یہ آپ کا مسئلہ تو نہیں؟ حیا ایشم

0

انسان کا مقصد یعنی ذاتی کائناتی درحقیقت خدائی معرفت اللہ کی بہت بڑی عطا ہے، جو کہ بذریعہ محبت ہی ممکن ہے۔ اب اس محبت کی راہ میں جو سب سے بڑی آزمائش ہے وہ انسان کی باطل انا ہے۔ انا کے بہت سے پردے ہوتے ہیں، جن سے اکثر ہم خود بھی آگاہ نہیں ہوتے، احساسِ مظلومیت انا کے پردے میں گِھرا ایک ایسا احساس ہے جو انا کے شر سے بھرپور ہے، اکثر لوگ اپنی اصلاح فقط اس لیئے نہیں کرتے یا کر پاتے کہ انہیں لگتا ہے کہ دوسرا ظالم ہے ۔۔لاشعوری طور پر وہ اپنی نظر میں اور دوسروں کی نظر میں کسی اور کو قصوروار ٹھہرا کر ہمدردی کے مستحق رہتے ہیں، اور ایسا کر کے انہیں لگتا ہے کہ اللہ ان کے بدلے غیب سے لیتا رہے گا۔ خودترسی اور گلے شکووں کی اذیت میں رہنا ایسا ہی ہے جیسے آپ شراب نوشی یا ڈرگز کے نشے یا کسی بھی ایڈکشن میں رہیں، بےشک مظلوم کی آہ میں بہت طاقت ہے مگر کون واقعی مظلوم ہے اسکو جج اللہ کرتا ہے، کیوںکہ اصل مظلوم مخلوق کے سامنے تماشا واویلہ نہیں کرتا رہتا، جو لوگ خود ساختہ مظلومیت کے احساس میں ہی رہتے ہیں وہ اپنی فلاح کے خود دشمن بن جاتے ہیں، اور خود اپنے آپ پر سکون و فلاح کے در بند کر لیتے ہیں ، کیوںکہ ایسا کر کے کوئی ایک ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ بدگمان رہتے ہیں، اور بدگمانی وہ سزا ہے جو ہم اپنی روح کو سب سے پہلے دیتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں اسی لیےبہت زیادہ گمان رکھنے سے روکا۔ کس گمان کو شیطان کمک دے رہا ہو ہم نہیں جانتے، بہتر ہے کہ ہم اصرار، جبر یا خود مفروضے قائم کرنے کی بجائے، نتیجے کو کنٹرول کیے بنا سیدھے سادہ انداز میں پوچھ لیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر مسلہ انا کا ہے تو، انا کی تسلی و تشفی کبھی نہیں ہوتی کیونکہ اسکی بیماری ہوس کی بیماری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں بہت سی آزمائشیں دیکھیں مگر الحمدللہ اللہ پر توکل نے انہیں کبھی احساسِ مظلومیت ہونے نہیں  دیا، انھوں نے آزمائش کا راز جانا اور ہر بار ہر آزمائش میں اپنے رب کے فضل اورمستقل سعی سے ابھر کر سرخروئی پاتے رہے الحمدللہ رب العالمین۔ یہ ایک جذباتی سرطان کی طرح روح کی گہرائیوں میں پھیلتا جاتا ہے اور  اسکے ارد گرد اپنی اذیت چھوڑتا جاتا ہے۔ احساسِ مظلومیت کے شیطانی و نفسانی جال میں مبتلا رہنے والے تکبر میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور احساسِ کمتری میں بھی، ناشکری میں ہوتے مبتلا ہیں اور بے صبری میں بھی، وہ اپنے آپ سے یا دوسروں سے ایک ہمہ وقت جھگڑے میں ہوتے ہیں، ناشکری کی مستقل عادت انہیں ہر نعمت کو ایک زحمت بنا کر دکھاتی ہے، کیوںکہ انہیں لگتا ہے انہیں وہ نہیں ملا جو انہیں ملنا چاہیے تھا، اور انہیں جو مل رہا ہے وہ ازحد برا ہے، سو اللہ کی تقسیم سے ناراض رہنے والی مخلوق خود سے اور دوسروں سے ناراض رہنے کی کوئی بھی وجہ نکال لیتی ہے، احساسِ کمتری کسی دیمک کی طرح روح کو چاٹنے لگتا ہے، کیوںکہ اللہ کے بوۓ جس بیج کو شکر و صبر کے پانی کے بجاۓ احساسِ مظلومیت کا تیزاب ملے وہ درخت کیا پھل دے گا۔ اور جس کو حسد کی آگ کھانا شروع کر دے وہ اپنی خیر کا خود دشمن ہو جاتا ہے۔ ویسے تو یہ احساسِ تکلیف مرد و زن دونوں میں ہوسکتا ہے مگر عورتوں میں یہ احساس زیادہ تکلیف کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ ایک عورت صرف اپنی ہی نہیں ایک نسل کی پروان کی ذمہ دار ہوتی ہے، جب اس میں یہ احساس بلا وجہ بھی پنپنے لگے تو آپ اس پر کتنا ہی رحم کرو وہ نہ صرف اپنی خوشیوں بلکہ اپنے سے منسلک لوگوں کی خوشیوں کی دشمن بھی بن جاتی ہے۔ جو دراصل اسکی ظالم انا کا ہی روپ ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے۔ احساسِ مظلومیت دراصل ناشکری ہے جس کا متضآد احساسِ شکر ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کو انہوں نے زیادہ جہنم میں دیکھا اس لیےکہ وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں، تو یہ کیسی آگ ہے جس کو شیطان بظاہر خوشنما کر کے مظلوم کے آنسو بنا کر دکھاتا ہے جبکہ حقیقتاۤ وہ پانی نہیں آگ ہے شر کے شرارے میں لپٹی آتشِ دوزخ استغفراللہ ۔

جس کو ایک عورت اپنی ہی دو جہاں کی فلاح و خیر و محبت کی دشمن ۔۔ عرش پر پہنچی آہ یا آب زمزم سمجھ کر آنکھ کے گوشوں میں سجاۓ بیٹھی ہے ۔۔ جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس رویے کو بیمار رویہ جانیں اور انسان کو برا جج کر کے فارغ نہ ہو جائیں، یہ انا کا ایک حجاب ہے بہت ظالم حجاب ۔۔ جو انسان کی فلاح اور معاشرے کی بہبود کو تیزی سے نگلتا ہے، ایک عورت ساری زندگی اسے مظلومیت میں رہتی ہے کہ شوہر عزت محبت نہیں کرتا، پھر جب بچوں سے بھی نہیں کرواتی تو اسے باپ اور سسرال کے سر ڈال دیتی ہے، پھر قسمت پر ۔ اور کچھ تو خودکشی کی سوچوں تک سے الجھنا شروع ہو جاتی ہیں، باطل توقعات اور خودفریبی اور ذمہ داری سے غفلت کا انجام بھی تکلیف ہی ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ نے کسی شخص کو اتنا مجبور محض نہیں بنایا،  بات فقط یہ ہے کہ جب اللہ کو چھوڑ کر انا کی جھوٹی خدائی کو پوجنا دراصل اپنے بیمار نفس و باطل توقعات کی غلامی کرتے ہیں تب انسان ایسے ہی اپنے آپ کو رسوا کرواتا رہتا ہے، سمجھ لیں یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ اللہ کے سچ کو چھوڑ کر جس جھوٹ کے شر میں پناہ لیں گے اسی کے ہاتھوں زندگی اجیرن کر بیٹھیں گے، جب ہم ذمہ داری چھوڑ کر خودساختہ مظلومیت اور خود فریبی میں رہنا چنتے ہیں تبھی تو تباہی کے دہانے پر آ جاتے ہیں استغفراللہ۔۔! شیطان نے اللہ کو چیلنج کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا، تو گمراہی میں وہی آتا ہے جو رب سے (سچ سے) رجوع نہیں کرتا۔ ہمیں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے انسان کو مظلوم بنا کر نہیں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے، اور خلافت کے عہدے پر فائز انسان اپنی ذمہ داری سب سے پہلے نبھاتا ہے کہ اس پر ارد گرد کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ اسکا ااخیر کا رویہ نہ صرف اپنے لیئے بلکہ گردوپیش کے لیئے رحمت اور شر کا رویہ اطراف کے لیئے اذیتناک ہوتا ہے۔ جو لوگ ایسے خود ساختہ مظلومیت اور ناشکری کے احساس میں رہتے ہیں، وہ چیزوں کو سیاہ و سفید دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، یا تو سب اچھا ہے یا پھر سب اتنا برا کہ اس سے برا کچھ نہیں انتہا پسندی اور پرفیکشنزم کا یہ زہریلا رحجان انہیں خود اپنے لیئے بھی زہر بناتا چلا جاتا ہے، اور دوسروں کے لیے بھی۔ دوسرے انکی مدد کرتے بھی کتراتے ہیں۔ کسی کو ظالم قرار دے کر خود کو مظلوم قرار دے دینا ۔۔ ایک ایسی سزا ہے جو ایک ظلم کی صورت میں ہم خود پر روا رکھتے ہیں اگر ہم اپنے نفس کے شر کے خلاف جہاد نہیں کر سکے تو ہم کیا کسی اور کے شر کے سامنے سر اٹھائیں گے! خوساختہ مظلومیت جذباتیت کی ایک بیمار شکل ہے ۔۔ حالانکہ اللہ نے انسان کو جذبات ایک اثاثے کی صورت عطا کئے ہیں، مگر وہ انکی حقیقت سے آشنا نہیں ۔

کبھی کبھی یہ بیمار رویہ ہم ارد گرد سے بھی سیکھتے بھی ہیں ۔۔ جب ہم نے اپنے بڑوں کو معاملہ سلجھانے کی بجائے اس میں الجھ ہی جانے اور انا کا مسلہ بنانا سیکھا ہو، اور اسکے کچھ پے آفس یا ریٹرنز مل رہے ہوں، یعنی لوگ رو دھو کر، مینی پیولیٹ کر کے، غم و اندوہ میں گِھر کر اپنی بات منوا لیتے ہیں، تو ہم اللہ کے فضل کو اپنے لیے کافی جانتے اپنے پاؤں پر چلنے کی ذمہ داری چھوڑ کر انا کی اس جھوٹی بیساکھی کا سہارا بڑے آرام سے پکڑ لیتے ہیں، اس رویے سے نبردآزما لوگوں کی سیلف ایسٹیم بھی کم ہوتی ہے، وہ موازنہ ، حسد اور دیگر اخلاقی تکالیف میں مبتلا رہتے ہیں، اور خود کو ، اردگرد کو اذیت میں رکھتے ہیں، اکثر شکر کی بجائے نقص اور سکون کی بجائے بے سکونی میں مبتلا رہتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحمدللہ اور کروں ذکر کیا اپنی ذات کا حیا اپنے رب کی ادائے کُن فیکون ہوں میں..! میں کچھ نہیں الحمدللہ میرا اللہ میرا رب سب ہے نام عاصمہ سعید، قلمی نام حیا ایشم. تعلیم ایم ایس کلینکل سائیکالوجی ہے. کلینکل سائیکالوجسٹ ہوں. اور ایک کتاب پبلش کروا چکی ہوں جس کا نام اللہ محبت ہے. مصروفیات گھر، جاب، نیچر، چھوٹی دو بھتیجیاں اور رائٹنگ ہے. متعدد بار ریڈیو انٹرویوز اور میگزین وغیرہ میں انٹرویو دے چکی ہوں. اس کے علاوہ فیس بک رائٹرز ینکنگ میں بھی اچھی رینکنگ میں رہی.

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: