دن زندگی کے ختم ہوئے اور شام ہوگئی ..۔ خان نشرح

0

وہ یوں ہی اتنی تجربہ کار نہیں بن گئی تھی۔۔۔ زمانے دیکھے تھے اسنے۔۔۔ اکثر بیشتر تو یہ بھی بھول جاتی کہ اس نے زندگی کی کتنی بہاریںدیکھیں ہیں

آج وہ سب کے سامنے تو ٹیوشن والی باجی کہلاتی ہیں۔۔۔ اتنے کم عرصےمیں اس نے شہرت کیسے پالی۔۔۔ کیسے اس نے اس نئے گمنام محلے میںلوگوں کو مجبور کردیا کہ اس پر بھروسہ کریں اور اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھنے بھجوایں وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ سر جھکائے اسکا جواب ان لوگوں کے ساتھ بس بس جی جی۔۔۔ “جی بہتر” کے سوا کچھ نہ ہوتا لوگانکے گھر اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھنے چھوڑ کر چلے جاتے اور وہ نگاہ جھکاکر کسی معاوضے کی بات کئے بغیر ہی بس اپنی ذمہ داری نبھا تی رہتی۔۔۔۔

ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھانا اوروں کے مقابلے میں بچوں کی بنیادمضبوط کرکے انکے تعلیمی عمل کو ایک دلچسپ مشغلہ بنادینا اس نے اپنےایمان کا جز و سمجھ لیا

بچوں کے ساتھ بچہ بن کر کھیلتی ایسا کہ بچے اسکول سے زیادہ ٹیوشنوالی باجی کے اسیر بنتے چلے گئے –

اس طرح وہ اس گلی کی ذمہ دار ٹیوشن والی باجی بن گئیں۔۔۔۔ عمر دیکھکرکئی ایک کا دل چاہا بھی ہو کہ پوچھے کہ اس عمر میں جھکی نظر یں, ذمہ داریوں کا بوجھ اور مجرد رہنا، راز کیا ہے؟

لیکن زبان جب کھلے گی اندرون تار تار کردے گیاور کمزوریوں سے سامع کو آشنا کرکے ھمدرد بنالے گی۔۔۔ اور سامع بڑی چالاکی سے کمزوریوں کا ازالہ کرنے کے لئے سبز باغ دکھاکر مزید قعرِ ذلت کی طرف دھکیل دے گا۔۔ منہ چپ کا تالا یا مختصر جواب سامع پر تجسس کے در وا تو کرے لیکن رعب ایسا قائم کرےکہ بندہ چاہ کر بھی احترام کی دیوار پار نہ کرسکے۔ یہ ھمدرد ی جتانے والوںپر بھروسہ نہ کرنے کا اتنا منجھا ہوا تجربہ کیسے اس نے اپنی عمر کےاکیسویں سال سیکھ لیا، یہ کہانی واقعی دلچسپ، درناک اورعبرتاک ہے۔

تاہم وہ اس نتیجہ پر ضرور پہنچی تھی کہ دایا کا بچے کو افیون دینا تلخی حیات سے قبل از وقت آشنا کروانے کاطریقہ ہی درست ہے کہ زمانہ سے آشنائی وقت سے پہلے ہی ہو کہناآشنائی کرب زندہ موت ہے

فرزاد کالونی میں جو ابھی نئی بستی تھی اس جگہ وہ کیسے پہنچی تھی یہ ایک طویل کہانی تھی۔۔۔۔ اس نے بہت گہری سانس لے کر سوچا تھا آج کل تو بہتر ہی گزر رہی صد شکر میرے رب تیرا کہ اب جاکے عزت کے دو لقمے مل جاتے ہیں۔۔۔ یوں تقدیر کے شدید ترین دھکوں میں سے یہ بھی ایک دھکا تھا جو اس مقام پر ہوں۔ آہ کیسی خوفناک رات نے مجھ کو اس بستی کی طرف دھکیلا تھا

لیکن سچ بھی تو ہے جس کو انتہائی خوفناک اور برا سمجھی تھی اسکے طفیل میں۔

کرایہ کا یہ کمرہ سر چھپانے کے لئے 10 / 12 کا کمرہ، اس میں ایک چھوٹا سا دیوان ایک جانب اسٹوو اور چھوٹی سی صراحی اور تھوڑی سی جگہ جہاں بیک وقت اسکے ٹیوشن کے دس سے بیس بچے بیٹھ سکتے ہیں۔۔۔۔ میرے لئے کافی ہے کپڑے بھی تو قیمتی ہیں، آہ بہت دکھ کے ساتھ اس نے گہرا سانس لے کر سوچا تھاااا۔۔۔۔

لباس تن ڈھانکنااا پیٹ بھرنے کے لئے کھانا پکانا اور کھانے کے لیے کمانااا۔۔۔۔ اور سر چھپانے کے لئے چھت اس چھت کے حصول کے لئے۔۔ ٹویشن یہ میری زندگی کے پرسکون ہونے کی دلیل ہی تو ہے۔۔۔۔ اُس شدید تپش سے تو بہتر ہی جو زندگی کے تپتی ریت پر برہنہ پا چل کر عبور کی جاتی ہے بڑی جلن بڑی تڑپ تھی اس مسافت میں۔۔۔۔

جسم کے زخم ,پیر کے چھالے,قابل برداشت تب بھی ہے روح پر لگے زخم۔۔۔۔خون کے بدلتے رشتے۔۔۔۔اپنے ہی جگر پاروں کے بکھرے ریزہ ریزہ کردار کی کرچیاں سمیٹنا کتنا تکلیف دہ ہوتا یہ میں ہی جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسا محسوس ہوتا ہے جب اپنی ہی چھت اپنا ہی سائباں گرمی سے تحفظ کے بجائے شعلے اگلنے لگے۔۔۔۔۔

کوئی اس کرب سے گزرے تو جانے نا۔۔ شعور کی زندگی عذاب ہے شعور کی موت راحت ہے۔۔۔۔۔۔۔ابھی سوچوں میں مگن تھی کہ دروازے پر ہلکی دستک ہوئی ایک برقعہ پوش خاتون نے منحنی سے آواز سے کہا ٹیوشن والی باجی۔۔۔۔۔۔!!!!!

اندر آجائیں۔۔۔۔اس نے آواز دیتے ہوئے اپنا وڈپٹہ درست کیا

اس برقعہ پوش خاتوں کے ساتھ ایک نازک سی بارہ سالہ بچی تھی نین نقش سے اسکو ایک لمحے کے لئے اپنا بچپن یاد آگیاااا۔ کتنی مشابہت ہے اس بچی میں اور مجھ میں اسی طرح دبلی پتلی سہمی ہوئی نازک سی سفید رنگ ستواں ناک گہری آنکھیں رخسار اٹھے ہوئے۔۔۔ اسکارف کے ایک کونے سے کھیلتی ہوئی اس بچی کو دیکھتی گئی۔۔ اس برقعہ پوش خاتون نے اس بارہ سالہ لڑکی کی طرف اشارہ کیا باجی اسکی ٹیوشن لگوانی ہے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔کچھ کہتے کہتے ر ک گئی۔۔۔۔۔

خاتون کی آواز میں لرزا تھا۔۔۔۔اس نے چاہ کر بھی مزید سوال نہیں۔ جانتی تھی اس ” لیکن” کے پیچھے کچھ عجیب سی کہانی ہوگی۔۔۔۔اب کہانیاں اس کو متجسس نہیں کرتی تھیں۔۔۔۔۔اور وہ کسی دکھ بھری داستان کو سننے کی متحمل نہیں تھی۔۔۔یہ وجہ ہر گز نہیں کہ وہ کمزور دل کی واقع ہوئی اور دکھ سن کر رودے گی

نہیں بلکہ کسی کا دکھ اسکو مزید سرد اور سفاک بناتا جارہا تھا اسکی درد محسوس کرنے کی حس اب دم توڑ چکی تھی۔۔۔۔نتیجہ یہی اخذ کیا تھا اس نے زندگی سے کہ

حساسیت جذبات لطافت۔۔۔بھروسہ۔ شاید بدلتے زمانے نے عورت سے چھین لیے –

وہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی کہ۔۔۔۔اس عورت نے مخاطب کیا باجی۔۔۔۔!!!!!

ٹیوشن کے بعد ایک گھنٹہ میری ثمرین کو روک سکتی ہو “اسکے بابا کے سونے کے بعد بھیجنا “”میں فون کردوں گی۔۔۔ اسکے زیادہ پیسے دے سکتی ہوں۔۔۔۔

اس نے حسرت بھری نگاہ اس لڑکی پر ڈالی اور کہا نین و نقش کی طرح قسمت بھی میری لائی ہو۔۔۔۔۔قدرے بڑ بڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔۔۔

خاتون کو ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔مجھکو کوئی مسئلہ نہیں پیسے کی بات رہنے ہی دو

اس بات پر وہ ذرا بھی نہیں چونکی تھی کہ بابا کے سونے کے بعد بیٹی کو بلانے کا مقصد کیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ خاتون اسکے اپنے خیال میں الجھادیکھ کر کہنے لگی باجی میں جارہی ہوں کل سے بھجواؤں گی احسان یاد رکھوں گی باجی۔۔۔۔۔۔۔اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھاااا

وہ اپنے خیال میں غرق ہی تھی کہ اسکو زپ زپ زپ۔۔۔۔۔کی آواز جو ربر کے بیلٹ کی کاری ضربیں اور اسکی ساتھ اللہ جی۔۔۔۔۔اللہ جی۔۔۔۔پھر زپ زپ زپ۔۔۔۔کی آواز پر اس نے اپنے پلکیں جھپکائی ہیں اسکے تصور کا انہماک ٹوٹا تھاااا۔۔۔۔آنکھوں کے کنارے جلنے لگے تھے۔۔۔۔وحشت سے اس نے فورا پہلو بدلا تھاااا۔۔۔۔اور تصور میں پڑنے والی اس چمڑے کے بیلٹ کے ضرب کو محسوس کیا تو جسم سے خون رستا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔یہ بیلٹ کی لگی ضربیں اس کے لئے نئی بلکل نہیں تھی انکھ بند کرتے ہیں بیلٹ کی ضربیں اور دلخراش چیخیں اسکے کان میں پڑنے والی پہلی چیخیں تھیں۔۔۔۔مطلب اس نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں بلبلا کر, چیختی آواز اور پھر سسکیاں۔۔ صبح ہونے تک سنی تھیں بلکہ یہ زندگی نے استقبال ہی اسکا اس میوزک کے ساتھ کیا تھاااا۔۔۔۔۔

ثمرین نامی اسکی شاگردہ نے اسکی زخموں کو جیسے تازہ کردیا ہو۔۔۔۔ اس کے اپنے دکھ اس انتہاء پر تھے جہاں پہنچ کر اسکے درندہ بن کر لوگوں کے قتل کرنے کے امکان تھے۔۔۔ یا اس مقام پر رہ کر وہ سماج کا زہر بن کر اپنی تلخی کا زہر نسلوں میں عام کرنے لگتی۔۔۔ یا ان تکلیفوں کے ساتھ سماج کی ٹھوکروں کو قبول کرکے۔۔۔ ہر ٹھوکر کی عادی بن کر روڈ پر بیٹھکر انسانیت کا نوحہ کرتی ان سب سے کافی بہتر تھا کہ وہ اپنے تئیں پرسکون ہے۔۔۔۔اسی لئے تو وہ غموں کی اندھیری رات کو سوچنا نہیں چاہتی تھی لیکن۔۔۔ ہر صبح جہاں امکانات کا پیغام لئے انسانیت کو راحت کا پیغام دیتی ہے وہیں۔۔۔۔۔۔ہر شخص اپنی نئی کہانی اور نئے درد کے ساتھ چلا آتا ہے۔۔۔۔اور یہ اسٹوڈنٹ ثمرین تھی ثمرین کا پہلا دن تھا اس نے محسوس کیا ثمرین ڈری سہمی نازک سی دبلی پتلی انتہائی بے ضرر لڑکی ہے۔۔۔۔۔اس نے ثمرین کو کھل کر ہنسنے بات کرنے اور خود سے کلوز کرنے کے لئے اسکول سبجیکٹ سے دل چسپی پوچھا لیکن وہ باتوں سے محسوس کر گئی تھی یہ تعلیم میں کافی سے زیادہ ڈل ہے۔۔۔۔۔۔یوں اسکا مشاہدہ جاری رہا کچھ بہت سارے دن یوں سرکتے گئے۔۔۔۔بہرحال دن تو کسی کا انتظار نہیں کرتے گرز ہی جاتے۔۔۔ان دن اور راتوں کے دامن۔۔۔آہ , کراہ۔۔خوشی کے قہقہے۔۔۔اور ننھنی کلکاریاں سب کچھ ہوتی ہیں لیکن وقت کو بہرحال گزرنا ہے۔۔۔۔ثمرین اپنے وقت پر آتی اور جانے کے وقت پر چلی جاتی۔۔۔۔۔ایک دن کچھ یوں ہوا کہ ثمرین اپنےوقت سے آدھا گھنٹہ لیٹ آئی اور بہت ہی نقاہت سے چل رہی تھی اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ ثمرین سے پوچھے لیکن چونکہ تکلیف کا سب کے سامنے پوچھنا عزت نفس پر چوٹ بھی بن جاتی ہے اس نے سب کے جانے کے بعد پوچھنے کا اارادہ کرکے پڑھانے میں مگن ہوگئی۔۔۔۔۔۔کچھ لمحہ وہ میتھ کے ایک سوال میں سرجھکا کر حل کرنے مین الجھی ہوئی تھی کہ اچانک کیا دیکھتی ہے یہ ڈری سہمی ثمرین عبدالرحمن کو ہذیانی انداز میں مار رہی تھی بیچارہ عبدالرحمن فرش پر چت تھا اور ثمرین کا مارنے کا انداز جنونی تھا۔۔ جیسے کسی بات کا بدلہ۔لینے لگی ہو۔ اس نے تیزی سے اپنے ہاتھ سے کتابیں پھینکیں اور قدرے دوڑ کر ثمرین کو الگ کیا اور دونوں ہاتھ پکڑ کر اٹھانا چاہا۔۔۔۔تبھی ثمرین نے کراہ کر۔۔۔۔۔۔آہ

کیا اور تڑپ کر ہاتھ چھڑالیا۔۔۔ اس نے اندازہ کیا کہ اس بچی کو دونوں بازوؤں میں تکلیف ہے۔۔۔۔

اس کو گلہ لگالیا۔۔۔۔۔۔اور معصوم اسکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگی۔۔۔۔۔اس نے اسکو رونے دیا اور ایک ہاتھ سے عبدالرحمن کو اٹھا کر تسلی دی۔۔۔۔عبدالرحمن ڈر کر صفائی دینے لگا کہ میرا دھکا لگا تھاااا۔۔۔۔جیسے تیسے مناکر بچوں کو گھر بھجوادیاااا۔۔۔۔اور ثمرین سے بازوؤں میں تکلیف کی وجہ پوچھی۔۔۔ یوں بھی ثمرین نے ابھی مزید رکنا تھاااا۔۔۔۔ثمرین رو چکی تھی اور اس سے کافی حد تک کلوز بھی ہونے لگی تھی اسکو اپنی آستین الٹ کر دکھایا۔۔۔۔۔اور دیکھتے ہی دل خراش چیخیں نکل گئیں۔۔۔۔۔۔نازک سے سفید بازوں کو بڑی بے دردی اور سفاکی سے جلے ہوئے سگریٹ سے داغا گیاتھاااا۔۔۔۔دونوں بازوؤں میں گڑھے ہوئے زخم دیکھ کر اندازہ ہوا کہ دس بارہ گھنٹے گزر چکے ہیں زخم کالے پڑچکے تھے۔ اور مزید پک کر تکلیف دہ۔۔۔۔بلکل ان یادوں کی طرح جو وقت کے ساتھ ناسور بن کر تڑپاتی ہیں۔۔۔ اور سفید پس بھی کنارے سے جھانک رہا تھاااا۔۔۔۔آہ

بازوؤں پر حساسیت اتنی شدید ہوتی ہے جہاں چیونٹی کاٹ لے تو جان نکل جاتی ہے اس جگہ سگریٹ سے داغنا معصوم بارہ سالہ بچی کی اذیت اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔۔۔ تبھی اس نے کہا باجی ادھر بھی ہے

اور اپنے پیر دکھانے لگی۔۔۔۔۔اسکی چخیخ بلند ہوئی یہ کس نے کیااااااااا۔۔۔۔ثًمرین نے سسکاری بھرتے ہوئے کہا بابا نے

وہ تمہارا سگا باپ ہے۔۔۔۔۔درندہ۔۔۔۔۔کیوں کیا اس نے یہ سب۔۔۔۔۔۔اس کا دل پھٹنے کو تھااااا

رات میں دیر تک بابا کے پیر دباتے دباتے نیند لگ گئی تھی نیند نہ لگے اس لئے ایسا کرتا ہے

کیا وہ تمہارا سگا باپ ہے

وہ میرے بابا نہیں۔۔۔۔۔۔ثمرین نفی میں برا منہ بنا کر کہنے لگی۔۔۔۔۔!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: