خوش رہنا سیکھیے۔ ظہیر تاج

0

 ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق سعودی عرب دنیا کی خوش و خرم رہنے والی قوموں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سروے میں کولمبیا اور فجی سعودیہ سے اوپر ہیں لیکن میں صرف سعودی عرب پر بات کروں گا کیونکہ میں ادھر تقریباً آٹھ سال یہاں مقیم ہوں اور کافی قریب سے اس معاشرے کو دیکھنے کا موقع ملا- یہ سروے شاید پوری دنیا خصوصاََ مغرب کے لئے حیران کن ہو کیونکہ میڈیا کے مطابق سعودی عرب male dominant society ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بہت آوازیں اٹھتی رہتی ہیں ، عورتوں کے حقوق پر بھی سوال اٹھائے جاتے رہتے ہیں – پورے ملک میں کوئی سینما بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی سعودی سماج کو قریب سے جانتا ہے تو ان کے لیے یہ سروے کوئی اچنبھے کی بات نہیں- میں اپنی سمجھ کے مطابق کچھ observations بیان کر دیتا ہوں-

سب سے بڑی وجہ دین سے قریب ہونا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں بھی لوگ مذہب کے قریب ہیں تو ادھر کیوں لوگ خوش نہیں وجہ یہ ہے کہ یہاں پر دین اتنا پیچیدہ نہیں، توہین کے فتوے نہیں لگتے، ایک نقطہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں صرف ایک فرقے کی بالادستی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ کسی کو بھی نفرت انگیز تقریر کرنے کی اجازت نہیں، مسجد و منبر پر حکومت کا کنٹرول ہے- ادھر چاند پر بھی جگھڑا نہیں ہوتا لوگ حکومت وقت کی اطاعت کرتے ہیں- نماز کے وقت آپ پتلون میں ہیں، کلین شیو ہیں، مسافر ہیں لوگ بلاجھجک آپ کی اقتدا میں نماز اد کر لیں گے۔

اللہ پر توکل بہت ذیادہ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ کسی بھی حال میں شکرگزار ہوں گے، اکثر ہمارے اردگرد لوگوں کی جوان اولادیں اللہ کو پیاری ہوئیں لیکن یہ لوگ موت کو خالص اللہ کی رضا سمجھتے ہوئے صبر کر لیتے ہیں- ایک سعودی تاجر کو جانتا ہوں جس کا ایک گودام آگ کی نظر ہو گیا لیکن اس نے صرف یہ کہا الحمداللہ ، اگر پہلے اللہ نے دیا تو دوبارہ بنا لوں گا۔

ہمارے ذہن میں یہ تصور ہے کہ یہ لوگ شاید تفریح سے دور ہیں بلکہ ان کے خوش رہنے کی بڑی وجہ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ کوالٹی ٹائم صرف کرنا ہے- ویک اینڈ پر ریستوران، پارک اور سڑکیں رش سے بھری ہوتی ہیں- اکثر سڑک کے کنارے ،صحرا کے درمیان لینڈکروزر یا مرسیڈیز کھڑی ہو گی اور کوئی سعودی خاندان زمین پر بیٹھا کھانا تناول کر رہا ہوگا۔ اس کو اپنے سٹیٹس کی کوئی پرواہ نہیں- جبکہ میں نے اپنے ملک میں یہ ماحول کبھی نہیں دیکھا-

یہاں پر شادی کے حوالے سے بہت دلچسپ رسم و رواج ہیں- شادی کا سارا خرچ لڑکے کی ذمے داری ہے، شادی کے بعد جائنٹ فیملی میں رہنے کا کوئی تصور نہیں۔ دلہن پہلے دن سے ایسے گھر میں آتی ہے جہاں وہ مالکن ہوتی ہے اور کوئی ساس بہو کا جھگڑا نہیں ہوتا- ایک بہت ہی عجیب روایت کہ ماں باپ کا گھر آخری بیٹی کو ملتا ہے ، عموماََ داماد اس گھر میں بیاہ کے آتا ہے اور گھر میں سب کا محرم ہوتا ہے۔

اب ہم اگر اپنا موازنہ کریں تو ہمیں اپنے معاشرے میں بہت فرسٹریشن نظر آتی، خاندانوں میں لڑائی جھگڑے، رشتوں میں تناؤ سب روٹین کی باتیں ہیں- چھٹی والے دن ہماری سب سے بڑی مصروفیت رشتے داروں کی شادی، موت مرگ میں جانا یا ایسے ہی کسی کے گھر میں چلے جانا۔ یقیناََ یہ ہمارے خاندانی نظام کی خوبصورتی بھی ہے لیکن ہر وقت، ہر روز ایک طرح کی روٹین اور ایک طرح کے لوگوں میں رہنا اکتاہٹ کا باعث بن جاتا ہے- اس کا بہترین حل ہے تفریح، آپ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے کسی پارک، تفریحی مقام ،ریستوران یا فلم دیکھنے جا سکتے ہیں۔ آپ کوالٹی ٹائم اپنے خاندان کے ساتھ گزاریں تو مزاج میں لازمی مثبت تبدیلی آئے گی- ویسے بھی پاکستان سیر و سیاحت کے لئے متنوع ملک ہے، پہاڑ ہیں، کھیت ہیں کھلیان ہیں، تاریخی مقامات ہیں، ساحل ہیں ۔،باغ ہیں نہریں ہیں ،میوزیم ہیں، سینما ہیں۔ آپ بس گھر سے باہر نکلیں اور کچھ اچھا وقت اپنے والدین، بیوی بچوں، بہن بھائیوں کے ساتھ گزاریں۔

ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر ٹیکسلا کے کھنڈرات ہیں اور ایک میوزیم ہے۔ ہمارے خاندان کے اسی فیصد لوگ ادھر کا رخ بھی نہیں کرتے جبکہ ادھر اکثر لوگ جاپان اور کوریا سے لاکھوں روپے خرچ کرکے آتے ہیں۔ پھر ہمارے ملک میں میلے ٹھیلے بھی ہوتے تھے جو اب ناپید ہو چکے ہیں۔ سعودیہ میں ایک جنادریہ کا میلہ ہوتا ہے جو بالکل ہمارے دیہاتوں کے میلوں کی طرح ہوتا ہے اس میں سعودی بادشاہ سے لے کر عام آدمی، عورتیں بچے سب شریک ہوتے ہیں اور اپنے کلچر پر ناز کرتے ہیں- جبکہ ہم نے اپنا سب سے بڑا میلہ بسنت دھاتی ڈور کی نظر کردیا۔ بس کہنا یہ ہے کہ اپنے اردگرد، دوستوں، والدین میں، بہن بھائیوں میں خوشی ڈھونڈیں- زندگی کو سیدھا اور سادہ رکھیں خوشی خود ہی مل جائے گی۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: