بارے شرارت کے —— شہنیلہ آصف

0
  • 168
    Shares

کہتے ہیں کہ بچہ اور بندر اگر شرارت نہ کریں تو سمجھ لیں کہ وہ بیمار ہیں۔ جبکہ میرے خیال میں یوں کہنا چاہیے کہ انسان اور بندر اگر شرارت نہ کریں تو سمجھ لیں کہ وہ بیمار ہیں۔ یعنی شرارت کرنے کی کوئی عمر متعین نہیں۔ آپ بچپن تا پچپن تا بسترِ مرگ شرارت کر سکتے ہیں۔

یہ تو عشق کی مانند کر گزرنے کا کام ہے۔ ۔ ۔ لڑکپن سے لے کر ادھیڑ پن تک کرو، بار بار کرو اور ہر بار ایک نیا لطف کشید کرتے ہوئے اپنے لیے خوب صورت یادوں کی البم سجاتے رہو۔

شرارت چایے چھپ کر کی جائے یا ببانگ دہل، اس کا خمار سرور آور ہوتا ہے۔ آنکھوں میں کچھ انوکھا کر گزرنے کی چمک، لبوں پر فتح کی مسکان لیے، شرارت کنندہ ساتویں آسمان پر محو پرواز ہوتا ہے، تاآنکہ متاثرہ فریق اسے زمین بوس کر کے یہ نشہ ہرن نہ کر دے۔ لیکن پرواہ مت کیجیے کہ ہر شوق کی ایک قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے۔
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
اجی! کیجیے شرارت کہ زیست دوبارہ نیست

جانیے ہم تو شرارتی تھے، تاحال ہیں اور آئندہ بھی اسی روش پر سلامت رہیں گے۔ ہمیں یہ بات سخت ناگوار گزرتی ہے کہ کوئی ہماری عمر کا احساس دلا کر ہمیں اس لذتِ شرارت سے محروم کرنے کی کوشش کرے۔ ۔ ۔ بھئی جب محبت، نفرت، غصہ، خوشی، دکھ پر مبنی ہر احساس کو فطری مان کر ان کا اظہار آپ آخری ہچکی تک کرتے ہیں، تو پھر شرارت کو اس کا فطری جمہوری حق کیوں نہ دیا جائے؟ اس بیچاری کا کیا قصور کہ ذرا جو عمر ڈھلے تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر کے راندۂ درگاہ بنا دیا جائے۔ رگ مزاح سے متصل یہ رگ شرارت کبھی بھی پھڑک سکتی ہے

شرارت کو ہلکا مت جانیے۔ یہ ایک فن ہے جو اپنے فنکاروں سے مکمل ذہنی و جسمانی صحت کا متقاضی ہے۔ کمزور اعصاب کے حامل شرارت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ شرارت اور خطرات کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو کسی بھاری جسم والے سے کہیں کہ وہ کسی گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگ کر تو
دکھائے۔

بچپن میں دوپہر کو ہمسایوں کے گھر کی گھنٹی بجا کر واپس گھر بھاگ آنا، سوئے ہوئے بہن بھائیوں کے کانوں میں تنکا پھیر کر فوراً سونے کی اداکاری کرنا، یا پھر پیروں کے تلووں پر نرم نرم گدگدی کرنا، سہیلیوں کے بالوں کی چوٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دینا یا ایک دوسرے کو ڈرا دینا وہ چند معصوم سی شرارتیں تھیں جو ہم لڑکیاں کیا کرتی تھیں۔

لڑکوں کی شرارتیں ذرا زیادہ نڈر اور بے باک ہوتی ہیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک مرتبہ جب ہم سب کزنز نانی اماں کے گھر جمع تھے تو ہمارے ایک ماموں زاد نے رات کے کسی پہر سب چھوٹے کزنز کے چہروں پر سیاہ روشنائی مل دی۔ صبح پہلے تو سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے کہ اپنے چہروں کی کالک نظر نہ آئی تھی پھر جب معاملہ کچھ سمجھ آیا تو ایک دوسرے کو مجرم سمجھ کر مارنے دوڑے۔ اس دوران اصل مجرم بھیا کمال سنجیدگی طاری کیے کوئی کتاب پڑھنے میں مشغول رہے۔ شوروغوغا کے بعد تفتیش کا آغاز ہوا، شرارت کے ڈانڈے جب ان سے ملنے لگے تو وہ قہقہ لگاتے ہوئے گھر سے بھاگ نکلے اور ہم سب ان کے پیچھے۔ ۔ ۔

تاہم شرارت اور بدتمیزی کے درمیان حدِ فاصل ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے۔ شرارت اپنی ہئیت میں لطیف جبکہ بدتمیزی کثیف ہوتی ہے۔ جونہی آپ یہ باریک لکیر عبور کریں گے آپ مقبولیت کے پہاڑ سے گر کر نا پسندیدگی کی کھائی میں جا گریں گے۔ شرارت صرف ہنسی مزاح تک محدود رہنی چاہیے، تضحیک اور اذیت رسانی کی حد میں داخل ہو جائے تو بدتمیزی شمار ہوتی ہے۔

اپنے کالج کے دور کی ایک معصوم سی شرارت مجھے یاد آ گئی۔ اس زمانے میں پی ٹی وی پر ہر ہفتے کی رات انگریزی فلم لگا کرتی تھی۔ جس کے ٹریلر بار بار دکھائے جاتے۔ دل فلم دیکھنے کو مچلتا لیکن والد صاحب کا حکم تھا کہ رات ساڑھے نو بجے کے بعد ٹی وی نہیں چلے گا صرف پڑھائی ہو گی۔ لیکن ہمیں تو نیند پڑھائی سے کہیں ذیادہ مرغوب تھی، لہذا مزے سے سو جاتے۔
اگلے روز اپنی سہیلیوں کے گروپ میں بیٹھ کر کامل سنجیدگی سے پوچھتے کہ بتاؤ کس کس نے رات فلم دیکھی؟ جن دو ایک سہیلیوں نے دیکھی ہوتی ان کے ساتھ مل کر پوری فلم کی کہانی، اداکاری، ہدایت کاری اور پی ٹی وی سنسر شپ کی وجہ سے ہونے والی ایڈیٹنگ پر بھر پور رائے زنی فرمائے کے بعد معصومیت سے پوچھتے کہ سکھیو بتاؤ اب فلم میں ہوا کیا تھا؟ سہیلیاں حیرت سے کھلے منہ سے پوچھتیں، “کیا مطلب؟” اور ہم بلا کی معصومیت سے جواب دیتے کہ “تم لوگوں کو علم تو ہے کہ ساڑھے نو بجے کے بعد ہم سو جاتے ہیں تو کیا فلم ہمارے فرشتوں نے دیکھنی تھی؟ یہ تبصرہ تو ٹریلر کی روشنی میں عنایت کیا تھا۔ ” سہیلیاں حیران ہوتیں کہ فلم کا اتنا مکمل ریویو کسے پیش کیا، تو ہم کہتے کہ دو ہی صورتیں بچتی ہیں۔ یا تو تم لوگوں نے بھی فلم نہیں دیکھی یا دیکھ کر سمجھی نہیں۔ یا پھر ہم وہ عظیم گیانی ہیں جو ٹریلر سے پوری کہانی سمجھ لیتا ہے۔ نتیجتاً ہم سب مل کر ہنستے اور خوب ہنستے۔

آخر میں یاد رہے کہ شرارت بھی جگت بازی کی طرح صحیح ٹائمنگ کی متقاضی ہے۔ غلط وقت پر کی گئی شرارت الٹا گلے پڑ سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ پہلے سے ہی گرم توے پر بیٹھا شخص آپ کو بھی گرم توے پر گھسیٹ لے۔ پھر تیرا کیا ہو گا کالیا؟ لہذا موزوں وقت جاننے کے لیے کسی جوتشی سے رہنمائی لینا بہتر رہے گا ورنہ پرہیز شرارت سے بہتر ہے۔

(Visited 248 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: