جب احمد فراز پاک ٹی ہائوس تشریف لائے ——- اعجاز الحق اعجاز

0
  • 24
    Shares

یہ27 فروری 2000 کی ایک سہانی شام کی بات ہے جب احمد فراز حلقہ ارباب ذوق کی دعوت پہ اس کے اجلاس کی صدارت کے لیے پاک ٹی ہائوس تشریف لائے تھے۔ اس وقت حلقے کے جنرل سیکرٹری حسین مجروح اور جوائنٹ سیکرٹری عامر فراز تھے جو اب جنرل سیکرٹری منتخب ہو چکے ہیں۔ جب میں پاک ٹی ہائوس کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا تو اتفاق سے اسی وقت جناب احمد فراز بھی گاڑی سے اتر کر اپنے ایک دوست کے ہمراہ دروازے کی طرف خراماں خراماں چلے آ رہے تھے۔ میں انھیں دیکھ کر رک گیا۔ آگے بڑھ کر سلام کیا تو مسکرا کر جواب دیا۔ میںنے اپنا تعارف کرایا تو شناسائی کا اظہار کیا۔ ان سے اس سے پہلے بھی دو تین تفصیلی ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور کچھ خطوط کا تبادلہ بھی۔ میں جن شعرا سے ملا تھا اور جن کو سراپا شاعری میں ڈھلا ہوا پایا ان میں احمد فراز سر فہرست تھے۔ ان کا تکلم، تبسم، لب و لہجہ، نشت و برخاست کا انداز، حرکات و سکنات سب کچھ شاعرانہ تھا۔ ان کی تمام شخصیت ایک خوئے دلنوازی میں ڈھلی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری اور ان کے شعر پڑھنے کے انداز میں ایک کامل ہم آہنگی اور وحدت تھی۔ یہ وصف بہت کم شعرا کے ہاں پایا جاتا ہے۔

خیر، میں احمد فراز کے ہمراہ پاک ٹی ہائو س کے اندر داخل ہوا۔ آج معمول سے کچھ زیادہ رش تھا۔ ایک طرف انیس ناگی صاحب بہترین تراش کے سوٹ میں ملبوس تشریف فرما تھے۔ ان کی آنکھیں آج بھی پہروں کثرت مطالعہ کی وجہ سے کچھ متورم تھیں۔ ایک جانب ممتاز افسانہ نگار مرزا حامد بیگ بھی محفل آرا تھے۔ ایک کونے میں فرحت عباس شاہ بھی اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تنقید کی دھار تیز کر رہے تھے تا کہ کسی بھی پڑھی جانے والی شے پہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پل پڑیں۔ محمود گیلانی جیسی انگریزی ادب پہ دسترس رکھنے والی شخصیت بھی اپنی پوری متانت کے ساتھ موجود پائی گئی۔ رشید مصباح آج بھی سگریٹ پہ سگریٹ سلگا کر دھویں کے مرغولے چھوڑ رہے تھے تاکہ باقی احباب کو کھانسنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حسین مجروح دروازے میں کھڑے اندرونی اور بیرونی انتظامات پہ نظر رکھے ہوئے تھے۔ حلقے کا ایسا جذبے سے کام کرنے والا اور ایسا متحرک سیکرٹری کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ احمد فراز صاحب کرسی صدارت پہ براجمان ہوگئے تو حلقے کے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ عامر فراز نے حلقے کی روایت کے مطابق سب سے پہلے حلقے کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ اس کے بعد فیض صاحب کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے مصوری کی تاریخ پہ ایک شاندار مضمون پڑھا۔ آج پتہ چلا کہ سلیمہ ہاشمی لفظوں کی مصوری بھی جانتی ہیں۔ اس کے بعد کراچی سے تشریف لائے پیر زادہ قاسم نے ایک افسانہ پڑھ کر سنایا۔ یہ افسانہ کم اور مضمون زیادہ تھا جس میں اکادمی ادبیات کی اندرونی سیاست اور کارکردگی کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ اس افسانے پہ کافی لے دے ہوئی اور وہاں موجود نامی گرامی نقادوں نے اسے افسانہ ماننے سے سرے سے انکار کر دیا البتہ اکادمی ادبیات پہ چوٹوں سے وہ خوش تھے۔ فراز صاحب بھی زیر ِ لب مسکراتے رہے۔ پھر فراز صاحب کی باری آئی اور انھوں نے اپنا کلام سنا سنا کر محفل پہ ایک سحر طاری کر دیا۔

اس میں دوسری رائے نہیں کہ یہ صدی اقبال کی صدی ہے اور ابھی دور دور تک اس مقام و مرتبے کے شاعر کے پیدا ہونے کی امید نہیں۔ احمد فراز

آخر میں چائے کا دور چلا تو میں اپنا کپ لے کر احمد فراز صاحب کے پاس چلا آیا اور ان سے گپ شپ ہونے لگی۔ دوران گفتگو میں نے اقبال کے بارے میں کچھ ترقی پسندوں کے رویے کے متعلق بات کی تو کہنے لگے کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ بڑے بڑے ترقی پسند اقبال کے کس قدرمداح رہے ہیں۔ فیض صاحب کو لے لیجیے، علی سردار جعفری کو دیکھ لیجیے یا سید احتشام حسین کو پڑھ لیجیے، سب اقبال کے فن کے بہت زیادہ معترف ہیں، اس میں دوسری رائے نہیں کہ یہ صدی اقبال کی صدی ہے اور ابھی دور دور تک اس مقام و مرتبے کے شاعر کے پیدا ہونے کی امید نہیں، مگراقبال سب سے بڑھ کر انسانیت کا شاعر ہے، وہ انسان کے دکھوں کی بات کرتا ہے، اس کی ترقی کا آرزومند ہے، آپ نے میری نظم تو پڑھی ہو گی جو میں نے پیمبر مشرق کے نام سے اقبال پر لکھی تھی، اس نظم کا موضوع بھی یہی ہے کہ اقبال انسانیت کے رستے ہوئے ناسوروں کی بات کرتا ہے، ہمیں اقبال کی شاعری کے اس پہلو پہ بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پھر کچھ اور موضوعات پہ گفتگو ہونے لگی اور بالآخر یہ خوبصورت محفل برخاست ہوئی۔

(Visited 79 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: