شادی ——— سحرش عثمان

0
  • 93
    Shares

چھ مہینے رہ گئے تیاریاں تو بہت چل رہی ہوں گی؟ جی آنٹی۔۔
کیا کیا بنا لیا۔
پتا نہیں آنٹی
پتا نہیں یا بتانا نہیں۔
جی آنٹی؟
جی بیٹا۔
شادی ہورہی ہے آپکی؟
جی اوہ۔۔۔۔بہت خوشی کی بات ہے۔۔
آپ کے ایکسپریشنز سے تو لگ نہیں رہا آنٹی۔
مبہم مسکراہٹ۔
شادی؟؟؟
جی ڈریس بنا لیا؟ کہاں سے بنایا؟
کن کلرز میں بنایا؟
کیسا کام کرایا؟
سیلون بک کرا لیا؟
جی ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا ہو رہا ہے۔
ابھی ہو رہا ہے؟؟ پاگل ہو کچھ نہی. ملے گا شادی میں چار ہی تو مہینے رہ گئے ہیں ابھی نہیں آرڈر کرو گی تو شادی پہ ٹی شرٹ ہی پہنو گی طنزیہ ہنستے ہوئے۔
جواب:جی آنٹی۔۔۔ دانت پیستے ہوئے۔
پھر جوڑا بھی بن جاتا ہے سیلون بھی بک ہوجاتا ہے
اب آتا ہے مشوروں والا فیز یوں کرنا یوں نہ کرنا۔
ہر حیوان ناطق مشوروں والی مشین بن جاتا ہے۔
دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مشورے آپ کے سر پہ برستے ہیں۔
وہ آنٹیاں جنہوں نے ساری زندگی شوہر کو شوہر تو کیا انسان کا درجہ بھی نہیں دیا ہوتا وہ بھی شوہر کے حقوق سسرال کے معاملات کی حساسیت پر لیکچر فرما ہوتی ہیں۔
آپ کچھ نہیں کہہ سکتے صرف دانت پیس سکتے ہیں۔ دل میں اٹھتے ہول کو دبا کر ہلکا سا زبردستی مسکرا سکتے ہیں۔
اور ایسے تمام عناصر کا مقصد بھی یہ ہی ہوتا ہے آپ کو جب جی بھر پریشان اور خوفزدہ کرلیتے ہیں تو کچھ یوں تسلی دیتے ہیں۔۔
پریشان نہ ہو اللہ بہتر کرے گا۔
گویا چڑھ جا سولی رام بھلی کرے گا۔
شادی ہمارے سماج میں آج بھی آنٹی لوگوں کا فل ٹائم فیسٹیول ہے۔چار چھ مہینے کی مصروفیت۔
ہم لوگوں نے شائد سمجھا ہی نہیں ایکچوئلی کیا ہے شادی۔
دو لوگ آپ کے سماج کے پہلے یونٹ کی بنیاد رکھنے جارہے ہوتے ہیں۔ ان کی جسمانی ذہنی نفسیاتی اور روحانی آمادگی اور سکون کتنا ضروری ہے۔ ان دونوں کی کمپیٹیبلٹی ٹو ورڈذ لائف کتنی ضروری ہے۔یہ کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں۔ ہمارے لیے شادی کپڑوں جوتوں سیلون سے آگے ہی نہیں بڑھی۔
خدا جانے کس زمانے میں جا کہ بڑے ہوں گے ہم۔میچیور لوگوں کی طرح بہیو کریں گے۔
خیر اب چونکہ آنسہ کی شادی ہوچکی لہذا اب ہمارے پاس لائسنس ٹو کل ہمارا مطلب مشورہ و ٹریننگ ہے۔
گو پہلے بھی آنسہ نے شادی معاملات پر لکھنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ کوئی جو پوچھے گا آپ کا کتنا تجربہ ہے شادی کا تو کیا فرماویں گے۔
اب تو خیر ہم ان معاملات میں بھی ایکسپرٹ اوپینین دیں گے جن کی اے بی سی بھی نہیں معلوم ہوگی۔ کیونکہ اس بستی کا یہ ہی اصول ہے۔
اس مضمون اور اس کے آئندہ آنے والے حصوں (اگر آئے تو) کے مخاطب وہ تمام افراد ہیں جن کی شادی ہوچکی ہے ہونے والی ہے وہ شادی کے خواہشمند ہیں ان کے بچوں کی شادی ہونے والی ہے یا پھر وہ سانس لیتے ہیں۔

دیکھئے بلکہ ہڑھئیے شادی کپڑوں جوتوں جہیز کھانے کا نام نہیں ہے۔
آپ کا آمادہ ہونا بہت ضروری ہے۔
تین فنکنشنز آٹھ دن کے ٹور کا نام شادی نہیں ہے۔
یہ پوری زندگی کا کانٹریکٹ ہے۔ جسے آنسہ نے ایگریمنٹ کہا تو صاحب کہنے لگے کانٹریکٹ۔ ایگریمنٹ میں شرائط لاگو نہیں ہوتیں گارنٹر نہیں ہوتے۔
ہم نے چہرے پہ زمانے بھر کی معصومیت طاری کر کے کہا یاد رکھئیے گا رب اور اس کے رسول کو گارنٹر بنا کر لائے ہیں ہمیں۔
ہم حشر تک لے جاویں گے معاملات۔
تو ایسا ہی ہے اس رشتے کے سارے حساب کتاب حشر تک چلنے ہیں۔
آپ کو اپنے بہت سے جائز حقوق بہت سی آزادیاں سرنڈر کرنا پڑتی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ آپ کہیں قید ہورہے ہیں یا بندھ رہے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ یہ پیس فل کو ایگزسٹنس کے لیے آکسیجن کی طرح ضروری ہے۔
جب دو لوگ ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ واقعتا ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ اس میں آپ آٹھوں پہر چوبیس گھنٹے پرفیکٹ اور فلا لیس نہیں ہوسکتے۔ دو ایک گھنٹے کے لیے ہی میک اپ ریمیو کرنا ہی پڑتا ہے۔لہذا آپ منہ دھوتے ہیں۔یعنی غلطیاں بھی کرتے ہیں بلنڈرز بھی کرتے ہیں اریٹیٹ بھی ہوتے ہیں۔فریق ثانی ہم مزاج نہیں بھی ہوسکتا۔ آپ کی کھانے پینے سونے جاگنے کی روٹین الگ ہوسکتی ہے۔
آپ الگ الگ دنیاؤں کے باسی ہوسکتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں آپ سرنڈر کردیں شادی سے انکاری ہوجائیں شادی نہ کریں۔
یاد رکھیں فرار کوئی رستہ نہیں ہوتا فرار کوئی آپشن نہیں ہوتا۔
ذمہ داری سے یا پابندی سے بھاگنا کوئی بہادری نہیں۔
بہادری تو موج دریا کو چیلنج کرنے میں ہے۔
اور موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں۔
دائرے سے باہر سوچنا ہے آؤٹ آف دا باکس رہنا ہے تو ان چیلنجز سے نمبٹنا سیکھیں۔ایسی کسی صورتحال کے لیے خود کو آمادہ کریں تیار کریں اس صورتحال سے گھبرائیں نہیں۔
ہاں سٹریس ہوتا ہے ڈپریشن بھی بہت ہوتا ہے۔
اگر آپ تھوڑے سے سوکالڈ بہادر ہیں تو یہ ڈپریشن سوا ہوجاتا ہے۔ آپ جاگنگ کرتے ہوئے انھے واہ روتے ہیں۔
واش روم میں جا کہ آنسو بہاتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے نمب ہوجاتے ہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر گونگے ہوجاتے ہیں۔
بظاہر ہنستے بولتے ہیں لیکن اندر بڑھتے ویکیوم کو نہ بھر پاتے ہیں نہ پھاڑ سکتے ہیں۔ بس چپ چاپ گو ود دا ونڈ کی مثال بن جاتے ہیں۔
لیکن___
یہ سب ختم ہو سکتا ہے اگر آپ سب کچھ رب کے سپرد کرنا سیکھ لیں۔ اگر آپ نے اس کی بغاوت کے خوف سے ہاں کی ہے تو کیا ہی بات۔ اگر آپ نے اس کا حکم مانا ہے تو سونے پہ سہاگا۔ اس سے کہیئے تمہارے حوالے کیا سب ہم سے تو نہیں ہوتا یہ سب ہینڈل اب کر کے دیں معاملات آسان۔ اور یقین کریں وہ مہرباں ہونے میں ماں جتنی دیر بھی نہیں کرتا۔
اپنی جسمانی نفسیاتی صحت کا خیال رکھیں۔
ڈی ٹالکس پئیں۔ ہیلدی کھانا کھائیں کپڑوں جوتوں کا آبسیشن مت پالیں۔
کیسی لگوں گی اچھی لگوں گی پر فوکس ضرور کریں لیکن اس کے پیچھے پاگل نہ ہوجائیں۔ اسے جزو رہنے دیں کل نہ بنائیں۔
اگر آپ کے بچوں کی شادیاں ہورہیں ہیں تو حالات کے حوالے نہ کریں انہیں۔
بیٹے ہیں تو انہیں بتائیں کہ شادی ذمہ داری بھی ہے۔ لڑکی ان کے لیے ہر رشتہ چھوڑ کے آئے گی۔ اس کے لیے ہر معاملہ میں ڈھال بننی ہے۔اور انہیں سمجھائیں اس رشتے کو نبھانے کی ان کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی لڑکی کی۔
بیٹوں کو بتائیں یہ ایک دو دن کا رشتہ نہیں ہے۔ساری زندگی کا تعلق ہے لانگ ٹرم پلیننگ سے قبول کرئیں لڑکی کو۔ اور پوری آمادگی اور خلوص نیت سے۔
بیٹی ہے تو اسے سپورٹ کریں حوصلہ دیں کہ بیٹا کوشش کے بابت سوال ہے اور کوشش بھی کیپسٹی کے مطابق نہ تو استطاعت سے زیادہ رب آزماتا ہے نہ ہم آزمائیں گے۔ جہاں تک ممکن ہو گھر بناؤ تعلق نبھاؤ۔ تھکنے لگو تو بریک لو۔ خدانخواستہ معاملات کسی اور ڈگر پر چل پڑے تو والدین کو اپنے ساتھ پاؤ گی۔
لڑکیاں بھی ایک بات ذہن میں رکھیں آپ کا میکہ ماں باپ کا ہی گھر ہوتا ہے آپ کی سپورٹ والدین ہی ہیں صرف۔ حتی کہ بہن بھائی بھی آپ کی سپورٹ نہیں بنیں گے ہارڈ ٹائمز میں۔ لہذا کبھی کسی کے کہنے پہ اپنے رشتے میں تلخی نہ گھولیں۔
اپنے معاملات خود ہینڈل کرنا سیکھیں۔
نو کہنا بھی سیکھیں۔ خود سپردگی کے ساتھ ساتھ۔
خوش رہیں خوش گمان بھی۔ اعتبار کرنا سیکھیں۔ شک آپ کے رشتے کو کبھی پنپنے نہیں دے گا۔
یاد رکھیں جس شخص کو آپ کی محبت آپ کا خلوص آپ سے جوڑ نہیں سکتا آپ کا شک آپ کا حسد آپ کی ضد اسے کبھی آپ سے نہیں جوڑے گی۔
ایمپلسو ریسپانس سے حتی المقدور گریز کریں۔بات تلخ ہونے لگے لہجے سرد یا سخت ہونے لگیں تو خاموش ہوجائیں۔ کچھ لمحے توقف کرلیں۔ بعد میں بات کرلیں۔ سٹینڈ ضرور لیں لیکن بدتمیزی کا کوئی جواز نہیں نہ ہی آپ کے اوفینسو ہونے کا کوئی جواز ہوسکتا ہے۔
جب موسی علیہ سلام کو رب فرعون سے نرم لہجے میں بات کرنے کا کہہ سکتا ہے تو ہم آپ کسی ایسے رشتے میں اوفینسو کیسے ہوسکتے ہیں جس میں مسکراہٹ کا بھی ثواب ملتا ہے آپ کا کاجل سرمہ بھی نیکی لکھا جاتا ہے اور چوڑیاں بھی محبت شمار ہوتی ہیں۔؟
باقی آئندہ۔
جس جس نے شادی کی مبارک باد دی دعائیں دیں ان سب کا بے حد شکریہ۔ جو بلانے اصرار کرنے کے باوجود نہیں آئے وہ سب فوٹوز مانگ کر بار بار شرمندہ مت ہوں۔۔ ہم نہیں دکھائیں گے۔ شکریہ۔
سحرش عظیم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: