کوزہ گر دل نہ بنا —— ڈاکٹر مریم عرفان

1
  • 79
    Shares

دنیا کی تخلیق میں مرد و عورت کا کردار جس جامعیت کا عکاس ہے اس کا تصویری اظہار انسان ہے۔ لمحہ موجود میں جینے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہو گی کہ مرد و عورت گاڑی کے وہ دو پہیے ہیں جن کی وجہ سے کائنات سفر میں ہے۔ یہ تعلق معمہ بھی ہے اور بوجھی گئی پہیلی بھی، جس کی بنیاد نکاح ہے۔ سوشل ایگریمنٹ جس کے ملتے ہی دو مختلف لوگ اور خاندان ایک ڈور میں پروئے جاتے ہیں۔ کچھ ڈوریں پائیدار ہوتی ہیں اور کچھ کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں۔ سننے والے طلاق کا مزہ لیتے ہیں اور سنانے والے رنج و غم کی فضا میں سانس لے کر ڈبڈبائی آنکھیں صاف کرتے ہیں۔ میں بہت دنوں سے سوچ رہی تھی کہ شادیوں کے ٹوٹنے کے اسباب پر کچھ لکھا جائے لیکن سرا ہاتھ ہی نہیں آتا تھا۔ پھر کل ہی الجھی ہوئی ڈور ہاتھ لگ گئی، ویسے تو میرے توشہ خانہ ذہن میں بہت سی کہانیاں کلبلاتی رہتی ہیں لیکن اس بار مرد و عورت کے نازک رشتے کی بے شمار کڑیاں آپس میں مل گئیں۔

ریحانہ میری میڈ ہے، کام والی کہتے ہوئے زبان جھینپ جاتی ہے اور فلاح انگریزی میں ہی ملتی۔ خیر، وہ کافی دنوں سے کام سے غائب ہے، یکسوئی اور جان توڑ محنت بھی اب اس میں نہیں رہی۔ اس کی سوجی ہوئی آنکھیں، سڑکتی ہوئی ناک اور بکھرے بال، میرے لیے سگنل کی سرخ بتی بننے لگے تھے کہ کل ہی مجھے اس کاکریکٹر سرٹیفکیٹ مل گیا۔ ریحانہ اب کام کے لیے نہیں آئے گی کیوں کہ اب وہ شریف نہیں رہی۔ شرافت کی سولی پر لٹکنے والی یہ دوسری کام والی بھی سپرد مرد ہو گئی۔ میرے گھر کی چار دیواری اور روشن دانوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے، زبان سے لا حول ولاقوۃ ادا کیا اور ریحانہ کے لیے دعائے خیر کر کے میں خاموش ہو گئی۔ تین چھوٹے بچوں اور ناکارہ آدمی کے لیے پرائیویٹ ہسپتال میں آیا لگنے والی کے لیے سات ہزار کم پڑ گئے تو اس نے جسم پر خودکش بیلٹ لگا کر جہاد ِ نفسانی کا آغاز کر دیا۔

ریحانہ اب پبلک ٹوئلٹ بن چکی ہے۔ یہ کہتے اور سوچتے ہوئے میرا اپنا وجود لرز اٹھا ہے۔ میں اس کے اس پیشے سے خوش نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے کوئی نصیحتیں سوجھ رہی ہیں۔ بھوکے ننگے بچوںکے لیے رزق تلاش کرنے والی ایک اور عورت مردوں کے ہجوم میں گم ہو جائے گی اور پھر ایک دن پتہ چلے گا کہ کسی پراسرار بیماری نے اس کی جان لے لی۔ بچے ہر صورت یتیمی کا لطف لیں گے اور سننے والے ایک جسم کی نسوانی موت کا مزہ۔ اس سارے سین میں ریحانہ کا شوہر کس خانے میں کھڑا ہے، اس کے بارے میں کسی کو جاننے کی خواہش نہیں ہوگی۔ شاید اس لیے کہ وہ مرد ہے، جس کے پاس عزت کا لائسنس ہے۔ یہاں اس کا نشہ، کاہلی اور کام چوری ڈسکس نہیں ہو گی کیوں کہ وہ مظلوم ہے۔ اس کی عورت مردوں کے سرکس میں کام کرکے گھر کا چولہا جلائے گی اور وہ گرم گرم روٹی اپنے حلق سے اتارے گا۔ عزتوں کے یہ جنازے لوئر کلاس سے ہر روز اٹھنے لگے ہیں یہاں وفا شعاری بھی مفقود ہے۔ سب مایا ہے، سب چلتی پھرتی چھایا ہے۔

اب آتے ہیں ذرا اپنی کلاس کی طرف، جو ظاہر ہے اپر تو نہیں لیکن درمیانے درجے کی صف میں ضرور کھڑی ہے۔ اس کلاس کی عورتیں بھی فکر معاش میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں لیکن زمانہ انھیں بھی روندنے کے لیے تیار ہے۔ معاشرے میں بیویوں پر ہاتھ اٹھانا، گالی گلوچ کرنا، غصے میں آپے سے باہر ہونا اب کوئی بڑی بات نہیں رہی۔ برصغیر کی تہذیبی روایت آج بھی پوری آب و تاب سے زندہ ہے۔ میری ایک کولیگ کے میاں ان سے اس لیے ناراض ہیں کہ موصوفہ کی والدہ ان کے گھر ایک دن کے لیے کیوں قیام پذیر ہوئیں۔ پڑھے لکھے طبقے کے افراد کی یہ ذہنی سوچ اور اپج ناقابل تحسین ہے، جس میں عورت کے حقوق تو دور، ان کی حیثیت بھی مشکوک ہو گئی ہے۔

ویسے میں لفظ طلاق سے بھی خائف ہوں جس کا بے دریغ استعمال علیحدگی کا باعث بن رہا ہے۔ بہت سی کہانیوں میں مردوں کا غصہ ان کے نسلی ہونے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اسی لیے عورت کی پکار وہاں دم توڑ جاتی ہے۔ یہ ہماری تہذیبی روش ہے کہ مرد کو غصہ آئے گا اور وہ اپنی ہی عورت پر اتارے گا اس کا فرض ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر فوراً دوسرا آگے کر دے۔ میری بہن کی پڑوسن اس لیے پیٹی گئی کہ بچی بیڈ سے نیچے کیوں گری۔ اس کے سر پر نیل کا نشان کیوں ابھرا۔ اس کا خمیازہ ماں کا سر پھاڑ کر پورا کیا گیا۔ گویا عورت پر ہاتھ اٹھانا اور زبان زنی کرنا اظہاری کیفیت کا نام ہے جس پر کوئی حد نافذ نہیں ہوتی۔ میں مزید کچھ دن اداس رہوں گی کہ میری ریحانہ پبلک ٹوائلٹ کیوں بنی۔ کاش وہ بھکارن بن جاتی، کس بھی سگنل پر کھڑی ہو کر جھولی دراز کر لیتی لیکن ایک مرد کے خول سے نکلنے کے لیے بے شمار مردوں کے جہنم میں چھلانگ تو نہ لگاتی۔ عورتوں کے کاندھوں پر مردوں کی عزتوں کے جو یہ طوق سجے ہیں انہیں اٹھانا کتنا مشکل ہے۔ اپنی چادر بھی سنبھالو اور مردوں کے شملے بھی زمین پر گرنے نہ دو۔ ریحانہ کے وہ سنہری الفاظ مجھے یاد ہیں جب میں نے اس کے سوجے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا تھا کہ طلاق لے لے۔ اس کے جواب میں وہ تڑپ کر بولی:’’ باجی! باقی کتیاں توں بچن واسطے اپنا رکھ لتا اے۔‘‘ کاش ریحانہ تم اپنے کہے پر قائم رہتی۔ آج مجھے اپنی یہ نظم شدت سے یاد آ رہی ہے جو میری طرف سے شکوہ ہی ہے کہ کاش عورتوں کے سینے میں دل نہ ہوتا الاؤ رکھ دیا جاتا جس کی تپش کسی کو قریب نہ آنے دیتی۔

کوزہ گر دل نہ بنا
دل جو بنایا تو نے
میرے احساس کی تکمیل دگرگوں ہو گی
مجھ کو مٹی میں گندھا رکھ، مجھے سانچے میں نہ ڈھال
میری دھڑکن نہ بنا
میں مجسم سے مجرد تری پوروں میں رہوں
چاک دل ہے اسے، اس چاک کی سولی پہ نہ ڈال
اے مرے کوزہ گرِ خواب، مرا احساس تو کر
مری نبضوں پہ مسلط ترے جذبوں کا جنوں
اے ریاکارِ محبت تری مستی میں فسوں
چاک پر ڈال کے پھر چاک گھمانا تیرا
سانس محتاج ِ لب ِ جنبشِ پیمانہ ترا
تو میرے ہاتھ بنا، پاؤں بنا، سر بھی بنا
سر کو جھکنا بھی سکھا دے
مرے پاپوش نگر
ترے لہجے کی زہر خند جوانی کو دوام
خاک کا کھیل ہے، اس کھیل میں سارے برتن
وقت کی دھوپ میں پکتے ہیں تو بن جاتے ہیں
کوزہ گر! میری طرح چاک سے لڑنے والے
کوزہ بنتے ہیں مگر راہ میں ہی مر جاتے ہیں
مرا احساس تو کر، اے صنم پوش خدا
کوزہ گر چاک لگا، ڈور گھما، ہاتھ بڑھا
بس مرا دل نہ بنا

(Visited 354 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمود احمد on

    معاشرے میں بڑھتے ھوئے طلاق کے رحجان کو کم کرنے کےلئے قانون سازی کرنا ھوگی اور والدین کو اپنا کردار ادا کرکے مرد اور عورت کے حقوق وفرائض اپنی اولاد کی اچھی تربیت میں لانے ھوں گے میاں بیوی کے حقوق وفرائض بھی سمجھانے ھوں
    اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے والدین کو آگے بڑھنا ھوگا

Leave A Reply

%d bloggers like this: