صدارتی نظام کی بحث: کچھ پہلو —— سردار جمیل خان

0
  • 131
    Shares

آج کل میڈیا پر “اسلامی صدارتی نظام” کے حوالے سے بحث زورں پر ہے یہاں تک کہ نامی گرامی اینکرز بھی میدان میں کود چکے ہیں۔
رائے عامہ کے کچھ جائزوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کی 80% تک اکثریت صدارتی نظام کی حامی ہے۔
صدارتی نظام کے ساتھ “اسلامی” کا سابقہ نہ بھی لگایا جائے تب بھی یہ غیر اسلامی صدارتی نظام نہیں کہلائے گا کیونکہ قراراد مقاصد آئین پاکستان کی روح ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مجوذہ صدارتی نظام آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم تو نہیں؟؟
کیا صوبے ون یونٹ سسٹم کی حمایت کریں گے؟
کیا چاروں صوبائی اسمبلیاں متفقہ بل پاس کریں گی؟
کیا ‘قومی اسمبلی اور سینٹ’ دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے پائے گی؟

بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ اسکے لیے ایک آئینی ترمیم کی ضرورت پڑے گی جسکے لیے حکومت کے پاس فی الوقت اکثریت نہیں جبکہ مارچ 2021 سینٹ الیکشن کے بعد ن لیگ کے تعاون سے ہی ایسا ممکن ہو سکے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ صدارتی نظام کے حق میں ریفرنڈم کا حکم دے اور تمام جماعتیں ریفرنڈم کے نتائج تسلیم کریں۔ مگر یہاں پھر ایک آئینی رکاوٹ ہے کہ “ریفرنڈم کسی مسئلہ کے لیے ہو سکتا ہے کسی منصب کے لیے نہیں”۔
بہرحال اس کی تشریح بھی سپریم کورٹ ہی کرے گی کہ آیا یہ ایک مسلہ ہے یا منصب؟ بلکہ اس سے پہلے اہم ترین نقطہ یہ ہو گا کہ کیا سپریم کورٹ ایسی کسی درخواست کو قابل سماعت بھی قرار دے گی؟

اگر کسی آئینی ترمیم یا سپریم کورٹ کی اجازت سے بذریعہ ریفرنڈم صدارتی نظام کی داغ بیل پڑتی ہے تو
* پھر صدر کے لیے 51% وووٹ لازمی قرار دیے جائیں محض سادہ اکثریت کافی نہیں۔ ۔
* سینٹ کی نشستیں ڈبل کر کے 204 کی جائیں اور ہر صوبے کو 50 نشستیں دی جائیں۔ ۔
* گورنر مرکز کا نمائندہ ہو گا مگر صوبائی گورنرز کے انتخابات بھی براہ راست صدارتی انتخابات کے دن ہی کروائے جائیں اور گورنرشپ کے الیکشن کے دوران مختلف جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر سینٹ کی نشستں الاٹ کی جائیں۔ ۔ ۔
* گورنر کے لیے 51% ووٹوں کی شرط کے بجائے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا منتخب گورنر تسلیم کیا جائے جو مختصر کابینہ کے ساتھ صوبے کا نظام چلائے۔

تب تک حکومت کو چاہئیے کہ وہ احتساب، کرپشن کی روک تھام، کفایت شعاری اور معاشی اصلاحات لا کر عوام کو ریلیف دے جسکے لیے اشد ضروری ہے کہ صدارتی آرڈیننس لا کر آمدنی سے زائد اثاثہ جات رکھنے والے 300/400 لوگوں کو مئی جون جولائی تین مہینے حوالات میں بند کیا جائے، صرف سحری افطاری، نماز اور کھانے کے وقت “مہمانوں” کا خاص خیال رکھا جاۓ، پنکھے کا سوئچ نیب کے کنٹرول میں دے دیا جائے تو تین ماہ میں 100 ارب ڈالرز نہ سہی 50 ارب ڈالز ضرور اکٹھے ہو جائیں گے۔

(Visited 180 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: