پی ٹی آئی کا ہنی مون پیریڈ ——– عبد الخالق سرگانہ

0
  • 25
    Shares

مسلم لیگ کے لیڈروں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے توان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمیں تحریک چلانے کی ضرورت نہیں یہ حکومت خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائے گی۔ ان کا یہ جواب کچھ مذاق لگتا تھا۔ لگتا تھا کہ درحقیقت ان میں تحریک چلانے کی ہمت نہیں لیکن اب کچھ دنوں سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس سے تو شک پڑتا ہے کہ شاید مسلم لیگ والے کچھ زیادہ غلط نہیں کہتے تھے حکومت بیک وقت کئی بحرانوں کاشکار ہو گئی ہے اب تک سب سے بڑا بحران معیشت تھا۔ دوست ملکوں کے آگے ہاتھ بھی پھیلانا پڑا۔ ماضی میں جسے بہت ہتک آمیز کام سمجھتے تھے۔ آئی ایم ایف کے پیکج کے متعلق بھی ’’بھیک‘‘ کا لفظ استعمال کرنے تھے لیکن اس ’’بھیک‘‘ پر فیصلہ کرنے میں بھی سات مہینے لگ گئے اور ابھی تک معاہدہ نہیں ہوسکا اس دوران معیشت کے تمام اعشارے منفی ہو گئے شرح سود بڑھ گئی مہنگائی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قرضہ بھی بڑھ گیا معیشت سٹیٹ بینک کے مطابق سکڑ گئی ہے جی ڈی پی گروتھ ریٹ چھ کی بجائے تین کے قریب ہونے کی پیشگوئی ہے۔ ٹیکس کی وصولی میں شارٹ فال ہے، ڈالر مہنگا ہو گیا ہے اور شاید مزید ہو گا۔ گیس کے بلوں نے لوگوں کو حقیقتاً پریشان کر دیا۔ ایف بی آر کی اصلاحات نہ ہو سکیں گویا مجموعی صورت حال مایوس کن نظر آتی ہے حکومت کے قریبی ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سٹرکچرل اصلاحات کرنی ہوں گی اور صورتحال دو تین سال میں سدھرے گی لیکن کیا لوگ کسی ریلیف کے لئے اتنا انتظار کرنے کو تیار ہیں؟ اب تک حکومت کے پاس ان سارے منفی پہلوئوں کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب کچھ پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے، پچھلی حکومت کو اقتدار چھوڑے ہوئے دس ماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اب کب تک دلیل عوامی سطح پر قابل قبول رہے گی؟

پچھلے ہفتے پارٹی اور حکومت میں ایک بڑے شگاف نے صورتحال کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔ جہانگیر ترین نے کابینہ اور شاید پارٹی کے کچھ اجلاسوں میں شرکت کی جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سخت ردعمل سامنے آ گیا۔ انہوں نے اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس کر ڈالی اور جہانگیر ترین کی کابینہ اجلاس میں شرکت پر سخت اعتراض اٹھا دیا اس پر ترین نے بھی سخت جواب دیا اور بات یہاں تک نہیں ٹھہری بلکہ پوری پارٹی اور کابینہ اس معاملے پردو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی اور وزراء کے بیانات آنے لگے۔ کابینہ اور پارٹی پہلے ہی بھان متی کا کنبہ ہے۔ کابینہ میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک جو شروع سے پی ٹی آئی کے ساتھ چلے آ رہے ہیں دوسرے وہ جو ہوا کا رُخ دیکھ کر الیکشن سے چند ماہ پہلے پارٹی میں شامل ہوئے اور تیسرے اتحادی پارٹیوں کے نمائندے، اب وزیراعظم نے اس معاملے پر سیز فائر کرا دی ہے اور وزراء اور پارٹی عہدیداروں کو بیان بازی سے منع کر دیا ہے لیکن یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین دونوں پارٹی کے بڑے لیڈر ہیں اُن کے درمیان اس طرح کی کھلی جنگ پارٹی کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ یہیں نہیں رُکے گا بلکہ اس جنگ کے مستقبل میں بہت دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سے بینظیر کا نام نکالنے کا معاملہ سامنے آ گیا اُس پر بھی یقیناً پارٹی میں اختلاف ہوا خصوصاً شاہ محمود قریشی نے پبلک میں اس تجویز سے اختلاف کیا حالانکہ انہیں پارٹی میں رائے دینی چاہئے تھی اس پر بھی پارٹی نے کچھ دھول اُڑا کر یوٹرن لے لیا کیونکہ سینٹ میں وہ کوئی بھی قانون سازی پاس کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔

پی ٹی وی ایک نمایاں قومی ادارہ ہے وہ تقریباً پچھلے تین مہینے سے شدید بحران کا شکار ہے۔ ایم ڈی ارشد خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے درمیان کھلی جنگ جاری ہے اس کی تفصیلات اخبارات اور الیکٹرانک چینلز پر مسلسل آ رہی ہیں۔ پارلیمنٹ کی سٹیڈنگ کمیٹیوں میں بھی تلخ کلامی کی خبریں آ رہی ہیں۔ ایم ڈی کافی عرصے سے اپنے دفتر نہیں جا رہے کیونکہ دفتر پر یونین نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ چند دن پہلے یونین نے ڈائریکٹر فنانس کے ساتھ جسمانی طور پر بدتمیزی کی ہے ادارہ تباہ ہو رہا ہے ملازمین پریشان ہیں لیکن وزیراعظم اب تک فیصلہ نہیں کر رہے، اب اطلاعات ہیں کہ اگلے چند دن میں فیصلہ آنے والا ہے غالباً وزیراطلاعات کے ہاتھ باندھ دیئے جائیں گے۔ لیکن اب تک جو نقصان ہو چکا ہے اور معاملات جس قدر اُلجھ چکے ہیں اس کا ازالہ کب اور کیسے ہو گا جو غلط روایات ڈال دی گئی ہیں ان کے اثرات کافی دیرپا ہونگے۔ لوگ تو اس حکومت سے تیز رفتار فیصلوں اورگڈ گورننس کی توقع رکھتے تھے لیکن یہ تو اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلے چھ ماہ کسی حکومت کے لئے ہنی مون پیریڈ ہوتا ہے اس میں وہ سخت فیصلے کر سکتی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ وہ پیریڈ گزر گیا ہے اور کوئی ایسے بنیادی فیصلے نہیں ہو سکے جن کے متوقع مثبت نتائج سے لوگ پُرامید رہیں۔ اخبارات میں کالم پڑھیں یا ٹیلی ویژن چینلز پر پرائم ٹائم پروگرام دیکھیں تو کہیں سے حکومت کے لئے کلمۂ خیر نہیں سنائی دیتا وہ اینکر اور تجزیہ نگار جو دن رات پی ٹی آئی کے گن گاتے تھے اور عمران خان کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتے تھے اب ایسا لگتاہے کہ ان کے پاس کپتان کا دفاع کرنے کے لئے کچھ نہیں۔ صورتحال پی ٹی آئی ہی نہیں ملک کے لئے بہت افسوسناک ہے بظاہر تو ہوا اکھڑ گئی ہے یہ ضرور ہے کہ عوام میں پارٹی اور کپتان کے شیدائی اپنی جگہ پر ابھی تک قائم ہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے نئے آدمی کو آزمانے کا فیصلہ کیا تھا صورتحال سے کچھ مایوس ہونے لگے ہیں اور یہ حکومت کے لئے اچھا شگون نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: