تکون کی چوتھی جہت: چھوٹے کینوس کا بڑا ناولٹ ——– ناصر شمسی

0
  • 57
    Shares

’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ پر بات کرنے سے پہلے مصنف اقبال خورشید کے مشاہدات اور تجربات، زاویۂ نظر اور اُن کی قوت احساس کا ادراک اسی طرح ضروری ہے جیساکہ کسی بھی ادبی تخلیق کی بہتر تفہیم کے ضمن میں دیگر تخلیقات کے حوالے سے ناگزیر ٹھہرتا ہے۔

اقبال خورشید افسانہ نگار، کالم نگار، مصاحبہ کار، کہانی کار اور یقینا اب وہ ناولٹ کے تخلیق کار بھی ہیں۔ سیاسی، معاشرتی، اِرد گرد کے ماحول اور اُس میں ہونے والی تبدیلیوں اور ایک حساس قلم کار اور صحافی ہونے کے ناطے وہ انسانی نفسیاتی پہلوئوں کا علم رکھتے ہیں۔ماس کمیونیکشن اور بین الاقوامی تعلقات کے پوسٹ گریجویٹ ہونے کے حوالے سے سیاسی، سماجی، جغرافیائی اور تاریخی حقائق کے ضمن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی لیے اُن کی دیگر تحریروں میںEmpiricism کے Shades بھی نظر آتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں پائے جانے والے شدید رجحانات اور کرخت رویوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے المیوں سے نہ صرف وہ بخوبی واقفیت رکھتے ہیں، بلکہ یہ موضوعات اُن کے بیشتر کالموں کا موضوع بھی بنتے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ناول کی بلند ترین خوبی یہ ہے کہ اس سے ایک تخلیقی سرگرمی پیدا ہو، اور یہ کہ ناول نگاری کے فن کو ایک جہت اور نیا معیار عطا کرے۔ (ناولٹ کا لفظ یہاں استعمال کرنا اس لیے ضروری نہیں کہ مختصر ناول کو ہی ناولٹ کہا جاتا ہے۔)

شہزاد منظر نے کہا تھا کہ ’’روایت سے باغی ہونا اور روایت کو ساتھ لے کر چلنا ان دو حصاروں سے ادب تخلیق پاتا ہے۔‘‘ روایت سے خوبصورت انحراف کے حوالے سے ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ اردو ادب میں ایک منفرد اور خوشگوار اضافہ ہے۔

ناولٹ ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ میں قاری کو واحد متکلم کے مباحث نظر آتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود کرداروں کے احساسات اور خیالات کے ترسیلی ماحول میں حیرت ناک طور پر مکالمہ کی فضا کا احساس ہوتا ہے۔ گو ناولٹ کا Form مختلف ہے اور اردو فکشن میں نظر نہیں آتا ۔البتہ مغرب کے لیے یہ تکنیک اس قدر اجنبی نہیں ہے۔

ناولٹ کا ماجرا علاقے میں موجود دہشت گردی کے پس منظر میں ترتیب پاتا ہے۔ سیاست بقول چومسکی ایک “Manufactured Consent” ہے اور دہشت گردی اس کا منطقی نتیجہ۔ دہشت کا پھیلاؤ، خودکش بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، پراکسی وار، اغوا برائے تاوان وغیرہ اسی دہشت گردی کے شاخسانے ہیں۔

ناولٹ کا نکتہ ارتکاز تباہی و بربادی کے اس نفرت بھرے ماحول میں محبت کے جذبے کو سامنے لانے کی ایک پُرخلوص کاوش سے عبارت ہے۔ ناول کے تینوں کردار عورت، مرد اور جنگجو Round ہیں اور انسانی مزاج کا دھیما پن اور ٹھہرائو کرداروں کی نفسیات سے عیاں ہے، جو ناولٹ کے موضوع کے اعتبار سے Value Added ہے کیونکہ ناول/ناولٹ اور اس کے جیتے جاگتے کرداروں کا تعلق ذات کے رمز سے ہوتا ہے۔

میلان کنڈیرا کا کہنا ہے کہ ’’صورت حال کے جوہر کا ادراک تمام بیانیہ تکنیکوں کو بے کار محض بناتا ہے۔‘‘ حقیقتاً میلان کنڈیرا ہمیں کرداروں کی ظاہری شباہت کے تعلق سے کچھ نہیں بتاتے، اُن کے یہاں کرداروں کی نفسیاتی محرکات کی تفتیش سے دلچسپی زیادہ ہے۔ میلان کے مطابق ’’ناول وجود کا مشاہدہ کرتا ہے۔ وجود انسانی امکان کی مملکت میں ہے۔ انسان کوئی بھی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اپنی اہلیت کے مطابق کسی بھی سانچے میں ڈھل سکتا ہے۔‘‘ ناول نویس ’’وجود کا نقشہ پیش کرتا ہے۔‘‘ کچھ ایسا ہی ہمیں ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ میں نظر آتا ہے۔

ناولٹ میں انسانی جدوجہد، انسانی ذات کے تضادات، منافقت اور جنسی جبلت کے مقابل محبت کے عظیم جذبے کو سامنے لایا گیا ہے۔ محبت ایسے قوت بخش جذبے کا پھیلائو یقینا حصارِ کائنات سے بھی ماورا ہے جوکہ براہِ راست خالق اور اُس کی عظیم تخلیق کے درمیان ایک رابطہ قائم کرنے اور قائم رکھنے کا جواز رکھتا ہے۔ انسانی زندگیوں کا سب سے پُراثر بیانیہ محبت کا بیانیہ ہی ہے۔ ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ کا مختصر کینوس اس حوالے سے ایک بڑے کینوس میں تبدیل ہوجاتا ہے اور مخصوص لوکیل میں تحریر کردہ ناولٹ آفاقی جہت کا حامل نظر آتا ہے۔

ناولٹ میں تحریر کردہ جملے بغیر کسی رکاوٹ اور بلا کسی منطق کے آتے چلے گئے ہیں اور احساس اور حقیقت کے رشتوں کی نئی ترتیب کرتے جاتے ہیں۔ اس ناولٹ کی کامیابی کے لیے شاید یہ ہی خوبی کافی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’ندی جم گئی، اور سفیدی نے علاقے کو ڈھانپ لیا، مگر اس بار وہ ٹھنڈ نہیں پڑی ،جو کبھی مجھے اپنے سائے میں چھپا لیا کرتی تھی۔ جو دبے پاؤں دالان میں چلتی، کھڑکی سے داخل ہوتے بادلوں سے اٹکھیلیاں کرتی۔ لحاف میں رچ بس جاتی۔ ٹھنڈ جس سے میں محبت کرتا تھا۔‘‘

’’پت جھڑ شروع ہوگیا۔ خشک ٹہنیاں اسپتال کی کھڑکی سے جھانک رہی تھیں، دیوار پر چیونٹیاں قطار کی صورت سفر کر رہی تھیں۔ زچگی کا مرحلہ مکمل ہوئے چند ہی گھنٹے بیتے تھے۔ میرے دو دانت گر گئے۔ اور میں نے بیٹا جنا تھا۔‘‘

’’گزشتہ کئی برس سے میں اُس کی کمی محسوس کر رہا ہوں، اگر وہ ہوتی، تو آسمان سے برستے بارود کا اندیشہ، گو ختم نہیں ہوتا، مگر گھٹ ضرور جاتا، اور اپنے ہم وطنوں کے حملے کم کریہہ معلوم ہوتے۔‘‘

اقبال خورشید نے اس دور اور ماحول کی حقیقت کو تیز اور نکتہ بیں نگاہوں سے دیکھا ہے۔ ہمارے معاشرے میں گہری جڑوں والی دہشت گردی اور اُس کے نتیجے میں در آنے والے انسانی رشتوں کو اُدھیڑے جانے والے سماجی و معاشرتی المیے کا بیانیہ درد مندی سے رقم کیا گیا ہے۔ ’’جنگ جو‘‘ ایسے کردار کے ضمن میں انسان کی اندرونی متضاد کیفیات اور تکون کے ضمن میں نفسِ انسان کے مختلف جذبوں کے بہت سے راز فاش کیے گئے ہیں، جو ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی۔ ایک یہ کہ جس کا تعلق عام تہذیب اور تمدن سے ہے اور دوسرا وہ ،جس کا تعلق انسانی شعور اور شخصیت کی گہری ضروریات سے ہے۔ انسانی جبلت میں موجود دونوں جذبے ،یعنی ذاتی غرض کی تکمیل کی خواہش اور دوسروں کے لیے قربانی کا جذبہ ،جوکہ دراصل محبت کی حقیقی روح ہے پورے ماجرے میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

ناولٹ کا پلاٹ اُلجھا ہوا نہیں ہے اور قصہ بتدریج اور سلیقے سے آگے بڑھتا ہے اور ہیجانی اور ہذیانی کیفیات سے مبرّا ہے۔ نہ کوئی طنز، نہ تضحیک۔ ناولٹ میں غیر ضروری تفصیلات سے مکمل اجتناب ہے اور اس کے مختصر ابواب قاری کی دلچسپی کا باعث بنے رہتے ہیں۔

ناولٹ میں اقبال خورشید کے وجدان سے زیادہ شعور اور ریاضت کا دخل ہے، دیکھیے:

’’میرا غم صحرائوں سے وسیع، چوٹیوں سے بلند اور سمندروں سے گہرا تھا، مگر اُس کی شدت فقط ایک تجربہ تھا۔‘‘

’’میں نے وہ بانسری توڑ دی، جس کی دھنیں پرندوں کو گرویدہ بنالیتی تھیں۔‘‘

’’اُس رات میری بے ربط کائنات نے ایک غیر متوقع واقعے کے وسیلے تکمیلیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ورنہ تو میں بکھری ہوئی تھی کہ کچھ ہی عرصہ قبل بڑے سانحے سے گزری تھی۔‘‘

’’اور اُسی رات میرے آنسو اور اُس کے بدن کے درمیان ایک رشتے نے جنم لیا، جو جلد اَٹوٹ لگنے لگا۔ اُس نے میری کمزور ہستی کو ایک تازہ زندگی سے معمور کردیا تھا۔‘‘

آج کا نیا انسان اور اس کا عہد ایک تکون کے نرغے میں ہے۔ مگر اس تکون کی ایک اور جہت موجود ہے ،جو اُسے آزادی عطا کرتی ہے۔ رواداری، قربانی اور یہ ایقان کہ اِس لمحہ موجود میں جو شخص کسی واسطے سے بھی میرے سامنے موجود ہے، وہ اہم ہے ،بلکہ شاید مجھ سے بھی اہم تر اور یہ بھی کہ کوئی بھی انسانی وجود جذبۂ محبت اور انسانی رشتے کی لاج رکھنے کا اہل ہے۔

دہشت گردی کے پس منظر میں تحریر کردہ ناولٹ میں قاری کو ایسی عبرت انگیز بربادی کے ماحول میں بھی ایک روشنی نظر آتی ہے۔ چوتھی جہت کی اس روشنی سے یقیناً تمام ویرانے آباد ہوسکتے ہیں۔

عظیم ہے انسان میں موجود یہ جہت،
تکون کی چوتھی جہت۔

گزارشات:
(1)۔ ناولٹ میں صحافیانہ طرزِ اظہار کا شائبہ کہیں نظر آجاتا ہے۔ مثلاً: ’’ریاست کا شمالی حصہ، جہاں قدیم پتھروں پر بدھ کی کہانی لکھی تھی، جسے بگاڑ دیا گیا۔‘‘

(2)۔ اکثر شعور کی رو تکنیک پر شاعرانہ زبان کا گہرا اثر ہوتا ہے، جو نئی حقیقت نگاری کے منافی سمجھا گیا ہے۔

(3)۔ ناولٹ کے مصنف میں فن کی امکانی صلاحیت اور توانائی موجود ہے۔ اسی لیے اُن کے لیے بہترین مشورہ یہ ہی ہوسکتا ہے کہ اُن کی تخلیقی دلچسپی کا محور ناول نگاری ہو۔ (مصنف نے افسانے سے ناولٹ کا سفر پہلے ہی کامیابی سے طے کرلیا ہے۔)

(5)۔ شہرِ قائد میں نوجوان باصلاحیت فکشن نگار موجود ہیں، سید کاشف رضا، رفاقت حیات اور اب اقبال خورشید۔ اُردو فکشن کی جانب ان کی مزید پیش رفت اُردو ادب کے فروغ میں نہ صرف معاون ہوگی بلکہ فکشن کے قاری کے لیے یقینا طمانیت کا باعث بھی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: