اقبال کی شاعری کا ایک بنیادی گوشہ ——– شمیم احمد

0

سلیم احمد مرحوم کے بھائی اور ممتاز نقاد، استاد جناب شمیم احمد کی آج برسی کے موقع پر دانش کے قارئین کے لئے انکی ایک یادگار تحریر پیش ہے۔


اقبال نے جس زمانے اور عہد میں انکھ کھولی تھی، وہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ نہ صرف اس زمانے میں مغربی فکر اور فلسفہ، ایک نئی جہت اختیار کر چکا تھا بلکہ اس کے مادی علوم اور سائنس نے اپنے عظیم الشان نتائج سے فکرِ انسانی کو چکا چوند کر دیا تھا۔ ذہنِ انسانی جن کائناتی سوالات، کش مکشن، رد عمل اور گہرے مسائل سے دو چار تھا، اس نے انسان کو اپنی حدود سے نکال کر لا محدود کائنات اور بین الاقوامی اجتماعی برادری کے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔ اقبال اس عہد میں پروان چڑھنے والے وہ واحد بڑے شاعر اور سوچنے والے تھے جن کی تربیت میں ایک طرف تو سائنسی مادیت اور مشینی عہد کے شعور کا براہ راست عمل دخل تھا تو دوسری طرف انہیں اپنے وطن کی غلامی کا شدید احساس اور اپنی قوم کے انحطاط اور پسماندگی کا شدید رنج تھا۔ اور اسی پیکار اور کش مکش سے اقبال کے افکار اور محسوسات کا وہ شعلہ بھڑکا جسے ہم بیسویں صدی کی شاعری اور فکر کا اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔

اقبال فلسفہ سے شغف رکھتے تھے، لہٰذا ان کے یہاں اس عہد کے تمام فلسفیانہ افکار کی چھوٹ پڑتی ہے۔ وہ عقل و وجدان، شعور اور لا شعور زمان و مکان اور ماضی و حال کے حوالے سے مستقبل کے امکانات، ارادے کی خود مختاری، انسانی فکر کے ارتقا سے لے کر اس کی بقا کی جدو جہد تک پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے عالم اسلام کے جدید مفکرین اور اہل قلم میں ان کو ممتاز ترین اور منفرد مقام حاصل ہو گیا ہے، وہ ایک مجتہد کی حیثیت سے ایسے تصورات کو پیش کرتے ہیں۔ جنہیں ’’جدید مشرق‘‘ میں بہت کم اور مسلمانوں میں بالخصوص شاذ ہی کسی مفکر یا شاعر نے چھوا ہو، چنانچہ وہ اپنے بعض اہم خطبات اور خطوط اور بعض اہم مقالات کے ساتھ ساتھ، اپنے شعری سفر میں بھی مختلف ذہنی تغیرات اور رجحانات سے گزرتے ہوئے اور بالآخر قرآنی اور اسلامی فکر کے ساتھ اخلاص اور اختصاص کے باوجود، زندگی کے مسلسل متغیر ہونے، کائنات کی ہر لمحہ تبدیلی اور حرکت پذیر ہونے اور زمانے کے ایک تسلسل اور رشتے میں ماضی، حال اور مستقبل کی صورت میں پروئے ہوئے ہونے کے حوالے سے انسان کو ایک بسیط حقیقت میں جذب ہو جانے کا پیغام دیتے ہیں، جو ہماری دینی، روایتی اور روحانی فکر اور تعبیرات سے اکثر جگہ نہ صرف مختلف نظر آتی ہے بلکہ اس سے انحراف کرتی نظر آتی ہے جس میں اس عہد کے بین الاقوامی تصورات، فلسفوں اور بعض انقلابی محرکات کے تقاضے اور اثرات شامل ہیں جن کی مدد سے اقبال ایک نئے نظام کی نشان دہی کرتے ہوئے ہمارے شعور کا نقشہ ہی پلٹ دیتے ہیں۔

یہاں اقبال ایک مجتہد کے علاوہ ایک نئے متکلم اور ایک نئے مفکر اور اسلام کی ایک نئی تعبیر پیش کرنے والے فلسفی کی حیثیت میں ابھرتے ہیں۔ جس میں مغرب کے نئے علوم اور افکار اور سائنسی انکشافات سے ابھرنے والے سوالات کی تلاش اور ان پر غور و فکر بھی شامل ہے اور اسلام کو نئی اور جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کی ایک سعی بھی۔ ان کے یہاں سر سید اور حالی کے مغرب سے متاثر اور اس کے زیر اثر ذہنی عمل کی ایک نئی اور گہری معنویت بھی ہے۔ اور اکبر اور علماء کی اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے اور اصل پر قائم رہنے کا مضبوط موقف بھی۔ دراصل اقبال تک آتے آتے یہ دونوں رویے ان کے شعور میں جذب ہو کر ایک نئے اور وسیع نظام فکر کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس میں وہ اسلامی فکر کو نئے تقاضوں سے تعبیر کر کے اپنے عہد کا سب سے موثر اظہار بنا دیتے ہیں۔ اقبال کا یہ نظام فکر یقیناً ہمارے بنیادی دینی نظام کے عین مطابق نہیں ہے اور قرآن کی تعلیمات کے بہت سے عملی پہلوئوں کی مدد سے ایک انقلابی دعوت کا اہتمام کرنے کے باوجود اس کے بعض اصل اصولوں سے تجاوز بھی کرتا ہے۔ اس قسم کی تعبیرات اس عہد کا عمومی تقاضا تھیں جو کہیں علامہ مشرقی اور ابو الکلام آزاد کی تعبیرات میں نمایاں ہوتی ہیں اور کہیں ندوہ کے علماء اور مولانا مودودی کی فکر میں دوسری سمت بڑھتی نظر آتی ہیں۔ اقبال کی اسی فکر سے بعض ایسے تصورات بھی پیدا ہوتے ہیں جہاں قرآن کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے اور اس کو جدید تصورات میں ڈھالنے کی ’’مرعوب ذہنیت‘‘ سے کام لیا گیا ہے، ان اشاروں کی مدد سے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ فکرِ اقبال کے اس تمام تر اجتہاد اور جدید توجیہات کے نگارخانے میں جو روایتی فکر سے یکسر مختلف ہے صرف ایک نکتہ اور پہلو ایسا ہے جہاں اقبال خالص تقلیدی اور دینی جہت سے بولتے ہیں اور یہ نکتہ عشقِ رسولؐ اور یا محمد عربیؐ سے ان کا تعلق ہے۔ یہ اتنا حیرت انگیز عمل ہے کہ میں اس پر جتنا سوچتا جاتا ہوں، اقبال کی فکر کے بعض اہم گوشے مجھ پر واضح ہوتے جاتے ہیں۔ مثلاً اقبال کی نظم و نثر میں ایک واضح فرق بعض لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کرتا رہا ہے کہ مفکر اقبال نثر میں ایک جدید اور نئے عالمی شعور کا ترجمان لگتا ہے جو اسلام کو اس کی اصل سے زیادہ جدید تصورات کے مطابق پیش کرنے کا عمل کرتا ہے۔ جبکہ شاعر اقبال، اپنے کلام کی جدید اسپرٹ کے باوجود اسے اپنے دین سے اخلاص اور ایمان اور یقین کی صورت میں بیان کرتا ہے، جس میں خلوص کی گرمی بھی ہے اور رقت قلب کے ساتھ ایک مضطرب حدت بھی اور یہی شدت احساس کلام اقبال کو قرآن اور اسلام کے روایتی تعلق میں ڈھال دیتی ہے۔ اس عمل سے جو سوال ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ نظم و نثر کے یہ دونوں پہلو کیا فکر اقبال کے تضاد کو ظاہر نہیں کرتے؟ یا ’’خطبات‘‘ کے اقبال ’’اور شاعر اقبال، کے یہاں اس فرق کی توجیہہ کیسے ہو سکتی ہے؟ یا فکر اقبال یہ تقسیم کیسے ممکن ہوئی ہے؟ میں کسی حقیقت کی توجیہہ کو کبھی بھی مثبت عمل خیال کرنے کا عادی نہیں۔ یہ فرق اقبال کے یہاں یقیناً موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خطباتِ اقبال میں حضورؐ کی ذاتِ مبارک کو موضوع بنا کر یا کسی اور مقالے میں آپؐ کی شخصیت کی جہت سے کوئی مستقل تحریر ریکارڈ پر نہیں ہے البتہ کلامِ اقبال میں جگہ جگہ یہ نسبت موجود ہے۔ اگر نثر میں اقبال اس موضوع پر کچھ لکھتے تو شاید یہ صورت نہ ابھرتی۔

اس طرح بعض اہل قلم نے حضورِ یزداں اقبال کی شوخیِ فکر کو موضوع بنا کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہ رویہ مغربی فکر کے تناظر میں تو شوخی ہی رہتا ہے لیکن ہماری روایتی شاعری میں اس قسم کی مثال نہیں ملتی۔ جب کہ کلامِ اقبال میں ختمی مرتبتؐ کا ذکر جہاں بھی آیا ہے، با خدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار، کے روایتی رویے کے باوجود اپنی ایک ایسی ذاتی نسبت کو پیش کرتا ہے جو ہماری شاعری میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔ اقبال کا کلام عشقِ رسولؐ میں اتنا سرشار اور محتاط نظر آتا ہے جو کسی والہانہ جذبے سے بڑھ کر صرف کسی ’’پیکرِ محسوس‘‘ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے

کی محمدؐ سے وفا توُ نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرار بو لہبی

اور صرف یہی نہیں بلکہ اقبال اپنی خودی تک کو بالائے طاق رکھ کر جس ہستی کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں اور ایک عامی اور فریادی کی حیثیت میں سامنے آتے ہیں تو وہ بھی ’’حضرت یزداں‘‘ کی عدالت نہیں بلکہ حضورؐ کی عدالت ہوتی ہے

تو اے مولائے یثرتؐ آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری

اس راز کو اب فاش کر اے رُوحِ محمدؐ
آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے

’’پیکرِ محسوس‘‘ سے اتنی والہانہ نسبت کا راز اور رمز ایک تو اقبال کی ذات کی گہرائیوں میں وہاں پوشیدہ ہے جہاں اقبال ایک ’’سید زادے‘‘ کے حوالے سے اپنی نسبتِ نسل کی طرف ’’طنزیہ اشارہ‘‘ کرتے ہیں

میں اصل کا خاص سو مناتی
آبا میرے لاتی و مناتی
تُو سیّد ہاشمی کی اولاد
میری کفِ خاک برہمن زاد

’یہ کفِ خاکِ برہمن زاد‘ جو ’’پیکرِ محسوس‘‘ کے بغیر اپنے مادی وجود سے اٹھ کر کسی کائنات گیر حقیقت سے رشتہ قائم نہیں کر پاتی! اس کا دوسرا پہلو اقبال کی ذات میں ایسے چھپے ہوئے تقلیدی جوہر کی نشاندہی کرتا ہے جو اپنے تمام تر اجتہادی ذہن اور غیر تقلیدی رویہ کے باوجود، وہاں تقلیدی ہو جاتا ہے، جب اس کی ذات میں حضورؐ کی ذات گرامی سے ’’نسبتِ خاص‘‘ کا عمل پیدا ہوتا ہے۔ اور اُن کے باطن کی یہی ’جہت‘ اسلامی تہذیب کا اپنا اور دوسروں سے مختلف ورثہ رہا ہے۔ چنانچہ کلامِ اقبال میں اسلام اور قرآن سے اختصاص کا وسیلہ اور ذریعہ در اصل حضورؐ کی ذات سے مخصوص ہے اور یہیں اقبال کے کلام میں وہ شدت اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جو اُسے صرف اسلامی رُوح کا پیامبر بنا دیتا ہے جس سے ان کے خطبات خالی ہیں۔ چنانچہ جہاں جہاں اقبال خالص اسلامی اور روایتی دینی فکر سے اپنا رشتہ قائم کرتے ہیں اور اس میں تقلیدی رجحان جھلک اٹھتا ہے، وہ اکثر وہی مقامات ہوتے ہیں جہاں وہ نسبتِ محمدیؐ سے اپنا رشتہ قائم کرتے ہیں

وہ دانائے سُبل، ختم الرسل، مولائے کُل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادئ سِینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں وہی طٰحاٰ

یہ عشقِ رسولؐ ہی ہے جو کلامِ اقبال کا بنیادی سر چشمہ اور قوت ہے جس کی وجہ سے ہر وہ فرد جو حضورؐ سے نسبتِ خاص رکھتا ہے کلام اقبال کا بہترین استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کا سراغ ہمیں ’بانگِ درا‘ ہی سے ملنے لگتا ہے۔ اس دورِ اول میں بھی صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کی شخصیات کے موضوعات میں جو والہانہ عقیدت ملتی ہے وہ اقبال کی ذات کے اسی مخصوص پہلو کی دلالت کرتی ہے اور اُن کے کلام کی اولین تمثیلوں، استعاروں سے لے کر دورِ آخر کی علامتوں تک خواہ وہ ’’مرد مومن‘‘ ہو یا ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ سب نعتِ رسولؐ کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

عشق دمِ جبرئیل عشق دل مصطفیٰؐ
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام

تجھ سے ہوا آشکار بندئہ مومن کا راز
اس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گُداز

عشق کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ
حلقئہ آفاق میں گرمئی محفل ہے وہ

اقبال جب بھی کسی موضوع پر اس نسبت سے اصرار کرتے ہیں تو وہاں ان کا غیر تقلیدی رجحان، تقلیدی رویہ میں بدل جاتا ہے

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

کلامِ اقبال جس مسلسل یقین، جس ایمان اور ’’روح‘‘ قرآن سے بندھا ہوا ہے اس کی بنیاد ذاتِ ختمی مرتبتؐ پر قائم ہے۔ جیسے اقبال کو گمان ہو کہ اگر یہ رشتہ کم زور ہوا تو سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ اسی لیے ان کے کلام میں مستقبل پر یقین اور امید بھی اسی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔

سر شکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

کتابِ ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اقبال کا معجزہ —– سلیم احمد
(Visited 60 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: