شادی: دکھاوا یا ضرورت ——– اسماء ظفر

0
  • 191
    Shares

نکاح ایک سنت اور مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت بندھن بھی ہے جسکی بدولت نا صرف دو لوگ بلکہ دو خاندان ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں گذشتہ دنوں بہت سی مشہور شادیوں نے سوشل میڈیا میں دھوم مچا کر رکھی جو مشہور سلیبریٹز کے درمیان انجام پائیں انکی اپنی بحیثیت اداکار شہرت تو وجہ تھی ہی اسکے علاوہ ان شادیوں کی مہینوں چلنے والی تقریبات اور ان میں لٹایا گیا لاکھوں روپیہ زیادہ زبان زد عام رہا ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہاں ایسی پر تعیش شادی کی تقریبات یقیناً لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن جاتی ہیں کہا یہ جاتا رہا کہ یہ لوگ رول ماڈلز ہوتے ہیں اسلیئے انہیں اپنی نجی زندگی کو بھی دوسروں کے لیئے مثال بنانا چاہیئے کیونکہ نوجوان نسل ان سے براہ راست متاثر ھوتی ھے بات تھی بھی سو فیصد درست دوسری طرف انڈیا میں ارب پتی امبانی کی دختر کی شادی بھی بین الاقوامی شہرت کی حامل رہی جبکہ بھارت میں تو عوام کا حال ھمارے ملک سے بھی گیا گزرا ھے مگر اس شادی میں پیسے کی نمائش کے سب اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے کہنے والے کہتے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ ہے وہ تو اپنی تقریبات دھوم دھام سے کرنے کا حق رکھتے ہیں چلیں مان لیتے ہیں کچھ دیر کو کہ جسکے پاس پیسہ ہے وہ خرچ کرنے کا بھی اختیار رکھتا ھے چاہے جیسے خرچ کرے مگر کیا یہ اچھا نا ھو کہ ھم اپنی محنت کے پیسے کو درست مصرف میں لائیں صرف شو بازی میں دکھاوے کے لیئے پیسہ اڑانے سے پرہیز کریں۔

گذشتہ دنوں خاندان کی چند شادیوں میں جانا ہوا کیونکہ قریبی رشتے داروں کی تھی اسلیئے بلا تکلف پوچھ بھی لیا کہ اتنے چمکتے دمکتے بینکوئٹ اور دس بارہ ڈشز اور دولہا دلہن کے زرق برق ملبوسات کی مد میں کتنا خرچ ھو گیا میں سنکر دنگ رہ گئی کہ لاکھوں روپے تو صرف بینکوئٹ کے ہی دیئے گئے پھر پرتکلف عشائیوں کا تو نا ہی پوچھیں ایک عام آدمی بھی اب مجبور ھے لاکھوں روپے خرچ کرنے پر کیوں؟ صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ؟ گھر والوں کی ناک نیچی ھونے کے ڈر سے ؟ یا صرف کیونکہ میرے پاس روپیہ ھے تو میں کیوں نا اپنے بچوں کی خوشی میں لگاؤں ؟

بہت افسوس ھوتا ھے کہ لفظ خوشی کے مفہوم ہی بدل گئے ہیں کیا آج سے تیس چالیس برس پہلے لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا ؟ یا انہیں اپنے بچوں کی خوشیاں عزیز نا تھیں ؟ ایسا بلکل نہیں تھا لوگوں کے پاس پیسہ بھی تھا اور اپنی اولاد سے محبت بھی اتنی ہی تھی جتنی آجکل کے والدین کو ھے مگر انہیں خوشی کا اصل مفہوم پتہ تھا خوشی دکھاوے میں نہیں ھوتی خوشی تو اپنے پن میں ھوتی ھے خوشی تو ان بے لوث دعاؤں میں ھوتی ھے جو والدین اپنی اولاد کے لیئے کرتے ہیں اس اچھی تربیت میں ھوتی ھے جو اولاد کی تا عمر رہنمائی کرتی ھے ۔۔

کتنی خوبصورت شادیاں ھوا کرتی تھی لڑکیاں دنوں پہلے ڈھول لے کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور ان محفلوں میں بچے بزرگ سب ہی حصہ لیتے تھے اب تو شادیاں صرف شادی ہالز تک محدود ھو گئیں ہیں قریبی رشتے دار بھی گھر کے بجائے شادی ہالز میں براہ راست پہنچ جاتے ہیں گھروں میں وہ گہما گہمی جو شادی کا خاصہ ھوا کرتی تھی اب خواب سی بنتی جارہی ھے ۔۔

ھمارے پاس پیسہ تو آگیا ھے مگر افسوس اسے برتنے کی تمیز کھو گئ ھے کئ خوبصورت رسومات کی جگہ برائیڈل شاور بیچلرز پارٹی اور نا جانے کن کن خرافات نے لے لی ھے ڈھول پر گیت گاتی لڑکیاں اب انڈین میوزک پر باپ بھائ کے سامنے ٹھمکے لگاتی ہیں کہ یہ فیشن ھے کوئ برا نہیں مانتا نا باپ نا بھائ نئ تہذیب نا جانے ھم سب کو کہاں بہا لیئے جا رہی ہے اور ھم خوشی خوشی بہتے چلے جارہے ہیں خوشی پیسے کی نمائش میں نہیں ھے اپنے ارد گرد دیکھیں کتنی بچیاں بن بیاہی والدین کی دہلیز پر صرف جہیز نا ھونے کی وجہ سے بیٹھی ہیں کتنے لڑکے ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب کر شادی کی صحیح عمر پار کر چکے ہیں آپکی یہ شوبازی کے مظاہرے ان پر کیا ستم ڈھاتے ھونگے کبھی یہ بھی سوچ لیں خوشی کا اصل مفہوم ڈھونڈیں مذہب بھی اسراف سے روکتا ھے نکاح آسان کریں تاکہ بے راہ روی کے راستے بند ھوسکیں اتنا مشکل نا بنائیں اس سنت کو سنت تو یہ ھے کہ نکاح مسجد میں ھو مگر ھم نے مسجد کو صرف عبادت گاہ کے طور پر رکھ چھوڑا ھے عیسائی آج بھی اپنے چرچ اور پادری کو عزت دیتے ہیں وہاں ایک شہزادے کی بھی شادی چرچ میں ھوتی ھے دوسری چیز طعام ھے جو نکاح کے وقت دین سے ثابت ہی نہیں ھے طعام تو لڑکے والوں کو دعوت ولیمہ میں کھلانے کا حکم ھے مگر کیا ہوتا ھے ھمارے یہاں سارا بوجھ لڑکی کے باپ پر ڈال دیا جاتا ھے معاشرے کو ان تکلیف دہ رسومات سے پاک کریں اور نکاح آسان بنائیں بے راہ روی خود ہی ختم ھو جائے گی۔ انشاء اللہ

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: