میری سوچ میں تبدیلی اور تدریجی ارتقاء —– نورالوہاب

0

مسلکی فرقہ واریت سے تو الحمد للہ، اللہ نے بچپن ہی سے بچائے رکھا، اس بچت میں زیادہ کردار بہترین اساتذہ کے بعد غیر نصابی کتب کے مطالعے کا ہے، جس سے سوچ اور فکر میں وسعت پیدا ہوئی۔

درسِ نظامی سے فراغت ہوئی تو ذہن پر جناب جاوید احمد غامدی کی مخالفت کا بھوت سوار ہوا، اور سوچا کہ انہیں تفصیل سے پڑھ کر ان کے رد میں صفحے سیاہ کروں گا۔ کچھ وقت گزرا تو یہ کارِ لاحاصل معلوم ہوا۔

اب اگلے مرحلے میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہمارے اصل دشمن سیکولرازم اور لبرل ازم کے علمبردار ہیں، جو نہ صرف “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کی اسلامی شناخت کے خلاف ہیں بلکہ مذہب کے ہی خلاف ہیں، لہذا لبرل ازم اور سیکولرازم کو پڑھ سمجھ کر اس کی تردید میں وقت اور دماغ کھپانا ہے، تاکہ اس عظیم فتنہ سے امتِ مسلمہ کو بچایا جائے۔

پھر یوں ہوا کہ کچھ کٹر سیکولر لوگوں سے واسطہ پڑا تو خلافِ توقع انہیں اخلاق میں بہت اعلیٰ پایا، اور خدا و مذہب کے بارے میں ان کے خیالات سے کئی زاویوں سے شدید اختلاف کے باوجود، ان کے افکار کو اس قدر نقصان دہ نہیں پایا کہ جس کی بناء پر انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے، مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی کچھ باتیں غلط فہمیوں پر مبنی ہیں، کچھ باتیں واقعی قابلِ غور اور قابلِ قدر ہیں، کچھ میں تعبیر کا فرق ہے، کچھ میں لفظی اختلاف ہے، اور کچھ باتوں میں ان کا موقف مذہبی طبقات کی بے اعتدالیوں کے ردعمل میں طے ہوتا ہے نہ کہ کسی ٹھوس علمی بنیاد پر۔
اس لئے اب ان کے افکار سے اختلاف کے باوجود اچھی چیزوں کو سراہتا ہوں۔

مزاج میں یہ تبدیلی کیوں اور کیسے پیدا ہوئی؟ اس کا سو فیصد تجزیہ تو شائد ممکن نہ ہو، البتہ اس کی بنیادی وجوہات میں سے سب سے پہلی اور بڑی وجہ تو معتدل اور بہترین اساتذہ کا ملنا ہے۔
دوسرے نمبر پر ذاتی اور خارجی مطالعہ ہے۔
تیسرے نمبر پر جس چیز نے مجھے تدریجاً اور مسلسل اپنی فکر اور طرزِ عمل پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا، وہ ہر طبقہ فکر سے وابستہ لوگوں سے میل جول اور تبادلہ خیالات کا مزاج ہے، میرا مزاج بچپن سے یہ ہے کہ نئی چیز کی کھوج اور بعد ازاں اس کے حصول پر طبیعت خوشی سی محسوس کرتی ہے، بھلے وہ چیز کسی مخالف سے ملے۔ اس وجہ سے بھی نئے خیالات والے لوگوں سے ملنے سے کبھی یہ ڈر نہیں لگا کہ گمراہ ہوجاؤں گا۔

میرے ناقص اندازے کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی جو مزاج میں آئی وہ ایم فل علوم اسلامیہ کے دوران ریسرچ میتھاڈولوجی پڑھنے اور پھر عملی ریسرچ کی مشق سے پیدا ہوئی۔ جس میں یہ نئی چیز سمجھ میں آئی کہ کسی طبقہ سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی فکر کے تمام جوانب کو بیک جنبشِ قلم مسترد کردیا جائے، بلکہ علمی رویہ یہ ہے کہ ہر طبقہ کے افکار کو دلائل کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا اور جانچا جائے، اور “خُذ ما صفا و دَع ما کدر” پر عمل کیا جائے۔

آگے چل کر میرے خیالات کس نہج پر جاتے اور فکر کا زاویہ کس مقام پر رکتا ہے؟ اس کا علم مجھے ہے نہ کسی اور کو، اس کا علم صرف اللہ کو ہوسکتا ہے اور ہے۔ (اللہ سے دعا بھی ہے کہ ہر قسم کی فکری کجی اور زیغ و ضلال سے حفاظت فرمائے) البتہ اتنی بات بحمد اللہ طے ہے کہ کسی طبقہ کی اندھی تقلید یا کسی طبقہ کی ہر بات میں مخالفت کا مزاج اب نہیں رہا، اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ کسی شخص سے بھلے حد درجہ عقیدت و محبت ہو، یا حد درجہ اختلاف ہو، لیکن ان کے افکار کی حمایت یا مخالفت میں بنیاد، ان سے عقیدت یا ان سے اختلاف کو نہیں، بلکہ دلیل کو بنیاد قرار دینا ہی صحیح علمی رویہ ہے۔

اللھم اَرِنی الحقَ حقًا و ارزقنی اتباعہ، و ارنی الباطل باطلاً و ارزقنی عنہ اجتنابہ”

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  دین اور موجودہ سوشل سائنسز ——– احمد جاوید
(Visited 187 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: