمت کی آبیاری ہوتی ہے۔
اس دنیا میں بہت سوں نے بحروبر پر اپنی فتوحات کے علم گاڑے ہیں لیکن زوال کی دیمک ان سب کے جھنڈے کھا کے بھس میں بدل گئی سوائے ان کے جنہوں نے علم و دانش کے پودے لگائے تھے۔

سقراط نے افلاطون اور افلاطون نے ارسطو جیسا دانشور دیا جن کے سماجی اور سیاسی فلسفوں سے نوع انسان کم و بیش ڈھائی ہزار سال سے استفادہ کر رہیی ہے، سقراط نے کہا تھا ریاست میں انقلاب اس وقت آتا ہے جب اس میں ایک خاص تبدیلی رونما ہونے لگے، افلاطون نے اس کی تشریح میں کہا کہ جب ریاست کی حکمرانی اہل دانش کو سونپی جانے لگے تو سمجھو کہ ریاستی انقلاب کی راہ کھل رہی ہے، ارسطو نے اس کا ترجمہ یوں کیا کہ جب حاکم کی دانش عوام میں سرایت کرنے لگے اور عوام کی امنگیں حاکم کے دل کا سرور بننے لگیں تو ریاست ایک بڑے انقلاب سے آشنا ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال نے اسی بات کو یوں کہا تھا

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلئے

جہاں بانی کے یہی آداب ہیں جن میں دانش کو نیوکلیئس کا درجہ حاصل ہے، ارسطو نے یہی کچھ سکندر اعظم کو سکھایا تھا جس نے مقدونیہ جیسی چھوٹی سی ریاست سے نکل کر پوری دنیا فتح کر ڈالی لیکن یہ دنیا سکندر کو محض ایک فاتح سے زیادہ کچھ نہیں جانتی البتہ وہ دانش کے مینار آج بھی اہل علم کیلئے بیکن ہاؤس کا درجہ رکھتے ہیں۔

دانش نام ہے اس شجر سایہ دار کا جس کے نیچے دانش پروان چڑھتی ہے، دانش نام ہے اس ہوا کا جو سرسوں کے کھیتوں، سورج مکھی کے پھولوں اور باغ وچمن کیلئے بلاامتیاز بادِ بہاری کے سوا کچھ نہیں۔

دانش اونچا اڑنے کا نام نہیں، ایک ساتھ اڑنے اور سنگ سنگ رہنے کا نام ہے، دانش دبانے کا نام نہیں، نشوونما کرنے کا نام ہے، دانش حمکیہ داستان نہیں، دانش دل کی بجھارتوں کا نام ہے، دانش حکمران نہیں، امنگوں کی ترجمانی کا نام ہے۔

دانش کا قول ہے کہ ہم ایک ہیں، ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ساتھ آگے بڑھیں گے “Let’s grow together” یہی ہمارا ماٹو ہے اور یہی ہمارا عزم ہے۔ تجھ کو تشریح محبت کا پڑا ہے دورہ پھر رہا ہے مِرا سَر گردش

 

تجھ کو تشریح محبت کا پڑا ہے دورہ

پھر رہا ہے مِرا سَر گردش ایام کے ساتھ

(احسان دانش)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: