چترال کتھا: ظفر اللہ

0

 

میں نے مفاہمت کرلی ہے

عبداللہ حسین نے پائپ سلگاتے ہوئے کہا

کس کے ساتھ؟میں نے پوچھا۔۔۔!

اس حقیقت کے ساتھ کہ مجھے بھی میرے سائز کی چارپائی اور جوتے نہیں ملیں گے

یہ سب باتیں’اداس نسلیں‘ اور’باگھ‘جیسے بڑے ناول لکھنے والےمصنف نے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں اشاروں اور کنایوں میں ان ناقدین کو کہاتھا جو اس کے ناول نگار ہونے سے انکاری تھےــ چترال کا محل وقوع،اس کی آبادی،یہاں کی مٹتی سکڑتی تہذیب وثقافت،اور یہاں کی مشہور سوغات کیاہیں؟کیوں ہیں؟لوگ کیوں دور دراز علاقوں سی لمبی مسافتوں کی صعوبتیں جھیل کے یہاں کی برف پوش پہاڑیوں کو سر کرتے ہوئے جوق درجوق آتے ہیں؟ وہ واپسی پہ اپنے ساتھ چترال کا یہاں کے لوگوں کے رکھ رکھاؤ کا کیا تاثر لےکے جاتے ہیں؟کیا وہ اپنے ساتھ صرف کشمش،میٹھے اخروٹ،خشک توت اور خوبانی کی ہی مٹھاس اپنے ساتھ لے جاتے ہیں یا لوگوں کے اچھے اور برے رویّوں کے انمٹ نقوش دلوں میں سجائے لوٹ جاتے ہیں؟وہ یہاں کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں..یہ کبھی میری پریشانی نہیں رہی ہے..حالانکہ لوگوں کی قائم کردہ رائے ہی تعارف بن جاتی ہیں میں اس نسل سے تعلق رکھتاہوں جس کےلئے ہی عبداللہ حسین نے”اداس نسلیں”لکھاتھا.ہر وقت ہر حالت میں ہشاش بشاش رہنے والی اور راضی برضا سمجھی جانے والی قوم سے تعلق ہونے کےباوجود میں کیوں مغموم ہوں..کونسا احساس ہے جو مجھے کسی کَل چین نہیں پڑھنے دےرہا؟ میرا مسئلہ چترال کے حسن کا گہنا جانا ہے.میرا مسئلہ یہاں پر وہ طبقہ ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں کتاب اور قلم تھمانے کے بجائے سیگرٹ  اور بھنگ پکڑا رہے ہیں.میرا مسئلہ وہ مذھبی اجارہ دار ہیں جو منبر ومحراب میں بیٹھ کر نفرت بیچ رہے ہیں..میرا مسئلہ منشیات کاکھلے عام کاروبار کرنے والے ہیں..یہاں جنگلات کی بےدریغ کٹائی ہورہی ہے اور دیار لکڑی کی اسمگلنگ اپنی انتہاکو چھورہی ہے قتل وغارت کے واردات پنپ رہے ہیں..تعلیم ہے مگر معیار عنقا ہے..میرا مسئلہ یہاں کا وہ انتظامیہ ہے جو یہ سب کچھ ہوتادیکھ رہاہے مگر حالت نزع میں مبتلا ہے… ایک دفعہ استاد محترم ڈاکٹر سہیل احمد یونیورسٹی میں چہل قدمی کرتےہوئے مجھ سے کہاتھا.. ظفر…!میں نے چترال میں دوسال گزارے ہیں.مگر ان ایام میں کوئی چوری چکاری کوئی جھگڑا نہیں ہواتھا.لوگ اپنی بائیک بغیر لاک کئے سڑک کنارے کھڑی کرکے اپنے روزمرہ نمٹاتے تھے…استاد محترم نے کہاتھا یہ دن میری زندگی کے حسین ترین دن تھے.. آج یہ باتیں خواب لگتی ہیں..آج یہ سرزمیں فتنوں اور آزمائشوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے عبداللہ حسین قدآور شخصیت کے مالک تھے وہ مفاہمت کرگئے مگر مجھ سے اپنے سماج کے ساتھ اور اپنی اس نئی نسل کے ساتھ مفاہمت نہیں ہورہی..عبداللہ حسین کے "نئی نسل”اور "باگھ” کی آواز ادب میں اب بھی گونجتی ہے اس کی اداسی نے دو نسلوں کو متاثر کیاہے..مجھ سے کچھ اور تو نہ ہوا پر میں نے اسی اداسی کو امانت جان کراپنے سینے سے لگائے رکھی ہے.

About Author

Daanish webdesk.

Comments are closed.

%d bloggers like this: