پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ: خطرناک عمومیت – مبارک انجم

0

.میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک میں مذہبی اور سیاسی حوالے سے اتنی مسلسل بے یقینی کیوں ہے؟کیوں اتنی زیادہ فکروں کا ملغوبہ ہے؟ کیوں ہمارے ہاں ہر معاملہ میں انتہائوں پہ رہنے کا رواج پا گیا ہے..؟ کیوں اس ترقی یافتہ اور تیز ترین دور میں بھی ہمارے نظریاتی مسائل قیام پاکستان کے وقت والے ہی ہیں…وہی مباحثے اور وہی تشفیاں آج بھی چل رہی ہیں..؟ ہماری تحریک ختم نبوت آج بھی عوام کو وہی کچھ سکھا اور سمجھا رہی ھے.. جو قادیانیوں کے مسلہ پر آج سے تیس سال قبل سمجھایا کرتی تھی، اور وہ کچھ غلط نہیں کر رہی ،وہ عوام کو وہی کچھ سمجھانے پہ مجبور ہے جو کہ پہلے بارہا سمجھا چکی ھے،اسج طرح ہر تھوڑے عرصہ بعد کوئی ایک آ دھ مولوی یامشنری مولوی دین میں کچھ نیا لے کر سامنے آ جاتا ہے اور ہمارے علما اکرام بیچاروں کی پھر جان پہ بن جاتی ھے اور وہ اپنی ساری تونائیاں اس فتنہ کی سرکوبی پہ لگا کے اسکا سدباب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن عوم ہیں کہ پھر بھی کبھی قادیانیوں کے بہکاوے میں آجاتے ہین کبھی ملحدوں کےاور کبھی کسی اور کے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟ آج میں اس سوال پہ آپ سب کی توجہ ڈالنا چاہتا ہوں،ممکن ہے میرے کچھ احباب کومیری تحریر پہ شدید اعتراضات ہوں، یہ بھی ممکن ہےکوئی اسکو اپنی ذاتیات،یا مسلکی تعصب کی وجہ سمجھے مگرمجھے اپنی بات کہنی تو یے ،وہ تجزیہ جو میرے عقل و شعور نے مجھے سمجھایا ہے وہ میں سب سے ساتھ شئیر کرونگا باقی جو جسکو جیسے سمجھ آئے وہ اسکو ویسے ہی لے سکتا ہے.

ہاں تو میں کہ ریا تھا ہر تھوڑے عرصہ میں کوئی نیا فتنہ سامنے آجاتا ھے یاکوئی پرانا فتنہ دوبارہ سے سر اٹھانے کی کوشش کرنے لگتا ہے اور عوام الناس اسکا شکار بھی ہونے لگ جاتے ہیں اور ان شکار ہونے والے افراد کا تعلق صرف پڑھے لکھے طبقات سے ہی ہوتا ھے یعنی نوجوان، طلبہ،ملازمت پیشہ اور علمی طبقہ،جبکہ ہمارے علماء اکرام مدتوں سے انسے عوام کو آگاہی فرام کرتے چلے آرہے ہیں،اور ان علما اکرام میں ایسی ایسی بزرگ ہستیاں شامل ھیں کہ جنکے تقویٰ اور دینداری سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا،یہاں تک کہ انکے تقویٰ کی شہادت انکی قبروں سے اٹھنے والی خوشبوئیں دے رہی ہیں،تو دوستو ان فتنوں کے بار بار اٹھنے اور عوام کے ان سے متاثر ہونے کی وجہ ایک بلکل سامنے کی وجہ ہے مگر ہم لوگ اس پہ غور نہیں کرتے،یا پھر غور کرنا ہی ہھیں چاہتے،اور وہ وجہ ہے ،ہمارا” نظام تعلیم” اگر آپ غور کریں تویہ بخوبی سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں اچھا پروفیشنل تو بنا رہا ہے..مگر نمیں بلکل بھی اچھا مسلمان نہیں بنارہا،نہ ہی اچھا پاکستانی، بس ایک مادہ کی پرستی کی دوڑ میں لگا رہا ہے.. بلکہ تھوڑا اور گہرائی میں جائیں تو سچ یہ ہےکہ ہمارا کوئی نظام تعلیم ہے ہی نہیں،ایک ملغوبہ ہے جسمیں سیکڑوں کے حساب سے نصاب شامل ھیں.. اور ان سب نصابوں میں سے کوئی بھی مکمل اسلامی تعلیمی و تربیتی نصاب نہیں ھے،ہمارے ملک کے بڑے تعلیمی ادارے،یچی سن،برن ہال،آرمی پیبلک سکول،ایجوکیٹر،بیکن ہاؤس،الائڈ سکولز اور ایسے ہی باقی ملٹری و سول تعلیمی ادارے،دانستہ یا نادانستہ ہمارے بچوں کو بنیادی دینی تعیلم و دینی شعور دینے سےقاصر ہیں،اسی طرح ہمارے چھوٹے پرائویٹ اداروں کی تو بات ہی چھوڑ دیں یہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، مگر ہر ایک کا الگ الگ ہی تعلمی نظام ہے،اور رہے سرکاری سکول تو وہ بھی چاروں صوبوں میں کشمیرمیں اور گلگت بلتستان میں الگ الگ نصابوں پہ چلتے ہیں اور وہ نصاب بھی،اس قابل ہر گز نہیں رکھے جاتے کہ ان سے ہمارے بچوں کی بنیادی دینی تربیت ہو سکے نتیجہ یہ ہوتا ھے کہ ہمارا بچہ گریجویشن کر کے بھی بنیادی دینی تعلیم سے محروم رہتا ہے،اور ایسے میں. جہاں بھی کوئی اسے کسی مشنری یا ملحدانہ یا اور کسی طرح کے فتنہ کی تعیم دے،وہ اسکا اثر قبول کرنے لگ جاتا ہے.یا خود سے اسکے زہن میں اٹھنے والے مذہبی شبہات.جگہ بنا لیتے ہیں…

اب آتے ہیں مدارس کی طرف، مدارس بھی ملک کی ایک بڑی آبادی کے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، وہاں اگر چہ بچوں کو دین کے معاملہ میں مکمل یکسو کر دیا جاتا ھے،مگر انکو وہاں یہ شعور نہیں مل پاتا کہ آپ مولوی بن کرایک سکالر کہلانے والے فرد کو کیسے قبول کرسکتے ہو، دوسری طرف اسکو باقی معاشرتی علوم میں اسقدر پیچھے ہو جانا پڑتا ہے. کہ وہ معاشرہ کا فائدہ مند شہری بننے میں بہت ہی کم کامیاب ہو پاتا ہے ایسا بھی ہر گز نہیں ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے افراد صرف مولوی ہی بن سکتے ہیں. بلکہ ایسا بھی ہے کہ مدارس سے نکلے لوگ معاشرے کے بہتر ترین افراد بنے ہیں سائنسدان. معیشت دان،قانوندان،اور سبہی شعبوں میں ایسے افراد ملتے ھیں. جو کہ اس شعبہ کے باقی افراد سے بہت بہتر بھی ہیں..جیسے مفتی تقی عثمانی صاحب.مگر ایسے افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ھے.اب ہم غور کریں اس سارے سلسلہ میں سب سے زیادہ قصور وارکون ہے؟؟؟ تو جناب اس سلسلہ میں سب سے زیادہ قصور وار ہمارا دیندار طبقہ،اور ہمارے سبھی مسالک کے علما اکرام ہیں، بات شائد آپکو عجیب لگےکہ وہ کیسے؟ تو جناب غور کریں ایک یھی تو وہ طبقہ تھا اور ہےجو ہمارے تعلیمی نظام کو بدل سکتا تھا اور بدل سکتا ھےمگر ہوایہ کہ علماء نےاپنا مدرسہ بنانے کو ترجیح دی اور مدرسہ بنا لیا، اور اس کے لئے ہی اپنی ساری تونایاں صرف کر دیں، اور چند سو لوگوں کو دینی تعلیم دے کر اپنی وہ زمہ داری قطعاً بھول بیٹھے جوملک و ملت کے ہر بچے کو تعلیم دینے کی ان پر عائد ھوتی ھے.انہوں نے نادانستگی میں یہی کافی سمجھا کہ اپنے مدرسے میں کچھ لوگ تیار کے امت کی بھلائی کر رہے ہیں،جبکہ یہ قطعی طور پہ بھول گئےکہ.جو ہمارے ہزاروں بچے.لادین،یا کم میعاری نظام تعلیم میں تعلیم و تربیت پا رہے ہیں وہ بھی ہماری زمہ داری ہیں.. انہوں نے پورے تعلیمی نظام کو تو مزید بگڑنے دیا مگر اپنا ایک الگ سے چھوٹاسا نظام بنا لیااور اسکا نتیجہ یہ ہوا انکے ہاں اچھی دینی تربیت پانے والے ایک بچہ کے مقابلے میں نامکمل نظام کے تعلیمی نظام میں ہزاروں بچے تیار ہونے لگے.

اسی طرح دینی جماعتوں نےبھی اس معاملہ کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی،اگر ایک تبلیغی وفدایک علاقے میں دس لوگوں پہ تین دن یا دس دن محنت کرتا رہا تو انکے اپنے بچوں اور انکے علاقے کے سینکڑوں ہزاروں بچوں پہ ایک غلط نظام ہفتہ کے چھ دن،اور ماہ کے اٹھائیس دن. اور سال کے دس ماہ محنت کرتا رہا،تو نتیجہ کیا نکلنا تھاخود ہی سوچ لیں.. اور اس سارے سلسلہ میں سب سے بڑی بھول یہ ہوئی کہ اس تعلیمی نظام درست کرنے کے لئے جو قوت درکار تھی،اس کے حصول کو ہی ممنوع قرار دے دیا گیا.سر سید کے شروع کئے گئے جدید اسلامی تعلیمی نظامی کو مفاد پرست اور بھٹکے ھوے افراد کے ھاتھوں یرغمال ہونے دیا گیا. اور پاکستان میں کسی نے اگر اس نظام کو بدلنے کی آواز اٹھائی بھی تو اسکی شدید ترین مخالفت اسی علماء طبقہ کی طرف سے کی گٰئی.. اور تو اور جماعت اسلامی جیسی جدت پسند تنظیم نے بھی اس تعلیمی نظام کی اہمیت کو بہت ہی کم سمجھا.انہوں نے بھی اسکو سیاسی نظام کی طرح ہی اہمیت دے کر سیاسی نظام کی تبدیلی تک چلتے رہنے دیاـ وہ بھی یہ بہولے رہےکہ وہ لوگ اگر سال میں سو لوگوں کی تربیت کرتے ہیں توتعلیمی نظام سال میں لاکھوں لوگوں کی تربیت کرتا ہےـ انہوں نے بھی جھاں موقع ملا اپنے تعلیمی ادارے بنانے کے بجائے،ایک اچھا الگ سے جدید تعلیمی نصاب و نظام بنانے کے بجائے مدارس بنانے پہ ہی توجہ دی.. مانا کہ ہمارے علما اکرام کی نیت کبھی غلط نہیں تھی.. مانا کہ ..وہ بے حد دیندار،اور متقی تھے، مانا کہ انکی علمی قابلیت،بھت اعلی رہیں اور ہیں.. مگر یہ جوشعوری غلطی جو ان سب دینی طبقات نے لاشعوری طور پر کر دی ہے اسکے اثرات واقعی میں بہت بھیانک ہیں.. ہمارے پڑھا لکھا کہلانے والے طبقہ کی ساٹھ فیصد سے زائد تعداد بنیادی دینی شعور سے محروم ہے. اور یہی وجہ ہے سے کبھی کوئی گمراہ کر رہا ہوتا ہےکبھی کوئی اور علماء بے چارے پھر وہیں کے وہیں اپنی قوتیں ضائع کرنے میں لگے رہتے ہیں،اور جب تک وہ پہلے والےمتاثرین کی بحالی کر پاتے ہیں تب تک اس سے زیادہ نئے متاثرین تیار ہو چکے ہوتے ہیں. اور ستم ظریفی تو یہ ہے.کہ آج بھی ہمارے علماء اور دینی طبقات کی بہت بڑی تعداداس مسلہ کی اہمیت کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہے.. اور اس سب سے زیادہ اہم مسلہ کی طرف توجہ دینے کے بجائےآٹھ تراویح یا بیس؟پر ہی مباحثے کر رہی ہے…میرے دوستو.. اس بات کو سمجھنا! اور سمجھ آ جائےتو آپ پہ لازم ہے کہ دوسروں کو بھی سمجھائیں،، کہ ہمیں اگر اپنی اسلامی اقدار کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے سارے تعلیمی نظام کو بدلنا ہوگا اور اسکے لئے جو بدلنا پڑےہم بدل ڈالیں.. کیونکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل اور انکے ایمان کا سوال ہے….

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: