چل میلے نوں چلیئے —– عفان مغل

0
  • 67
    Shares

25 سال سے سجاد بھائی کا معمول ہے کہ وہ بلاناغہ ہر جمعرات کو کچھ قریبی درباروں پر سلام کرنے جاتے ہیں جن میں ایک داتا دربار اور حضرت شاہ حسین المعروف حضرت مادھو لال حسین ؒ کا دربار بھی شامل ہے۔ کہنے میں یہ بات بہت آسان ہے لیکن اس معمول پر اتنی سختی سے عمل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ چند ماہ میں بھی انکے ساتھ شریک سفر رہا لیکن پھر کچھ مصروفیات نے میرے اس سفر کو روک دیا۔ مارچ اختتام پر شالامار جی ٹی روڈ، میلہ چراغاں کی آمدکے ساتھ ہی ہر سال کی طرح سجنا شروع ہوگیا۔ کھلونوں اور مختلف اقسام کے کھابوں کے سٹال لگائے جانے لگے اور برقی قمقموں سمیت مٹی کے چراغوں نے اس اہم شاہراہ پر سٹریٹ لائٹس کی قابل افسوس عدم موجودگی کی وجہ سے رات میں ہونے والے اندھیرے کو کچھ دنوں کے لیئے روشنی میں بدل دیا۔ میلہ چراغاں شروع ہو اور پڑوس میں رہنے والے اس میلے میں سالوں تک غیر حاضر رہیں، یہ اہلِ عشق کے ہاں انتہائی نامعقول بات ہے۔ پھر کسی نے کان میں سرگوشی کی کہ موقع اچھا ہے کم از کم جاکر ایک دیا ہی جلا آئو۔ فورا سجاد بھائی کو فون کیا اور مقررہ وقت پرباغبانپورہ بازار پہنچ گیا۔ دو سال پہلے سجاد بھائی کا جو معمول دیکھا تھا بالکل اسی انداز میں گلیوں سے گزر تے گزرتے ایک دکان پر جاکر رک گئے۔ ایک بوتل اور دودھ کا ڈبہ خریدا اور دربار سے ملحقہ قبرستان میں داخل ہوگئے۔ وہاں قبروں کے درمیان پیچیدہ راستوں سے ہوتے ہوئے ایک درخت کے پاس پہنچے جہاں تین درویش فقیر چادر بچھا ئے اپنی ہی دنیا میں مست الست بیٹھے تھے۔ بوتل انکو دی اور پھر کچھ فاصلے پر موجود ایک قبر کے داہنی طرف رکھے پیالے کو سیدھا کیا اور اس میں دودھ ڈال دیا۔ شاید یہ وہی بلی تھی جس کو دو سال پہلے بھی اسی طرح آتے دیکھا تھا۔ انداز تو وہی تھا۔ جیسے کوئی کسی کے انتظار میں بیٹھا ہو۔ 25 سالہ سفر میں تو بے جان راستوں کے در و بام بھی انسیت کا ثبوت دینے لگتے ہیں، یہ تو پھر جاندار ہے۔ ساتھ ہی ماں جی حضور کی قبر پر سلام کیا اور دربار کے صحن سے ہوتے ہوئے اندر چلے گئے۔ دربار کے صحن میں رش کا سماں تھا اور میلہ چراغاں کا آغاز ہورہا تھا۔ لیکن اس منظر کو دیکھ کر تو میرے ذہن میں تقریباََپندرہ سال پرانی فلم چل رہی تھی۔

ہم تینوں بھائی حضرت شاہ حسین ؒ کا میلہ دیکھنے بھیڑ میں گھسے ہوئے تھے اور عارف ماموں ہمارا ہاتھ پکڑے ہمیں بھیڑ میں بہہ جانے سے بچا رہے تھے کہ یک دم کچھ من چلوں نے شرارت کردی۔ پولیس والوں نے لاٹھی سے فوری جواب دینا اپنا فرض سمجھا اور یوں بھگدڑ کا طوفان مچ گیا۔ زندگی کی کسی بھی طرح کی بھگدڑ ویسے ہی بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی میلے کی بھگدڑہو تو جان لیوا بھی ہوسکتی ہے خاص طور پر ان بچوں کے لیئے جو صرف زندگی کی دس بارہ سالہ بہار کے دامن میں کھیلتے ہوں۔ اتفاق سے ہم ایک ٹکٹ گھر کے عین سامنے کھڑے تھے جو کہ سٹول جوڑ کر عارضی طورپر بنایا گیا تھا۔ سٹول پر بیٹھے شخص نے اس افراتفری کے عالم میں ہمیں روتے دیکھا تو آواز دیکر اس سٹول کے نیچے پناہ لینے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی چادر ہٹا دی۔ ہم سٹول کے نیچے چھپ گئے اور وہیں کہیں شور میں ہماری چیخوں کی آوازیں دب کر رہ گئیں۔ طوفان تھما تو ہمارے میں ــ’’موت کا کھوہ‘‘ اور ’’موت کا گولہ‘‘ جیسے کرتب دیکھنے کا حوصلہ نہیں بچا تھا۔ لکی ایرانی سرکس چند منٹ قبل دیکھ چکے تھے جبکہ باقی کرتب تو ہر سال دیکھتے رہتے تھے، لہذا انکی اب تمنا بھی نہ تھی۔ ا ب ہاتھوں میں ’اندرسے‘ اور ’لاہوری قتلموں‘ کا شاپر تھا، اس کے علاوہ کچھ پلاسٹک کے کھلونے تھے جو ہر میلے کی پہچان ہوتے ہیں، کچھ پلاسٹک کی ہی ’جدید بندوقیں‘ تھیں اور سر پر میلے کی یادگار ایک ایک خاص قسم کی ٹوپی۔ کم و بیش یہی حلیہ وہاں موجود ہر شخص کا تھا۔

اب کے میلے میں اور پندرہ سال پرانے میلے میں فرق بس اتنا تھا کہ پہلے ہاتھوں میں کھلونوں اور کھابوں کے شاپر ہوتے تھے اوراب کی بار ہاتھ سرے سے خالی تھے۔ چلتے چلتے زبان پر ایک ہی شعر رواں تھا۔
آخر جانا مر وے
چل میلے نوں چلیے
اور جب میں وہاں پہنچا توپانچ سال پہلے اس دنیا کے میلے میں بچھڑ جانے والے عارف ماموں کی وہی تصویر آنکھوں میں گھوم گئی۔ انکے بچھڑجانے کے بعد ہم کبھی اس میلے میں دوبارہ نہیں آسکے۔ شاید آنے کی طلب نہیں ہوئی یا شاید کوئی اس بھگدڑسے بچانے والا ہاتھ نہ ہونے کے سبب حوصلہ نہیں تھا۔ ویسے تو سب نے آخر اس جہان کے میلے سے کوچ کر نا ہی ہے لیکن نہ جانے کیوں دنیا میں رہ جانے والے، پہلے چلے جانے والوں سے افسردہ ہوجاتے ہیں۔ ہمیں معلوم بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ ’’وما الحیواۃالدنیاالالہو ولعب ‘‘ (یہ دنیا تو فقط کھیل تماشا ہے)۔
مائیں نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی

جنگل ویلے پھراں ڈھوڈیندی
اجے نا ںپائیو، لال نی

خیر میلے سجائے ہی اس لیئے جاتے ہیں تاکہ اندھیروں میں چراغ جلائے جائیں اور ہر طرف روشنیاں سجائی جائیں۔ کہتے ہیں کہ میلوں میں بچھڑے میں مل ہی جاتے ہیں۔ یہ میلہ بھی وہی ہے اور سفر بھی وہی۔ مجھ سے پہلے شریک سفر تو ماموں بھی رہے۔ وقت کا ایک ظلم یہ بھی ہے کہ یہ ایک مخصوص رفتار سے بدلتا رہتا ہے اور ابھی تک اس رفتار کا کسی کو ادراک نہیں ہوسکا۔ یہ انسان کو دھوکے میں رکھتا ہے، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کو کچھ بدلا ہوا محسوس نہیں ہوتا لیکن اگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے تو سارا منظر دھندلایا ہوا اور یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ اسی طرح اس میلے کی بھی جو پہلے جیسی وسعت تھی وہ تو کم ہوتی گئی، جو روشنیاں تھیں وہ بھی سکڑ گئیں۔ اب لکی ایرانی سرکس بھی نہیں لگتی، نہ ہی ویسی بھگدڑ مچنے کا کوئی اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ میلہ بھی سمٹ کرعلاقہ کے اندرون حصے میں چلا گیا ہے۔ لیکن وہاں کے سب چراغ جل رہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر دل کے کسی کونے سے صدا بلند ہوتی ہے۔

چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ
پنجواں میں بالن آئی آں، جھولے لالن

ہر سال چاروں طرف چراغ ضرور جلتے ہیں، چراغاں بھی ہوتا ہے۔ چراغاں کے اس حصے میں کسی فقیر کی صدا بھی آتی ہے کہ یہ چراغ جلتے رہنے چاہیں۔ باہر چاروں طرف چراغ جلتے ہوں تو ایک اندر کا پانچواں چراغ بھی انہی سے زندگی پالیتا ہے۔ یہی چراغ ذات کی اتہاہ گہرائیوں میں اندھیروں کو روشنی سے منور کرتا ہے۔ لیکن اس روشنی کے لیئے یہ پانچواں چراغ جان جوکھوں کا کام ثابت ہوتاہے۔ لہذا ان چراغوں کا جلتے رہنا بہت ضروری ہیں۔

(Visited 176 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: