ویساکھی: استقبال بہار ——– ڈاکٹر ساجد خاکوانی

0
  • 80
    Shares

سکھوں کا کیلنڈر ’’نانک شاہی‘‘ کیلنڈر ہے جو شمسی تقویم سے ملتا جلتا ہے۔ یہ کیلنڈر بابا گرو نانک، بانی سکھ مذہب، کی پیدائش والے سال 1469ء سے شروع ہوتا ہے اور حسب دیگر بارہ مہینوں پر مشتمل ہے۔

نانک شاہی تقویم کے مطابق ’’چیٹ‘‘ کے مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے اور دوسرے مہینے ’’ویساکھ‘‘ کی آمد سے دھان کی کٹائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس فصل کی کٹائی کا مطلب سال بھر کے رزق کی کامیاب فراہمی ہے۔ فصل کی کٹائی کے آغاز پر یعنی ویساکھ کی پہلی تاریخ سے پنجاب بھر ’’ویساکھی‘‘ کے میلوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔

سکھوں کے ہاں یہ میلہ ایک مذہبی رسم کی شکل میں منایا جاتا ہے جب کہ غیر سکھ پنجابی اس دن کو فصل کی کامیاب کٹائی اور موسم بہار کی آمد کے طور پر مناتے ہیں۔ فصل کی کامیاب کٹائی پر خدا کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور آئندہ سال کے لیے دعائیں و مناجات بھی کی جاتی ہیں۔ سکھ مذہب کے مطابق ان تاریخوں میں چونکہ خالصہ کا استحکام ہوا تھا چنانچہ یہ مذہبی و علاقائی تہوار سکھوں کے ہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

ہندو کاشتکاروں کے ہاں بھی ان تاریخوں میں فصل کی کامیاب کٹائی کے باعث ایک تہوار منایا جاتا ہے لیکن اس کے مختلف نام ہیں جیسے ’’پاہیلا بیشاک‘‘ یا ’’نابو بار شو‘‘ یا ’’بوہگ باہو‘‘ وغیرہ۔

گرو امرداس (1479-1574) سکھوں کے دس میں سے تیسرے گرو تھے جنہوں نے سکھ ملت کے لیے تین تہواروں کا انتخاب کیا۔ ’’مہاشیو راتری یا ماگھی‘‘، ’’دیوالی‘‘ اور ’’ویساکھی‘‘۔ یہ تینوں تہوار ہندؤں میں جاری تھے چنانچہ تیسرے گرو نے سکھوں کو بھی اجازت دے دی کہ وہ بھی ہندؤں کے ساتھ مل کر ان تہواروں کو مذہبی و ثقافتی طور پر منائیں گے۔ گرو امرداس ہندو تھے لیکن ان کی بہو ’’بی بی امرو‘‘ سکھوں کے دوسرے گرو، گرو انگد دیو کی بیٹی تھیں، جو سکھوں کی مقدس کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ کی تلاوت کر رہی تھیں۔ گرو امرداس اس کتاب کے مندرجات سے متاثر ہوئے اور سکھ مذہب اختیار کر لیا اور دوسرے گرو نے اپنی وفات سے پہلے انہیں بطور خلف رو گرو کے نامزد کر دیا۔ چنانچہ دوسرے گرو کی وفات کے بعد گرو امرداس نے بطور تیسرے گرو کے سکھ ملت کی امامت کی۔ گرو امرداس اس لحاظ سے بہت اہم گرو ہیں کہ انہوں نے سکھ ملت کو نئے مذہبی شعائر سے آشنا کیا، انہوں نے بچوں کے نام رکھنے کے آداب، نکاح اور جنازہ کے طریقے اور مذہبی تہوار متعارف کرائے۔ مذہبی تہوار منانے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے ’’گور دوارہ‘‘نامی عمارت کا تصور پیش کیا جو ایک مذہبی عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ سکھ تہواروں کے مواقع پر سکھوں کے اجتماعات کے لیے مرکزی مقامات کی حیثیت کی حامل ہیں۔ اسی لیے بیساکھی کا تہوار میں تب سے گوردوارہ کو مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ ان سے ایک کتاب بھی منسوب ہے جس میں ان کے اقوال درج ہیں۔ بیساکھی کا میلہ انہوں نے ہی سکھ مذہب میں داخل کیا۔

ویساکھی کا موقع ایک اور حوالے سے بھی سکھ مذہب میں تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دن سکھوں کے دسویں اور آخری گرو، گرو گوبند سنکھ (1666-1708) نے 1699ء میں آنند پور صاحب کے اندر ’’خالصہ پنتھ‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔ اس دن انہوں نے پہلے پانچ پیاروں کو ’’امرت پان‘‘ کر کے خالصہ بنایا۔ انہوں نے بھرے مجمعے میں پہلے ایک زبردست تقریر کی پھر ننگی تلوار دکھا کر اعلان کیا کہ کون مجھے اپنا سر دے گا، ایک سکھ ان کے خیمے میں چلا گیا، باقیوں کو محسوس ہوا کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے کیونکہ گرو خون آلود تلوار کے ساتھ باہر نکلے تھے۔ پھر دوسرا سکھ گیا، تب بھی لوگوں کو یہی محسوس ہوا، پھر تیسرا، چوتھا اور پانچواں گیا۔ گرو کی خون آلود تلوار کے باعث لوگوں نے سمجھا کہ سب قتل ہو چکے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد گرو گوبند سنگھ ان پانچوں کو کیسری رنگ کی پگڑی پہنا کر باہر لائے اور اعلان کیا کہ یہ میرے ’’پنج پیارے‘‘ ہیں۔ ان کے نام؛

1۔ دیا سنگھ: اس کا نام ’’دیارام‘‘ تھا جو کھتری نسل سے تعلق رکھتا تھا اور لاہور کا رہنے والا تھا، اس کا نام بعد میں ’’دیا سنگھ’‘ ہو گیا۔

2۔ دھرم سنگھ: یہ دھرم داس تھا جو سہارنپور کا رہائشی تھا جو بعد میں ’’دھرم سنگھ‘‘ کہلایا۔

3۔ ہمت سنگھ: ہمت چند نامی یہ سکھ ضلع پٹیالہ کا رہنے والا تھا جو بعد میں ’’ہمت سنگھ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا۔

4۔ محکم سنگھ: محکم چند چھنبا جو انبالہ کا باسی تھا اور بعد میں ’’محکم سنگھ‘‘ سے مشہور ہو گیا۔

5۔ صاحب سنگھ: صاحب چند جو ہوشیار پور کا ایک نائی تھا اور بعد میں ’’صاحب سنگھ‘‘ کہلایا جانے لگا۔

یہ پانچ افراد مختلف نسلوں اور پیشوں سے تعلق رکھتے تھے، گرو نے سب کو ایک کر کے یہ نسلی و علاقائی تفاخر مٹا دیا۔ اس موقع پر پہلی دفعہ سکھوں کے لیے ’’سنگھ‘‘ کا لاحقہ ایجاد ہوا، گرو نے پنج پیاروں کے نام کے ساتھ ’’سنگھ‘‘ کا اضافہ کیااور خود کے لیے بھی ’’گرو گوبند رائے‘‘ کی بجائے ’’گرو گوبند سنگھ‘‘ کہلائے۔ یہ ایک طرح سے سکھوں میں عسکریت کا آغاز تھا جس کا مقصد سکھ ملت کا اجتماعی دفاعی کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ ویساکھی کے تہوار کو خالصہ کے وجود کا یوم آغاز ہونا بھی میسر ہے۔ اسی موقع پر دسویں گرو نے سب سکھوں کے لیے ’’سنگھ‘‘ کا خطاب جاری کیا اور انہیں ایک ضابطہ اخلاق بھی مرحمت کیا جس کے مطابق سگریٹ، شراب اور زنا کی ممانعت کر دی گئی۔ اسی ویساکھی کے دن دسویں گرو، گرو گوبند سنکھ نے سکھوں کے لباس میں پانچ چیزیں داخل کیں جن کا تلفظ ’’ک‘‘ سے شروع ہوتا ہے:

1۔ کیس یعنی لمبے بال؛ سکھوں کے گرو اپنے جسم سے بال نہیں کاٹتے تھے، چنانچہ سکھ اپنے لمبے بالوں کو چھپانے کے لیے پگڑی پہنتے ہیں۔

2۔ کنگھا؛ لمبے بالوں کو الجھاؤ سے بچانے کے لیے سکھوں کے ہاں کنگھا رکھنا ایک مذہبی رسم ہے۔

3۔ کڑا جو کلائی میں پہنا جاتا ہے؛ اسٹیل یا کسی دھات کی بنی موٹی چوڑی جو قوت کے نشان کے طور پر کلائی پر چڑھائی جاتی ہے۔

4۔ کچھا، زیر جامہ؛ یہ گھٹنوں تک کی لمبائی کا زیر ناف پہناوا ہے جو چاک و چوبند اور چست و چالاک رہنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

5۔ کرپان یعنی خنجر؛ یہ چھوٹی سا تلوار نما ہتھیار ہے جو دفاع کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔

یہ پانچ ’’ک‘‘ سے شروع ہونے والے پانچ ککے کہلاتے ہیں جنہیں سکھ مذہب میں شعائر کا تقدس حاصل ہے۔ ان کی ابتدا بھی ویساکھی کے دن ہوئی۔ سکھ مذہب میں ان پانچ ’’ککوں‘‘ کی بہت پابندی کی جاتی ہے اور دنیا کے کسی خطے میں یا کسی پیشے سے وابسطہ ہوں سکھ مذہب کے لوگ اپنی ان مذہبی علامات کو ترک نہیں کرتے۔

اس دن کی ایک اور اہمیت غم و اندوہ سے بھرا ہو ’’جلیانوالہ باغ‘‘ کا خونین واقعہ بھی ہے۔ یہ 13 اپریل 1919ء کا دن تھا جب برطانوی سیکولر سامراج نے ہندوستانیوں کے جمہوری غصب کر کے تو کرفیو کے نام پر مارشل لاء نافذ کیا ہوا تھا۔ برطانوی احکامات کے مطابق چار سے زائد افراد کا ایک جگہ جمع ہونا منع تھا۔ امرتسر جو سکھوں کے لیے مقدس شہر کی حیثیت رکھتا ہے وہاں ویساکھی کے میلے میں گرد و نواح کے ہزاروں سکھ زائرین سالانہ میلے کے لیے حسب سابق جمع تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بدیسی سیکولر حکمرانوں نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ یہ خالصتاََ ایک مذہبی و سماجی و ثقافتی میلہ تھا جہاں قرب و جوار کی بستیوں اور چھوٹے شہروں سے آئے ہوئے سکھ یاتری اپنا تہوار منانے آئے تھے۔ انگریز حاکم جنرل ڈائر اپنی گورکھا فوج کے نوے سپاہیوں اور دو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ باغ کے پانچ دروازوں کا راستہ اتنا تنگ تھا کہ بکتر بند گاڑی کا اندر جانا ممکن نہ تھا۔

نوے میں سے چالیس گورکھا سپاہیوں کے پاس لمبی لمبی سنگینیں تھیں اور پچاس کے پاس تھری ناٹ تھری کی بھاری بھر کم بندوقیں تھیں۔ سہ پہر 5-30 بجے جب میلہ اپنے جوبن پر تھا تب ظالم انگریز جنرل نے اپنی گورکھار رسالے کو گولیاں چلانے کا حکم صادر کر دیا، دس منٹ تک بندوقیں آگ اگلتی رہیں یہاں تک کہ گولیاں ختم ہو گئیں تب اس خون کی ہولی نے تھمنے کا نام لیا۔ ماہرین کے مطابق تھری ناٹ تھری کی گولی ایک سے زائد جسم چھلنی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ہزاروں زائرین موقع پر ہلاک ہوئے اور زخمیوں کو بھی بوجہ کرفیو ہسپتال پہنچانے کی اجازت نہ دی گئی جس کے باعث رات گئے تک کئی زخمی بھی چل بسے۔ جمہوریت اور انسانیت کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں اس واقعے کے بعد اس طرح کے احکامات بھی سامنے آئے کہ جو ہندوستانی کسی انگریز سے ایک لاٹھی کے فاصلے تک آیا اسے سر عام کوڑے مارے جائیں گے اور ایک خاص سڑک پر سے گزرنے والے ہندوستانیوں کو حکم دیا گیا کہ وہاں سے ہاتھوں پاؤں کے بل چل کر گزریں گے اور ان سب پر مستزاد یہ کہ بہت سے برطانویوں نے اس قتل عام کے اصل مجرم جنرل ڈائرکو برطانیہ کا ہیرو قرار دیا۔

ویساکھی کا دن جب بھی آتا ہے تو میلے اور قتل عام۔ دونوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ بہر حال وقت بہت بڑا مرہم ہوتاہے جس سے دکھوں کے گھائل بھر جاتے ہیں۔ ایک صدی سے زائد گزر جانے کے بعد اب اگلی نسلوں کے رنگ ڈھنگ بدل چکے ہیں اور پنجاب بھر میں ویساکھی کا دن رنگ و نور کی برسات لیے طلوع ہوتا ہے۔ ’’گردواروں‘‘ جو سکھ مذہب کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں، انہیں خوب سجایا جاتا ہے، ان میں ’’کرتان کار‘‘ جو قوال ہوتے ہیں، وہ براجمان ہو جاتے ہیں۔ لوگ گردواروں میں آنے سے پہلے جھیلوں میں دریاؤں میں نہاتے ہیں۔ پھر سب لوگ مذہبی عبادت گاہوں میں جمع ہو جاتے ہیں جہاں کرتان کار موسیقی کے ساتھ گا کر انہیں پند و نصائح کرتے ہیں۔ یہ کرتان کار پہلے گلیوں میں چکر لگاتے ہیں، ان میں سے پانچ نے ’’پنج پیاروں‘‘ کا سا لباس پہنا ہوتا ہے، باقی سب ان کے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔ گلیوں میں ان کرتار ان کے پیچھے پیچھے باقی سکھ بھی جمع ہوتے رہتے ہیں اور مل کر گاتے بھی رہتے ہیں۔ بعض سکھوں کے ہاتھوں میں ان کی مقدس کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ بھی ہوتی ہے۔ بعض مقامات پر صرف کرتان کار گاتے ہیں اور باقی شرکاء سنتے ہیں جب کہ بعض مقامات پر سب مل کر گاتے ہیں، یعنی پہلے کرتان کار گاتے ہیں پھر انہیں کا گایا ہوا شرکاء بھی گا کر دہراتے ہیں اور بعض مقامات پر ایک حصہ سوال کے طور پر کرتان کار گاتے ہیں اور پھر جواب میں شرکاء بھی گا کر جواب دیتے ہیں جب کہ آلات موسیقی بھی اس دوران شرکاء کا ساتھ دیتے رہتے ہیں۔ اس موقع پر بہت سے سکھ ’’خالصہ‘‘ بن جاتے ہیں یعنی ایک مذہبی رسم کے بعد انہیں اخلاص عطا کر دیا جاتا ہے۔ معبد سے فراغت کے بعد باہم ملنے جلنے کا عمل شروع ہوتا ہے جو پورا دن جاری رہتا ہے۔

لوگ اکیلے اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دوسروں کے گھروں میں جاتے ہیں، طرح طرح کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور مہمانوں کی آمد پر سجا سجا کر ان کے سامنے چن دیے جاتے ہیں۔ پر تکلف کھانوں اور لذیز پکوانوں سے اس تہوار کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ گھروں میں بھی چھوٹے اور بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن میں کھانے پینے کے علاوہ موسیقی بھی شامل ہوتی ہے۔

’’آوت پاؤنی‘‘ یہ ایک اور سکھ مذہب کی رسم ہے جو بیساکھی کے موقع پر پوری کی جاتی ہے۔ اس رسم کے مطابق تمام کسان، مزدور، زمیندار اور کھیتوں میں کام کرنے والے اور والیاں کل افراد کھیتوں میں اور فصلوں میں جمع ہو جاتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ ’’آوت پاؤنی‘‘ پنجابی زبان کی اصطلاح ہے جس کا لفظی مطلب ہے کہ سب آجاؤ اور جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ ویساکھی کے موقع پر فصلوں کی کٹائی کے لیے مشینوں کے استعمال سے پہلے کل برادری، یار دوست، مہربان، محسن، پڑوسی، رشتہ دار اور وہ لوگ جو دور دراز علاقوں میں گئے ہوتے ہیں، وہ بھی جمع ہو جاتے ہیں اور مل کر فصل کی کٹائی کو تہوار کی حیثیت سے مناتے ہیں۔

اس موقع پر بڑے بڑے ڈھول لا کر بجائے جاتے ہیں اور ’’پنجابی ڈو ہڑے‘‘ گائے جاتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے دوران اور بعد از تکمیل اس رسم کے شرکاء ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں اور ’’لڈی‘‘ یا ’’بھنگڑا‘‘ ڈالتے ہیں جو اجتماعی رقص کی ایک علاقائی رسم ہے۔

’’لڈی‘‘ یا ’’بھنگڑا‘‘ سے مراد سب لوگ ایک دائرے کی شکل میں ڈھول کے گرد جمع ہو کر ناچتے رہتے ہیں اور دائرے میں چلتے بھی رہتے ہیں۔ ڈھول والا یا کوئی اور پنجابی شعر پڑھتا ہے تو سب لوگ اس شعر کا دوسرا مصرع مل کر دہراتے ہیں، پھر گانے والا اگلا شعر پڑھ دیتا ہے۔ اس موقع پر میزبانوں کی طرف سے روایتی کھانے پینے کا بھی انتظام ہوتا ہے جیسے گھی شکر، کڑھائی حلوہ، دودھ، دہی، لسی وغیرہ جو شرکاء کو وقتاََ فوقتاََ پیش کیا جاتا ہیں۔ اس ساری رسم میں خواتین بھی اپنے آپ کو ڈھانپتے ہوئے شرم و حیا کے لبادے میںجزوی طور پر شریک رہتی ہیں۔

اسلام کے بعد سکھ وہ واحد مذہب ہے جو شرک سے پاک ہے۔ سکھ اپنے خدا کو اسی شرائط کے ساتھ مانتے ہیں جو سورہ اخلاص میں قرآن کے اندر وارد ہوئی ہیں۔ صدیوں تک ہندوؤںکے درمیان رہنے کے باوجود اس مذہب میں بت پرستی داخل نہیں ہو سکی اور پتھروں کے سامنے رام رام جپنے والے سکھوں کو شرک نہیں سکھا سکے۔ سکھ اپنے مذہب کے پکے لوگ ہیں اور مسلمانوں کے لیے ان کے ہاں بہت کچھ نرم گوشہ موجود ہے۔ قومیں قوموں کو معاف نہیں کرتیں کے مصداق تقسیم ہند کے وقت مسلمان قافلوں کے راستے میں مشرقی پنجاب ایک جغرافیائی مجبوری تھی لیکن سکھوں نے ان مہاجروں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ اگرچہ سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی سے صرف برہمن نے فائدہ اٹھایا لیکن اگست 1947ء کی خون آشام راتیں، لٹے پھٹے قافلے اور لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں تاریخ کے وہ اندوہناک اسباق ہیں جو پاکستان کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ سکھوں کے کرپان کس طرح مسلمانوں کے سینوں میں پیوست ہوئے اور مشرقی پنجاب میں عصمت اسلام کس طرح تار تار ہوئی، کربناک لمحات سینہ بہ سینہ آج بھی ازبر ہیں۔ ظلم و ستم کی ناقابل فراموش داستانیں سکھ ملت پر لہولہو رلانے کا قرض ہیں۔ جس برہمن کی آشیر باد کے لیے سکھ مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹے اسی سود خور نے 1984ء میں سکھوں کی گولڈن ٹیمپل جیسی مقدس عبادت گاہ کو خون میں نہلا کر اور ناپاک فوجی بوٹوں تلے روند کر سکھوں پر ایک اور بھاری قرض چڑھا دیا۔ تاریخ کا دھارا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، کہیں نہ کہیں اس قرض کو چکانا ہے کہ قومیں قومیں کبھی معاف نہیں کرتیں خواہ نسلیں اور صدیاں ہی بیت جائیں۔

(Visited 142 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: