ڈرگ ایکٹ میں تبدیلی اور احتجاج ۔ عزیز الرحمان

0

پنجاب حکومت نے ڈرگ ایکٹ 1976 میں جو ترامیم کی ہیں اس پر فارمیسوٹیکل انڈسٹری اور ادویات کا کاروبار کرنے والے تاجر احتجاج کررہے ہیں۔ ان ترامیم کو ظالمانہ قرار دیا جارہا ہے اور یہ الزامات بھی لگائے جارہے ہیں کہ اس سے ادویات تک رسائی ( Access to medicines )  ممکن نہیں رہے گی۔

میں گذشتہ کئی سالوں سے فارمیسوٹیکل انڈسٹری سے متعلقہ قوانین پر غوروخوض کررہا ہوں اور اس بزنس کے بارے میں مندرجہ خیالات آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں:

1۔  دنیا بھر میں فارمیسوٹیکل انڈسٹری بنیادی طور ہر اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ بظاہر یہ انڈسٹری اس خوشنما بنیاد پر کھڑی ہے کہ اس سے وابستہ تحقیق کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی زندگی بچ پاتی ہے اور وہ بیماریوں سے بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔ فارمیسوٹیکل انڈسٹری میں ہونے والی تحقیق کا بیماریوں سے بچاؤ اور خاص کر غریب ممالک میں رہنے والے مریضوں کے علاج سے قطعا کوئی تعلق نہیں۔ فارما انڈسٹری اپنے وسائل کا بہت بڑا حصہ ان بیماریوں کی ادویات کی تحقیق پر لگاتی ہے جو امیر اور باوسائل ممالک کے لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گنجے پن اور پرتعیش کھانے کھا کر ہونے والے بے تحاشا موٹاپے کے علاج کو تلاش کرنے کی لئے ہونے والی تحقیق پر فارما انڈسٹری جو پیسے خرچ کررہی ہے اس کا عشر عشیر بھی افریقہ و ایشیاءکے غریب ممالک میں پائی جانے والی نئی اور پرانی بیماریوں پر نہیں کیا جاتا! اس کے ساتھ ساتھ فارما انڈسٹری میں جدت و اختراع کا بحران بھی پورے عروج پر ہے۔ نئی ادویات جو ہمارے سامنے لائی جاتی ہیں ان کی اکثریت دراصل نئی نہیں ہوتی۔ پہلے سے موجود مالیکیولز کو نئے انداز میں اور نئی جہات کے ساتھ پورے زور و شور سے innovation کے نام پر سامنے لایا جاتا ہے اور مریضوں کو ڈاکٹروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے لوٹنے کا کام عروج پر ہے۔ ایک مالیکیول پہلے گولی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پھر محلول’ پھر انجیکشن’ پھر پاوڈر۔۔۔۔اور ہر مرتبہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ پیٹنٹ کے قوانین (Patent laws ) کے سہارے مصنوعی مناپلی قائم کر کے من پسند قیمتیں وصول کی جائیں۔ یہ دھندا اتنا مکروہ ہے مگر اتنے وسیع پیمانے پرہورہا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت دنیا بھر کے موقر ادارے اور فورمز اس پر چیخ اٹھے ہیں اور فارما انڈسٹری میں ہونے والی تحقیق اور اس کے غریب مریضوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کھل کر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سارے کھیل میں اگر فارما انڈسٹری کی پشت پناہی کوئی کررہا ہے تو وہ امریکہ و یورپ کی وہ حکومتیں جو اربوں روپے سے کی جانے والی فارما انڈسٹری کی لابنگ کے سامنے سرنگوں ہیں۔

2۔ یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ عام طور پر کسی بھی ملک میں ادویات بنانے والی دو طرح کی کمپنیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہیں عرف عام میں ملٹی نیشنل کہا جاتا ہے۔ یہ عام پر برانڈ نیم کمپنیز’ اوریجینیٹر (originator) یا انوویٹر (innovator) کمپنیاں کہلاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی ادویات (جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ نئی سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہے کہ حقیقی معنوں میں نئی بلکہ پہلے سے موجود دوا کی کسی نئے پہلو کو یا پھر اس میں کوئی نئی جہت سامنے لاکر اسے نئی پراڈکٹ کے طور پر پیش کرنا بھی اس میں شامل ہے) عام طور پر یہی کمپنیاں سامنے لاتی ہیں اور متعلقہ ڈرگ رجسٹریشن اتھارٹی کے پاس اولین رجسٹریشن انہی کی ہوتی ہے۔ دوسری قسم کی وہ ادویات ساز کمپنیاں ہیں جنہیں جنیرک (generic) ادویات بنانے والی ادارے کہا جاتا ہے۔ یہ بذات خود تحقیق نہیں کرتے اور پہلی قسم کی کمپنیوں کی تحقیق اور ڈیولپمنٹ کو بنیاد بنا کر اپنے برانڈ ناموں سے وہی ادویات بناتے ہیں۔ جنیرک ادویات سستی ہوتی ہیں کیونکہ دوا کی ایسی نقل تیار کرنا جو کوالٹی و صحت میں پوری طرح اصل کے مساوی ہو یہ قانونا جائز (کچھ شرائط کے ساتھ) ہونے کے ساتھ ساتھ نسبتا بہت سستا کام ہے۔ برانڈ نیم کمپنیاں اس کے برعکس بہت ہی مہنگی ادویات فروخت کرتی ہیں اور وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ تحقیق کے مختلف مراحل اور کلینکل ٹرائل میں ان کے بہت مصارف اٹھتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ برانڈ نیم کمپنیوں کی ابتدائی مناپلی قیمتوں (جب تک جنیرک مقابلے میں نہیں آجاتیں) اور جنیرک کمپنیوں کی قیمتوں میں بسا اوقات ہزاروں لاکھوں گنا کا تفاوت ہوتا ہے۔   اوپر ہم نے فارما انڈسٹری کی تحقیق کا کچھ حال بیان کیا ہے۔ اسی طرح ان کے مصارف اور خرچوں کی بھی ایک داستان ہوش ربا ہے جس کی تفصیل کسی اور نشست کے لئے مؤخر کرتے ہیں۔

3۔ پاکستان میں روایتی طور پر دو طرح کی کمپنیاں ادویات بناتی ہیں: ملٹی نیشنل اور مقامی۔ پاکستان کی فارما انڈسٹری پر ایک زمانے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا راج تھا۔ ہمارے پڑوس میں ہندوستان میں ستر کی دہائی میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہونا شروع ہوئی اور اس کی بنیادی وجہ اندرا گاندھی کی حکومت کی وہ اصلاحات تھیں جو جسٹس آیانگر کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی تھیں۔ ان میں سب سے اہم چیز انڈیا کے پیٹنٹ قانون میں تبدیلی تھی جس کے تحت پراڈکٹ پیٹنٹ کو ختم کرکے صرف پراسس  پیٹنٹ کو تسلیم کیا گیا اور اس کی مدت کو بھی محدود کردیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے زیر اثر ہندوستان کی مقامی فارمیسوٹیکل کمپنیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بچھاڑ کر مارکیٹ سے عملی طور آؤٹ کردیا۔ مقامی کمپنیوں کی وجہ سے ادویات کی قیمتیں بہت کم ہوئیں اور اس کا فائدہ دنیا بھر کے غریب مریضوں کو ہوا کیونکہ اس سے قبل وہ امریکہ و یورپ سے درآمدی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ ہندوستانی ادویات نے ایچ آئی وی ایڈز کے علاج میں جو کردار ادا کیا اس کی بنا پر اسے بجا طور پر "ترقی پذیر ممالک کی فارمیسی” (Pharmacy of the Developing World) کا خطاب دیا گیا۔

پاکستان میں مقامی کمپنیوں نے ہندوستانی کمپنیوں کے طرز پر ہی اپنا کام شروع کیا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ چھین لیا۔ پاکستان کے پیٹنٹ قوانین ہندوستان کی طرح موثر نہیں تھے مگر حکومتی پالیسی یہی رہی کہ مقامی فارما انڈسٹری کو فروغ دیا جائے۔ یہ امر اپنی جگہ دلچسپی کا باعث ہے کہ مقامی فارما انڈسٹری کو قومی/نیشنل فارما انڈسٹری کا نام بھی دیا جاتا رہا اور فارما انڈسٹری کو وزارت صحت کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا رہا اور وزارت صنعت کا کردار بہت محدود رہا۔

4۔ پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل اور مقامی ادویہ ساز کمپنیوں میں بیک وقت جاری تعاون اور مخاصمت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ادویات کی قیمتوں کا مسئلہ ہو تو یہ دونوں ایک ہیں۔ مقامی کمپنیاں خوش دلی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زیادہ قیمتیں دیئےجانے پر راضی ہوجاتی ہیں کہ وہ خود کو قیمتوں کے اس کیپ (cap ) کے پیچھے رکھ کر اپنی مرضی کا منافع کماتی رہی ہیں۔ ادویات کی رجسٹریشن اور پیٹنٹ قوانین پر ان کے درمیان سنجیدہ اور شدید اختلافات موجود رہے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں سخت اور بے لچک پیٹنٹ قوانین اور ادویات کی رجسٹریشن کے سسٹم کے حق میں ہیں تاکہ مقامی کمپنیاں آسانی سے جنیرک ادویات نہ بنا پائیں اور مارکیٹ زیادہ عرصے تک ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کنٹرول میں رہے۔ ظاہر ہے یہ مقامی کمپنیوں کے لئے قابل قبول نہیں اور وہ اس حوالے سے مختلف رائے رکھتی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اب ڈبلیو ٹی او کے تحت ٹرپس (TRIPS) معاہدے کا حصہ ہے اور پاکستان میں نئے پیٹنٹ قوانین کے تحت ادویات کے پیٹنٹس رجسٹر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اب زیادہ تر  نئی ادویات ملٹی نیشنل کے پیٹنٹس کے تحت محفوظ ہوں گی اور مقامی کمپنیوں کو ان کے جنیرک ورژن بنانے کے لئے یا تو پیٹنٹ کی مدت کی تکمیل کا انتظار کرنا پڑے کا یا پھر قانونی چارہ جوئی (جو بذات خود ایک مہنگا اور اکتا دینے والا عمل ہے) کرنا پڑے گی۔

5۔ پنجاب میں ڈرگ ایکٹ میں جو حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ کوالٹی کے نام پر ہوئی ہیں۔ جعلی اور غیر مؤثر ادویات کی روک تھام کے عنوان کے تحت پہلے سے موجود قانون کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ مقامی کمپنیوں اور تاجروں کو اس پر یہ اعتراض ہے کہ دراصل یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ کوالٹی کے نام پر ایسے اقدامات اور وہ بھی فوری طور پرجن کے نتیجے میں کچھ کمپنیوں اور فارمسیز کے بند ہونے کے خدشات ہیں’ درست نہیں اور حکومت کو متبادل طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بادی النظر میں یہ خدشات درست بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ بین القوامی فورمز پر بھی ملٹی نیشنل فارما انڈسٹری اور ان کے ہمنوا کوالٹی کے نام پر جنیرک فارما انڈسٹری کا گلہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں ہم نے خود دیکھا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے جعلی اور غیر مؤثر ادویات کی روک تھام کے لئے ہونے والے مذاکرات عملی طور پر تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ترقی پذیر ممالک کوالٹی کے بارے میں ملٹی نیشنل انڈسٹری اور امریکی نقطہء نظر کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ پنجاب میں کی جانے والی تبدیلوں کو بھی بہت احتیاط سے دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کے معروضی حالات دنیا سے مختلف ہیں۔ ہمارے خوراک اور فوڈ کوالٹی کے اسٹینڈرڈز لوکل ہیں۔ ہمارے سڑکوں پر رواں دواں گاڑیوں کی اکثریت میں ائیر بیگز نہیں مگر ہم انہیں چلاتے ہیں’ ہمارے اپنے کنسٹریکشن کے معیارات ہیں۔۔۔بعینہ اسی طرح ادویات کی کوالٹی کے بارے میں بھی ہمیں وہی معیارات رائج کرنے ہوں جس کا متحمل ہمارا صارف ہوسکتا ہے۔ اس کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ جعلی ادویات کا دھندا جاری رہنا چاہیئے۔ اس گھناؤنے کاروبار کی بیخ کنی ضروری ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ جو مقامی فارما انڈسٹری ہم نے بنا لی ہے اس کا تحفظ بہرحال ضروری ہے۔ اگر حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنا مارکیٹ شئیر بڑھانا شروع کردیا تو چند ہی سالوں میں پاکستان کے عام غریب ادمی کے لئے ادوایات کی رسائی ممکن نہیں رہے گی۔ ڈبلیو ٹی او کے تحت ہمارے پیٹنٹ قوانین پہلے ہی تبدیل ہوچکے ہیں۔ مقامی کمپنیوں کے لئے سستی جنیرک ادویات بنانا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ نئی ادوایات کا بڑا حصہ پیٹنٹ کے تحت محفوظ ہے اور مقامی کمپنیاں قانونی طور پر اس بات کی پابند ہیں کہ وہ پیٹنٹ کی مدت کے دوران (بیس سال) سستی جنرک نعم البدل نہیں تیار کرسکتیں۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے نودریافت شدہ دوا سوالڈی (سوفیس بوویر) اگر مقامی کمپنیاں(طویل قانونی جدوجہد اور لابی کے بعد) نہ بنا پاتیں تو ملٹی نیشنل کمپنی گیلیاڈ اور اس کی مقامی لائسنس یافتہ کمپنی (فیروز سنز) اپنی ہوش ربا قیمت اور شرائط کی وجہ سے ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتی؟ آج یہی دوا مختلف ناموں سے مکمل ٹریٹمنٹ کے لئے چند ہزار روپوں میں دستیاب ہے جو ملٹی نیشنل کمپنی کی لاکھوں کی قیمت کا منہ چڑا رہی ہے!

مقامی کمپنیوں کو بھی چاہیئے کہ وہ کالی بھیڑوں کو اپنی صفوں سے خارج کریں مگر یہ ہوگا کیسے کہ جس ملک میں ڈرگ انسپکٹرز خود کمپنیوں کے مالک ہوں وہاں ریگولیٹ کون کرے گا؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: