بلیک ہول کیا ہے؟ —– نعمان کاکاخیل

0
  • 235
    Shares

ہر طالب علم کے ذہن میں یہ بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ بلیک ہول کا انسان کو براہ راست کیا فائدہ ہے؟ اور یہ مستقبل میں انسانی زندگی کے اوپر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟ سائنس سے متعلق علوم کائنات کے رازوں کو فاش کرنے اور علم و آگہی کی تشنگی، سائنس دانوں کو تحقیق پر مجبور کرتی ہے۔ انسان کے اندر تشکک کا مادہ انسان کو اپنے ارد گرد موجود کائنات کی تحقیق پر آمادہ کرتا ہے اس سے قطع نظر کہ اس کا انسان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مادہ نا ہوتا تو آج ہمارے ہاتھوں کے اندر موبائل، ہمارے سامنے کمپیوٹر اور جدید آلات نا ہوتے۔ کسی بھی تحقیق کے فوراً بعد اس کے انسانوں کے لئے فوائد کو سمجھنا مشکل کام ہے۔ ایسے ہی کشش ثقل کی بنیاد سمجھنے کے لئےعرصہ دراز سے تحقیق جاری ہے۔ کشش ثقل کی بدولت تمام اجسام زمین کی طرف گرتی ہیں اور تمام سیٹلائیٹ زمین کے ارد گرد گردش کرتے ہیں۔ بلیک ہول کشش ثقل کے بارے میں سائنس دانو ں کا علم مزید بڑھانے اور واضح کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سکول کے ابتدائی سائنسی علم کی روشنی میں ہمیں معلوم ہے کہ چاند زمین کے گرد گردش کرتی ہے۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ جب کہ سورج بشمول تمام سیاروں کے (دوسرے الفاظ میں نظام شمسی) بلیک ہول کے گرد گردش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے چھوٹے بلیک ہولز ہمارے آکاشگنگا کہکشاں (Milky way Galaxy) کے اندر حرکت کرتے رہتے ہیں۔ اور شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ یہ ہمیشہ سائنس دانوں کی دلچسپی کا مرکز رہے ہیں۔

بلیک ہول ایک انتہائی کثیف مادہ ہے جہاں کشش ثقل اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی جسم (بشمول روشنی) بلیک ہول کے اندر جانے کے بعد واپس نہیں آ سکتی۔ گویا کہ یہ اجسام کے لئے ایک یک طرفہ راستہ ہے۔ بلیک ہول کے اردگرد کچھ خاص حدود ہیں جس کو ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ حد ہے جہاں کسی جسم کے داخل ہوتے ہی اس کی واپسی کے امکانات یکسر ختم ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی جسم بلیک ہول کے اندر جانے کے بعد کہاں چلا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی تک ڈھونڈا جا رہا ہے۔ اگر کوئی جسم ایونٹ ہورائزن میں داخل ہونے کے بعد واپس نکلنا چاہے تو اس کو روشنی کی رفتار (speed of light) سے تیزرفتار (Speed) کے ساتھ حرکت کرنا ہوگی جو کہ آئن سٹائن کے مطابق کسی بھی جسم کے لئے نا ممکن ہے بصورت دیگر جسم توانائی کے اندر تبدیل ہو جائے گی۔

بلیک ہول کی تصویر، ہیئت و حالت ہمیشہ سائنس دانوں کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے جس کے لئے عرصہ دراز سے سائنس کمیونٹی کے اندر کوششیں چل رہی تھیں۔ بلیک ہول کی تصویر لینے کے لئے زمین کی جسامت کے برابر دوربین (Telescope)کی ضرورت تھی جو کہ تقریباً ناممکن تھا۔
دس اپریل 2019 کو سائنس دان بلیک ہول کی ایک تصویر ریکارڈ کرنے کے اندر کامیاب ہو سکے۔ تصویر کے ریکارڈ کرنے یا عکس بندی کے ساتھ ہی کیمرے کا تصور ذہن میں ٓتا ہے لیکن یہاں بلیک ہول کی عکس بندی کا طریقہ کار عام کیمرے سے قدرے مختلف ہے۔ اس تصویر کو ریکارڈ کرنے کے لئے ایک خاص دوربین استعمال کیا گیا جس کا نام ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ (Event Hrizon telescope)ہے۔ یہ آٹھ ریڈیو دوربینوں (Radio Telescopes) پر مشتمل ایک سیٹ اپ ہے جس کو پانچ بر اعظموں کے اندر نصب کیا گیا تھا تا کئی ہزار نوری سالوں (Light Years)کے فاصلے سے آنے والی موجوں کو ریکارڈ کر سکے۔ ان موجوں کو ان آٹھ ریڈیو دوربینوں کے ذریعہ ریکارڈ کیا گیا اور پھراس تمام اکھٹی کی جانے والی معلومات کو سپر کمپیوٹر (Supe Computer)کے ذریعے اکھٹا کر کے ایک تصویر بنائی گئی۔ لہٰذا س طریقے سے بلیک ہول کی تصویر بنانا ممکن ہوا۔ مذکورہ بلیک ہول کی کی کمیت (mass) سورج (Sun) کی کمیت سے6بلین گنا زیادہ ہے۔ M87 نامی کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی تصویر لی گئی ہے جو کہ 53ملین نوری سالوں (Light years)کے فاصلے پر ہے۔ ایک نوری سال 9.5 ٹریلین کلو میٹر کے برابرفاصلہ ہے۔

یہ ڈیٹا قریباً دو سال پہلے اکھٹا کیا گیا تھا۔ ڈیٹا انتہائی زیادہ ہونے کے باعث تصویر کو شکل دینے میں دو سال کا عرصہ بیت گیا۔ دو سو کے لگ بھگ سائنس دان اس منصوبے کا حصہ رہے۔ M87 کے ساتھ ساتھ ہمارے آکاش گنگا کہکشاں (Milky way Galaxy) کے مرکز میں موجود بلیک ہول کی بھی تصویر لی گئی۔ اول الذکر بلیک ہول کی زمین سے دوری اور آہستہ حرکت کے باعث اس کی عکس بندی کے اندر آسانی رہی۔
تصویر کی تفصیلات کے اوپر اگر بات کی جائے تو مرکز میں موجود کالے رنگ کا دائرہ ایونٹ ہورائزن ہے جس کا ذکر مضمون کے شروع میں کیا جا چکا ہے۔ ارد گرد لال و نارنجی رنگ تیزی کے ساتھ حرکت کرنے والے چھوٹے ذرے ہیں جو کہ بلیک ہول کی طرف کھینچے جا رہے ہیں۔ تصویر کے اندر رنگ سمجھنے کے لئے بھرا گیا ہے کیوں کہ بلیک ہول سے آنے والی موجیں انسانی آنکھ کی دیکھنے کی اہلیت سے ماورا ہے۔
بلیک ہول کی تصویر لینا ایسا ہی ہے جیسے کالی چیز کا کالی رات اور گھپ اندھیرے کے اندر تصویر لینا۔ لیکن بلیک ہول کے پیچھے سے آنے والی شعاوؤں کو ارد گرد موجود ذرے روکتے رہتے ہیں۔ پس منظر (Background) سے آنی والی شعاوؤں کا معانہ کر کے اور اس کو ریکارڈ کر کے بھی بلیک ہول سے متعلق تفصیلات اکھٹی کی جا سکتی ہیں۔

سائنسی حلقوں میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس کے لئے سائنس دانوں نے تقریباً ایک صدی انتظار کیا۔ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ تصویر ہماری سمجھ بوجھ مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل قریب میں نوبل انعام کی حقدار بھی ٹہر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ثقلی موجیں اورڈارک انرجی  Gravitational Waves and Dark Energy

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: