ٓآقا، ادبی پیرائے میں سیرت نبویؐ ——– نعیم الرحمٰن

0
  • 47
    Shares

ہمارے پیارے نبیؐ کی سیرت ِ پاک پر چودہ سو سال میں بے شمار کتب لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ اردو کا دامن بھی سیرتِ نبوی کی کتب سے مالا مال ہے۔ ڈاکٹر ابدال بیلا کی ’آقا‘ بھی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی سیرت پاک پر لکھی کتاب ہے۔ تا ہم اس سے قبل سیرتِ نبویؐ پر کتب علمائے کرام کی تحریر کردہ ہیں۔ ابدال بیلا نے آقا پہلی بار ادبی پیرائے میں عقیدت اور جذب میں ڈوب کر لکھی ہے۔ انہوں نے کتاب کا بہت بڑا حصہ غارِ حرا میں بیٹھ کر لکھا ہے۔ غارِ حرا کے مخصوص ماحول میں ابدال بیلا نے چودہ سو سال قبل پیش آنے والے واقعات کو سوچا اور چشمِ تخیل سے دیکھا اور محسوس کیا۔ سیرتِ نبوی ؐ پر دو سو زائد کتب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ روضہء رسول کے سامنے مودب بیٹھ کر آقا کے کئی ابواب تحریر کیے۔ تب عقیدت اور محبت سے بھر پور کتاب تخلیق ہو سکی۔

ڈاکٹر ابدال بیلا 14 دسمبر 1956ء کو شہر اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چودھری فضل دین کا تعلق لدھیانہ سے تھا۔ لیکن وہ ہجرت کر کے لاہور میں مقیم رہے۔ ابدال بیلا کے ابتدائی تعلیمی مراحل لاہور ہی میں طے کیے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس کیا۔ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ پاک فوج میں بطور کیپٹن کمیشن حاصل کیا۔ سعودی فوج اور پاک بحریہ میڈیکل کور میں بھی رہے۔ 1997ء میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ہسپتال ایڈمنسٹریشن میں ایم ایس کیا۔ 2007ء تک ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایس پی آر رہے۔ اور پاکستان آرمی سے کرنل کے رینک پر ریٹائر ہوئے۔

تعلیم کے دوران ہی لکھنا شروع کر دیا اور تیس سے زائد کتب لکھیں۔ جن میں رنگ پچکاری، انہونیاں، زیر لبی، سن فلاور، بوندا باندی، لب بستہ، عرضی، ٹرین ٹو پاکستان، ابدالیات، بیلا کہانی، سوانحی ناول ’دروازہ کھلتا ہے، رپورتاژ ’پاکستان کہانی‘ چودہ خاکوں پر مبنی ’کبوتر با کبوتر‘ اور کالموں کا مجموعہ ’ بین بجاؤ‘ شامل ہیں۔ اردو کے منفرد اور صاحبِ طرز ادیب و افسانہ نگار ممتاز مفتی کو مرشد کا مقام دیا۔ اور مرشد ممتاز مفتی پر ضخیم کتاب ’مفتی جی‘ ترتیب دی۔ مرشد ہی کے طرز پر سوانحی ناول ’’ دروازہ کھلتا ہے‘‘ بھی لکھی۔ ممتاز مفتی نے ابدال بیلا کا خاکہ ’’مونچھ مروڑ‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔ مفتی جی لکھتے ہیں کہ’’ابدال بیلا کی جسمی عمر چونتیس پینتیس سال ہے۔ اس کی ذہنی عمر کسی صورت ساٹھ سے کم نہیں اور جذباتی عمر کوششوں کے باوجود سولہ سال سے آگے نہیں جا سکی۔ پتہ نہیں ان تینوں کی آپس میں کیسے دنبھ رہی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ایک انوکھا سا زینہ بج رہا ہے۔ ایک ساز کی لَے درت ہے دوسرے کی بلمپت، تیسرے کی پاپ۔ ایک روز ڈاک سے مجھے ایک کتاب موصول ہوئی۔ ایک خط ملفوف تھا۔ لکھاتھا۔ یہ میرے افسانوں کے مجموعے کی پروف کاپی ہے۔ جب تک آپ اس پراپنی رائے قلم بند نہیں کریں گے یہ کتاب شائع نہیں ہو گی۔ واہ! کیا انوکھی دھونس ہے۔ دوسری عجیب بات یہ تھی کہ کتاب کے وہ پروف کھلے کاغذ کی شکل میں نہ تھے۔ انہیں کتاب کی شکل میں سی کر جلد بندی کی ہوئی تھی۔ یا اللہ اتنا اہتمام۔ ایک طرف جذبے کی شدت دوسری جانب کر دکھانے والا عمل۔ خط کے نیچے ابدال بیلا کے ساتھ طالب علم فائنل ایئر ایم بی بی ایس دیکھ کر میرا فلوس اڑ گیا۔ ٰیا اللہ یہ ابدال بیلا کیا چیز ہے۔ ایم بی بی ایس کا آخری سال تو سر کھجانے نہیں دیتا اور یہ میاں افسانہ نویسی اور مجموعہ بازی کے اہتمام میں لگے ہوئے ہیں۔ بہر طور بات سمجھ میں آ گئی کہ اس شخص کو ٹرخانا آسان کام نہیں ہے۔ کہانیاں پڑھی تو حیرت ہوئی۔ سیدھی سادھی کہانیاں ایک تھا بادشاہ، اس کی تھی ایک رانی۔ نہ علامت نہ تجرید۔ نہ کھوج لگاؤ۔ نہ راستہ تلاش کرو۔ ابدال بیلا کی شخصیت کے متعلق میرے ذہن میں کچھڑی سی پک گئی۔ ماڈرن بھی ہے۔ روایت بھی ہے۔ خوابوں کا مارا ہوا ہے۔ سراسر عمل بھی ہے۔ کہانیوں میںبڑی جان ہے۔ اندازِ بیان میں خود اعتمادی ہے۔ پبلک ریلشنز کا یہ عالم ہے کہ طالب علمی کے دور میں پبلشر کو پھنسایا ہے اور وہ بھی صفِ اول کے پبلشرکو۔ ‘‘

ممتاز مفتی کی اس تحریر کے بعد ابدال بیلا کے مزید تعارف کی ضرورت نہیں۔ ابدال بیلا نے مفتی جی سے کہا کہ ’آپ کو شخصیت نگاری پر کمال حاصل ہے۔ آپ نے لا تعداد بے مثال خاکے تحریر کیے ہیں۔ آپ آقاؐ پر کیوں نہیں لکھتے۔ مفتی جی نے کہا کہ مجھ سے اب نہیں لکھا جاتا یہ تو لکھ لے۔ ابدال بیلا نے مرشدکی ہدایت پر ہمت مرداں مدد خدا کہہ کر قلم تھاما اور ساڑھے گیارہ صفحات کا شاہکار تخلیق کر دیا۔

آقاؐ پر تبصرے سے پہلے ابدال بیلا کی تحقیق و جستجو دیکھئے۔ ’’کیلنڈر کتابوں سے نزول وحی کی تاریخ نکالی۔ تو انگریزی کیلنڈر کی چودہ اگست نکلی۔ حیران کن حقیقت، ہجرتِ مدینہ چودہ اگست، غزوہ بدر تئیس مارچ، پاکستان سے اس کا تعلق ہو نہ ہو۔ لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مدینہ کا پرانا نام یثرب تھا۔ اللہ نے مدینہ یعنی پاک جگہ رکھ دیا۔ پاک استان پاک جگہ میرے پاک وطن کے معنی بھی وہی ہیں۔

پیش لفظ میں ابدال بیلا لکھتے ہیں کہ ’’میرے آقاﷺ کا نام ِ نامی ہی اتنا مبارک ہے کہ اس لکھے نام کو چمکانے، سجانے سے ہی نصیب سنور جاتا ہے۔ اس راز سے آگاہی مجھے ملتان کے حسین آگاہی بازار سے ہوئی۔ وہاں قرآن اور سیرت کی کتابوں کی ایک دکان ہے۔ یہ انیس سو ننانوے کی بات ہے۔ میں ان دنوں ملتان ڈویژن کی سپیشل مانیٹرنگ ٹیم کا انچارج تھا۔ میرا قافلہ اسی بازار سے گزرا اور قرآن، حدیث اور سیرت بھر کتابوں کی دکان کے آگے سے بھی اسی تمکنت اور تفاخر سے گزر گیا۔ دھول اور غبار کا بادل ادھر اڑا۔ اِدھر میرا فلوس اڑ گیا۔ روح لرز گئی۔ شام کو کپڑے بدل کر اردلی کی بائیسکل پر دکان پر جا پہنچا۔ دو نو عمر لڑکے تھے۔ انہوں نے مجھے نہ پہچانا، دکان کے سب شیلف قرآن، حدیث اور سیرت کی کتابوں سے لبالب بھرے تھے۔ سب پہ مٹی، دھول اور غبار تھا۔ اس غبار میں میرے کاروان سے اڑی دھول بھی ہو گی۔ میری روح چیخ پڑی، میں لرز گیا۔ جیب سے رومال نکالا اور ایک ایک کتاب اٹھا اٹھا کر صاف کرنے لگا۔ دکاندار بچے حیران ہوئے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ دل کرتا ہے ایسا کرنے کو۔ صاف کر کے کچھ کتابیں خریدوں گا۔ تم لوگ اپنا کام کرو، بس وہ رومال کتابوں سے اڑاتا، روح میری صاف ہوتی جاتی۔ آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے، پھر ٹپک پڑے۔ پہلے بوندا باندی، پھر موسلا دھار، رومان انہی سے دھویا، نچوڑا، پھر جو آقاﷺ کے نام نامی کو اس گیلے رومال سے چمکایا تو اس نام کی چمک میں آسمان کی سب ستارے اور پورے ماہِ کامل کا نور تھا۔ وہ چمک میرے اندر ٹھہر گئی۔ سیرت کی کتابیں پہلے بھی میری ذاتی لائبریری میں تھیں، مگر اس دن اس لائبریری کا جیسے ایڈمیشن کارڈ مل گیا۔ ممبر بنا لیا گیا۔ وہیں سے ایک ایک سیرت کی کتاب خریدنے لگا، رات کو بیٹھا پڑھتا رہتا۔ دن کو ڈیوٹی پر نکل جاتا۔‘‘

آقاؐ صفحہ اول سے آخر تک اسی جذب و کیف کی کیفیت میں لکھی گئی ہے۔ عقیدت سے سر شار ہر لفظ قاری کو بھی ایک سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ادبی رنگ میں ڈوبی اس کتاب کا اسلوب رواں کمنٹری جیسا ہے۔ ہر واقعہ آنکھوں دیکھے حال کے انداز میں تحریر ہے۔ پڑھنے والے کوایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ یہ ایک انوکھا طرزِ تحریر ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’کھاریاں میں پہلی بار اعتکاف میں بیٹھا۔ وہیں ایک دعا قبول ہوئی اور اگلا اعتکاف مسجد نبویؐ مدینہ جا کے کیا۔ سیرت لکھنے کا آغاز روضہ رسولؐ کی جالی کے سامنے بیٹھ کر کیا۔ کھاریاں کے قریب جہلم میں میرے بابا عرفان الحق تھے۔ ان سے اکثر راہنمائی ملنے لگی۔ وہ بھی میرے پاس آتے رہتے۔ سیرت کے شروع کے باب کھاریاں میں ہی لکھے گئے۔ کب کب اور کتنی بار آقاﷺ کی خواب میں اور خواب کے علاوہ زیارت ہوئی یہ باتیں پھر کبھی سہی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی مدح رسول ﷺ لکھے اور وہ آقاؐ کی نظرِ کرم سے اوجھل رہے۔ یہ سب خوش نصیبی کی باتیں ہیں۔ چودہ سال کام کی تکمیل میں دو سو کے لگ بھگ کتابیں پڑھیں، نوٹس بنائے، تحقیق، جستجو اور محبت پالی۔ سال ہا سال انہی ریگزاروں میں گزارے، اسے اللہ نے سترہ رمضان کو افطاری کے وقت مکمل کرا دیا۔ یہ کتاب ایک غلام کی اپنے اور پوری کائنات کے آقاﷺ کے لیے ایک ہدیہ تبریک ہے۔ دوسرا اس کتاب میں اپنی علمیت، فوقیت، عظمت، خطابت یا اپنے کسی مسلک کا حوالہ نہیں۔ کہیں بحث نہیں چھیڑی، کسی دوسرے لکھنے والے کو رد نہیں کیا۔ بلاوجہ کوئی واقعہ بار بار لکھ کر قاری کو تھکایا نہیں، کنفیوز نہیں کیا۔ کوشش یہی ہے کہ پڑھنے والا جو بھی پڑھ رہا ہے وہ زمانی ترتیب سے تمام تفاصیل کے ساتھ اس منظر میں ایسے جا ملے کہ وہ خود کو اس کا شاہد سمجھے، جیسے خود دیکھ رہا ہو، خود بیت رہا ہو۔‘‘

کتاب کا انتساب ’’قرآن مجید کے مطابق دنیا کی برگزیدہ ترین مقدس خاتون سیدہ مریم علیہ السلام کے بیٹے عظیم رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نام جنہوں نے میرے آقاﷺ عظیم ترین رسول حضرت محمدﷺ کے آنے کی بشارت دی‘‘ ہے۔

آقاؐ کا آغاز حضرت ابراہیم ؑکا وادی بکہ میں اپنی اولاد کو بسانے سے کیا گیا ہے۔ ’’کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سیدہ سارہؑ کے کہنے پر اُدھر آئے تھے۔ سیدہ ساراؑ چونکہ اس وقت تک بے اولاد تھیں، ان سے اپنے شوہر کی دوسری بیوی کا بیٹا نہ سہا گیا۔ دونوں ماں بیٹے کے دیس نکالے کا مطالبہ کر دیا۔ ماننے والے اس کہاوت کو مان لیتے ہیں۔ مگر حیرت ہے انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ تو سوچیں کہ سیدہ ساراؑ کا مطالبہ ماننے کے لیے خدا کے دوست انتہائی برگزیدہ نبی سیدنا ابراہیم ؑاپنی بیوی حاجرہ ؑاور اسماعیلؑ کو فلسطین سے لے کر سوا مہینے چلتے چلتے کہاں جا کے رکتے ہیں؟ کہاں بیوی اور بچے کو چھوڑتے ہیں؟ وہ کونسی جگہ تھی؟ وہ جگہ کس نے طے کی تھی؟ سیدہ سارہؑ نے، سیدہ ہاجرہؑ نے، سیدنا ابراہیم ؑ نے یا ان کے خدا نے خدا کے حکم کے بنا، نہ وہ چلتے تھے نہ رُکتے تھے۔ دیکھنا یہ ہے وہ جگہ کونسی ہے؟ وہاں کیا تھا اس وقت اور کیا ہونے والا تھا؟ بی بی ہاجرہؑ کو بھی وہ بے آب و گیاہ ویرانہ، ویرانہ ہی لگا تھا۔ دُدر دُور تک نہ پانی، نہ پانی کا نشان۔ نہ کوئی پودا، نہ کوئی پیڑ۔ نہ کوئی انسان، نہ کوئی انسانوں کی بستی۔ ایسی جگہوں پر کون رُکتا ہے، کون بچتا ہے۔ کون بستا ہے؟ مگر وہ بس گئیں۔ ٹھہر گئیں اور ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئیں۔ وہ بھی ایسے کہ اُن کا چلنا پھرنا، دوڑنا، رُکنا ہمیشہ کے لیے امر کر دیا گیا۔ ‘‘

’’یہ وہی جگہ تھی جہاں چالیس دن کی مسافت کے بعد عین اسی جگہ روکا گیا تھا، جہاں خدا نے اپنے گھر کا صحن سوچا تھا۔ وہاں رُکتے ہوئے، سیدہ ہاجرہؑ نے اپنے عالی مقام خاوند سیدنا ابراہیم ؑ سے صرف ایک سوال پوچھا تھا۔ نہ کوئی گلہ نہ کوئی شکوہ، بس ایک معصوم سوال۔ یہیں لا کے چھوڑنا، کیا اللہ کے حکم سے ہے؟ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے غبار آلود تھکے بوڑھے چہرے پہ چمکتی ہوئی خوش کن آنکھوں سے مسکرا کے اثبات میں سر ہلایا اور کہا۔ ہاں، اللہ کی یہی منشا ہے۔ سیدہ ہاجرہؑ نے پھر کوئی سوال نہیں کیا۔‘‘

کیا دل پذیر اندازِ بیان ہے۔ غلط روایات کو دلائل کے ساتھ باطل بھی کر دیا اور صحیح واقعات بھی بیان کر دیے۔ یہی دلکش اسلوب قاری کو مسحور کیے رکھتا ہے۔ ایک ایک لفظ د ل میں اترتا محسوس ہوتا ہے۔ ذرا یہ انداز بیان ملا حظہ ہو۔

’’ام معبد کی آنکھوں میں پھر دیکھتے ہوئے ماہِ کامل کے تصور سے آسمان سے سارے ستارے اُترآئے اور وہ اپنے خیال شائستہ میں کھوئی، کھلی آنکھوں میں، انہیں بندکرکے ہولے ہولے کہنے لگیں۔ آج حیرت بھرا خوش نصیب دن ہے۔ جو میری ساری زندگی میں پہلی بار آسمان سے اُترا ہے۔ آج میں نے کائنات بھر کا سب سے حسین اجلاپن اور پاکیزگی انسانی شخصیت میں مجسم دیکھی ہے۔ چہرہ پُرنور، اخلاق خلائق کی ہر حد سے خوباں، متناسب الاعضاء، جسم پھولوں بھری ڈال، خوش خیال، خوش خصال، کمال حد جمال، نہ پیٹ بڑا ہونے کا عیب، نہ کوتاہ گردن، نہ چھوٹا سر، سر کے بال پورے، گھنے، لمبے اور میانہ گھنگریلے، بالوں کی سیاہی تیز چمکتی ہوئی، ستواں اونچی سجیلی گردن، مہکتی گھنی داڑھی، آنکھوں کے اوپر کٹار، پتلی بھویں، آپس میں شائستگی سے جڑی ہوئیں، آنکھیں موتیوں بھرے جادوئی سیپ، لمبی خوش قطع روشن اور خوش نما، حیا سے سرسراتی ہوئیں، آنکھوں کی پتلیاں کالی کچور، خوش خیالی سے بھری ہوئیں، نیک سرشست، باقرینہ اور آنکھوں کی سفیدی، دورھ کے مکھن سے بھی اُجلی، براق، ان کی آنکھوں کی چمک، ہیرے سے ہویدا دھنک، بقعہ نور، نور در نور، جدھر آنکھ اُٹھتی، موسم بدل جاتا، خیر بھرا خیرہ، شاد کام، خوش اندام، خوش گام، شیریں کلام، خاموشی میں پر وقار، مسکراتے تو حسن کی آبشار، گفتگو جیسے نگینوں کی لڑی، آب دار مہکتے موتی ان کی باتوں سے جھڑتے، خوش نوا، شیریں سخن، قول فیصل کہنے والے، پر لطف، کم گو، مگر کم گوئی ایسی نہیں کہ بات پوری نہ ہو۔ لفظ لفظ موتیوں کی مالا، پھولوں کا گجرا، دل پسند، آواز میں سر کے سارے آہنگ، نفیس اور بلند خیال، فضول گوئی سے کوسوں دور، شان تمکنت والے، دور سے دیکھو تو سب سے حسین، سراپا جاہ وحشم۔ قریب سے شیریں، مردا بریشم۔ گفتار میں فصیح، ابلاغ میں بلاغت، خوش گزار اور خوش رفتار، دیکھنے میں نہ اتنے لمبے کہ قد کی لمبائی چبھے، نہ کوتاہ قد، موزوں قد و قامت، خوش انگ، نرمل، بے میل، با سلیقہ اور با وقار قول و قال، دو شاخوں کے درمیان ایک ڈال، دو رفیقوں کے ہم جولی، جو انہیں گھیرے رہتے۔ اپنی انتہا توجہ کے دائرے میں، ان کے لب سے نکلا ہوا ہر لفظ، ساتھ والوں کے لیے حکم، ساتھ اطاعت شعار، بلند بخت، حق شناس، بریاب، جو تعمیل میں دوڑ پڑتے، نہ ترش رو، نہ زیادہ گو، مخدوم ایسے کہ خادم پر سند، آقاﷺ ایسے کہ چاند تارے غلام، خور شید اور ماہتاب ان کے پیروں کی دھول، کائنات کے ذرے ذرے کا ان کو سلام، کیسے کہہ دوں کہ وہ کیسے ہیں۔‘‘

آقاؐ کے ابواب سے اس کی طرزِ بیان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ’سنی گئی دعا‘، ’محفوظ کیے گئے قدم‘، ’حدودِ کعبہ کا تعین‘، ’کعبے کے متولی‘، ’عرب کے بت کدے‘، ’بت خانوں کے پروہت اور اُن کی رسمیں‘، ’آقاﷺ کا شجرہ نسب‘، ’دور سے آیا۔ قصی بن کلاب‘، ’قریش اور مکے کی حکمرانی‘، ’سیدنا ہاشم‘، ’سیدہ سلمٰی ‘، ’مطلب اور عبد المطلب‘، ’احضرزم زم‘، ’دل ہی دل میں خدا سے وعدہ‘، ’تجدید اسماعیل علیہ السلام‘، ’نبوت، بادشاہت اور بنو زہرہ‘، ’ذکر آقاؐ۔ مقدس تورات اور زبور میں‘، ’ ذکر آقاؐ مقدس انجیل میں‘، ’ذکر آقاؐ ہندواؤں کی مقدس کتابوں میں‘۔ ان تمام ابواب میں رسول اللہ ؐ کی بعثت سے قبل کے زمانے، عرب کے ماحول، آپؐ کے خاندان کی تفاصیل اور اہمیت، بعثت نبوی کی پیش گوئیوں کا بیان انتہائی دلکش انداز میں کیا گیا ہے۔

اس زمانے میں مکہ میں پیدا ہونے والے بچے پیدائش کے بعد صحرا سے آئی دودھ پلانے والی آیاؤں کے حوالے کر دیتے تھے۔ یہ صحر انشین عورتیں دو تین سال تک لیے ہوئے بچے کو دودھ پلاتی تھیں۔ رسول خداؐ کی پیدائش کے چند ہفتوں کے بعد بنی سعد کے خانہ بدوش قبیلے سے دس شیر خوار بچوں کی مائیں مکہ آئیں۔ جن گھر میں بچے پیدا ہوئے تھے ان گھروں میں گئیں۔ سیدہ آمنہ ؓ کے گھر میں ایک ایک کر کے ساری آیائیں آئیں۔ سب نے دیکھا، بچہ صحت مند ہے، خاندان جاہ و حشم والا ہے۔ مگر بچہ یتیم ہے۔ ہر آیا ددوھ پلانے کی مدت ختم ہونے کے بعد بچے کے باپ سے انعام کی توقع رکھتی تھی۔ جو بچہ یتیم ہو، وہاں وہ کس سے توقع کرتیں۔ ایک دادا تھے، عبد المطلب، مگر انہیں دنوں ان کا بھی بچہ حمزہ پیدا ہوا تھا۔ حمزہ کو انہی آیاؤں میں سے ایک آیا نے لے لیا۔ ایک یتیم بچہ کسی آیا نے گود نہ لیا۔ وہ یتیم بچہ رسول خداﷺ تھے۔ ایک آیا بھی اتنی غریب اور مسکین تھی کہ کسی نے اپنا بچہ اسے پیش نہ کیا۔ وہ آیا بی بی حلیمہ تھی۔ شام ہو گئی۔ آیائیں واپس چلنے لگیں۔ بی حلیمہ نے اپنے شوہر حارث بن عبدلعزی سے کہا کہ ابو شیما مجھے بغیر بچے اپنے قبیلے میں جاتے شرم آتی ہے۔ ایک یتیم بچہ جسے میں بھی منع کر آئی تھی۔ کسی نے نہیں لیا۔ تم کہو تو لے آؤں۔ ابو شیما نے کہا لے آؤ۔ مفلسی عجیب شے ہے۔ انسان اور جانور دونوں کا غربت میں دودھ سوکھ جاتا ہے۔ بی بی حلیمہ، سیدہ آمنہؓ کے یتیم کو لے کر آتی ہوئی سوچ رہی تھیں کہ اس یتیم کو دودھ کیسے پلاؤں گی؟ میرا جسم تواپنے بچے عبد اللہ کے لیے پورا دودھ نہیں بناتا۔ میرا بچہ بھوکا رہ جاتا ہے۔ بعد میں بی بی حلیمہ نے خود یہ کہانی سنائی۔ ’’جونہی میں اپنے خیمے میں آئی، تو مجھے اپنے جسم میں ایک عجیب خوشگوار صحت مند تبدیلی محسوس ہوئی۔ میں نے ددنوں بچوں کو دودھ پلانا چاہا تو ششدر رہ گئی۔ میرا جسم دودھ سے بھرا ہوا تھا۔ قریشی یتیم بچے نے ایک طرف سے جی بھر کے دودھ پیا پھر سو گیا۔ دوسری طرف سے میرے بچے عبد اللہ نے پیا۔ وہ بھی سیر ہو گیا۔ میں حیران ہوئی سوچتی جاؤں، یہ جسم میں اچانک اتنا دودھ کہاں سے آ گیا۔ اتنے میں میرا خاوند خیمے میں آ گیا۔ اس کا انداز خوش کن تھا جیسے وہ کوئی اچھی خبر لے کر آیا ہو۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیالے سے بڑا برتن تھا۔ وہ برتن میرے آگے بڑھاتے ہوئے کہہ رہا تھا حلیمہ دیکھ، یہ دیکھ، میں نے دیکھاوہ برتن دودھ سے لبا لب بھرا ہوا تھا۔ یہ کہاں سے لائے؟ اپنی اونٹی نے دیا ہے۔ میں ہکا بکا رہ گئی۔ ہماری اونٹنی تو بڑی عمر کی وجہ سے کتنے عرصے سے دودھ دینے سے رک گئی تھی۔ یہ سارا دودھ اپنی اونٹنی کا ہے۔ اس سے بہت زیادہ، اتنا تو میں پی آیا ہوں۔ اونٹنی کے بچے کو بھی پلایا ہے۔ میں نے خاوند کو بتایا کہ میرا جسم بھی دودھ سے بھر گیا ہے۔ دونوں بچوں نے سیر ہو کر پیا۔ وہ بولا حلیمہ مجھے لگتا ہے تم کوئی بہت بابرکت روح والا بچہ لے آئی ہو۔‘‘

پوری کتاب جذب و عقیدت سے لبریز ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہے۔ میرے حضورؐ کی زندگی کا ایک ایک پل ابدال بیلا نے قاری کو کسی فلم کی مانند دکھا دیا ہے۔ با برکت زندگی کے ذکر کو پڑھتے ہوئے آنکھیں اشکوں سے لبریز ہو جاتی ہیں اور پڑھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ کتاب کے اقتباسات دینا چاہوں تو مضمون ختم ہی نہ ہو۔ ہر صفحہ، ہر واقعہ اپنی دلچسپی کے ساتھ مصنف کی سحر انگیز انداز سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آقاؐ پر تبصرہ لکھنے میں مجھے اتنی دیر اسی لیے لگی کہ اس کتاب کو پڑھنے سے ہی سیری نہیں ہوتی اور ہر سطر پر دل کی گہرائیوں سے ابدال بیلا کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔ حضورﷺ کی وصال پر کتاب کا اختتام کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’صبح روتی ہوئی سوجی آنکھوں سیدہ فاطمہؓ خاتون جنت نے آقاؐ کے غلام سیدنا انسؓ کے ہاتھوں پر آقاؐ کی لحد میں گرائی مٹی لگی دیکھی تو روتے ہوئے پوچھا۔ انس تم نے کیسے برداشت کر لیا کہ آقاﷺ کے مقدس جسد ذی وقار پہ اپنے ہاتھوں سے مٹی اٹھا کے ڈالو؟ سیدنا انسؓ رو پڑے۔ روتے روتے گر گئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں کھول کر سیدہ کو دکھائیں اور عرض کی۔ سیدہ، میں نے مٹی نہیں جھاڑی۔ اس مٹی کے ایک ایک ریت ذرے میں آسمان کے چاند، خورشید اور ستاروں سے بڑھ کے خوش بختی ہے۔ یہ ہمارے آقاؐ کا بچھونا مٹی ہے۔ قبر مبارک کے نیچے تو وہی ان کے کندھوں پہ پہنی ہوئی سرخ چادر ہے اور اوپر یہ متبرک مٹی۔ اس مٹی سے بڑی دولت زمین، آسمان اور دونوں کے درمیان کہیں نہیں۔ پتہ نہیں، روتے ہوئے گرے پڑے اجڑی آنکھوںوالے آقاؐ کے غلام سیدنا انسؓ نے یہ ساری باتیں کی بھی یا نہیں۔ مگریہ سچ ہے کہ صدیوں بعد ایک قدیمی آقاﷺ کے عقیدت مند کی آقاؐ کی قبر مبارک سے اٹھائی ہوئی ایک مٹھی مبارک ترین مٹی میں سے ایک چٹکی بھر وہی مٹی مجھ سے حقیر، بے مایہ، گنہگار کو مل گئی۔ جس مٹی کے ایک ایک ذرے کے آگے آسمان کے سارے ستارے، سورج اور چاند ہیچ ہیں۔ اس مٹی سے کان لگا کر میں نے آقاﷺ کی ساری کہانی سنی اور خدا نے لکھا دی۔ اس چٹکی بھر مقدس مٹی کی کہانی اپنی اگلی کتاب ’’اعتکاف‘‘ میں لکھوں گا۔ ان شاء اللہ اگر خدا نے توفیق دی۔ وہ ’اعتکاف‘ جو مسجد نبویؐ میں کیا اور عیدی میں وہ خوش بخت مٹی ملی۔ ہزاروں دورد و سلام ہو، میرے آقاؐ پہ، جو اپنے پروانوں، چاہنے والوں، کے ہر سلام کا جواب دیتے ہیں۔ یاد کرنے والوں کو یاد رکھتے ہیں۔ اور جو آقاؐ کو یاد ہو، اسے زمانہ کبھی کیسے بھلا سکتا ہے۔

آقا کے بعد قارئین بے چینی سے ابدال بیلا کی اگلی کتاب اعتکاف کے منتظر ہیں۔ جو اب منظر عام پر آ جانی چاہیے۔

(Visited 186 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: