افراط و تفریط کے نرغے میں گھرا جون ایلیا —- عزیز ابن الحسن

0
  • 243
    Shares

آج مجھ کو بہت برا کہہ کر
آپ نے نام تو لیا میرا

بات یہ ہے کہ ہر شاعر کے بارے میں رد عمل کا ایک دور بھی آتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آج کل سوشلستان میں جون ایلیا کے بارے میں ردعمل کا دور چل رہا ہے۔ رد عمل میں ترازو کا کانٹا نقطہ اعتدال اور توازن پر رکھنا بہرکیف مشکل ہوتا ہے۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ جون کے بارے میں اور اس کے مقام کے بارے میں درست ترین فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ وقت کو یہ کام کرنے دینا چاہیے۔

ردعمل میں مختلف اسباب کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ مثلا ایک تو یہی کہ ایک زمانے میں جب کسی شخص یا شے کی پتنگ بہت اونچی اڑ رہی یا اڑائی جارہی رہی ہو تو یہ اڑان دیکھ کر آنکھیں دکھنے لگتی ہیں اور تعریف سن سن کر کان پکنے لگتے ہیں۔ پھر کچھ لوگوں کے اندر لاگ پیدا جاتی ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی کو اس کے صحیح مقام پر رکھنے کے بجائے یعنی اس کی بڑائی کو اس کے واقعی اور جائز معیارات کے بجائے کچھ اور قسم کے مزعومات کی بنا پر پرکھا جا رہا ہوتا ہے؛ مبالغے سے بڑھایا اور بڑوں سے بھڑایا جارہا ہوتا ہے اور اس کا موازنہ ایسوں کیا جارہا ہوتا ہے کہ جہاں پر موازنہ جائز ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں اس گزرے صاحب موازنہ شخصیت کی آتما انتقام لینے دھرتی پر اتر آتی ہے۔ اور دوسری طرف کے اڑینچ بازوں کو کمک فراہم کرنے لگتی ہے۔

میں ایسی بہت سی مثالیں جانتا ہوں۔ مثلا ایک زمانے میں سندھ کے معروف شاعر شیخ ایاز، جو اپنی جگہ پر ایک باکمال شاعر تھے، کا موازنہ خواہ مخواہ اقبال سے اور پھر اس سے بھی بڑھ کر شاہ لطیف بھٹائی سے کیا جانے لگا تھا۔ یار لوگ انہیں اقبال اور بھٹائی سے بڑا شاعر بتایا کرتے تھے۔ یہ کام شروع ہوا تھا تو میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ اب شیخ ایاز کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں دوست ہی کافی ہیں۔ اسکا نقصان اقبال یا بھٹائی کو تو خیر کیا ہونا تھا الٹا شیخ ایاز بے چارے کی ہی ہیٹی ہوئی۔ پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب پتہ چلا کہ شیخ ایاز تو آخر میں مذہبی اور صوفی ہوگئے تھے اور اللہ کی حضور مناجات لکھنے لگے تھے تو اب یار لوگوں نے انہیں خاموشی کی موت مارنا چاہا۔ ان کو نظر انداز کرنے لگے ان کا ذکر کم کرنے لگے یا یہ کہا جانے لگا کہ شاعر تو اچھے ہیں مگر فلاں فلاں بات یا کام نہ کرتے تو “وسیع تر انسانی اقدار” کے شاعر کہلاتے۔ مگر پھر وقت گزرا۔ اب شیخ ایاز اپنے مقام پر فائز ہیں۔ اب انہیں نہ کوئی گھٹا سکے گا نہ بڑھا سکئے گا۔

جون ایلیا میں جان ہو گی تو انشاءاللہ وہ ضرور فائز المرام ہونگے اور قائم الزمان بنیں گے۔ میرے خیال میں، جون اگرچہ رستم زماں نہیں ہیں مگر ان میں پھر بھی خاصی جان ہے، یعنی اُس خستہ تن اور رنجور جسم میں سما سکنے والی جان کی نسبت کہیں زیادہ جان!
جون جیسی زبان دانی ان کے معاصر میں بہت کم لوگوں کے ہاں ہے۔
غیر متناسب طور پر بڑھوتری پائی ہوئی جدید آدمی کی انا گردوپیش کی سنگلاخ حقیقتوں سے ٹکرا کر لاکھ شکستوں سے چور سہی مگر یہ انا ایک فرضی غیر( جو خدا بھی ہو سکتا ہے) کے آگے ہمیشہ اکڑ اکڑ کر رہنے کی عادی ہے۔ اس الم کش انا کی ٹر بازیوں کو زبان پر حاصل کردہ قدرت اور ایک لطیف استہزائیہ اسلوب اور حزن و ملال میں لپٹی ہوئ زہرخندگی کے ساتھ شعر میں ڈھالنے کا فن جس طرح جون جان جانتا ہے وہ کم ہی لوگوں کو ملتا ہے۔ اس کا سب سے سب سے بڑا ہنر اس کا وہ انفرادی لب و لہجہ ہے جو ہزاروں میں ایک ہے۔ اور جون ان خوبیوں کی بنا پر زندہ رہیگا پڑھا جاتا رہے گا منوایا جاتا رہے گا۔

جون اچھا شاعر ہے، بہت اچھا شاعر ہے بہت اہم شاعر ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ جون بڑا شاعر نہیں ہے تو اس پر برا ماننے کی بھی ضرورت نہیں۔ اس کے بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے یہ کہنے والے کے ذہن میں “بڑے شاعر” کا کوئی خاص معیار رہا ہو۔ اصل بات بڑائی کے اس پیمانے کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے بڑائی کے گھیر میں ہمالیہ سما جاتا ہو اور کوئی مرگلہ کو ہی سب سے بڑا پہاڑ سمجھتا ہو۔ یوں تو گلہری بھی بڑی ہے مگر چیونٹی سے اور ہاتھی بھی چھوٹا ہے مگر پہاڑ کے مقابلے میں۔

یوسفی نے لکھا کہ
“مرزا قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ دریائے سندھ دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے”۔
یہ مرزا قِسم کے لوگ اپنی قَسم میں ضرور سچے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس سے بڑا نہ کوئی دریا دیکھا ہوتا ہے اور نہ ان کے ذہن میں اس سے بڑے دریا کا کوئی تصور ہوتا ہے۔ بات اپنے اپنے پیمانے کی ہے۔

بڑے شاعر کا پیمانہ اگر فردوسی اور حافظ کو بنایا جائے تو غالب و اقبال بھی چھوٹے شاعر شمار ہوں گے اور معیار اگر کوئی قلی اختر جاتک اور بھیم چند تلہری ہو تو جون بھی یقیناً شاعروں کا نانگا پربت نظر آئے گا۔
تواصل بات، بھائی، شاعر کے کٹورے کے گھیر اور گہرائی اور اور صاحبِ ذوق نقاد کے ہا تھ میں پکڑے گز کی ہے۔ اس گز کی گولائی موٹائی اور لمبائی بھی دیکھتے رہنا چاہیے۔

جون کے کچھ شعر دیکھیے

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے

یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخ جاں سے

دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے

تھا اب تک معرکہ باہر کا درپیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

خبر کیا دوں میں شہر رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہر رفتگاں سے

یہی انجام کیا تجھ کو ہوس تھا
کوئی پوچھے تو میر داستاں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

وفا اخلاص قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں
ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا

وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا

تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا

دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا

پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

جو بھی مانگو ادھار دوں گا میں
اس گلی میں دکان کر لی ہے

شیخ آیا تھا محتسب کو لیے
میں نے بھی ان کی وہ خبر لی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی

ہائے وہ اس کا موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لب جو بھی

یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی

یاسمیں اس کی خاص محرم راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی

یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی

ہیں یہی جونؔ ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے بد خو بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

وہ ہم آغوش ہے تو پھر دل میں
نا شناسی کہاں سے آتی ہے

ایک زندان بے دلی اور شام
یہ صبا سی کہاں سے آتی ہے

تو ہے پہلو میں پھر تری خوشبو
ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے

دل ہے شب سوختہ سوائے امید
تو ندا سی کہاں سے آتی ہے

میں ہوں تجھ میں اور آس ہوں تیری
تو نراسی کہاں سے آتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

ان اشعار کی کیفیت کے کیا کہنے۔

“کیفیت” اردو کلاسیکی شعریات کا ایک اہم وصف ہے۔
لاریب کیف آور شعر کہنے والا شاعر ژولیدہ و کھردے اسلوب والے کی نسبت زیادہ قبولیت پاتا ہے۔ لیکن ایک شے بڑا مضمون/ معنی بھی ہوتی ہے بڑے معنی تخلیق کرنے والا شاعر اگر کیفیت آفرینی میں بھی کمال رکھتا ہو تو اس کے مقابلے میں پھر نری کیفیت آفرینی کچھ نہیں بیچتی۔

گلزار والے “غالب” ڈرامے میں ایک قرض خواہ بنیا جب غالب کو برا بھلا کہتا ہے تو قریب کھڑا غالب کا ایک قدردان اسے کہتا ہے
“میاں تم جانتے نہیں ہو یہ بہت بڑے شاعر ہیں ایسے شاعر آسانی سے پیدا نہیں ہوتے”۔
شاعر کو بنیے کی بلا جانے، وہ دانت پیستے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہے:

“۔ ۔ ۔ اور آسانی سے مرتے بھی تو نہیں ہیں!”

بنیے والی زہرخندگی کو ہٹا کر جون کے بارے میں خاکسار کی بھی یہی رائے ہے!
جون جیسے رنجور و خستہ تن شاعر بد خواہوں کی تمام تر بداندشیوں کے باوجود آسانی سے نہیں مرتے الایہ کہ گلہری “موازنۂ گلہری و پہاڑ” شروع کروانے والے نادان دوستوں کے ہتھے نہ چڑھ جائے، جیسا کہ بےچارے جون کے ساتھ کبھی کبھی ہوتا ہے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: