بھٹو : بھارت کا خیرخواہ دشمن —– ڈاکٹر غلام شبیر

0
  • 193
    Shares

ذوالفقارعلی بھٹو کا عالمی سیاست پردرک و کمال عالمی تہذیبوں کے گہرے مطالعے اور تاریخی شعورکی دین تھا۔ وہ جب تاریخ وتہذیب کو ابن خلدون، شپنگلراورٹوائن بی کی نگاہ سے دیکھتے تو عالمی سیاست کے حقائق و واقعات ان کے سامنے کسی کہنہ مشق مداری کے ہاتھ پراچھلتی گیندوں کی طرح نمودارہوتے، جنہیں ہینڈل کرنا، رخ دینا، یا تعبیر دینا اوراپنے قومی وملی مفادات سے ہم آہنگ کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، یہی وجہ ہے کہ جب بھٹوصاحب کے ‘جینئس’ سے متاثرہو کر جان ایف کینیڈی نے کہا کہ اگرآپ امریکی ہوتے تو میں تمہیں اپنی کابینہ میں لے لیتا، تو اس نابغہ روزگارنے کہا اگرمیں امریکی ہوتا تو جان ایف کینیڈی بھٹو کی کابینہ میں ہوتے۔ ہم نے چاہا کہ اپنے قارئین کے ساتھ پاک بھارت کشمکش، بھٹو صاحب کے وژن کی روشنی میں شیئرکریں۔

بھٹوصاحب کے دل ودماغ میں قائد اعظم کا نظریہ پاکستان گہرائی اورگیرائی کیساتھ پیوست تھا، چونکہ اقبال مصوراور قائد اعظم معمار پاکستان ہیں تو اس ناطے بھٹو صاحب کو فکراقبال کا نقیب بھی کہا جاسکتا ہے۔ اپنی کتاب “Myth of Independence” کے اٹھارہویں باب میں لکھتے ہیں

” پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات ناروے اورسویڈن کی مانند ہونے چاہئے تھے، جوعلیحدہ تو ہوئے مگر گہرے وصل کیلئے۔ ۔ ۔ ہندوئوں کی ہزارسالہ اورمسلمانوں کی ڈیڑھ سو سالہ غلامی کے مشترکہ تجربے نے اہلیان برصغیر کے ذہنی افق کو ایسا پراگندہ کیا ہے کہ ماضی کا طوق اتارپھینکنے اورآزاد قوموں کی حیثیت سے اپنے وجودکی تلاش میں وقت لگے گا”

یہی اندازفکرمصورپاکستان کا تھا، بابائے قوم کا تھا۔ علامہ صاحب سمجھتے تھے کہ چونکہ اسلام نے تیس سال تک جس روحانی جمہوریت کی تخم ریزی کی تھی، ملوکیت کی نظر ہوگئی اوراسلام کے بہت سے رہنما اصول شرمندہ تعبیر ہونے سے رہ گئے۔ آج برصغیرمیں الگ مسلم ریاست سے جہاں اسلام کواپنی تلاش کا سفرختم کرنے کا موقع ملے گا وہاں ہندوستان کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی، یہی سودا بانی پاکستان کے سرمیں سمایا ہواتھا۔ ان کے مطابق پاک بھارت تعلقات امریکا اورکینیڈا کی مانند اچھے پڑوسیوں جیسے ہوں گے۔ بھٹوصاحب لکھتے ہیں “پاکستان انسانی مساوات اوراسلامی تصورانصاف کے فلسفے پربنا، لہٰذا اپنے کلیدی پڑوسی (بھارت) کیلئے حریفانہ جذبوں کی پرداخت اس کے اپنے جوہرکے خلاف ہے”۔ بانی پاکستان نے تو ممبئی والا گھرنہیں بیچا تھا، اس زیرک ودانا بیرسٹراورمحتاط انوسٹرنے سترہ سال تو صرف انگلینڈ سے کمایا تھا اورکراچی ہاکس بے اورلاہورکی معمولی جائیداد کے برعکس کہیں زیادہ پراپرٹی بھارت میں خریدی تھی۔ اس لیے کہ وہ پاک بھارت جدائی کو گہرے وصل کا پیش خیمہ سمجھتے تھے۔

بھٹو اقبال اورجناح کی طرح تقسیم کو ناگزیر سمجھتے تھے۔

“اگربرطانیہ متحدہ ہندوستان چھوڑکربھاگ جاتا توآج برصغیرمیں چاریا پانچ قومی ریاستیں ہوتیں۔ برطانیہ کو متحدہ بھارت یا دوریاستوں میں منقسم بھارت چھوڑنے کا انتخاب درکارنہیں تھا، بلکہ چوائس یہ تھی کہ پاک بھارت دوریاستوں میں منقسم ہندوستان چھوڑاجائے یا پھرایک ایسا متحدہ ہندوستان جسے وقت کی بے رحم موجیں چاریا پانچ ریاستوں میں پھاڑکررکھ دیں۔ تخلیق پاکستان نے انڈین نیشنلزم کو استوارکیا ہے۔ آج بھارتی عوام میں پاکستانی تعصب ختم ہوجائے تو کثیرالقومی بھارت کا وجود خطرے میں پڑجائے، اگرکمیونسٹ خطرے کوٹالنے کیلئے سامراج متحدہ ہندوستان چھوڑنے کی غلطی کرتا تو اس کے چیتھڑے سنبھالنا مشکل ہوجاتے”

بھٹوصاحب جان برائٹ کا حوالہ دیتے ہیں جواٹھارہ سوستاون میں جنگ آزادی کے ہنگام برطانوی دارالعوام میں کہہ رہا تھاـ “برطانیہ کب تک ہندوستان پرحکومت چاہتا ہے؟ 50سال، 100یا پانچ سوسال تک؟ رائی برابرادراک رکھنے والا بھی جانتاہے بیس قومیتوں پرمشتمل اس عظیم ملک کو زیادہ دیرتک باجگزارنہیں بنایا جاسکتا”۔ بھٹولکھتے ہیں ہندومسلم اتحادکی مغل کوششیں ناکام ہوئیں، تاریخ میں دودفعہ ہندئوں اورمسلمانوں نے آزادی کی مشترکہ جدوجہد کی (ستاون کی جنگ آزادی اور کانگریس کی تحریک آزادی)، مگرجب تحریک فیصلہ کن موڑ (Critical mass) پرپہنچی تو ہندومسلم اتحاد” خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جوسنا افسانہ تھا”۔ ہندو مہاسبھا ہو یا آرایس ایس ہندو احیاء کی ہرتحریک نے مسلمانوں کو اپنے اندرجذب کرنے کی کوشش کی۔ کیمبرج کا تعلیم یافتہ نہروکہتا تھا یہ مسلم کلچرکیا چیزہے؟ عرب کلچریا آریائی ایرانی کلچر؟ مجھے تو یہ برصغیرکا کوئی الگ کلچرنہیں دکھتا سوائے یہ کہ ہندودھوتی باندھتے ہیں اورمسلم پاجامہ اورٹوپی استعمال کرتے ہیں۔ گاندھی کا اندازذراگہرا اورتیکھا تھا وہ مسلمانوں کو “بلڈ برادرز” کہہ کرایک قومیت کے پرچارک بن رہے تھے۔ بھٹوصاحب سمجھتے تھے کہ جب برطانیہ سے بھارت کو متحدرکھنے کی نہ بن سکی تو اس نے مسلمانوں سے بدلہ لیا، تقسیم کے فارمولے کوہی ادھیڑڈالا، گورداس پور، فیروزپور، پٹھان کوٹ اورامرتسردبوچ کربھارت کو کشمیرکیلئے کوریڈورفراہم کرکے اسے نہ صرف پاکستان کے سرپربٹھا دیا بلکہ چین اورروس کے ساتھ اس کے بارڈرکوملا دیا، ادھرمشرقی بھارت میں آسام کے راستے بھارت کونیپال، سقم اوربھوٹان تک کوریڈورفراہم کیا۔

کشمیرجسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ قراردیا بھٹواسے پاکستان کے جسم پرخوبصورت سرقراردیتے ہیں۔ جس پربھارتی قبضے نے مغربی پاکستان کا دفاع کمزوربنا رکھا ہے۔ اندراگاندھی نے تواکہترکی جنگ میں مشرقی پاکستان توڑ کردوقومی نظریے کو بحرہند میں پھینکنے کا اعلان کیا تھا، بھٹو کے نزدیک بھارت نے جموں کشمیرپرقبضہ کرکے دوقومی نظریے کوبے توقیرکردیا تھا، کشمیرپربھارتی قبضہ اس بنیادی اصول کی پامالی ہے جس کی بنیاد پرپاکستان بنا تھا۔ بھٹوصاحب کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ہم تین چارگنا بڑے ہندوستان سے سمجھوتہ کریں، ہم نے کٹا پھٹا اورکرم خوردہ پاکستان قبول کرکے کیا پایا؟ کشمیرپرسمجھوتہ کرکے ہم بھارت کی اشتہاء کو تسکین نہیں پہنچا سکتے، یہ ہماری قسط وارموت کا سندیسہ ہوگا، بھارت سمجھتاہے کہ پاکستان بھارت کا بڑا بیٹا ہے یہ واپس آگیا تو پھربھوٹان، سری لنکا، نیپال وغیرہ کی باری ہوگی۔ گاندھی نے طورخم بارڈر پرکھڑے ہوکرکہا تھا بھارت کی سرحدیں کابل تک ہیں۔ ہندومذہب میں چپتراپتی (Lord Paramount) ایک عظیم فاتح کا تصورشدومد سے ہے جواپنے پڑوسیوں کو فتح کرنے اورسمندردرسمندراپنی مہمات جاری رکھنے کا استعارہ ہے۔ کیا ہم اس اساطیری تصورکے آگے ڈٹ جائیں یامرحلہ وارموت قبول کریں۔ قومیں اورافراد بڑے رسک لیکر ہی لوح جہاں پرانمٹ نقوش چھوڑسکتے ہیں، وہ کہتے ہیں سائنس کی طرح بین الاقوامی تعلقات میں بھی Commonsense Argument ہمیشہ پرجوازنہیں ہوتے۔ گلیلیو نے جب ثابت کیا کہ ہلکے اوربھاری اجسام ایک ہی رفتار سے زمین پرگرتے ہیں تو عام سمجھ اپنی کم مائیگی پرآج تک ماتم کرتی ہے۔ ہمیں کیوں درس دیا جاتا ہے اپنے سے کئی گنا بڑے بھارت سے سمجھوتوں کے ذریعے گزربسرکیا جائے”جب جنگ عظیم دوم میںجرمنی نے فرانس کی اینٹ سے اینٹ بجائی، تو کیا برطانیہ نے بھی فرانس کی طرح سرنڈرمیں عافیت جانی؟ چرچل نے ایسا نہ کیا، اس نے برطانیہ کا خون، کمائی، پسینہ، آنسوسب برطانیہ کے وقارکیلئے جنگ میں جھونک دیااورجنگ جیت کرسرفرازہوا”۔ بعینہ ـ” ایک مضبوط اورعزم صمیم رکھنے والا پاکستان جو اپنے مفادپرایک ملی میٹرکا بھی سمجھوتہ نہ کرے، بہترین تحفظ کی ضمانت ہوگا۔” اگرسمجھوتے ہوئے تو ہم بھی جائیں گے، نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور سقم بھی جائیں بھارت برصغیرکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اپنا پرچم لہرائے گا اورہمیں ایسا دبوچے گا کہ پھرکبھی کسی مسلم تحریک کے ابھرنے کا سان وگمان تک نہ رہے گا۔

بھارت کے دام فریب میں مت آئیو!ـ “ایک طرف امن کی آشا کے دعوے ہیں دوسری جانب آئے دن دفاعی بجٹ میں اضافے؛ ایک طرف خارجہ پالیسی میں non-alignmentکا اخلاقی اصول ہے۔ دوسری جانب دونوں سپرپاورزبقدرجثہ مفادات کشید کرنے کی ان تھک کوشش؛ ایک طرف ایشیاء افریقہ کے غریب ممالک کے سرپرسرپرستی کا ہاتھ ہے، دوسری طرف سرپرنوآبادیاتی چغے کا پھبن ہے “کیا حسن اتفاق ہے کہ ورلڈبینک کے سابق صدرکو بھی کہنا پڑا تھا Whatever is right about India, opposite is also true.۔

بھارت کی یہ دورنگی بھٹو پرروزروشن کی طرح عیاں تھی۔ بھٹو لکھتے ہیں

“نہرونے زندگی کے آخری ایام میں کہا تھا جموں وکشمیرکا مسئلہ حل ہوبھی جائے تو برصغیرکے نصیب میں امن نہیں ہے۔ پاک بھارت تنازعات خارجی علامات ہیں۔ اصل مسئلہ تھیوکریٹک، انتہاپسند، رجعت پسند پاکستان کا سیکولر، پروگریسوانڈیا کیخلاف منفی ردعمل کا زاویہ نگاہ ہے، ۔ ۔ ۔ ایک ملک کے زمینی اور معاشی حقوق غصب کرکے اس کیساتھ سدا بہاردشمنی کا راگ الاپنا عجیب وغریب منطق ہے”

بھٹوصاحب اسے بھارتی رویو ں کا سب سے بڑا نفاق قراردیتے ہیں، ایک طرف وہ ہندونیشنلزم کی بنیادپربرصغیرکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک “رام راج” کا علم بلند کرتے ہیں، جب کشمیرکی بات آئے تو سیکولرازم کی چادرتان لیتے ہیں۔ آج موجودہ پاک بھارت تنائو پربھارتی آرمی چیف کے گلے سے پھرنہروبول رہا تھا کہ پاکستان کیساتھ ہمارا مسئلہ تبھی حل ہوسکتا ہے جب یہ سیکولرازم کو اسٹیٹ فلاسفی کا درجہ دے۔ جب بھارت کا اپنا یہ حال ہے کو ارون دھتی رائے کو کہنا پڑا “سرزمین ہندپرمسلمان یا عورت ہونے کے بجائے گائے ہونا زیادہ بہتر ہے”
نہرواگرسیکولرازم پریقین رکھتا تھا تو اسے کئی صدیاں قبل توڑے گئے سومنات مندرکی تعمیرنو کا سنگ بنیادرکھنے کیلئے اپنے صدر راجندرا پراساد کے ہمراہ وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی۔ نہروکی موٹی کھال کے اندر ہندو نیشنلزم موجود تھا، پھربابری مسجد کی توڑپھوڑ ہندو نیشنلزم کا شاخسانہ ہے یا پھرسیکولرازم کی دین ہے۔

بھٹوصاحب سمجھتے تھے کہ تاریخی طورپر ہندو بھارت نے ہرآنیوالے فاتح  کلچر، مذہب اورروایات کو اپنے اندرسمویا۔ وادی سندھ کا موئنجودڑو ہویا ہڑپہ دونوں ہندوتہذیب کا مدفن ہیں، پھرنخوت پسند گورے آریا آئے، ہندوئوں نے سرتسلیم خم کیا، مگراس امتزاج سے ہندو برہمنیت نے جنم لیا۔ متکبرآریائوں نے خود کو دیوتا اورمقامیوں کو رخاصا یا شیطان کا درجہ دیا۔ ذات پات کے نظام نے برہمن کے زعم خداوندی سے جنم لیا۔ مگرہندوئوں نے سرنگوں رکھتے ہوئے بھی آریائوں کو ذرافاصلے پررکھا، پھرسرزمین ہند پرسینٹرل ایشیاء مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے سیتھیوں (Scythians) کا ورودہوا، یہ آریائوں کی طرح متکبرنہ تھے بس ایک عام سی ہندوغلامی پرقناعت کرگئے۔ برہمن نے غلامی قبول کرلی، مگراپنے سوشل سسٹم اورمذہب میں سیتھیوں کیلئے کوئی گنجائش نہ رکھی۔ اسی دوران سیتھی شہزادہ گوتم بدھ جنم لیتا ہیجس نے شاہی کو تج کرایک مذہب کی بنیادرکھی۔ ” انسان برابر یں اور نجات وپاکیزگی سے متعلق سب کیلئے دروازہ کھلاہے ـ” ہندوبرہمن نے بعدمیں بدھ ازم کو زوال آشنا کرکے بدلہ چکایا، یہی حال جین مت کا ہوا، یہ صرف اسلام تھا جسے اس کے ترقی یافتہ تصورحیات کیوجہ سے ہندوازم اپنے اندرجزب نہ کرسکا۔ ہندونیشنلزم اسے بدھ مت اور جین مت کیطرح زوال آشنا یا کم ازکم بھارت کی حدودسے باہردیکھنا چاہتا تھا، مگرمسلمانوں کے فولادی عزم کو شکست نہ دے سکا۔ بھارت ہمالیہ سے میکانگ تک ہندوغلبہ چاہتا ہے۔ وہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان کھینچی گئی لکیرکو دیواربرلن کی طرح مٹانا چاہتا ہے، یہ فراموش کرکے کہ دیواربرلن کے دونوں طرف ایک ہی مذہب کی حامل قوم تھی، ادھربارڈرکے آرپاردومختلف مذہبوں کی حامل قومیں آباد ہیں۔

ایک طرف اقصائے عالم کو نئی تہذیب وتمدن سے آشنا کرنیوالا اسلام ہے، دوسری طرف صدیوں تک اپنی حدودسے نکلنے کو خلاف مذہب سمجھنے والی بند ہندومعاشرت ہے، جو غیرملکیوں کو ناپاک، ملیچھ اورغیرتہذیب یافتہ سمجھتی ہے۔ مورخ پال کینیڈی کے بقول کنفیوشس نے عالمی طاقت چین کے سرحدوں سے باہرپھیلے بحری بیڑوں اورافراد کو یہ کہہ کرواپس بلایا تھا کہ چینی تہذیب وتمدن کے مسخ ہونے کا خطرہ ہے، یوں چین ایک کھلی معاشرت سے بند معاشرت کی طرف چلا گیا اوراس کا عالمی سیاست میں کردارکنفیوشس کی قدامت پسند تعلیمات کی وجہ سے صفرہوگیا تھا۔ مذہبی سوشیالوجی کے نامورعظیم اسکالرڈاکٹر علی شریعتی نے مشرق وسطیٰ اورچین بھارت سمیت مشرق بعید میں جنم لینے والے مذاہب کے درمیان ایک خوبصورت فرق بیان کیا ہے۔ شریعتی سمجھتے ہیں کہ ایران کا زرتشت ومانی ہویا بھارت کا گوتم بدھ اور چین کا کنفیوشسس سب براہ راست یا بالواسطہ طورپرشاہی دربارسے منسلک رہے اوراپنی تبلیغ وترویج میں شاہی دربارکے اثرورسوخ کو خوب استعمال کیا، گوتم بدھ تو خود شہزادہ تھا۔ یوں یہ مذاہب اشرافیہ کے مذاہب ہیں۔ Theirs was a painless pain and needless need.۔ یوں بھوک وافلاس، ظلم وستم ان مذاہب کا مسئلہ نہیں تھا، یہ ترک دنیا پرزوردیتے تھے، یہ ان کیخلاف کیوں جاتے جن کے دربارسے وابستہ تھے۔ دوسری طرف سرزمین عرب سے اٹھنے والا ہرپیغمبرچرواہا تھا اورشاہی دربارسے مطابقت پیدا کرنے کے بجائے اس نے شاہی دربارکو چیلنج کیا، نمرود کیخلاف حضرت ابراہیم اٹھتے ہیں، فرعون کیخلاف موسیٰ علیہ السلام، ابوجہل وابولہب وغیرہ کیخلاف محمد عربی علم بغاوت بلند کررہے۔ مذاہب مشرق سے افلاطون کے یونان کی طرح اشرافیہ پروری کی بوآتی ہے۔ بانیان پاکستان یہی تو کہتے تھے کہ انسانی مساوات اور سماجی انصاف کے زریں اصولوں پرکاربند اسلام ہندوئوں کی بالادستی کوتسلیم نہیں کرسکتا۔ مگرہندوذہنیت مسلمانوں سے ہزارسال کی غلامی کا قرض نہ صرف چکتا کرنا چاہتی تھی بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ سودا ہنوزاس کے سرمیں ہے۔

بھٹوصاحب بھارت کے ٹھیٹھ ہندو نیشنلزم اورفرضی سیکولرازم سے خوب آگاہ تھے۔ یہ ان کے گہرے مطالعے کا ثمرتھا۔ وہ نرادسی چودھری کا ہندوعسکریت پسندی پرایک اقتباس پیش کرتے ہیں

“میرے عمربھر کے مشاہدے نے ثابت کیا ہے کہ ہندو ذہنیت پرپاگل پن کا غلبہ ہے۔ کوئی بھی ذی شعور ہندووں کی پرائیویٹ اور پبلک لائف کو سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ طبقہ نارمل شخصیت سے محروم ہے۔ ان کی معمول کی زندگی کا مشاہدہ کرو تو یہ خود پسندی کی معراج پرفائز نظرآتے ہیں، اگران کا اغیارسے معاملہ دیکھو تو Dementia Praecox یا پھر Paranoia کا گماں ہوتا ہے۔ ان کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لوتو اس نتیجے پرپہنچو گے کہ یاتو ان کی ذہنی استعداد بہت کمزورہے یا نارمل کا متضاد! کسی کو مجھ سے اختلاف ہوتو وہ حالیہ تاریخ میں جرمنوں اورجاپانیوں کے طرزعمل کا جائزہ لے جب انہوں نے انسانیت پرایک بڑی جنگ مسلط کردی تھی۔ جرمن تاریخ کا نازی فیزہو یا جاپانیوں کی طرف سے امریکا کیخلاف جنگ، میں اسے قوموں کے عارضی اجتماعی پاگل پن کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دے سکتا۔ ان مثالوں سے واضح ہے کہ افرادکیطرح کبھی کبھی قومیں اورانسانی گروہ بھی پاگل پن کا شکارہوجاتے ہیں۔ میں صرف ہندو ذہنیت سمجھانا چاہتا ہوں۔ ہندواپنے اجتماعی پاگل پن میں دوزاویوں سے ان مذکورہ قوموں سے مختلف ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کا پاگل پن ذرا کمزورنوعیت کا ہے اس لیے باقی انسانیت کیلئے کم نقصان دہ ہے ، اگرچہ ان کے ذاتی نقصان کا زیادہ باعث ہے، دوسرا یہ کہ یہ پاگل پن مستقل اورجاری رہنے والا ہے اورجس طرح جاپان اورجرمنی تباہی کے بعد سبق سیکھ چکے اور نارمل کیفیت میں آگئے، ہندوئوں کا پاگل پن گئے وقت کی یاد کبھی نہیں بن سکتا۔ ” ؑ

یہ نرادسی چودھری کا sweeping statementہے، کامل اتفاق ممکن نہیں۔ تاریخی طورپرہندوازم رواداری اوربرداشت کا عظیم مظہررہاہے، فلسفے کی اقلیم پردنیا کو بہت کچھ دیا، اعشاری نظام (ہندسہ سسٹم) اورصفرکی ایجاد کا سہرا ہندوریاضی دانوں کی اہل جہاں کیلئے عطائے عظیم ہے۔ اوریہ کوئی ماہرفلسفہ اورریاضی دان ہی سمجھ سکتا ہے کہ صفرکی ایجاد ” لاـ” سے “الا” کی جانب ایک جست عظیم تھا۔ شاید اسی وجہ سے ابولاکلام آزاد کہتے ہیں “ہندوئوں کے حقیقی مذہبی ماخذ میں توحید کا کامل اورشفاف نکتہ نظرجو ملتا ہے، شاید ہی کسی مذہب میں اتنا صا ف شفاف تصورتوحید ہو، حادثہ یہ ہوا کہ برہمن کی مذہبی اجارہ داری نے یہ تصوراپنے تک محدود کرلیا اورعوام الناس کو ذہنی طورپرکمزورسمجھتے ہوئے انہیں ایسی مثالوں سے سمجھایا گیا کہ وہ بالآخر وحدت الوجود اورپھربت برستی پرمنتج ہواـ”۔ یونانی فلاسفراورریاضی دان فیثاغورث نے ہندواساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اورپھریہ شمع لیکریونان پہنچا۔ عربوں نے اعشاری نظام ہندوئوں سے سیکھا اوریورپ کو اس سے متعارف کروایا۔ ہندوریاضی دانوں نے علم فلکیات کو معراج بخشی، ستاروں کا علم دنیا کوسکھایا۔ یہ جو آج GMT سسٹم رائج ہے، ہندوئوں کی دین ہے۔ اوراجمالاً دیکھا جائے تو یہ علوم جیومیٹری کے علم میں کماحقہ مہارت کے بغیرمعرض وجود آنہیں سکتے۔ علم ارضیات پرہندودسترس کا یہ عالم تھا کہ البیرونی نے سنسکرت سیکھ کرہندواساتذہ سے عشق کیا اورپھرمعرکۃ الآرا تصنیف “کتاب الہند” لکھی۔ جانے کب تک چینی اوریونانی فلاسفرزہندی جامعات کے خوشہ چیں رہے۔ آج بھی وادی سندھ کے دامن میں مدفون موئنجودڑواورہڑپہ کے آثارقدیمہ ایک قدیم مگرترقی یافتہ (Impressive civilizations) ہندوطرزمعاشرت اورتہذیب کی چغلی کھارہے ہیں۔ یہ ہندوآریائی امتزاج سے وجود میں آنیوالے برہمن طبقہ تھا جس نے ہندومذہبی حقائق پراجارہ داری کا سکہ جمایا، عام ہندوکو حقیرونحیف سمجھتے ہوئے حقیقی مذہبی سچ (Real religious Truth) سے دورکیا، ہندو مذہبی باڈی میں ذات پات کا زہرگھولا، مذہبی اشرافیہ ہونے کے ناتے غیرملکی حملہ آوروں سے سمجھوتے کیے، مذہبی اورسیاسی سطح پرکچھ لو، کچھ دوکا چلن اختیارکیا۔ ہندونفسیات کو شکست خوردگی اورغلامی کا رسیا بنایا۔ ہزارسال کی طویل غلامی کے بعد پہلی دفعہ ہندوئوں کی قیادت ایک غیربرہمن گاندھی کے ہاتھ آئی تو Hindu Renaissance کادورشروع ہوا، آزادی کو ایک عظیم آئیڈیل مانا گیا۔ مگرکیا کیجئے کہ ایک پرندہ بھی کچھ زیادہ عرصہ تک پنجرے میں رہے تو اسے آزادپروازمیں پروں کے ہوتے ہوئے بھی دقت محسوس ہوتی ہے۔ یہی حال ہندوقوم کا ہوا، ڈیڑھ سوسالہ غلامی نے مسلمانوں سے بھی بہت خراج لیا۔ جون ایلیا یاد آتے ہیں

اب جو رشتوں میں بندھا ہوں توکھلا ہے مجھ پر
کیوں پرند اڑنہیں پاتے ہیں پروں کے ہوتے

آزادی کے سترسال بعد بھی ہندواورمسلمان پروں کے ہوتے ہوئے محروم پرواز ہیں۔ کوریا، جاپان، چین، جرمنی اور ترکی مرکرجی اٹھے اورتاریخ کے افق پرجگمگار ہے ہیں، روس دوعشرے قبل ٹوٹا تھا اورآج تاریخ میں اپنا کردارمنوارہا ہے، کیا ہندو اورمسلمان ہمیشہ غربت اورپسماندگی خرید کرباہم رزم آرا رہیں گے۔ “ہرگوہرنے صدف کو توڑدیا، ، توہی آمادہ ظہورنہیں” دل بینا بھی کرخدا سے طلب،، آنکھ کا نوردل کا نورنہیں۔
بھٹوصاحب دل بینا کیسا تھ پاکستان اوربھارت کے درمیان ناروے اورسویڈن جیسے تعلقات چاہتے ہیں مگرساتھ ہی اہل وطن کو خبردارکرتے ہیں کہ یہ غیرت قومی کا سمجھوتہ کیے بغیرہو۔ پاک بھارت تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کے نیم مذہبی اکھنڈ بھارت کے تصورکوقراردیتے ہیں۔ آگاہ رہئے اس تصورکو حقیقت میں ڈھالنے کیلئے بانی پاکستان کو نہ توسروجنی نائیڈوکے شیریں الفاظ لبھا سکے نہ ہی گاندھی کی خیرہ کن فلسفیانہ بازی گری(Hypnotic Dialectics) ۔ یہ بھارتی رہنمائوں کا برصغیرکی (Essential Hinduness)کا تصورہے جو خطے کو چین نہیں پڑنے دیتا۔ وی ڈی ساوارکر ہندوکی تعریف یوں کرتے ہیں “ہندووہ شخص ہے جو اس سرزمین کو “بھارت ورشاـ” سمجھے، سندھ تا سمندراسے مادروطن اورپاک زمین سمجھے جواس کے مذہب کی آغوش ہے۔ “ہندتوا” دراصل ہندونسل کے فکروعمل کے ہرہرشعبے کو حصارمیں لیے ہوئے ہے، مسلمان ایک کمیونٹی ہیں، ہندوایک قوم ہیں ” آر ایس ایس ہو یا بی جے پی یا پھرعام ہندو یہی اس کا تصورحیات ہے۔

ہماری سول فوجی قیادت بھارت کی حالیہ مہم جوئی کونریندرامودی کی الیکشن مہم سمجھ رہی ہے، پاکستان کوشکست دے کربتدریج پورے برصغیر پربھارتی پرچم لہرانا بھارت کی مذہبی سیاسی سوچ کا Permanent feature ہے۔ یک طرفہ جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارتی پائلٹ بھارت کے حوالے کرنا، یک طرفہ جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارتی ماہی گیروں کی رہائی، عالمی طاقتوں سے بھارت کو جنگ سے بازرکھنے کی درخواستیں بھارت کا دل جیتنے کے بجائے موم کی سیڑھی پرکھڑے ہوکر سورج سے وفا کی بھیک مانگنا ہے۔ سانپ کو دودھ پلا کروفا کی امید پالنا ہے، کوے کوموتیوں کی چوگ ڈال کرہنس بنانے کی ناکام کوشش ہے، کڑوے کنویں میں سومن گڑڈال کرمیٹھے پانی کی تمنا رکھنا ہے۔ کوے کو دودھ میں نہلاکرگوراکرنیکی سعی لا حاصل ہے۔ انٹرنیشنل ریلشنزکے جدامجد Hans J. Marganthu کا کہنا ہے کہ Weakness and policy of appeasement invite aggression.۔ جنگ عظیم دوم ہٹلرکے استعمارانہ عزائم سے کہیں بڑھ کربرطانوی وزیراعظم چیمبرلین کی Appeasement Policy کا نتیجہ تھی۔ فرانس کے سرنڈرکے باوجود چرچل کی جانب سے جرمنی کے مقابلے میں کم جنگی وسائل کے ہوتے ہوئے بھی Blood, toil, tears and sweat کی قیمت پربرطانیہ کا دفاع کرنیکا عزم صمیم تھا کہ اتحادی فاتح ٹھہرے۔ تاریخ خداکی علامات میں سے علامت عظیم ہے، اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ڈاکٹراقبال احمد کہتے ہیں یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہم عہد جدید میں زمانہ وطیٰ کے مائنڈ سیٹ کیساتھ جی رہے ہیں۔ عہد جدید کا تقاضا ہے کہ مسابقتی اپروچ سے جیا جائے، کارکردگی دکھا کردوسروں سے آگے بڑھا جائے، مگرہم آج بھی توپ تلوارکی حکمت عملی سے جی رہے ہیں۔ دوسروں کومیدان جنگ میں پچھاڑکرآگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ توسائنس اورٹیکنالوجی کی سوفٹ پاورسے آگے بڑھنے کا دورہے۔ اگر بھارت عسکریت پسندی اورمہم جوئی پریقین رکھتاہے تو مجبوراًہمیں اپنے گھوڑے تیاررکھنا ہوں گے، جنگ سے بچنا ہے تو جنگ کیلئے تیاررہنا ہوگا۔ جنگ چھڑتی ہے تو اس وقت تک لڑنا ہوگا جب تک جنگ خود ہتھیارڈال نہیں دیتی۔ تاہم بارڈرکے دونوں جانب نیوکلئراسلحہ خانوں اورسمندرکی تہہ میں ایٹم بموں سے لدی مٹکتی آبدوزوں کودیکھتے ہوئے ایٹمی جنگ کی دہلیزپرکھڑے بھارت اور پاکستان کو غالب یہی کہہ رہا ہے ہشیارباش! ورنہ

یک نظربیش نہیں فرصت ہستی غالب
گرمی بزم ہے اک رقص شررہونے تک

یہ بھی پڑھئے: بھٹو: غریب وڈیرا، بنیاد پرست سیکولر —- ڈاکٹر غلام شبیر

 

(Visited 711 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: