ایوب ——– رشید احمد صدیقی

0

رشید احمد صدیقی کے تحریر کردہ شخصی خاکے اردو ادب کی آبرو اور خاکہ نگاری کا کمال ہیں، یہ انکا ہی معجزرقم قلم لے کہ ایک عام اور گمنام سے انسان کا خاکہ لکھ کر اسے امر کردیا۔ دانش کے قارئین کے لئے ایک خوبصورت انتخاب۔


تمہاری نیکیاں زندہ
تمہاری خوبیاں باقی

محمد ایوب عباسی مرحوم کے بارے میں کیا کہوں اور کہاں سے شروع کروں! وہ اتنے اچھے تھے اور اتنے ناگزیر تھے کہ ان کے بارے میں کچھ کہنا شروع کروں تو سب سے پہلے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہیں وہ۔ یہاں سے نہیں، وہاں سے۔ ابھی نہیں، آگے چل کر۔ یوں نہیں، دُوں۔

وہ موجود تھے تو ان کی مثال نعایمِ فطرت کی تھی، مثلاً ہوا، پانی، روشنی، جو اس درجہ عام و ارزاں ہیں کہ ان کی طرف توجہ مائل نہیں ہوتی، لیکن ان میں سے کسی میں کہیں سے کوئی فرق آ جائے تو پھر دیکھیے، کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور یہی ناقابل التفات نعمتیں کیسی نعمتیں بن جاتی ہیں۔

ایوب ایسے ہی تھے۔ وہ دوستوں کی زندگی میں اس طرح اور اس درجہ گھل مل گئے تھے کہ ہم سے رخصت ہو گئے تو ہم میں سے ہر ایک نے یہ محسوس کیا کہ جو چیز ناقابل التفات حد تک ارزاں و عام تھی، وہ ناقابل بیان حد تک اچھی، ضروری اور نایاب بھی تھی۔

ہم سب کی زندگیوں میں مرحوم کے گھل مل جانے کا راز یہ تھا کہ ان میں بظاہر کوئی بات غیر معمولی نہ تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت کے آدمی نہ تھے، دولت مند نہ تھے، کچھ بہت ذہین بھی نہ تھے، نہ انہیں توڑ جوڑ آتا تھا، نہ خوش پوشاک، نہ خوش گفتار، نہ خوش باش، نہ رنگین و رعنا۔ وہ معمول آدمیوں سے بھی زیادہ معمولی تھے۔ پھر بھی وہ ایسے تھے کہ اب ہم میں ویسا کوئی نہیں اور نہ اب ڈھونڈنے سے بھی کوئی ایسا ملے۔

سیاہ فام، چیچک رُو، پست قد، نحیف البحثہ، پہلے پہل کوئی دیکھے تو منہ پھیر لے، برت لے تو غلام بن جائے۔ میں بتا نہیں سکتا کہ ایوب کی خوبیوں نے ان کی بدصورتی کو کس درجہ دل آویز بنا دیا تھا۔ فطرت اپنی چوک کی بسا اوقات کس بے دریغ بخشی سے تلافی کرتی ہے۔ میری ہی نہیں میرے عزیزوں اور دوستوں کی بھی ان سے بڑی پرانی ملاقات چلی آتی ہے اور میں نہیں بتا سکتا کہ ہم سب کی زندگی میں ایوب کس قدر دخیل تھے اور ان ک موت نے ہم سب کو کیسا بے قرار و مایوس اور کس درجہ بے دست و پا کر دیا۔ وہ میرے وہ میرے ہی دیار کے تھے اور ایک بڑے مستند، شریف، ذی علم اور صاحب خیر گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ میں علی گڑھ میں تھرڈ ایئر میں تھا، جب ایوب فرسٹ ایئر میں داخل ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی ہو کر پرووسٹ آفس میں ملازمت کر لی اور عی گڑھ ہی میں رہ بس گئے۔

اسکول کی تعلیم کے دوران میں میرے عزیزوں و خوردوں کے ہم سبق تھے۔ علی گڑھ میں آئے تو ہم سب ایک ہو گئے اور سترہ اٹھارہ سال تک ہر رنج و راحت میں ایک دوسرے کے شریک رہے۔ یہ تو تھے میرے ذاتی تعلقات، اسی قسم اور اسی درجہ کے تعلقات مرحوم کے اوروں سے بھی تھے اور سب جانتے ہیں کہ ان کی جدائی کا جو الم مجھے ہے، اس سے کم دوسروں کو نہیں ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے، اس پیکر حقیر میں دل سوزی و خود سپاری کا کیسا بیکراں و بیش قیمت خزانہ ودیعت تھا۔

مجھ پر، میرے بچوں پر، میرے دوستوں پر اور میرے خاندان پر جان چھڑکتے تھے۔ خوشی کی بات ہو تو ایوب صاحب سب سے پہلے موجود اور سب سے زیادہ خوش۔ رنج و تردّد کا موقع ہو تو سب سے پہلے حاضر۔ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے یا ہر شخص کو خوش آمد کر رہے ہیں۔ خوشی میں ہر طرح کے جملے فقرے سر کر رہے ہیں اور اپنی مسرت کا طرح طرح سے اظہار کر رہے ہیں۔ رنج و مایوسی کا موقع ہو تو ایک حرف زبان پر نہیں، نہ تسکین کا نہ تقویت کا، چپ چاپ بیٹھے سراپا کا جائزہ لے رہے ہیں یا محبت و ہمدردی سے بے اختیار ہو کر منہ تک رہے ہیں۔ ذرا بھی احتمال ہوا کہ کسی کا آنا یا کسی معاملہ میں میرا دخل میرے لیے تکلیف دہ ہو گا تو اسے پہلے ہی بھانپ کر کسی نہ کسی طرح اس کا سدباب کر دینا اور اس طرح کرنا کہ مجھے اس کی کانوں کان خبر نہ ہو۔

میرا اور میرے دوستوں کا یہ حال تھا کہ ہاتھ پائوں ہلانا نہ ہو اور ایوب سب کام کر دیں۔ بہت سی باتیں ایسی ہوئی تھیں، جن کی تمام تر ذمہ داری ہمیں پر ہوتی تھی، لیکن اس سے بذات خود عہدہ بر آ ہونے کے بجائے یا اس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہو تو ہم سب ایوب صاحب پر بگڑتے تھے اور بہانے نکال نکال کر انہیں سخت سست کہتے تھے۔ ایوب صاحب معمولی ملجگی شیروانی پہنے، ٹوٹا پھوٹا جوتا، میلا سا مفلر گلے میں لپیٹے جلدی جلدی آ رہے ہیں۔ ہائے ان کا وہ چھوٹا سا قد، مشکل سے پانچ فٹ کا، مشغول و منہمک، مفلر جلد جلد کھولتے لپیٹتے راستہ میں ہر ایک سے کچھ کہتے سنتے، گرتے پڑتے چلے آ رہے ہیں۔ ابھی فاصلہ ہی پر ہیں کہ جس شخص کے پاس آ رہے ہیں، اس نے صلواتیں سنانی شروع کر دیں، آ پہنچے تو سخت سست کی جوچھاڑ۔ ایوب صاحب ہیں کہ نادم ہیں، ہنستے جا رہے ہیں، معذرت کر رہے ہیں، دو چار صلواتیں خود بھی سنا دیں۔ غرض دو چار منٹ کے بعد اطمینان ہوا تو ٹھکانے کی باتیں ہونے لگیں۔ وعدہ کیا کہ کام کر دیں گے، نہ کریں تو جو چاہے، کر ڈالیے۔ چلنے لگتے تو پھر کام کی تاکید کی گئی، پانچ سات صلواتیں سنا دی گئیں اور اتنی ہی سن لی گئیں۔

ایوب صاحب کا گھر بارہ مہینے تھرڈ کلاس کا مسافر خانہ بنا رہتا تھا۔ ہر طرح کے لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں، بالخصوص اعزا اور دوستوں کے لڑکے۔ مجھے یقین ہے اور میں بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ ایوب صاحب کے گھر میں قیام کر کے، ان کے خرچ سے، ان کی توجہ و محنت سے اور ان کے بل پر اعزا اور احباب کے جتنے لڑکوں نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی ہو گی، اتنا اب تک کسی اور شخص سے نہ ہوا اور نہ شاید آئندہ ہو گا۔

ان کے گھر میں طالب علموں کا وہ ہجوم کہ اندر جا کر دم گھٹنے لگتا تھا۔ ہر شخص کو کھلانا پلان، سامان دینا، ان کی ضرورت کو نظر میں رکھنا اور ان کی فکر کرنا۔ اس کے بعد آفس کا کام، دوستوں کا کام۔ غرض اس شخص کی مشغولیتیں دیکھ کر ہم سب تعجب کیا کرتے تھے کہ یہ شخص زندہ کیسے ہے اور اس کے حواس کیوں کر بجا ہیں۔

اس کا اندازہ آپ یوں کر سکتے ہیں کہ ایوب صاحب نے شاید ہی کبھی اپنے گھر کھانا کھایا ہو یا دو روز مسلسل اپنے گھر سوئے ہوں۔ جہاں مل گیا، وہیں کھا لیا اور ہو سکا تو وہیں رات بھر کے لیے پڑ رہے۔ چارپائی بستر میسر آئے نہ آئے، آرام کرسی پر سو رہے، میز پر لیٹ گئے، ورنہ کچھ لپیٹ کر فرش پر ہی ایک طرف سکڑ سکڑا کر رات بسر کر دی۔ مشکل سے ایک آدھ چپاتی اور تھوڑا سا سالن کھاتے تھے۔ اتنا کم کھانے والا بھی شاید ہی کہیں ملے۔ کبھی کبھی ایک آدھ پیالی چائے پر اکتفا کر لیتے تھے۔

سگریٹ اور حقہ کے زیادہ شائق تھے۔ بیڑی، سگریٹ، سگار، حقہ جو مل جائے، ان کے لیے کفایت کرتا تھا۔ دوستوں میں سے کوئی بیمار پڑا اور یہ آ موجود ہوئے۔ رات دن کا مسلسل قیام، پائوں دبا رہے ہیں، دوا لا رہے ہیں، کھانا تیار کر رہے ہیں اور بقول ہم پورب والوں کے، اس کا گو موت کر رہے ہیں۔ بیماری میں آدمی چڑ چڑا ہو جاتا ہے، چنانچہ اس کی ہر قسم کی زیادتیاں بھی سہہ رہے ہیں۔ بیمار اچھا ہوا تو شکریہ میں بھی سخت سست ہی کلمات کہے۔ ایوب صاحب ہیں کہ خوش گرویدئہ احسان ہو کر۔ شعرا اور بے فکروں نے لطف و تشکر کے جتنے الفاظ وضع کیے ہیں وہ سب ان گالیوں کے سامنے ہیچ تھے، جو ہم سب ایوب کو دیتے تھے اور ان سے سنتے تھے۔

ایک دفعہ بیوی اور بچے مکان گئے، میں اور دو بچیاں رہ گئیں۔ باورچی یک بہ یک چلا گیا۔ برسات کا موسم تھا۔ میں دن بھر ادھر ادھر مارا مارا پھرتا۔ کوئی پانچ چھے بجے شام گھر واپس ہوا۔ دیکھا تو ہر چیز قرینہ سے مکان میں لگی ہوئی ہے۔ بچیاں صحن میں آم کھا رہی ہیں۔ ذرا ہی دیر میں ایوب صاحب آنکھ ملتے، راکھ میں لت پت باورچی خانے سے ڈانٹ کر بولے۔ ’جی گل چھڑے اڑائیے، آخر ڈائننگ کے ہال کو کیا ہوا تھا، وہیں سے انتظام کر لیا ہوتا۔‘ بولے۔ ’جی شام کے پانچ چھ بجے آپ براہِ راست شہر گئے، وہاں سے بچیوں کے لیے آم اور پکانے کے لیے کچھ ساگ ترکاری لائے۔ بچیوں کو آم میں پھنسا کر خود باورچی خانہ میں پل پڑے۔ ترکاری ساگ اور کچھ اسی قسم کی چیزوں سے الجھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا۔ ’بھئی ایوب! خدا کے لیے کچھ تو ٹھکانے کی چیز کھا پی لیا کرو، ورنہ آنکھیں بھیک مانگنے لگیں گی‘۔ بولے۔ ’جناب نے بھی تو متنجن ہی کھا کھا کر عینک کے نمبر بڑھائے ہیں۔‘

کھانا پینا ہو چکا تو آم نکالے۔ میرے سامنے تو قلمی اور لنگڑے رکھے اور خود چوسنے والے آم لیے۔ میں نے کہا۔ ’یہ کیا؟ یہ آم کیوں نہیں لیے۔‘ کہنے لگے۔ ’یہ آپ ہی کو مبارک ہوں، مجھے تو چوسنے والے ہی پسند ہیں۔‘ میں نے کہا۔ ’چوسنے والے اپنے گھر کھائیے گا۔ میرے ہاں اس قسم کی کوئی حرکت کرو گے تو مجھے سے برا کوئی نہیں۔‘ کھانا پینا ختم ہوا تو اپنی کھڑی چارپائی بچیوں کی چارپائی کے درمیان بچھا کر لیٹ رہے اور ان سے انہیں کی دل چسپی کی ادھر ادھر کی باتیں کرنی شروع کر دیں۔ جب وہ گئیں تو سر سے پائوں تک کمبل تان کے خاموش ہو گئے۔ میں نے دیکھا تو کہا۔ ’ایوب! تم اس گھر سے نکلو۔ اس سڑی گرمی میں کمبل اوڑھ کر برآمدہ میں سوئو گے تو ظاہر ہے تمام رات میں صحن کے اس چبوترہ پر رقص کروں گا۔ کیا فائدہ؟ صبح میں پاگل خانہ پہنچایا جائوں اور تم قبرستان۔‘ نہ مانے اور اسی طرح سوئے۔ ان کا یہی معمول تھا۔

صبح جیتے جاگتے اٹھ بیٹھے اور دن کے دھندے میں لگ گئے۔ علی گڑھ میں داخلہ کا زمانہ بڑے ہنگامے کا ہوتا ہے۔ سارے بزرگان قوم، جو سال بھر ہم سب کو گالی اور اخبارات کو پیام بھیجتے رہتے ہیں، نئے سیشن کے شروع ہوتے ہی ہم کو قرون اولیٰ کا مسلمان قرار دے دیتے ہیں۔ پہلے خطوط آنے شروع ہوں گے، اس کے بعد تار، اس کے تانگے۔ ’خلاصہ فریاد‘ ایک ہی ہوتی ہے، یعنی لڑکا آپ کا ہے، یونیورسٹی قوم کی ہے اور حکومت ہندوئوں کی۔ لڑکے کو داخل کرائیے، جتنی مراعات ہو سکیں، دلوائیے، بقیہ خود پوری کیجیے۔ چال چلن اور خوندگی کی نگرانی کیجیے، پاس کرائیے، نوکری دلوائیے اور ہم دونوں کو اس وقت تک مہمان رکھیے، جب تک کہ لڑکا یہاں کے ماحول سے آشنا اور خود ان سے متنفر نہ ہو جائے۔ حج اور تیرتھ کے بارہ میں تو یہ طریقہ ہے کہ ملک کے مختلف حلقے مطوف اور پنڈتوں نے بانٹ لیے ہیں۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، یہ آپ کی جان و مال کے ذمہ دار خدائی فوجدار ہیں، جان کے کم، مال کے زیادہ۔ علی گڑھ کا دستور اس سے بالکل مختلف ہے، جس کا جی چاہے، جس جس مطوف پانڈے کے ہاں ٹھہر جائے اور اس کی جان و مال و ناموس کا انچارج بن جائے۔ داخلہ کا زمانہ عین برسات کا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے برسات، مہمان داری اور قوم کی مرثیہ خوانی کا بہ یک وقت زور ہو اور کام کوئی نہ ہو تو معدہ کب تک ساتھ دے گا۔ والدین میں سے کوئی پیچش میں مبتلا ہے، کوئی اسہال میں، کسی کو یونانی علاج موافق نہیں آتا، کسی کو ڈاکٹری دوا سے اصولاً اختلاف ہے۔ کھانا ناشتہ سب کو موافق، حکیم صاحب کے ہاں لے جائیے یا انہیں بلائیے تو بتائیں گے موجودہ شکایت اور علاج کرائیں گے دیرینہ شکایات کا!

اس زمانہ میں اور ایسے مواقع پر ایوب مرحوم کام آتے تھے۔ کسی کے لیے چارپائی کی ضرورت ہے تو وہ لا رہے ہیں، کسی کے پاس سرٹیفکیٹ نہیں ہے، اس کی سبیل نکال رہے ہیں، کسی کو مخصوص بورڈنگ ہائوس میں جگہ نہیں مل رہی ہے تو اس کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، کسی کے پاس روپے نہیں ہیں تو ادائیگی بالاقساط کی کوشش کر رہے ہیں، کسی کے پاس کتاب یا فرنیچر نہیں ہے تو اس کا بندوبست کر رہے ہیں، کوئی اسٹریچی ہال کے محشرستان میں کھو گیا ہے تو اسے راستہ پر لگا رہے ہیں، والدین یا سرپرستوں کے لیے حقہ یا پرانے اُردو ناولوں کی ضرورت ہے تو اسے فراہم کر رہے ہیں۔

اور سب کچھ ہو گیا تو اشارہ کنایہ سے، حیلہ حوالہ سے، خوشامد کر کے، رو پیٹ کر، جھنجلا کر، آمادئہ قتل یا خودکشی ہو کر مہمان کو میزبان کا گھر چھوڑنے اور اپنے اپنے ٹھکانے پہنچنے کا مرحلہ طے کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ہی جگہ نہیں ہو رہا ہے۔ میرے گھر، آپ کے گھر، دوستوں کے گھر اور خدا جانے اور کہاں کہاں یہی ڈراما ہو رہا ہے۔ ایوب صاحب ہیں کہ اپنے فرائض اور اپنی مصیبتوں کو نظر انداز کر کے دوستوں اور دوسروں کی مصیبت میں شریک ہیں۔ میزبان مہمانوں سے تو کچھ بولتا نہیں، لیکن آخر غم و غصہ نکالنے کا کوئی موقع تو ہو، اس کے لیے ایوب صاحب تھے۔ انہیں بلایا گیا۔ یہ پہنچے تو کچھ متردد ہوئے، کچھ نادم اور کبھی کبھی تالی بجا کر قہقہہ لگانے لگے۔ پھر بولے۔ ’معلوم ہوتا ہے کوئی اور آیا یا کسی اور کو دست آئے۔ رشید صاحب! واللہ، خوب ہوا، بڑا مزہ آ رہا ہے۔ اور لکھیے مزاحیہ مضمون‘۔

ایوب مرحوم کو برج کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ ان کی زندگی میں اور کچھ انہیں کی وجہ سے ہم لوگ بھی اس کے بڑے شائق ہو گئے تھے۔ بازی نہیں لگائی جاتی تھی، اس لیے کہ ہم میں ایک سے ایک اناڑی کھیلنے والا تھا۔ جتنا کھیلتے تھے، اتنا ہی تنزل کرتے تھے۔ پھر ایک دوسرے کو، خواہ وہ جیتے ہارے، سخت سست اتنا کہہ لیتے تھے کہ کسی اور بدل کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں ہریجن کا لفظ اخبارات میں آتا تھا۔ بے تکلف صحبتوں میں ایوب مرحوم کا یہی نام رکھ دیا گیا تھا۔ مرحوم بھی کچھ کم نہ تھے، ہم سب کو بھی وہ ایسے ایسے ناموں سے پکارتے تھے کہ ہمارا ہی دل جانتا ہے۔ ان کے بغیر تاش کی صحبتیں بالکل بے کیف ہوتی تھیں۔ بعض دفعہ یہ ہوا ہے کہ ایوب مرحوم کھیل میں موجود نہ ہوئے، تھوڑی ہی دیر میں سب نے تاش پھینک دیے کہ بغیر ہریجن کے کوئی لطف نہیں۔ رات کافی گزر چکی ہے، ڈاکٹر عباد الرحمان خان کی موٹر پر ہم سب ان کی تلاش میں نکلے۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد کسی دوست کے ہاں ملے۔ اپنے گھر چونکہ رہتے ہی نہ تھے، اس لیے وہاں ہم سب کبھی نہ گئے۔ دوست کے ہاں رونق محفل وہی تھے، اس لیے وہ لوگ بھی مارنے مرنے پر تیار ہوئے کہ ایوب کو جانے نہ دیں گے۔ بڑی بڑی خوشامدوں سے یا لڑ جھگڑ کر انہیں لائے اور محفل پھر سے جمی۔

تاش کے شائق اتنے تھے، لیکن براہ راست کبھی نہیں کہتے تھے کہ چلیے تلاش کھیلا جائے۔ آئے اور بیٹھ گئے۔ ادھر اُدھر کی باتیں شروع کیں۔ میں خوب سمجھتا تھا کہ ان کا مطلب کیا ہے، اس لےی عمداً غیر متعلق باتیں چھیڑتا رہا۔ یہ برابر وار خالی دیتے رہے، آخر کار میں نے کہا۔ ’ایوب! تم کو تو تاش کا ہیضہ ہے۔‘ نہایت سنجیدگی سے بولے۔ ’ جی ہاں، آپ لوگوں کو شاید چھینک بھی نہیں آتی‘۔

میں تیار ہوا، دونوں ڈاکٹر اصغر کے ہاں پہنچے۔ ہم خوب سمجھتے تھے کہ وہاں کیا پیش آئے گا۔ ایوب مرحوم کو دیکھتے ہی للکارا۔ ’ہریجن! دروازہ کے اندر قدم نہ رکھنا۔‘ مرحوم بولے۔ ’بس بس جناب ڈاکٹر صاحب! بہت زور نہ باندھیے۔ دروازہ کے اندر سے خود تو کبھی قدم نکالنے کی ہمت نہیں ہوتی اور بھبکی یہ! دیکھیے (اتنے میں ڈاکٹر عبادالرحمان خان بھی آ گئے تھے) معززین شہر تشریف لائے ہیں۔‘ اصغر صاحب بولے۔ ’ لعنت ہے، باورچی بھیجا تھا یا بھنگی، اپنی ہی شکل کا ڈھونڈتے ہو‘۔ مرحوم نے نہایت سنجیدہ ہو کر جواب دیا۔ ’ڈاکٹر صاحب! کیا کروں۔ آپ کی شکل والا تو یونیورسٹی والے نہیں چھوڑتے، کیا کیا جائے۔‘

ایوب صاحب کی سیرت و شخصیت کا عجب اور نادر پہلو یہ تھا کہ بڑے سے بڑا آدمی ہو یا چھوٹے سے چھوٹا، ان سے عزت آمیز محبت کرتا تھا، ترس کھا کر یا مجبور ہو کر نہیں، بلکہ ان سے محبت کرنے میں اسے لطف آتا تھا۔ ایوب سے محبت کر کے جیسے دل کو تسکین ہو جاتی تھی، ایک طرح کی پر افتخار اور اطمینان بخش تسکین! جیسے یہ احساس کہ ہم میں بھلائی کرنے یا بلند ہونے کا جذبہ یا استعداد ہے۔ محبت کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے، جو اپنے سے حقیر یا پست حال سے کی جاتی ہے۔ جیسے لوگ اپنے کتے سے کرتے ہیں، یعنی اسے سمجھتے کتا ہی ہیں، لیکن اسے چومتے چمکارتے رہتے ہیں۔ اس قسم کی محبت بالعموم بڑی آدمی چھوٹے سے کرتے ہیں، لیکن تحتِ شعوری ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ محبت یا اخلاق کا مظاہرہ کرنے کے اعتبار سے تو لوگ انہیں انسان سمجھیں، لیکن خود ان کے جذبہ فرعونیت کی تسکین ہو، یعنی ہم ایسے ہیں کہ ترس کھا کر اپنے بندے سے محبت کرتے ہیں اور اس طور پر اس کی زندگی میں امید و فخر کی ہلکی ہلکی سی لہر دوڑا کر ہم چشموں میں بیٹھنے اور سر بلند ہونے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ اس طرح کی محبت یا عزت ایوب صاحب سے کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ ایوب صاحب وہ تھے، جن کے لیے ہر شخص اپنی عزت یا شہرت کو دائو پر لگا دینے کے لیے بے تامل تیار ہو سکتا تھا۔

ایوب سے محبت نہ کیجیے یا ان کی عزت نہ کیجیے تو یہ محسوس ہوتا کہ ہم میں شریفانہ جذبات یا ذمہ داری کی کمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مد نظر رکھیے کہ ایوب کے دل میں یہ بات کبھی گزری ہی نہیں کہ ان کی خدمات کا صلہ مل رہا ہے یا نہیں۔ معاوضہ کا احساس شاید ان میں پیدا ہی نہیں کیا گیا تھا۔ بڑے چھوٹے کی خدمت یکساں لطف و تن دہی سے کرتے تھے۔ پرووسٹ کے دفتر میں سب سے اہم عہدہ پر ہونے کے سبب سے ان کا سابقہ طلبہ، اساتذہ، بیرا، باورچی، نائی، چپراسی، بھنگی، بہشتی سبھی سے براہ راست پڑتا تھا۔ طلبہ کو خوش اور مطمئن رکھنا معمولی بات نہیں ہے۔ ان کا ایوب صاحب سے طرح طرح سے سابقہ پڑتا تھا، وہ ہر طالب علم کے خاندانی حالات و معاملات سے واقف رہتے تھے اور اسی اعتبار سے ان سے سلوک کرتے تھے، اس لیے ہر طالب علم ان کو اپنے گھر کے بزرگ اور خیر اندیش کی حیثیت سے دیکھتا تھا۔ یونیورسٹی میں سٹرائیک ہے، لڑکے ہیں کہ بے قابو ہوئے جاتے ہیں، لیکن ایوب صاحب کا جادو برابر کام کر رہا ہے۔ ایسے زمانہ میں ان کا طرز عمل لڑکوں سے وہی ہوتا، جو میدان جنگ میں صلیب احمر کا ہوتا ہے۔

ادنیٰ درجے کے ملازمین سے ان کا سلوک مساوات و ہمدردی کا ہوتا، یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ ایوب کو اپنا افسر نہیں، بلکہ رفیق سمجھتے تھے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ بہشتیوں کی کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں اور جیسا کہ ایسی کانفرنس میں ہوتا ہے، ہر بہشتی آپے سے باہر تھا۔ ایوب صاحب جلدی جلدی سگریٹ پیتے اور بار بار پاجامہ اونچا کرتے جاتے تھے۔ ہر ایک سے مخاطب ہوتے تھے۔ کبھی خود جامہ سے باہر ہو جاتے اور کبھی نہایت متانت سے سمجھانے لگتے۔ میں ادھر سے نکلا تو کچھ سٹپٹائے اور شرمائے۔ میں نے کہا۔ ’واللہ، ایوب! آج تو پہچاننا دشوار ہو گیا۔ جا کر مولانا سے کہوں گا کہ نوح کا پسر بدوں میں بیٹھتے بیٹھتے بہشتیوں میں بیٹھنے لگا ہے۔‘ ہاتھ پر ہاتھ مار کر بڑے زور سے ہنسے، کہنے لگے۔ ’ہاتھ جوڑتا ہوں، ذرا بیٹھ جائیے۔ واللہ، بڑا مزہ آئے گا۔‘ میں نے کہا۔ ’جی نہیں، آپ کو کیا، آج یہ ہے، کل بھنگیوں کی کانفرنس کی صدارت کرنے لگیں گے۔‘ فرمایا۔ ’ہرج کیا، پانی اور فینائل کا انتظام تو کہیں کیا نہیں۔‘

غرض میں چلا آیا۔ ایوب صاحب بھی صدارت سے فارغ ہو کر تاش کھیلنے کے وقت پہنچ گئے۔

ایوب صاحب یونیورسٹی کے معاملات یا الجھنوں سے ہمیشہ علیحدہ رہتے اور حتی المقدور اپنے دوستوں کو بھی علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس قسم کے مسائل پر انہوں نے مجھ سے کبھی گفتگو نہ کی۔ کبھی فرصت ہوئی اور یقین ہوا کہ میں گھبرائوں گا نہیں تو وہ اپنے خاندانی قضیوں کا تذکرہ چھیڑتے اور جو کچھ دل میں ہوتا، بیان کر دیتے۔ ان کی الجھنوں کو ہمدردی اور توجہ سے سنتا تو ایسا محسوس کرتے، جیسے ان کا جی ہلکا ہو گیا اور ان کے دکھ درد کا مداوا ہو گیا۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے کچھ بہت زیادہ راضی نہ تھے، سب کے سب ایوب صاحب کی شرافت اور کشادہ دلی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے درپے رہتے تھے۔ اس کا انہیں غم تھا اور غم غلط ہی کرنے وہ میرے پاس آیا کرتے تھے۔ ایک دن بہت اداس تھے، آئے تو میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح ان کا جی بہل جائے۔ معلوم نہیں، کیا ہوا کہ وہ یک بہ یک آب دیدہ ہو گئے۔ میں نے پوچھا تو بڑے تامل کے بعد واقعہ سنایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی عزیزوں کی دیانت اور شقاوت کا۔

میں نے کہا۔ ’ایوب صاحب! آپ بد دل نہ ہوں۔ آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور ہے تو صرف اتنا کہ آپ خوش حال اور نیک نام کیوں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بیش تر ہندوستانی اعزا کے دلوں سے نیکی اور فیاضی اٹھا لی گئی ہے۔ اغیار کو تو یہ مسرور اور بافراغت دیکھ کر خوش ہوں گے، فخر کریں گے، لیکن اپنوں کو کھاتا پیتا، ہنستا بولتا دیکھ کر غم و غصہ کے انگاروں پر لوٹنے لگیں گے۔ یہ اپنے نکمے پن اور بے غیرتی کو اپنی بہت بڑی خوبی اور اپنا بہت بڑا حربہ سمجھتے ہیں۔ یہ اپنے کھاتے کھاتے عزیزوں کو غاصب سمجھتے ہیں کہ آپ نے ان تمام نعمتوں پر قبضہ مخالفانہ کر رکھا ہے، جو بصورت دیگر ان کے قبضہ میں آتیں۔ وہ کبھی نہ دیکھیں گے کہ وہ خود کتنے ناکارہ اور بے ایمان ہیں اور جو فراغت، ناموری اور نیک نامی سے رہ رہا ہے، اس نے کتنی محنت کی ہے اور اذیت اٹھائی ہے۔ میں نے تو آج تک اپنے کسی عزیز کو ایسا نہ دیکھا، جس میں محنت اور ایمانداری کی استعداد ہوتی اور وہ اپنے کسی عزیز کی فراغت و مسرت پر کڑھتا۔ کڑھتے میں نے انہیں کو پایا، جو غایت درجہ کے نکمے اور بے ایمان ہوتے ہیں۔‘

اور یہ کچھ ہمارے بیش تر رشتہ داروں ہی کا حال نہیں ہے بلکہ انفرادی کمزوری اور کمینگی نے پھیل کر جماعتی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ جماعتی ہی نہیں بلکہ قومی اور سیاسی بھی۔ سرمایہ و مزدوروں کی جنگ اپنی جگہ پر حق بجانب ہے اور جہاں تک اس کے اخلاقی و اقتصادی پہلوئوں کا تعلق ہے، اس کے معقول ہونے میں شبہ بھی نہیں، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس اسکیم کو چلانے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے درپے بیش تر وہی لوگ ہیں، جو نکمے، برخود غلط اور کینہ پرور ہیں۔ دنیا کے کسی آشوب کا مطالعہ کیجیے، آپ کو بالآخر یہی نظر آئے گا کہ معقول نظام یا تحریک نا معقولوں کے ہاتھ میں تھی۔ آپ ہی سوچیے، کیا مزدور اور کاریگر کے علاوہ کوئی اور طبقہ اس دنیا قابل عزت و لحاظ نہیں ہے اور کیا مزدور اور کاریگروں ہی سے وابستہ ہے؟ دنیا کی نجات دولت کی مساوی تقسیم پر نہیں ہے، بلکہ محنت اور قابلیت کے صحیح احساس و تنظیم پر ہے۔ میں آج کل کے بازی گروں کے اصول کا قائل نہیں، جس سے دولت ان کے ہاتھ میں جائے اور ’مساوی‘ میرے ہاتھ میں آئے!

آخر میں نے ان سے کہا۔ ’ایوب صاحب! اپنا کام کیے جائیے۔ دولت و شہرت کا حساب عزیزوں کو نہیں، اللہ تعالیٰ کو دیا جائے گا، البتہ آپ اس کے لیے تیار رہیے کہ جتنا اللہ آپ کو کار گزار، فارغ البال، نیک نام اور بھلا مانس بنائے گا، اتنا ہی شیطنیت آپ کی دشمن بنتی جائے گی۔‘

مرحوم اپنے جن بزرگوں یا دوستوں کو وزیز رکھتے تھے، انہیں میرے ہاں ضرور لاتے اور مجھ سے ملا کر بہت خوش ہوتے۔ پھر بڑا اصرار کرتے کہ میں ان سے ان کے گھر یا جائے قیام پر جا کر مل آئوں۔ یہی نہیں، بلکہ جس کی کو تکلیف یا مصیبت میں دیکھتے یا ان کے ہاں خوشی کی کوئی بات ہوتی تو مجھے مجبور کرتے کہ میں وہاں ہو آئوں۔ میں ایسا کر دیتا تو ان پر مسرت و شکر گزاری کا عجیب عالم طاری ہوتا۔ ظاہر ہے، اس سے ان کیا مقصود یہ تھا کہ میری بھلمنساہٹ کی لوگ قدر کریں، لیکن یہ بات یہیں نہیں ختم ہو جاتی۔ واقعہ یہ ہے کہ جس شخص یا جس بات سے انہیں تقویت یا مسرت پہنچتی تھی، اس میں وہ مجھے بھی شریک کر لینا چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ میں نے ان کے انتخاب کو پسند کر لیا تو اس پر استناد کہ مہر لگ گئی۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے جس کو مجھے بلایا، اس کے ساتھ بہت بڑا سلوک یہ کیا کہ مجھے ایسے (بزعم خود) معقول آدمی سے اسے متعارف کیا۔ بظاہر یہ باتیں دُور دراز کار اور خود میرے برخود غلط ہونے پر دال ہیں اور اپنے منہ سے ان کا تذکرہ کرنا میرے لیے بڑی بھدی بات ہے، لیکن میں مرحوم کی بعض تحت شعوری سرگرمیوں سے واقف ہوں۔ ان کا مقصد وہی تھا، جو میں نے بیان کیا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک لطیفہ سنیے۔ ایک دن مجھ سے بڑے اصرار سے کہنے لگے رشید صاحب! پتلون پہنا کیجیے۔ میں نے کہا۔ ’آخر کیوں؟‘ کہنے لگے۔ ’ہرج ہی کیا ہے۔‘ میں نے بڑے تعجب سے پوچھا۔ ’آخر اس فرمائش کی تک کیا ہے؟‘ کہنے لگے۔ ’جی چاہنے میں تک کو کیا دخل۔‘ میرے پاس ان کے ایک بے تکلف دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ رد و قدح سنی تو معاملہ کی نوعیت دریافت کرنے لگے۔ میں نے بتایا تو اچھل پڑے، کہنے لگے۔ ’رشید صاحب! قیامت تک نہ پہنیے گا۔ اس نے ایک پتلون سلوائی ہے، اسے پہننا چاہتا ہے، آپ سے ڈرتا ہے۔ اس کی باتوں میں نہ آئیے گا۔ دیکھوں تو کس طرح پہنتا ہے۔‘

یونیورسٹی سے ایک قطعہ زمین مکان بنانے کے لیے میں نے پٹہ پر لی تھی۔ یہ ایوب صاحب کے مکان سے متصل تھی۔ برسوں میرے پاس افتادہ پڑی رہی۔ مرحوم کا مسلسل اصرار رہا کہ رشید صاحب! مکان بنوا لیجیے، ہر شخص بنوا رہا ہے، آخر آپ کیوں نہ بوائیں۔ تھوڑا سا حصہ چھوڑ دیجیے گا۔ اس میں میں ایک جھونپڑا ڈال لوں گا، مویشی پالوں گا، مرغیاں رکھوں گا اور کھیتی کیاری کروں گا۔ میں نے کہا۔ ’میں مکان نہ بنوائوں گا۔ ساری زمین آپ کی ہے، جو چاہے کیجیے۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ آپ سے کچھ ہوتا بھی ہے یا نہیں۔‘ کہنے لگے۔ ’جی نہیں، آپ مکان بنوائیے۔ میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ میاں آپ کا مکان ہو۔ آپ تمام روپیہ خرافات میں اٹھاتے ہیں۔ مکان ہو گا تو ایک چیز ہو جائے گی۔ آپ قریب ہو جائیں گے۔ وسیع عالیشان مکان، میں سمجھوں گا، میرا ہی مکان ہے۔ جب چاہوں گا، چلا جایا کروں گا۔ ایک ٹھکانا ہو جائے گا۔‘

مکان بنا، لیکن ایوب کا ارمان پورا نہ ہوا۔ اب وہ اور ان کا ارمان دونوں یونیورسٹی کے گورستان میں آسودئہ راحت ہیں۔ یہاں پہنچ کر مجھے بے اختیار اپنا چھوٹا چچا زاد بھائی جواں مرگ رفیق یاد آ گیا۔ جس نے بارہ سال تک مرتے دم تک مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر اپنی روشن و رنگین زندگی کی تمام متاع نثار کر دی! جس کی قیمت اس دنیا میں آج تک کوئی نہیں لگا سکا۔ آہ، نثار ہونا اور کس کس طرح نثار ہونا! جس نے تمام عمر یہ خیال دل میں نہ آنے دیا کہ اپنی استعداد سے اپنے آپ کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچنا چاہیے، بلکہ اسی کا قائل رہا اور اسی پر مر مٹا کہ اس کی ہر نعمت اور اس کی ہر متاع میرے اور میرے بیوی بچوں ہی کو راحت و فائدہ پہنچانے کے لیے تھی۔

بہادر اور باوفار رفیق بھی مکان کا ارمان اپنے ساتھ لے گئے۔ میں اپنا مکان دیکھ کر مسرور و مطمئن ضرور ہوتا ہوتا ہوں لیکن جب رفیق اور ایوب یاد آ جاتے ہیں تو دل بے اختیار ہو کر نا ممکنات کی آرزو کرنے لگتا ہے، یعنی دونوں زندہ ہو جاتے ہیں اور میں انہیں اسی مکان میں گلے لگاتا۔ ان کا خوش ہونا اور دھوم مچانا دیکھتا اور مطمئن ہو جاتا کہ میں نے بھی کچھ کام کیا!

سردی کا زور اور دوستوں کا مجمع تھا، ہم سب ڈاکٹر عباد الرحمان کے ہاں بیٹھے تاش کھیل رہے تھے کہ ایوب مرحوم نے کہا سردی لگ رہی ہے۔ کسی نے توجہ نہ کی، تھوڑی ہی دیر کے بعد، لیکن کسی قدر بے قرار ہو کر کہا۔ ’’بڑی سردی ہے رشید صاحب! میں چلا۔‘ ڈاکٹر عباد نے کہا۔ ’نہ ٹھکانے سے کھاتے ہو، نہ شریفوں کی طرح رہتے ہو، سردی کیوں نہ لگے۔‘ یہ کہہ کر اندر سے اپنا وزنی گرم اوورکوٹ لائے اور مرحوم کو اچھی طرح اوڑھا دیا۔ چائے منگائی اور پلائی۔ اس کے بعد مرحوم نے کہا۔ ’رشید صاحب! میں چلا۔‘ میں ان کے لہجہ سے اور ان کے چہرہ کی طرف دیکھ کر چونکا۔ کھیل ختم کر دیا گیا اور ہم سب انہیں اڑھا ڈھکا کر ان کے مکان پر پہنچا آئے۔ صبح سے بخار نے زور پکڑا، لاکھ لاکھ جتن کیے گئے، لیکن بخار اور کمزوری بڑھی ہی گئی۔ دوستوں کی تشویش بڑھی، مایوسی بڑھی اور مرض الموت بڑھا۔ دو تین ہفتہ کے اندر سب کچھ ہو گیا۔ کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ مرض کیا تھا۔ سب نے یہی فیصلہ کیا کہ وقت آ پہنچا۔

شام کے قریب نزع کے عالم میں تھے، مکان کے باہر یونیورسٹی کے طلبہ اور عمائدین کا مجمع تھا، لیکن ان سے قریب اور انہیں میں ملا جلا ایک ہجوم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھنگی، بہشتی، چپراسی، نائی، دھوبی، بیرے، باورچی، خانساماں، خوانچہ والے اور ان میں سے بہتوں کے بیوی بچے خاموش، مایوس، سر جھکائے اور یہ وہ ہجوم تھا، جو کسی مرنے والے کے دروازہ پر، جب کہ وہ اس جہاں سے گزرنے والا ہی ہو، میں نے گزشتہ پچیس سال میں نہیں دیکھا تھا۔

مرحوم کو سپرد خاک کیا گیا۔ مولانا ابو بکر صاحب نے قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر فرمایا۔ ’بھائیو! ایوب اپنے پیدا کرنے والے کے ہاں پہنچ گئے۔ اگر ان سے تم کو کوئی تکلیف ہو تو معاف کر دینا۔‘

گر یہ سب کے گلو گیر ہوا کسی نے روکا اور کسی سے نہ رکا۔

ایک غم نصیب کے قلب کی گہرائیوں سے ایک اور درد ناک صدا بلند ہوئی:

’کیا یہاں کوئی ایسا بھی موجود ہے، جس پر ایوب کی خدمات کا صلہ واجب الادا نہ ہو۔‘ اس آواز کو سنا کسی نے نہیں، محسوس سب نے کیا!

(Visited 152 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: