پر امن پاکستان کنونشن: سماجی ذرائع ابلاغ سے برسر زمین —- حبیبہ طلعت

0
  • 108
    Shares

گذشتہ دنوں اسلام آباد ہوٹل میں منعقدہ “پر امن پاکستان کنونشن” انتہائی کامیابی سے عوام اور میڈیا کے ساتھ ساتھ ریاست کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ سوشل میڈیا سے اٹھنے والی اس آواز نے برسرزمین خود کو منوایا۔ جس ملک میں ابھی شہری اور حقوق شہریت کی قدر کا ماحول نہیں ہے وہاں ہی شہریوں نے پاکستان کے جھنڈے تلے اپنے ملک کے اہم علاقے فاٹا جسے کئی دہائیوں سے شورش زدہ قرار دیا گیا ہے، تعلق رکھنے والے پختون ہم وطنوں کا موقف خود ان کی زبانی سنا۔ ان کے لہجوں سے درد نمایاں تھا کہ جن کی حیات وبال بن چکی تھی۔ ۔ ۔

فاٹا کی گیارہ ایجنسیوں کے باشندے حالات کی ستم ظریفی کے باعث ملک کے دیگر علاقوں کی طرف جا نکلے کچھ اپنی زندگی کیمپوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس پسماندہ قبائلی علاقہ جات میں معیشیت ہی نہیں تمام۔ سماجی ادارے جو آبادی کے تناسب سے پہلے ہی ناکافی تھے اب مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال ابتر ہے۔ اگرچہ ضرب عضب اور ردالفساد سے دھشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے تاہم اب بھی حد درجے شدید مسائل کے باعث یہاں لسانی اور علاقائی تعصبات کی وجہ سے علاقے سے متعلق خبروں پر رائے عامہ منتشر ہے۔

کنونشن میں گورنر کے پی کے شاہ فرمان اور کرک سے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے ساتھ خصوصی شرکت ریاست کی جانب سے مسئلے کی نوعیت کو قبول کرنے کی سند ہے۔
جرگے سے خطاب کے دوران گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے کہا کہ “عالمی طاقتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں تاہم پاکستانی عوام کی وجہ سے ہی پاکستان اپنی جگہ اب بھی مستحکم ہے۔ قبائلیوں کی وطن کے لیے قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کو محسنان پاکستان کے نام سے یاد کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے جرگے اور پی ٹی ایم کے وفود کو گورنر ہاوس آنے کی دعوت دی تاکہ مسائل پر مزید پیش رفت کی جاسکے۔ ”

یوں تو سوشل میڈیا کا ابلاغ اپنی موثر قوت کو دنیا بھر سے منوانے میں کامیاب ثابت ہو چکا ہے لیکن پاکستانی سماج میں نفوذ پذیری کے ضمن میں عوام کے ساتھ گفت و شنید کا پہلا انوکھا موقع رہا۔ جرگہ پاکستان کنونشن صرف چھ ھفتوں کی قلیل مدت میں بے پناہ مربوط محنتوں کا ثمر بن کر سامنے آیا۔ اس کے انتظامی اراکین میں سوشل میڈیا کے نمایاں نام اور دیگر، مثلا عابد آفریدی جو کہ ہردلعزیز نوجوان ہیں جرگہ کے صدر ہیں، ڈاکٹر ریاض، حسیب حیدر عارف خٹک، شاہد اعوان، محمود فیاض، اسرار احمد ایم عمیر اقبال اور ترجمان جرگہ خواتین محترمہ ثمینہ ریاض احمد شامل ہیں۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا نہ صرف منفرد پروگرام تھا بلکہ بے حد کامیاب ثابت ہوا۔ جس میں صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان سب کے سوا ملک کے تقریبا تمام ہی صوبوں سے شہری اس اہم ترین حساس مسئلے کی بابت جانکاری حاصل کرنے آئے۔ یہ کنونشن ایک خوش آئند صبح کا آغاز ہے جدھر شریک تمام قومیتوں کے تعلیم یافتہ طبقات نے اپنے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔ تحمل رواداری اور بھائی چارہ کی فضاء نظر آئی کسی لسانی اور علاقائی تعصب کی بات نہیں کی گئی۔ کسی طبقے نے کسی قومیت کو رد نہیں کیا۔ کنونشن کے کسی بھی مندوب نے تضحیک کا رویہ نہیں اپنایا۔ سب نے پر امن پاکستان کی خواہش کا خیر مقدم بھی کیا اور اسکے لیے خود بھی ذمہ دار شہری کے طور پر بہترین طرز عمل پیش کیا۔

“پر امن پاکستان” کنونشن میں دو سیشن منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن میں عابد آفریدی اور ثمینہ ریاض احمد نے جرگہ پاکستان کے پس منظر پر روشنی ڈالی، اغراض و مقاصد بیان کیے۔ فاٹا میں بسنے والوں کے مسائل بیان کیے۔ سرگرم عمل معروف صحافی عارف خٹک، عبدالباسط، محمود فیاض نے باہمی تعاون سے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور مہمانان گرامی کا مختصر تعارف پیش کیا۔ مقررین جن میں ممتاز صحافی اباسین یوسفزئی، رحیم اللہ یوسفزئی، حسن خان، آصف محمود شامل رہے۔ ان سب نے تعمیری نکات اٹھائے اور علاقے کے مسائل کے باعث صورتحال کی پیچیدگی نمایاں کی۔ ساتھ فاٹا سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے اولس یار اور مجید دراوڑ نے پی ٹی ایم کی نمائندگی کی، علاقے کی صورتحال اور مسائل کی بابت حقائق بیان کیے۔

ان سب مقررین کے سوا ملک کے تقریبا تمام ہی صوبوں سے مختلف قومیتوں کے شہری اس اہم ترین حساس مسئلے کی بابت جانکاری حاصل کرنے آئے۔ یہ کنونشن ایک خوش آئند صبح کا آغاز ہے جدھر شریک تمام قومیتوں کے تعلیم یافتہ طبقات نے اپنے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا۔

ملک بھر سے تمام شریک وفود نے یہ مثبت پیغام دیا کہ وہ اپنے پشتون بھائیوں کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گلے شکوے ہوئے، ایشوز پہ بات کی گئی۔ حل کرنے کے طریقہء کار پہ بحث کی گئی۔ ریاست اور عوام کے حقوق و فرائض پہ بات کی گئی۔ مسئلے کی حساسیت کو بھی پوری طرح ملحوظ خاطر رکھا گیا اور کوئی ناگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ تحمل رواداری اور بھائی چارہ کی فضاء نظر آئی کسی لسانی اور علاقائی تعصب کی بات نہیں کی گئی۔ کسی طبقے نے کسی قومیت کو رد نہیں کیا۔ کنونشن کے کسی بھی مندوب نے تضحیک کا رویہ نہیں اپنایا۔ سب نے پر امن پاکستان کی خواہش کا خیر مقدم بھی کیا اور اسکے لیے خود بھی ذمہ دار شہری کے طور پر بہترین طرز عمل پیش کیا۔

چائے کے وقفے کے بعد سیشن کا دوسرا اور اہم ترین سیشن چوپال (وڈیو کا لنک) کے نام سے منعقد ہوا۔ محمود فیاض کی نظامت میں سوشل میڈیا کے جانے پہچانے مختلف ویبسائٹوں کے واسطے سے کالم نگاری اور مضمون نگاری سے متعلق احباب شریک گفتگو رہے۔ معروف بلاگر فرنود عالم، مجاہد خٹک، آئی بی سی اردو کے سبوخ سید اور دانش ویب گاہ کے مدیرشاہد اعوان کے علاوہ جرگہ پاکستان کوئٹہ کے نمائندے نجیب اغا اس مذاکرے میں شریک رہے۔

خوشگوار ماحول کی برکت سے یہ شرکائے گفتگو نے واضح نظریاتی کشمکش کے باوجود اپنے تجزیوں میں زیر بحث معاملات پر متوازن رائے کا اظہار کیا۔ سوالات کی دعوت ملنے پر سامعین کی جانب سے بھی کئی اہم سوالات اٹھائے گئے اور اس سوال جواب میں مزید کئی تصفیہ طلب امور زیر بحث آئے۔

گول میز کانفرنس کے پہلے مندوب کوئٹہ سے نجیب آغا تھے جنہوں نے کہا کہ آج یہاں سب سے زیادہ PTM کو ڈسکس کیا جا رہا ہے جو فاٹا کے ایشوز اٹھا رہی ہے لیکن ہمیں بلوچستان کو نہیں بھولنا چاہیے۔ وہاں گمشدہ افراد کا ایک بہت بڑا ایشو ہے، لیکن بدقسمتی سے کوئی ایسا طاقتور میڈیم نہیں ہے جو اس مسئلے کو اٹھائے۔ ایشوز ہر جگہ ہیں اور ہمیں اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کیوں ہمارے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں؟

ان کے بعد معروف بلاگر سبوخ سید نے کہا کہ بعض اوقات حالات ایسا رخ اختیار کرلیتے ہیں کہ آرمی چیف کی بھی مرضی نہیں چلتی۔ فاٹا ایسا ہی ایک حساس ایشو ہے جس پر ہر متعلق شخص پریشان ہے لیکن مروجہ نظام میں آزادانہ گفتگو بھی ممکن نہیں ہے۔

 شاہد اعوان نے کہا کہ یہاں مہمانوں نے اہم نکات اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ ریاست کی پاور کہاں ہے؟ اس معاملے پر مزید بات کی جا سکتی ہے، اور غور طلب امور کا تجزیہ کرنے کے لیے مباحثہ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم اسے جواز قرار دینے کی کوشش کسی بھی ریاست کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔

مجاہد خٹک نے منفرد اسلوب میں اپنا موقف پیش کیا کہ ان کے بزرگوں نے متحدہ ہندوستان میں عمر گزاری۔ ہندوستان کے تقسیم ہونے سے انکی محبت ناکام ہوگئی۔ جب پاکستان بنا تو والد نے نظریہ پاکستان کی محبت میں عمر گزاری مگر یہاں بھی پاکستان تقسیم ہوگیا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ گویا یہ محبت بھی ناکام ہوگئی۔ اب ہم نئے پاکستان کی محبت کے اسیر ہیں۔ مگر رویے نہ بدلے گئے تو خدشہ ہے کہ ہماری نسل کی محبت بھی ناکام نہ ہو جائے۔

فرنود عالم نے مزید ٹھوس نکات اٹھائے اور کہا کہ ہمیں جو مسائل درپیش ہیں ان کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ ہم ریاست کو مقدس ترین مان کر ہر شہری سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام تر حقوق قربان کر دے۔ یہ سوچ متوازن نہیں۔ ریاست کا وجود بہرحال شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرنے سے عبارت ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں احتجاج کے راستے ہی بند کر دیئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسی شدید صورتحال سامنے آتی ہے جو ہمارے سامنے ہے۔

مذاکرے کے اختتام پہ ثمینہ ریاض نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ماں پرسکون نہیں ہے۔ اسکے سامنے شدید مسائل ہیں۔ اس کے بچے زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس ماں کی سننی ہے اور اسکے دکھ کا چارہ کرنا ہے۔ جس کے لیے جرگہ پاکستان جلد ہی اپنا وفد تشکیل دے گا۔

آخر میں عابد آفریدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔

اس امر پہ کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کنونشن فاٹا سے متعلق ایشوز کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایک عوامی پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جہاں پی ٹی ایم کے نمائندوں کو سنا، مختلف سماجی طبقات اور ریاستی اداروں کی شرکت ممکن ہو سکی۔ جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: