’بھٹو‘ تاریخ میں ہمیشہ امر رہے گا ——– ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 34
    Shares

دیا تھا صبح مسرت نے ایک چراغ ہمیں
اُسی کو تم نے سرِ شام کھو دیا لوگو

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر فیض احمد فیض نے یہ شعر کہا تھا۔ اس میں حقیقت ہے کہ بھٹو صبح مسرت کا چراغ تھا، ہم نے دن کی روشنی میں اسے کھو دیا۔ بھٹو سے اختلاف اپنی جگہ لیکن بھٹو جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیر اعظم کی قدر ہم نے نہیں کی اور اسے اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیدا ہونے والا بھٹو سندھ کے ایک مقتدر اور حکمراں خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد سر شاہنواز بھٹومشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جونا گڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ بھٹو سیاسیات کے طالب علم تھے، 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلی فورنیہ سے سیاسیات میں گریجویشن کیا، 1952 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ بھٹو واحد پاکستانی ہی نہیں بلکہ ایشیائی تھے جنہیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوانی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ بھٹو نے کراچی کے مسلم لا کالج میں بھی کچھ عرصہ تدریس کے فرائض انجام دیے۔ 1953 میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ بھٹو کی شخصیت میں سحر تھا، کشش تھی، ذہانت تھی، بہترین انگریزی بولا کرتے تھے۔ ایوب خان سے قبل اسکندر مرزا نے بھٹو کی قابلیت کا ادراک کرتے ہوئے انہیں اپنی وزارت میں شامل کیا۔ یہ بھٹو کی پاکستان کی سیاست کا نقطہ آغاز تھا۔ جنرل ایوب خان فوج کے سربراہ تھے لیکن حکومت کی کچھ وزارتیں بھی ان کے پاس تھیں۔ اسکندر مرزا کمزور سے کمزور ہوتے گئے یہاں تک کہ ایوب خان نے 7 اکتوبر 1958 میں ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا جس کے نتیجے میں ایوب خاں ملک کے اولین آمر کے طور پر تاریخ کا حصہ بنے۔ ایوب کا دور 1958 سے 1969 تک رہتا ہے۔ اس دوران وہ ملک کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کے دور حکومت کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا 1958 سے 1964 تک، اس دور کو ایوب خان کا سنہرہ دور کہا گیا ہے۔ جوش تھا، ولولہ تھا، ملک کو ترقی کی سمت لے جانے کی امنگ تھی اس کے لیے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ایوب خان کا دوسرا دور 1964 سے 1969 تک رہا۔ اس میں ان کی مقبولیت کا گراف رفتہ رفتہ نیچے آتا گیا۔ جنوری 1965 میں انہوں نے ملک میں بنیادی جمہوریت نظام کے تحت عام انتخابات کرائے جس میں مقابلہ ایوب خان کا مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے ہوا۔ یعنی ایوب کا پھول مادر ملت کی لالٹین مدِ مقابل تھے۔ ایوب خان نے انتخابات جیتنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے اور نتیجہ ایوب خان کے حق میں چلا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ملک کے صدر تو بن گئے لیکن ان کے نیندیں جاتی رہیں۔ ایوب خان مشکل سے مشکل حالات سے دوچار ہوئے، بھٹو صاحب کے اختلافات ایوب خان صاحب سے ہو چکے تھے۔ چنانچہ بھٹو، مجیب الرحمٰن اور بھاشانی نے مل کر ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی، عوام نے بھی ان کا ساتھ دیا، ایوب خان مجبور ہو گئے اقتدار چھوڑنے پر لیکن انہوں انتخابات کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اقتدار ایک اور فوجی ڈکٹیٹر یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ یحییٰ خان کو ملک چلانے کی کہاں فرصت تھی۔ وہ دوسرے ہی قسم کا انسان تھا۔ ایوب خان نے 25 مارچ 1969 کو قوم سے خطاب کیا اور اقتدار جنرل یحییٰ کے سپرد کر دیا، یحییٰ خان نے آئندہ سال انتخابات کرانے کا اعلان کیا، 7 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اور 17 ستمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے، دوسری جانب مشرقی پاکستان میں حالات کشیدہ ہو گئے، انتخابات کے نتیجے میں مغربی پاکستان میں پاکستا ن پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو فتح ہوئی، مشرقی پاکستان کی مجیب الرحمٰن کی پارٹی کو اکثریت حاصل تھی قانون اور اخلاق کا تقاضہ تو یہ تھا کہ مجیب الرحمٰن کو اقتدار سونپ دیا جاتا لیکن اختلافات شدید ہوگئے، 20ستمبر1971 کو سقوط ڈھاکہ رونما ہوجاتا ہے۔ ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگتا ہے ، یحیٰ خان بھٹو کو اقتدار سونپ دیتے ہیں اور بھٹو صاحب کا دور اقتدار شروع ہوجاتا ہے۔سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا اعزاز بھی بھٹو صاحب کے حصے میں آیا ، صدر بھی بنے پھر پاکستان کے وزیر اعظم اور پھر اس وزیر اعظم کو بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر نے اقتدار سے نکال باہر کیا۔بھٹو صاحب کا اقتدار میں شامل ہونے کے حوالے سے اس پس منظر کا مختصر بیان کرنا ضروری تھا۔ بھٹو صاحب نے کیسے اقتدار کی پہلی سیڑی پر قدم رکھا ، مختلف وزارتیں ایوب خان کے دور میں ان کے پاس رہیں، آخر میں وہ وزیر خارجہ تھے جب ایوب خان سے ان کا اختلاف ہوا اور انہوں نے اپنے سیاسی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کی۔

بھٹو صاحب نے 1967میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکھی۔1970میں ہونے والے عام انتخابات میں پی پی کو مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل ہوئی۔ پی پی کے قیام کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ اس کے تانے بانے تو کراچی میں تیار ہوئے۔ بعض احباب اس سے اختلاف بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن میری معلومات کے مطابق بھٹو صاحب کے قریبی دوستوں میں معراج محمد خان تھے۔ جب بھٹو صاحب نے سیاسی جماعت بنانے کی منصوبہ کا آغاز کیا تو وہ معراج محمد خان اور کراچی کے بعض ساتھیوں کے ساتھ ملکر منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔معراج محمد خان ناظم آباد میں رہا کرتے تھے، گورنمنٹ کالج فار مین، ناظم آباد میں طلبہ سرگرمیوں میں معراج محمد خان کا بہت عمل دخل تھا، میرا تبادلہ 12اگست کو اس کالج میں ہوا، اکثر وہ اساتذہ جو عرصہ دراز سے اس کالج میں خدمت انجام دیتے چلے آرہے تھے ان کا کہنا تھا کہ کالج کے اوقات کے بعد معراج محمد خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر دوست کالج میں آتے ، ان کی میٹنگ اسٹاف روم میں ہوا کرتی تھی۔ ان باتوں سے گمان ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے تانے بانے کراچی میں گورنمنٹ کالج فار مین، ناظم آباد کے اسٹاف روم میں بنے گئے۔ بعد ازاں دیگر شہروں میں پارٹی کے قیام کے لیے اجلاس ہوئے۔

بھٹو صاحب 1970 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکے تھے،اور وہ کامیابی بھی ایسی ویسی نہ تھی بلکہ مغربی پاکستان کے کونے کونے میں جئے بھٹو کے نعرے، ترنگے جھنڈے تھے، بھٹو کو اس مقبولیت نے آسمان پر بیٹھا دیا۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین لیڈر بن گیا۔ مارشل لا ایڈمینسٹریٹر بنا کوئی مزاحمت نہیں ہوئی، صدر بنا پھر وزیر اعظم بن گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بھٹو کا طوطی پورے پاکستان میں بول رہا تھا۔ بھٹو نے پاکستان کے حق میں کی جانے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر اور اس میں بھٹو کا فاتحانہ ، چیلنچ آمیز طریقہ کار ، سو سال لڑنے کا بیان ، قرار داد کو کھلے عام پھاڑ کر واک آوٹ کرجنا جیسے اقدامات کے باعث بھٹو لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیے۔ ایک تو انگریزی میں تقریر کرنا اسے آتی تھی، اس کا انداز بہت کشش رکھتا تھا۔ وہ جب پاکستانی عوام سے خطاب کرتا تو ایسے ایسے جملے کہہ جاتا جو قابل گرفت ہوا کرتے تھے لیکن عوام نے اس کے ان جملوں پر کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ بعض کام پاکستان کے لیے ایسے کیے جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ پاکستان میں جوہری پروگرام، کراچی میں اسٹیل ، لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس، 1971کی جنگ کے بعد90ہزار پاکستانی فوجیوں کو بھارت کی قید سے چھڑا کا وطن واپس لانا، پاکستان کو متفقہ آئین دینا ایسے کام تھے کہ پاکستانی قوم بھٹو کے گن گانے لگی تھی۔ دوسری جانب بھٹو میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی، شاید اقتدار اور اقتدار بھی ایسا کہ جو سر چڑھ کر بول رہا تھا بھٹو کے مزاج پر اثر ڈالا اور بھٹو اب وہ بھٹو نہیں رہا۔ اس کی اپنی جماعت کے بانی ساتھیوں نے اختلاف کیا، شاعروں نے ، ادیبوں نے اختلاف کیا ، لیکن بھٹو نے کسی کی نہ سنی ، نتیجہ یہ ہوا کہ پی پی کے بانی اراکین ایک ایک کر کے پارٹی چھوڑتے گئے حتیٰ کہ معراج محمد خان، ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر ساتھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے، حبیب جالب جس نے بھٹو کے لیے ایوب خان کے خلاف نظمیں لکھیں تھی بھٹو سے نالا ہوگئے۔ لیکن بھٹو نے ناراض ساتھیوں کے خلاف بھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ مختلف قسم کے نعرے لگائے گئے پہلے سوشلزم پھر اسلامی سوشلزم، جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو پارٹی میں شامل کیا گیا، مخالفین کو دشمن سمجھ کر ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، جنرل ضیاء الحق کو فوج کا سربراہ بھی بھٹو صاحب ہی کا کارنامہ تھا۔ بھولا بھالا ، سیدھا سادھا سمجھ کر فوج کی کمان اس کے حوالے کی ، دیکھیں اسی نے کیا گل کھلائے۔

1970 کے انتخابات میں بھٹو صاحب کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی انہیں توقع تھی، خاص طور پر کراچی اور دیگر شہروں میں اسلامی جماعتوں کا اتحاد ’پاکستان قومی اتحاد‘ جس میں نو جماعتیں تھیں ، انہوں نے اپنے آپ کو نو ستارے کہا ، انتخابی نشان چابی تھا جسے جنت کی چابی بھی کہا گیا۔ اقتدار تو بھٹو صاحب کے پاس ہی رہا لیکن مخالف جماعتوں نے بھٹو صاحب کو چین نہ لینے دیا۔ پی این اے نے ان کے خلاف زبردست تحریک چلائی، بھٹو صاحب کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ بھٹو صاحب کا خیال رہا ہوگا کہ ضیاء الحق کو سیدھا سادھا جنرل سمجھ کر اس پر احسان کیا وہ پیچ میں نہیں آئے گا یا وہ خاموش رہتے ہوئے حکومت کا ساتھ دے گا۔ اسی دوران نواب محمد احمد خان کا قتل ہوجاتا ہے۔ جسے عدالت میں رجسٹر ڈبھی کر دیا گیا، اس میں بھٹو صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ ملک ہنگاموں ، افراتفریح کا شکار تھا، ہر شہر میں احتجاج ہورہا تھا۔ بھٹو صاحب فوجی سربراہ سے مطمئن تھے ادھر وہ سیدھا سادھا جنرل بھٹو صاحب کے خلاف ہونے والے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا دور بینی سے جائزہ لے رہا تھا۔ 5جولائی1977آن پہنچتی ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد ضیا ء الحق صاحب حرکت میں آتے ہیں ، بھٹو صاحب کی حکومت کی برطرفی کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار پر قابض ہونے کی نوید سناتے ہیں، وعدہ کرتے ہیں کہ وہ90دن کے اندر اندر ملک میں انتخابات کراکے اقتدار منتخب نمائندوں کے سپرد کردیں گے۔ بھٹو صاحب کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ 90دن کے بعد ضیاء الحق کو محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار تو بڑے کام کی چیز ہے اسے ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے، وہ ایک تقریر اور کرتے ہیں کہ ابھی حالات اچھے نہیں، اس لیے انتخابات نہیں ہوسکتے۔ مختصر یہ کہ اقتدار کا جسکا انہیں امیر المومنین بننے کی جانب لے جاتا ہے۔ دوسری جانب بھٹو صاحب پر مقدمہ چلنا شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اس وقت کے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو جیسے طاقت ور لیڈر کو کچھ نہیں ہوگا، کچھ کے بیانات بھی آجاتے ہیں، کچھ پارٹی چھوڑ کر ادھر ادھر چلتے بنتے ہیں۔ مقدمہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے 18مارچ1978کو ہائی کورٹ بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنادیتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی آنکھیں پھر بھی نہیں کھلتیں، یہ اب بھی خواب غفلت میں رہتے ہیں کہ باہر کی دنیا کے لیڈر جو بھٹو صاحب کے دوست رہے ہیں وہ بھٹو صاحب کو ہر صورت بچا لیں گے۔ وقت گزرتا جاتا ہے، بھٹو صاحب قیدی نمبر3183کی حیثیت سے راولپنڈی جیل کی سزائے موت والی کال کوٹھری میں اس امید پر کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے وقت گزاتے ہیں۔6فروری1979کو سپریک کورٹ نے ہائی کورٹ کی سز کی توثیق کردی اور بھٹو صاحب بے بس ، بے یار و مدد گار، اللہ کے آسرے پر ، غیبی امداد کے منتظر، بعضوں نے بھٹو صاحب کے ان لمحات میں بہادری کا نقشہ کھینچا ممکن ہو ایس رہا ہو، لیکن ان کے ساتھ دوران قید جس قسم کا سلوک ہوتا رہا ہوگا ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے توانا رہ گئے ہوں گے۔ 3اور 4کی درمانی شب آن پہنچتی ہے ، ضابطے کی کاروائی پوری کی جاتی ہے، پورے ملک میں لوگ سہمے ہوئے، ڈر و خوب کی صورت ، مختلف قسم کی افواہیں گردش کررہی تھیں، کیا ہوگا، لیکن ضیاالحق کی حکومت نے پورے ملک کو ایسا خاموش کردیا تھا، کہ کسی کونے سے بھی چوں کی آواز تک نہیں آئی۔ خیال تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن باہر نکلیں گے، لیڈر آواز بلند کریں گے لیکن سب بلو میں ، ادھر کاروائی کا وقت قریب آن پہنچا، راولپنڈی کی جیل ،4اپریل شروع ہوچکی تھی، صبح صادق ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے، گھڑی نے 2بجائے بھٹو صاحب تختہ دار پر پہنچ چکے تھے، ہتھکڑیوں میں بندھے ہاتھ پیچھے کمر سے باندھ دیے گئے تھے، گردن میں موت کا پھندہ لگادیا گیا،سر پر مخصوص ٹوپی جس سے آنکھیں بھی بند ہوچکی تھیں، جلاد کو اشارے کا انتظار تھا، دو بج کر چار منٹ…….. پر جلاد کو اشارہ ملا کام ختم کرنے کا اس نے ٹریکر دبایا اور ملک کا طاقت ترین ، اعلیٰ تعلیم یافتہ، صدر اور وزیر اعظم رہنے والے کی گردن تن سے جدا ہوگئی، اس کی روح اس کے جسم سے عالم بالا پرواز کرگئیں۔ ڈیوٹی پر موجود عملہ اوسر کاروائی کرنے کارندے بھی حیران و پریشان ، سکتے کے عالم میں ہوں گے، رات کا سناٹا، ہر جانب خاموشی، خوف ، فوج کے زیر نگرانی بھٹو صاحب کے جسم خاکی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان کے آبائی گاؤں گڑھی خدا بخش پہنچا دیا گیا جہاں چند قریبی رشتہ داروں نے نماز جنازہ ادا کی ، لحدِ بھٹو ان کی منتظر تھی۔ ڈھیروں مٹی تلے ،بھٹو صاحب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا گیا۔ بھٹو جسمانی طور پر تو اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن وہ پاکستان کا ایک ایسا واحد لیڈر ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ اسے قائد عوام کا خطاب دیا گیا۔ بھٹو تو واقعی زندہ ہے اور رہے گا لیکن بھٹو کے جانشینوں میں اب وہ جوش و جذبہ موجود نہیں۔ اللہ بھٹو کی خدمات کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے۔ محسن نقوی کا شعر

کہ اس کے د ل میں قوم کا عجیب احترام تھا
وہ قائد عوام تھا ، وہ قائد عوام تھا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: