ہندو لڑکیاں اور مسلمان بچے ——– محمد احمد

0
  • 14
    Shares

نوٹ: اس تحریر کے مخاطب صرف مسلمان ہیں۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسی بات ہے اگر کوئی بچہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہو گا تو اُس کے ماں باپ اُسے مسلمان ہی بنائیں گے۔ آپ کا خیال بالکل درست ہے اور ایک اسلامی معاشرے میں اس بات کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے کہ بچوں کو مسلمان بنانے کی باقاعدہ نصیحت کی جائے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ کبھی کبھی انسان ناگفتنی کہنے پر مجبور ہو ہی جاتا ہے۔

اس تحریر کا پس منظر یہ ہے کہ آج کل کچھ الحاد پرست لوگ اس بات کا پرچار کر رہے ہیں کہ دین انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور ایک بچے کا ماں باپ کا دین اختیار کرنا جبر ہے اور ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو اٹھارہ سال کی عمر (بلوغت کی سرکاری عمر) ہونے تک کسی دین کو اختیار کرنے پر مجبور نہ کریں اور وہ بچہ بالغ ہو کر اپنے لئے دین و مذہب اختیار کرنے میں خود مختار ہو۔

بظاہر یہ بات واقعی بہت اچھی لگتی ہے کہ اگر دین و مذہب میں عقیدہ سوچا سمجھا نہ ہو اور محض اندھی تقلید ہی ہو تو پھر ایسے عقیدے کی اہمیت ہی کیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اٹھارہ سال کی عمر تک بچوں کو بے دین رکھنا درست ہے؟ کیا تاریخ اسلام میں بچوں کے اسلام قبول کرنے کی شہادت نہیں ملتی؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بچے کو اس بات سے روکا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اسلام قبول نہ کرے؟

حال ہی میں دو ہندو لڑکیوں نے مبینہ طور پر دو مسلمان لڑکوں سے گھر سے فرار ہو کر شادی کی اور اُس شادی کے لئے اسلام قبول کیا۔ سچی بات تو یہی ہے کہ وہ گھر سے فرار ہو کر اپنے ماں باپ کے لئے تکلیف و رُسوائی کا باعث بنیں۔ اور یہ کہ بظاہر اُن کا قبولِ اسلام کا محرک بھی شادی کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا تھا۔ بہر کیف عدالتِ عالیہ نے بعد ازاں اُن کا تبدیلی مذہب کا حق تسلیم کیا اور نئے جوڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت بھی دے دی۔

تا ہم اس دوران ہمارے لبرل ہم وطن جو دن رات عورت کی آزادی کی بات کرتے ہیں اس معاملے میں سیخ پا نظر آئے۔ دراصل اُن کے نزدیک عورتوں کی آزادی وہ ہے جو عورت کو دائرہِ اسلام سے نکالے اور عورت کی ایسی آزادی جو اُسے دائرہِ اسلام میں داخل کرے، انہیں گوارا نہیں ہے۔

بہر کیف اس معاملے کو موضوع بنا کر ایک صاحب نے معاصر ویب سائٹ پر ایک تحریر لکھی ہے جس میں اصل موضوع (ہندو لڑکیوں کی شادی اور قبول اسلام) کو آلہء کار بنا کر،اُنہوں نے ڈھکے چھپے انداز میں بچوں کے کسی بھی مذہب (زیر بحث اسلام ہے) کو قبول کرنے کو ایک جبر قرار دیا ہے اور اپنے الحادی عقائد کے پرچار سے سادہ لوح لوگوں کو بہکانے کا پورا پورا بندوبست کیا ہے۔

مکمل تحریر تو متعلقہ سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہے ۔ یہاں ہم اُن کی وہ باتیں نقل کریں گے جو ہمارے موضوع سے متعلق ہیں اور ایک عام مسلم کی حیثیت سے اُن کی باتوں کا حسب توفیق جواب بھی دینے کی کوشش کریں گے۔

پہلا اقتباس:
امی اور ابو روایتی مسلمان تھے بلکہ کسی حد تک سخت گیر بھی مگر تنگ نظر نہیں تھے۔ گھر میں قرآن کے ساتھ اناجیل اربعہ اور مہا بھارت کے تراجم بھی موجود تھے۔ بچپن میں جو پہلی باقاعدہ مذہبی کتاب میرے ہاتھ میں تھمائی گئی وہ مولانا مودودی کی تفہیم القرآن تھی پر اس کے بعد ابو کی لائبریری کے دروازے بغیر کسی خاص ہدایت کے مجھ پر وا کر دیے گئے۔ یہ قصہ کہیں لکھ چکا ہوں کہ کیسے اس چھوٹی سی عمر میں یہ خیال ذہن میں جگہ بنا لینے میں کامیاب ہو گیا کہ مذہب ایک اختیار ہے، جبر نہیں اور والدین نے بھی اس خیال کی توثیق کر دی۔ پر بہت جلد یہ سمجھ میں آ گیا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کون سا راستہ چننا ہے، سہل نہیں ہے۔ جتنا پڑھتا گیا، لگتا کہ کم ہے۔ الجھنیں بڑھتی چلی گئیں۔ اسی کشمکش میں عمر کے اٹھارہ سال گزر گئے۔

اب روایتی مسلمان سے ان کی نہ جانے کیا مراد ہے ۔ اصولاً تو مسلمان چونکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا عہد کر چکے ہوتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور طریقے پر اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے طریقے پر کرتے ہیں۔ اُنہیں اللہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روشناس کراتے ہیں۔ اُن کو تاریخِ اسلام سے ایسے واقعات سناتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا ہوا۔

پھر اسلام کہتا ہے کہ سات سال کی عمر میں بچوں کو نماز پڑھنے کی عادت ڈالو اور دس سال کی عمر ہو جانے پر ان کے ساتھ سختی کرو ۔ یعنی تاکید سے نماز پڑھوائی جائے۔

مصنف موصوف لکھتے ہیں کہ اُن کے والدین سخت گیر تھے لیکن تنگ نظر نہیں تھے۔ سیاق و سباق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیاوی معاملات میں تو سختی کیا کرتے تھے لیکن دین و مذہب کو بچوں پر ‘مسلط کرنے کو تنگ نظری خیال کرتے تھے۔ اگر وہ واقعی اسے تنگ نظری خیال کرتے تھے تو پھر اُنہیں بھی اپنے ایمان کی خبر لینے کی ضرورت تھی۔

رہی بات یہ کہ مذہب ایک اختیار ہے اور جبر نہیں ہے۔ تو یہ بات ٹھیک ہے کہ اسلام میں جبر نہیں ہے۔ یعنی ہر شخص عاقل بالغ ہونے پر اپنے مذہب کو اپنے اوپر پیش کر سکتا ہے اور اُس کی بابت پورے یقین سے فیصلہ کر سکتا ہے ۔ اگر اسلام ایسا ہی بودا مذہب ہوتا تو قران جگہ جگہ پر غور و فکر اور تفکر و تدبر کی دعوت نہ دیتا۔

لیکن بچے کو بالغ ہونے تک بے دین رکھنا اُس کی تربیت کے سُنہرے سالوں کو برباد کرنے کے مترادف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی خلاف ورزی بھی ہے۔ ہاں اگر ماں باپ کا اپنا ایمان ہی متزلزل ہو تو یہ الگ بات ہے۔

دوسرا اقتباس:
سرکاری بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد یہ بھی لازم تھا کہ شناختی کارڈ بنوایا جائے۔ سو متعلقہ دفتر پہنچا۔ شناختی کارڈ کے فارم لیے، تصاویر وغیرہ اور باقی لوازمات کی کاپیاں پہلے ہی اکٹھی کر رکھی تھیں۔ اب فارم بھرنا تھا۔ پہلے ہی صفحے پر ایک خانہ مذہب کا تھا۔ وہاں پہنچا تو ٹھٹک گیا۔ کیا لکھا جائے؟ ابھی تو فیصلہ ہوا ہی نہیں تھا۔ لیکن قواعد کی رو سے کوئی خانہ خالی نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔ بہت سوچنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ نمازیں تو پڑھتے ہی ہیں اور روزے بھی رکھ لیتے ہیں کہ ابھی تک اس دین کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بنا تھا جو ایک رسم اور روایت کی طرح پیدائش سے میرا حصہ بن گیا تھا اس لیے مسلم لکھنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ پیدائش کا جبر ہے، میرا اختیار نہیں تاکہ اگر کبھی اختیار کی جوت جاگے تو حوالہ موجود ہو۔ فارم انگریزی میں تھا۔ خوشخطی کے ساتھ خانے میں لکھا ”مسلم بائی برتھ“ باقی خانے بھرنا آسان تھا۔ دستخط کیے۔ فارم جمع کروایا اور گھر چلا آیا۔[

سمجھ نہیں آیا کہ مسلمان ہونا اس قدر باعثِ شرم کیسے ہو گیا وہ بھی تب کہ جب آپ نماز روزے بھی بھگتا رہے تھے ۔ اگر آپ مسلم بائے برتھ ہی تھے تو کیا ایمان لائے بغیر ہی نماز روزے رکھنا شروع کر دیے تھے۔ اور کیا کسی نے آپ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ نماز روزے بغیر ایمان کے کسی کام کے نہیں ہوتے۔

رہی بات “اختیار کی جوت” کی تو لوگ تو آخری عمر میں اپنا دین و مذہب تبدیل کر لیتے ہیں تو کیا اُس سے پہلے اُن کا باقی زندگی بے دین رہنا ضروری ہے ۔ یا زندگی کے کسی بھی مقام پر اپنے عقائد کو دلائل و براہین کی بنیاد پر پرکھنا اور کوئی فیصلہ کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ماں باپ کا دین اختیار ہی نہیں کیا جائے۔

تیسرا اقتباس:
مقررہ مدت کے بعد شناختی کارڈ وصول کرنے دفتر پہنچا تو کھڑکی پر بیٹھے کلرک نے بجائے کارڈ کے میرا فارم مجھے واپس کر دیا۔

”فارم مسترد ہو گیا ہے“ بابو نے پان چباتے ہوئے مجھے اطلاع کی۔
پوچھنے پر صاحب نے مذہب کے خانے پر لگا سرخ دائرہ مجھے دکھایا۔

”اس میں کیا مسئلہ ہے“ میں نے کچھ سمجھتے، کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی پوچھنا مناسب سمجھا
”اؤ بھائی، مسلمان ہو تو مسلم لکھو۔ مسلمان نہیں ہو تو نان مسلم لکھو۔ یہ بائی برتھ کیا ہوتا ہے“

میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ پیدائش کے جبر کا فلسفہ بیان کر سکوں پر کلرک سننے میں چنداں دلچسپی نہیں رکھتا تھا اور میرے پیچھے قطار بھی لمبی تھی۔ تھوڑی دیر کی بک بک چخ چخ کے بعد مجھے بتا دیا گیا کہ مسلم اور نان مسلم کے علاوہ کوئی تیسرا انتخاب ممکن نہیں۔ اور لامذہب ہونا تو بالکل ہی ممکن نہیں۔ دل تو کیا کہ شناختی کارڈ پر ہی لعنت بھیج دوں لیکن شناختی کارڈ کے بغیر لائسنس نہ بنتا اور لائسنس کے بغیر ابو موٹر سائیکل مجھے دینے سے انکاری تھی۔ تھوڑی دیر میں موٹر سائیکل چلانے کی سرخوشی میرے فلسفہ حیات پر غالب آ گئی۔ دوسرا فارم لیا۔ مذہب کے خانے میں مسلم لکھا اور اگلے ہی دن فارم کی تصدیق کروا کے دوبارہ جمع کروا دیا۔ کچھ دن میں شناختی کارڈ بن کر آ گیا اور پیدائش کے جبر کے بعد سرکار کے جبر کی وجہ سے مردم شماری میں ایک اور مسلمان کا اضافہ ہو گیا۔

یہ اقتباس صرف اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ واقعات کا تسلسل برقرار رہے۔

چوتھا اقتباس:
آٹھ دس سال کی عمر سے مذہبی فکر کا باقاعدہ مطالعہ شروع ہوا تھا۔ شروع میں ہلکی پھلکی کتابیں پڑھیں۔ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچتے تقابل ادیان پر بہت سا بھاری بھرکم فلسفہ بھی ہضم کیا پر سرکار نے جس دن میرے لیے مذہب کے انتخاب کے فیصلے کا دن چنا تو دس سال کے مطالعے کے بعد بھی میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھا۔

یعنی اٹھارہ کے بعد دس سال مزید گزر گئے اور جناب باوجود مذہبی فکر کے مطالعے کے تذبذب اور تشکیک کا شکار ہی رہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جو شخص اٹھارہ سال تک لادینیت کی کیفیت میں رہا تو اُس کا پھر اس طرز پر ڈھل جانا بعید از قیاس نہیں تھا۔

بظاہر تو اُن کے ماں باپ نے اُن پر اپنے دین کو ‘مسلط ‘ نہیں کیا لیکن اس کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ۔ اور وہ نادانستگی میں اِلحاد کو اپنے بچے کا دین بنا بیٹھے اور آج وہ روایتی مسلمانوں کا لختِ جگر اِلحاد کا پرچار کر ر ہا ہے ۔ کیا وہ غیر جانبدار رہ سکا ۔ ہرگز نہیں۔ آسمان سے گرنے والا کھجور میں اٹک گیا، اور نہ جانے کب تک وہیں اٹکا رہے۔

کہنے کو تو اس بارے میں بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں لیکن بات کو مختصر کرتے ہوئے میں تمام مسلمانوں سے (کہ جو اپنے دین پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اللہ کو اپنا رب اور محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی و رہبر سمجھتے ہیں) درخواست کروں گا کہ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کی جائے اور اُنہیں یکساں طور پر دینی اور دُنیاوی علوم سے روشناس کروایا جائے کہ اللہ رب العزت قرانِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں ۔ سورۃ التحریم، آیت نمبر 6۔

ایسی صورت میں بچوں کو دین مبین سے بے بہرہ رکھنا کسی بھی طرح عقلمندی کی بات نہیں ہے۔ اور دانشمندی یہی ہے کہ بچوں کی تربیت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطابق کی جائے۔

اس سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بچوں کو جامد عقائد پر اڑ جانا سکھایا جائے بلکہ اُنہیں دلائل و براہین کی بنیاد پر کسی بات کو رد یا قبول کرنے کا طریق سکھایا جائے۔ اور اُنہیں یہ بات اچھی طرح باور کروائی جائے کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ وہ عاقل ہونے کے بعد ہر ہر عقیدے کو بارہا اپنے اوپر پیش کر سکتے ہیں اور اپنا فیصلہ آزادی سے کر سکتے ہیں۔ تاہم اُنہیں تفکر و تدبر اور اللہ سے ہدایت طلب کرتے رہنے کا عادی ضرور بنانا چاہیے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: