سیاسی چیلنج: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (5) —– یوول نوح حریری

0
  • 63
    Shares

انفوٹیک اور بائیو ٹیک کے انضمام نے آزادی اور مساوات کی جدید لبرل اقدار کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمگیر تعاون ناگزیر ہوگا۔ مگر قوم پرستی، مذہب اور ثقافتوں پر مبنی تقسیم عالمی سطح پر انسانوں میں تعاون ممکن نہ ہونے دے گی (۱)۔

کمیونٹی
انسان گوشت پوست رکھتے ہیں (امریکا کی ریاست) کیلیفورنیا میں زلزلے آتے رہے ہیں، مگر دو ہزار سولہ کے انتخابات میں یہاں ایسا سیاسی زلزلہ آیا تھا، جس سے سیلیکون ویلی میں بھونچال آ گیا تھا۔ یہاں کے باشندوں کو محسوس ہوا کہ وہ انتخابی عمل میں مسئلہ بن کر سامنے آئے تھے (آن لائن روسی مداخلتوں کی شکایتیں موصول ہوئی تھیں، مترجم)۔ مین لو پارک فیس بک ہیڈ کوارٹرز میں جیسے ہلچل مچ گئی تھی۔ سوشل نیٹ ورکنگ معاشرتی ابتری بنتی نظر آ رہی تھی۔ تین ماہ کی تحقیقات کے بعد، فیس بک مالک مارک زکر برگ نے نئے اصولوں پر مبنی منشور جاری کیا تا کہ عالمی فیس بک کمیونٹی کو مستحکم کیا جا سکے۔ مارک زکر برگ نے وعدہ کیا کہ وہ آن لائن کمیونٹی کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور انجینئرز مصلحین اور پادریوں کی جگہ سنبھالیں گے۔ ہم ایک ایسا پراجیکٹ شروع کریں گے جو آپ کو مفید گروہ میں شمولیت کے لیے مشورے فراہم کرے گا۔ یہ کام آرٹیفشل انٹیلی جنس نے پہلے ہی شروع کر دیا ہے اور یہ بھرپور کام کرتا ہے۔ ابتدائی چھ ماہ میں، آرٹیفشل انٹیلی جنس نے پچاس فیصد صارفین کو مطلوبہ کمیونٹی میں شامل ہونے میں مدد فراہم کی۔ مارک زکر برگ کا ہدف ہے کہ ایک ارب صارفین کو مختلف کمیونٹیز کا حصہ بنایا جائے تا کہ انسانی برادریوں اور گروہ بندی کی گرتی شرح پر قابو پایا جا سکے اور ایک عالمی سوشل نیٹ ورک منظم کیا جا سکے۔ دنیا بھر کی کمیونٹیز کو قریب لایا جائے۔ یہ فیس بک کا مشن قرار پایا تھا ۔

مارک زکر برگ نے یقیناً صحیح کہا تھا کہ انسانی کمیونٹیز کی گھٹتی شرح تشویشناک تھا۔ مگرچند ماہ ہی بعد مارک زکربرگ کا ارادہ اور وعدہ اُس وقت مشکل میں پڑ گئے جب کیمبرج اینالٰٹیکا اسکینڈل سامنے آیا۔ انکشاف ہوا کہ تیسری پارٹی فیس بُک ڈیٹا خرید کر دنیا بھر کے انتخابات میں دھاندلی کروا رہی تھی۔ زکر برگ کے عزائم مذاق بن کر رہ گئے۔ لوگوں کا فیس بک پر سے اعتبار اٹھ گیا۔

اگرچہ ممکن ہے کہ اکیسویں صدی میں انسان خدائی خاصیتوں کی سطح پر اپ گریڈ ہو جائیں، تا ہم اب (۲۰۱۸) تک ہم پتھر کے دور جیسے جانور ہی ہیں۔ اجتماعی نشوونما کے لیے آج بھی ہمیں گروہ بندی میں زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔کروڑوں سال انسان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں ہی زندگی بسر کرتا آیا ہے۔ چاہے فیس بُک پر ہم کتنے ہی دوستیوں کا دعوٰی کریں، آج بھی ہم شخصی طور پر صرف سو ڈیڑھ سو افراد سے ہی جان پہچان رکھتے ہیں۔ اس گروہ بندی کے بغیر انسان خود کو تنہا اور مرکزی دھارے سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔

بد قسمتی سے، گزشتہ دو صدیوں سے انسانی گروہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ باہم جان پہچان رکھنے والے چھوٹے گروہ قوموں اور سیاسی جماعتوں کی تصوراتی کمیونٹیز کا متبادل نہیں بن سکے ہیں۔ آپ کے قومی خاندان کے کروڑوں بھائیوں میں سے کوئی بھی آپ کی داد رسی نہیں کر سکتا مگر کوئی بھی قریبی دوست یا بہن بھائی آپ کی اشک شوئی آسانی سے کر سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ مضبوط ترین روابط کی دنیا میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ آج کی دنیا میں معاشرتی اور سیاسی انتشار کی یہی وجہ ہے(۲)۔

لہٰذا ، مارک زکر برگ کی جانب سے آن لائن لوگوں کو باہم جوڑنے کا نظریہ بروقت ہے۔ مگر الفاظ کی عمل کے آگے کوئی وقعت نہیں ہے۔ جب کہ اس نظریے کے اطلاق کے لیے فیس بک کو شاید اپنے کاروبار کا پورا نمونہ ہی بدلنا پڑ جائے۔ جب آپ لوگوں کی توجہ شکار کر کے اشتہاری کمپنیوں کو بیچ رہے ہوں تو عالمی کمیونٹی کی تشکیل جیسا کام نہیں ہو سکتا۔ اکثر کارپوریشنز یقین رکھتی ہیں کہ اصل ہدف پیسہ بنانا ہے، حکومتوں کو اس معاملے میں کم سے کم ملوث ہونا چاہیے اور انسانوں کو فیصلہ سازی کے لیے منڈی کی قوتوں پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ دنیا بھر میں ایسی تنظیموں کی کوئی کمی نہیں جو انسانوں کو بڑے پیمانے پر منظم کرنا چاہتی ہیں۔ مگر فیس بک کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عالمی نوعیت کی کوشش کر رہا ہے، اسے کارپوریشن کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس کا ٹیکنالوجی پر پختہ ایمان ہے(۳)۔ زکر برگ کی اس بات میں وزن ہے کہ فیس بک آرٹیفشل انٹیلی جنس نہ صرف ’بامعنی کمیونٹیز‘ تشکیل دے سکتا ہے، بلکہ بڑے معاشرتی گروہ بھی منظم کر سکتا ہے، پوری دنیا کو باہم متحد کر سکتا ہے(۴)۔ گاڑی چلانے یا کینسر کی تشخیص کی نسبت آرٹیفشل انٹیلی جنس کے لیے یہ بہت بڑا اور اہم کام ہے۔ عالمی سطح پر معاشرتی انجینئرنگ کے لیے آرٹیفشل انٹیلی جنس کا یہ استعمال شاید پہلی ایسی کوشش ہے۔ یہ ایک آزمائشی مقدمہ ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے، تومزید اس طرح کی کوئی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ یوں ایلگورتھم انسانی معاشی نیٹ ورکس کے نئے ماسٹرتسلیم کرلیے جائیں گے۔ اگر یہ ناکام ہوتا ہے، تو نئی ٹیکنالوجی کی حدود واضح ہوجائیں گی۔ ایلگورتھم شاید کار ڈرائیونگ اور علاج وغیرہ کے لیے ہی زیادہ مناسب ہے۔ مگر جہاں تک معاشرتی مسائل کا تعلق ہے، ہمیں فی الحال سیاست دانوں اور پادریوں پر ہی انحصار کرناچاہیے(۵)۔

آن لائن بمقابلہ آف لائن
حالیہ سالوں میں فیس بُک نے حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ اس وقت اس کے دو ارب سرگرم صارف ہیں۔ اگریہ اپنے وژن پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے تو اسے آن لائن اور آف لائن دنیا کے درمیان پُل بننا ہوگا۔ آن لائن کمیونٹی کا اجتماع آغاز ہوسکتا ہے مگردور رس اثرات کے لیے آف لائن دنیا میں جڑیں پکڑنی ہوں گی۔ اگر ایک دن کسی آمر نے فیس بُک پرپابندی لگادی توآن لائن کمیونٹی ہوا میں تحلیل ہوکر رہ جائے گی۔ کیا وہ پلٹ کراُس آمر کا مقابلہ کرسکے گی؟ کیا وہ کوئی منظم احتجاج منعقد کرسکے گی؟

گوشت پوست کی انسانی برادریاں تخیلاتی آن لائن کمیونٹی سے بہت زیادہ گہرائی اور وزن رکھتی ہیں۔ مستقبل قریب میں بھی آن لائن دنیا آف لائن دنیا پرغالب نہیں آسکتی۔ اگراسرائیل میں میں اپنے گھرپربیمار پڑا ہوں، توکوئی آن لائن دوست کیلیفورنیا سے نیک خواہشات کا اظہار ہی کر سکتا ہے۔ مگر ایک کپ کافی یا سوپ بناکرنہیں پلاسکتا۔

انسان گوشت پوست رکھتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے د وران ٹیکنالوجی ہمیں ہمارے جسموں سے دور کرتی رہی ہے۔ ہم کیاسونگھ رہے ہیں؟ کیا کھارہے ہیں ؟ اس پر توجہ دینے کی ہمارے پاس فرست ہی نہیں رہی۔ ہم اسمارٹ فون اورکمپیوٹرزمیں ڈوبے ہوئے ہیں۔ہم اس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کے سائبر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے ۔ ہمارے گھر کے نیچے گلی میں کیا واقعہ پیش آرہا ہے؟ اس کی ہمیں چنداں فکر نہیں! سوئٹزرلینڈ میں اپنے کزن سے بات کرنا آسان ہے مگر ناشتے میں شوہر سے بات کرنا مشکل ہے۔کیونکہ وہ بھی مجھ پر توجہ دینے کے بجائے مسلسل اسمارٹ فون میں گم ہے۔

ماضی میں لوگ اس قسم کی لاپروائی اور عدم توجہ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ قدیم شکاری انسان ہر وقت چوکنے اور سرگرم رہتے تھے۔ جنگلوں میں گھومتے پھرتے تھے ۔ کھمبیاں تلاش کرتے تھے۔ گھاس میں ذرا سی حرکت پر بھی نظر رکھتے تھے کہ کہیں سانپ نہ چھپا بیٹھا ہو۔ آج کے مالدا ر معاشروں میں ایسی فکروپریشانی ضروری نہیں رہی۔ ہم سپرمارکیٹ کی روشوں میں چلتے پھرتے ٹیکسٹ پیغامات بھیجتے اور وصول کرتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ منتخب اشیاء کی خریداری بھی کرتے رہتے ہیں۔ مگر جو کچھ بھی ہم خریدتے ہیں وہ عجلت میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ای میل چیک کرتے ہوئے یا ٹی وی دیکھتے ہوئے ہم کھانے اور اُس کے ذائقے پر بالکل توجہ نہیں دے پاتے۔

مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ فیس بک کے ذریعے ہم اپنے تجربات اور جذبات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس طرح ہمارا احساس یا تبصرہ اہمیت اور توجہ حاصل کرتا ہے۔ اپنے اجسام سے اجنبی لوگ اور اپنے ماحول سے کٹتے ہوئے افراد بے مقصدیت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ماہرین عموما اس تنہائی کو مذہبی اور قومی تعلقات میں گراوٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر انسان کا اپنے جسم سے دور ہوناغالبا زیادہ اہم مسئلہ ہے۔انسان لاکھوں کروڑوں سال بغیر مذاہب اور اقوام زندہ رہے ہیں، یہ اکیسویں صدی میں بھی اس طرح زندگی گزارسکتے ہیں(۶)۔ وہ خوش نہیں رہ سکتے اگر انہیں ان کے جسموں سے دور کردیا جائے۔ اگر آپ اپنے جسم میں گھر کی سی اپنائیت محسوس نہیں کررہے، تواس دنیا کو کبھی بھی آپ اپنے گھر کی طرح محسوس نہیں کرسکتے۔

آن لائن تعلقات پر حدیں مقرر کی جا سکتی ہیں؟ مگر اس طرح مارک زکر برگ کا معاشرتی ٹکراؤ سے بچاؤ کا نسخہ ناکام ہو جائے گا۔ مارک زکربرگ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ لوگوں کا جن دلچسپیوں میں اتفاق ہے وہ اُس پر روابط مستحکم کرسکتے ہیں، اور جن معاملات میں اختلافات ہیں اُن پر مکالمہ کرسکتے ہیں۔ تاہم اب بھی سب انسانوں کا ایک دوسرے کو پوری طرح جان لینا بہت مشکل ہے۔ اس میں بہت وقت لگے گا۔ اس کے لیے بالمشافہ روابط کی ضرورت ہوگی۔ مگر یہ ناممکن ہے۔

ہم صرف یہ امید کرسکتے ہیں کہ فیس بُک اپنے کام کا انداز بدلے گا اور زیادہ سے زیادہ آف لائن ٹیکس فرینڈلی پالیسی اختیار کرے گا، اور اس عمل کے دوران دنیا کو متحد بھی کرسکے گا، اور منافع بخش بھی رہے گا۔ تاریخی طورپر کارپوریشنز کبھی بھی سیاسی اور معاشرتی انقلابات کا محرک نہیں بن سکی ہیں۔ انقلاب قربانی مانگتا ہے اور کارپوریشنز اور اُن کے ملازمین قربانی نہیں دے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابی گرجاگھر بناتے ہیں، سیاسی جماعتیں تشکیل دیتے ہیں، اورفوجیں تیار کرتے ہیں(۷)۔ عرب دنیا میں ٹوئٹر اور فیس بُک کے نام نہاد انقلاب نے آن لائن کمیونٹی کا امید افزا کام شروع کیا تھا، مگر جیسے ہی وہ آف لائن دنیا میں ابھرے، مذہبی جنونیوں اورملٹری جنتا نے کمانڈ سنبھال لی(۸)۔ اگر فیس بُک ایک عالمی انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے توآن لائن اور آف لائن دنیا کے درمیان فاصلے ختم کرے۔ اس وقت آن لائن جائنٹس کا رویہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو Audiovisual جانور سمجھتے ہیں: آنکھوں اور کانوں کے ایسے جوڑے جوانگلیوں سے رابطے میں ہیں اور کریڈٹ کارڈ تک جاتے ہیں۔ اگر انسانوں کو جوڑنا ہے توسمجھنا ہوگا کہ وہ گوشت پوست کا وجود رکھتے ہیں۔

یقیناً جب ٹیک جائنٹس کواحساس ہوگا کہ آن لائن ایلگوریتھم کی حدود آڑے آرہی ہیں تو وہ آن لائن اور آف لائن دنیا کے درمیان فاصلہ مٹانے کی تگ ودو تیز کردیں گے۔ گوگل گلاس جیسی ڈیوائسز استعمال کرکے یہ فرق مٹایا جائے گا اور واحد اضافی حقیقت Augmented Reality میں ڈھال دیا جائے گا۔ اس کے لیے بائیو میٹرک سینسر اور دماغ وکمپیوٹرکے براہ راست تعامل کی صلاحیت استعمال کی جاسکتی ہے۔ جوالیکٹرونک مشینوں اور انسانی اجسام میں تفریق ختم کردیں۔ ایک بار جب ٹیکنیکل جائنٹس ہمارے اجسام پرقابو پالیں گے، توپھر شاید موجودہ طریقوں پرہی وہ ہماری آنکھوں، ہاتھوں، اور کریڈٹ کارڈزکا استعمال کریں۔ ہم شاید پھر اُن سنہرے دنوں کو یاد کریں کہ جب آن لائن اور آف لائن زندگی علیحدہ ہواکرتی تھی۔


حواشی
۱۔ مصنف پروفیسر نوح ہراری کا یہ دعوٰی درست نہیں کہ مذہب اور ثقافتیں تقسیم کا باعث ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ تہذیبوں کی تاریخ ہے اور تہذیبوں کی بنیادیں مذہبی اور ثقافتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کا چیلنج لبرل اقدار کا ہی وہ تباہ کن نتیجہ ہے جوآزادی کے گمراہ کُن تصور سے برآمد ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی کا علاج صرف اخلاقیات اور تہذیبی حکمت عملی سے ممکن ہے۔بے لگام ٹیکنالوجی لبرل اقدار ہی کا ایک فتنہ ہے جس سے انسانی تہذیب کی بقاء خطرے میں ہے۔

۲۔ پروفیسر ہراری کا یہ دعوٰی حقیقت کے برعکس ہے کہ معاشرتی انتشار کا سبب معاشرے کا بہت بڑا حجم ہے۔ سچ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں انتشار کی وجہ تہذیبی طرز زندگی سے محرومی ہے۔ جب خاندان جیسا بنیادی ادارہ ہی جڑ سے اکھاڑدیا جائے گا تومعاشرہ کس طرح مستحکم رہ سکے گا؟

۳۔ یہاں مصنف کا مدعا مضمون واضح ہوتا ہے ۔ یہ کارپوریشنزکی ترجمانی کررہے ہیں۔ ٹیکنالوجی پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں سب ٹیکنالوجی کی طاقت کے آگے سرجھکادیں۔

۴۔ٹیکنالوجیکل عالمگیریت کا ایجنڈا ہے۔

۵۔ پوری کتاب میں مصنف نے گاجر اور چھڑی سے ’انسان‘ قاری کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ پہلے ٹیکنالوجی کے طوفان سے ڈراتے ہیں پھراُسے دھیرے دھیرے طوفان کا عادی بنانے کی سعی کرتے ہیں۔

۶۔یکسر بے بنیاد اور لغو قسم کا جھوٹ ہے۔ انسان ہمیشہ سے مذہبی اور معاشرتی زندگی کے عادی رہے ہیں۔

۷۔ یہاں ہراری صاحب برطانوی استعماریت، نوآبادیاتی فوج کشی، اورکارپوریشنز کے لیے گھڑی گئی جنگوں کوکیسے نظر انداز کرگئے؟

۸۔پروفیسر ہراری نے یہاں پھر ناانصافی سے کام لیا ہے، مغربی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے کی تکرار کردی ہے۔ حالانکہ اُن پر یہ بالکل واضح ہونا چاہیئے کہ مصر میں انقلاب کی آبیاری اخوان المسلمون نے طویل عرصے کی ہے۔ اس انقلاب کے لیے اخوان کی زندگیاں جیلوں میں گزری ہیں۔ جدید مصر کی تاریخ میں اخوان المسلمون مقبول ترین سیاسی اور جمہوری جماعت ہے جسے مغرب نے فوج کی مدد سے نہ صرف اقتدار سے محروم کیا بلکہ ظلم ودہشت کی خونیں تاریخ لکھی۔رابعہ العدویہ پرعورتوں تک کوٹینکوں تلے کچلا گیا۔ آج بھی منتخب وزیراعظم محمد مرسی سلاخوں کے پیچھے ہیں اورنام نہاد جمہوری دنیا جنرل السیسی کی پشت پناہی میں تمام حدیں پامال کرچکی ہے۔ مصری انقلاب میں سوشل میڈیا کا کرداررابطے کی ایک ڈیوائس سے زیادہ کچھ نہ تھا۔

اس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

دوسرے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

(Visited 284 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: