بھٹو: غریب وڈیرا، بنیاد پرست سیکولر —- ڈاکٹر غلام شبیر

0
  • 174
    Shares

ذوالفقار علی بھٹو کو سہل پسند تجزیہ کار “مجموعہ اضداد” کہہ کر قلم توڑ دیتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے جاگیردار زدہ، سرمایہ پسند اور ملائی سیاست کی جڑوں پر ایسے کاری وار کیے کہ ہر طبقہ فکر سے اپنے پیروکار پیدا کر لیے اور پھر اس نابغہ روزگار لیڈر نے پاکستانی سیاست کے پرسکون پانیوں میں وہ ارتعاش پیدا کیا کہ نہ دوستوں کی کمی رہی اور نہ دشمنوں کی۔ یہاں تک کہ عوامی ووٹ کا معیار بھٹو دوستی یا بھٹو دشمنی ٹھہرا۔ پھر بھٹو ضیاء کشمکش نے ہمارے سوشل فیبرک کو دائیں بازو اور سیکولر بائیں بازو کی قوتوں کے درمیان ایک وسیع خلیج کا تحفہ دیا تو دائیں بازو نے بھٹو صاحب کو اسلام دشمن، لبرل سیکولر کا استعارہ سمجھا تو سیکولر لبرل قوتوں نے پاکستان کے ہر مسئلے کو ضیائی پیداوار قرار دیا۔ ضیا ء الحق آج قصہ پارینہ ہیں، آج وہ طفیلئے بھی انہیں فراموش کر چکے جن کی پرداخت، اٹھان، تربیت اور سرپرستی جنرل صاحب نے خود کی، مگر بھٹو کو نہ صرف اپنی پارٹی کیلئے آج تک آب حیات ہیں بلکہ مخالفین بھی اب انہیں خراج تحسین پیش کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ بھٹو صاحب کی برسی کے موقع پر ہم چاہتے ہیں کہ بھٹو صاحب کو ذرا دقت نظر سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک مستقل باب ہیں۔ وہ عملیت پسندی و مصلحتِ کوفہ و دمشق کا استعارہ بھی ہیں اور کسی طالع آزما کی برپا کردہ کربلا کا مرغ بسمل بھی، نہ صرف یہ کہ ان کے اہل و عیال شام غریباں کی تصویر بنے ہوئے ہیں بلکہ وہ خود ڈکٹیٹر کی عدالت میں صدائے زینب بن کر ابھر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بانی پاکستان کے بعد کسی نے سب سے زیادہ عوام کو متاثر کیا ہے وہ تو ذوالفقار علی بھٹو ہی کی شخصیت ہے، یہ وہی بھٹو ہے جس نے تحریک پاکستان کے ہنگام ایک ننھے طالبعلم کی حیثیت سے سرحدی گاندھی سمیت دیگر کانگریسی مسلمانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 26 اپریل 1945 کو قائد اعظم کو خط میں لکھا تھا

’جناب آپ نے ہمیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے ہماری منزل پاکستان ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے، ایک اسکول کا طالبعلم ہوتے ہوئے میں قیام پاکستان میں کوئی مدد نہیں کر سکتا، لیکن ایک وقت آئے گا کہ پاکستان کیلئے میں اپنی جان سے بھی گزر جائوں گا‘

قائد نے جواباً لکھا یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ سیاسی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہو، تا ہم ابھی اپنی تعلیم پر توجہ دو، اگر آپ انڈیا کے سیاسی مسائل کو جامعیت کیساتھ مطالعہ کرو تو مجھے کوئی شبہ نہیں کہ آپ جب عملی زندگی میں قدم رکھو گے تو اسے شایان شان نبھائو گے۔ اور یہ دونوں پیشین گوئیاں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں۔ کسی بھی بڑے لیڈر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد کے عظیم تر دماغوں کو جس شدت سے متاثر کرتا ہے اسی قوت اور شد و مد سے اپنے عہد کے سادہ اور کم علم حلقے اپنے حصار میں لیتا ہے۔ بھٹو کے حلقہ دام میں جہاں روشن دماغ، ترقی پسند اور سیکولر ایلیٹ صف بہ صف آئی وہاں پیپلز پارٹی میں ہاریوں، مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقے نے جوق در جوق قدم رکھا۔ بھٹو فیملی کی ابتلاء و آزمائش کا باب بھارت کی نہرو فیملی سے کہیں زیادہ امریکا کی کینیڈی فیملی سے مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اندرا گاندھی کو سکھ باڈی گارڈ نے قتل کیا اور راجیو گاندھی کو تاملوں نے مارا، بھٹو فیملی کو کینیڈی خاندان کی طرح ہمیشہ عوام کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے چیلنج رہا۔

بھٹو کی پیپلز پارٹی کیونکہ ترقی پسند، لبرل، سیکولر اور بائیں بازو کی قوتوں کی امید گاہ ہے اور یہ طبقہ شروع دن سے آج تک نظریہ پاکستان کو اپنے مخصوص نکتہ نظر سے دیکھتا ہے، ہماری کوشش ہو گی کہ خود ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں جھانکا جائے! سیکولر دانش کا یہ المیہ ہے کہ وہ مذہب کو جملہ انسانی بحرانوں کا سبب مانتی ہے، ترقی پسند مذہب کو سائنس اور ترقی کا دشمن سمجھتے ہیں، بایاں بازو سمجھتا ہے کہ مذہب افیون ہے، اقتدار کی داشتہ ہے۔ جب لبرل ازم “میرا جسم، میری مرضی” کا نعرہ لگائے تو مذہب سے زیادہ اسے کہاں سے چیلنج آسکتا ہے، پھرحالات کی ستم ظریفی کہ ان کا گزر بسر ایسے ملک میں ہو جسے اکثریت ایک مذہبی و دینی ریاست سمجھتی ہو تو مذہب دشمنی سیکولر طبقے کو اس نہج پر پہنچا دیتی ہے کہ ریاست کیخلاف زہر اگلا جائے، اس کی بنیادیں کھوکھلی کی جائیں۔ اس بیانئے کو ہوا دی گئی کہ پاکستان دراصل مسلمانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے بنایا گیا تھا جب سوال اٹھے کہ پھر ہزاروں ایکڑ اراضی اور جان و مال کی قربانی کی کیا ضرورت تھی۔ لیاقت علی خان کو اس ملک سے کس قیمت پر کیا ملا؟ جب بات نہ بن سکی تو پھر یہ بیانیہ سامنے آیا کہ پاکستان بنیادی طور پر بھارت اور امریکا کی سازش تھی، بقول جون ایلیا یہ علیگڑھ کے لونڈوں کی شرارت تھی۔ متحدہ ہندوستان عالمی طاقتوں کے مفاد میں نہیں تھا اس لیے تقسیم ناگزیر تھی یا ہندوستان کو روس سے دور رکھنے کیلئے درمیان میں پاکستان کو بطور بفر اسٹیٹ بنانا ناگزیر تھا اور دیکھیں جی افغانستان میں روس کی پسپائی میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، مغرب کی زیرک دانش نے پہلے ہی پاکستان بنا کر روس کا بندوبست کر دیا تھا۔ بات سچ ثابت ہوئی نا!!! پھر جب ان تمام سوالوں، مفروضوں اور سازشی نظریوں کو بھارت کی پشت پناہی بھی حاصل ہو، تو ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے!

نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہمارا ایک مذہبی اسکول جو ندرت بیان اور لبرل اقدار کے فروغ میں پاپولر اور کوشاں ہے یہ لکھ رہا ہے کہ پاکستان ایک قومی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا اور مذہب کے ہاتھوں ہائی جیک ہو گیا۔ یہ طبقہ نواز شریف کو ملنے والی سیاسی عصبیت کی تعریف میں تو ڈونگرے برساتا ہے مگر اسی ملک میں جو مذہب کو عصبیت حاصل ہے اس کے رونے روتا ہے۔ جو ہماری اکثریت کا Rallying cry ہے۔

اس مخصوص مذہبی طبقے کے استثنا کیساتھ پاکستان میں سیکولر، ترقی پسند، لبرل اور روشن خیال طبقے کو سیاسی پناہ صرف پیپلز پارٹی میں ملتی آئی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ خود پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے نکتہ نظر کو سمجھا جائے جو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں پیپلز پارٹی کے اہل دانش کی نگاہوں سے اوجھل ہے یا پھر وہ اسے قالین کے نیچے دبا دینے پر یقین رکھتا ہے۔

ان جملہ سوالوں کے جوابات کیلئے شاید بھٹو صاحب کی تصنیف “The Myth of Independence” ہی کافی ہے جو بقول فتح محمد ملک صاحب بڑی ہی مظلوم کتاب ہے جسے خود پیپلز پارٹی کی دانش نے کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ مذہب بیزار سیکولرز کا قدیم ترین بیانیہ کہ پاکستان مسلمانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کیلئے بنا تھا، اس سوال کا جواب بھٹو صاحب مذکورہ کتاب کے ساتویں باب میں برطانوی مصنف “بیورلے نکولس” کی جانب سے بابائے قوم کے انٹرویو کی روشنی میں پیش کرتے ہیں۔ نکولس قائداعظم سے پوچھتے ہیں کیا تخلیق پاکستان سے مسلمان خوشحال ہونے جا رہے ہیں یا غریب؟ کیا آپ باقی بھارت کیخلاف ٹیکس بھی لگائیں گے؟ جناح : فرض کیجئے میں آپ سے پوچھتا ہوں آپ کیا پسند کریں گے جرمنی کے زیر تسلط امیر برطانیہ یا غریب مگر آزاد انگلینڈ؟ نکولس: کچھ کہنے کی ضرورت نہیں (دم بخود)۔ جناح: تجھے لگتا نہیں کہ تم نے ایک انتہائی لایعنی اور بھونڈا سوال پوچھا ہے؟ آزادی کا رہنما اصول تن آسانی اور کسی سستی سہولت سے ماورا چیز ہے۔ ۔ ۔ ۔ سو ملین نفوس پر مشتمل ایک آزاد و خود مختار قوم خواہ وہ صنعتی طور پر پسماندہ ہو، معاشی خود انحصاری نہ رکھتی ہو اس کیلئے اڑھائی سو ملین ہندوئوں کے زیر تسلط رہ کر اور متحدہ بھارت کے اطراف و اکناف میں منتشر رہ کر کون سی خوشحالی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ عظیم دماغ جنہوں نے یورپ کو مصنوعی اور مضحکہ خیز بنیادوں پر ٹکڑیوں میں بانٹ دیا انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ ہمیں معیشت پڑھائیں اور خاص طور پر جب ہمارا مسئلہ بہت ہی بنیادی نوعیت کا ہو؟ نکولس پوچھتا ہے نوزائیدہ ملک کے دفاع سے متعلق بھی یہی رائے رکھتے ہیں آپ؟ جناح : بلا شبہ! عرض مکرر کے طور پر پوچھوں کہ افغانستان کا دفاع کون کر رہا ہے، بلا شبہ افغانستان کے عوام! ہم بہادر اور یک جان لوگ ہیں جو مل کر کام کرنے اور ضرورت پڑے تو لڑنے کیلئے تیار ہیں”۔

قائد اعظم کا یہ موقف بیان کر کے بھٹو صاحب بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک بہت ہی عظیم ملی نظریے پر وجود میں آیا تھا۔ دوسرا اہم سوال کہ پاکستان عالمی طاقتوں کے تحفظ کیلئے بنایا گیا تھا، آخری لمحے جاگیرداروں کا جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہونا برطانوی ایماء پر تھا، ہندو شاعر سے پاکستان کیلئے قائد اعظم کی سفارش پر قومی ترانہ لکھوانے کی من گھڑت کہانی ہو یا میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں کا بیان قائد اعظم کے نام منسوب کرنے کا ڈرامہ ہو یہ سب کہانیاں نظریہ پاکستان کو اس کی اخلاقی بنیادوں سے محروم کرنے کی سازش ہیں۔ اسی Myth of Independence کے تیسرے باب میں بھٹو صاحب لکھتے ہیں۔

“برطانیہ مسلمانوں کے تقسیم ہند کے مطالبے کیخلاف تھا۔ قائد اعظم کو حصول پاکستان کیلئے برطانیہ اور کانگریس سے دو مکھی لڑائی لڑنا پڑی، تاریخ کے اس نازک موڑ پر پرانا نو آبادیاتی دور ختم ہو رہا تھا جو “لڑا ئو اور حکومت کرو” کی بنیاد پر چل رہا تھا، نیا نو آبادیاتی نظام Neo-colonialism “متحد رکھو اور حکومت کرو” کی پالیسی پر گامزن تھا۔ حالات کا تقاضا تھا کہ برطانیہ برصغیر کو متحد رکھ کر ایک بڑی مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ مال بنائے اور متحدہ برصغیر کی بدولت ہی کمیونزم کے خطرے سے نمٹا جا سکتا ہے”۔

امریکا کی پوزیشن بھٹو صاحب بڑی مدلل انداز میں بیان کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ 1913 میں ہی برطانیہ میں موجود امریکی سفیر نے صدر ولسن کو لکھا تھا “کہ اب دنیا کا مستقبل ہم سے وابستہ ہے ” 1920 میں ہی ایک امریکی مصنف نے لکھا تھاـ

“کبھی ہم برطانیہ کی کالونی تھے، اب برطانیہ اپنے خاتمے سے پہلے ہماری کالونی بنے گا، فرضی طور پر نہیں حقیقی طور پر، مشین نے برطانیہ کا پرچم دنیا پر لہرایا اور اب جدید مشین سے ہمارا علم برطانیہ سمیت دنیا بھر میں لہرائے گا”

بھٹو صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ امریکا دوسری جنگ عظیم میں حادثاتی طور پر طاقتور بن کر ابھرا، امریکا جنگ عظیم اول سے پہلے ہی اپنے عالمی کردار کو یقین کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ اس لیے وہ برطانوی ہند پر نظر رکھے ہوئے تھا، تا ہم برطانیہ کے تاریخی کردار کو اہمیت دے کر برطانوی ڈپلومیسی اور تجربے کو اہمیت دینا چاہتا تھا، بھٹو لکھتے ہیں

” یہ کہنا درست نہیں کہ امریکا صحیح معنوں میں تقسیم ہند کیخلاف تھا، لیکن یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ترجیح متحدہ ہندوستان تھا، وہ کانگریس سے ہمدردردیوں کی بدولت متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور اسے برطانوی تجزیے سے کامل اتفاق تھا کہ منقسم بھارت مغربی مفاد میں نہیں ہے اور کمیونزم کیخلاف متحدہ بھارت امریکا اور برطانیہ کیلئے زیادہ سودمند ہو گا۔ “

بھٹو صاحب لکھتے ہیں جب نکولس نے قائد اعظم سے کہا کہ آپ کے مخالفین پاکستان کو برطانوی تخلیق قرار دیتے ہیں، قائد اعظم نے برہمی میں کہا کہ جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں وہ برطانوی انٹیلجنس سے متعلق بڑی کمزور رائے رکھتے ہیں، ایک چیز جو برطانیہ کو ہندوستان میں قائم رکھتی ہے وہ متحدہ بھارت کا غلط نظریہ ہے جس کا علم گاندھی صاحب بھی بلند کیے ہوئے ہیں۔ متحدہ بھارت، میں دہرائے دیتا ہوں برطانوی تخلیق ہے، ایک اساطیری تصور ہے اور انتہائی بھیانک تصور ہے۔ جو ایک غیر مختتم لڑائی کا سبب بنے گا اور جب تک یہ لڑائی جاری رہے گی برطانیہ کو یہاں رہنے کا جواز رہے گا۔ بھٹو صاحب اپنی مذکورہ کتاب میں بھرپور طور پر اس مقدمے کی وکالت کر رہے ہیں کہ

عالمی طاقتیں متحدہ بھارت چاہتی تھیں جبکہ قائد اعظم کی قیادت میں برصٖغیر کے مسلمانوں نے زور بازو سے چومکھی لڑائی لڑ کر پاکستان حاصل کیا، مگر کیا کیا جائے کہ تاریخ اپنے جوہر میں ٹھوس واقعات اور حقائق سے عبارت ہوا کرتی ہے، حسن نیت یا بددیانتی سے کوئی تاریخی حقائق سے کچھ بھی ثابت کر سکتا ہے، سو مذہب بیزار سیکولر اگر یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ پاکستان عالمی طاقتوں نے بنایا تو ان کی مرضی، بھٹو صاحب کا نظریہ مختلف ہے،

وہ ایوبی دور کے زلزلہ خیز حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ

اب بھی ہم پر انڈین کنفیڈریشن میں آنے کا امریکی دبائو ہے، ہمیں اس دبائو کا مقابلہ کرنا ہو گا، آخر تحریک آزادی کے مسلم اکابرین نے بھی تو برطانیہ اور امریکا کے دبائو کا مقابلہ کر کے پاکستان بنایا تھا، میں پاکستانی عوام پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ دبائو بیک وقت ایک حقیر و نحیف کیڑا بھی ہے اور ایک بلا بھی ہے، اگر ہم اس سے بھاگیں گے تو یہ بلا بن کر ہمیں دبوچ سکتا ہے اور اگر اڑ گئے تو یہ کیڑا خود ٹھٹک جایا کرتا ہے، یہ ہم پر ہے کہ ہم اس دبائو کو بطور عفریت لیں یا بطور کیڑا، اگر بھاگے تو آخری دم تک بھاگتے رہنا مقدر بنے گا، ہشیار باش دبائو کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے۔ یہ وہی امریکا ہے جس کے قائم مقام سیکرٹری ڈین ایچی سن نے دسمبر 1946 میں لندن میں مسلم لیگ اور کانگریس کی میٹنگ سے متعلق لکھا تھا”

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر بھارتی قیادتیں بڑے دل کا مظاہرہ کریں جو وقت کا تقاضا بھی ہے، تو یہ ترقی کا سفر اکٹھے رہتے ہوئے جاری رکھ سکتے ہیں اور انڈین فیڈریشن میں آبادی کے تمام عناصر کیلئے سیاسی اور معاشی امکانات کا در کھلا رہے گا”۔ ہماری سات دہائیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ برطانیہ اور امریکا نے ہمیشہ بھارت کیساتھ خوش دلی کا تعلق رکھا ہے جبکہ پاکستان کے قریب انہیں جغرافیائی اور اسٹرٹجک ضرورتیں لاتی رہیں۔ موجودہ حالات کو ہی دیکھا جائے تو آج بھارت کمیونسٹ چین کیخلاف مغرب اور امریکا کا اتحادی ہے، پاکستان چین کیساتھ سی پیک جیسے عظیم منصوبوں سے مربوط ہو رہا ہے، ماسکو کیساتھ فوجی اور معاشی معاہدے ہو رہے ہیں۔ تو منقسم بھارت امریکا اور مغرب کے مفاد میں گیا یا آج پاکستان امریکا اور مغرب کے گلے کا چھچھوندر ثابت ہو رہا ہے، جسے نگلا جا سکتا ہے اور نہ اگلا جا سکتا ہے؟

اب ہم بات کرتے ہیں کہ کیا بھٹو پاکستان کو صرف ایک ارضی نیشنلزم کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں یا پھریہ ایک عظیم نظریاتی ریاست کے طور پر وجود آیا۔ بھٹو موخر الذکر خیال کے حامی ہیں، بھٹو صاحب لکھتے ہیں

” پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے یا زیادہ درست طور پر ایک ریاست ہے جو ایک نظریے پر یقین رکھتی ہے، برصغیرکے مسلمانوں کیلئے تعلق باللہ کی بنیاد پر وجود آنے والی ریاست ہے۔ عدل و انصاف اور انسانی مساوات کے رہنما اصولوں کی حقیقت نے مسلمانوں کی خود ارادیت سے جنم لیا جو استصواب رائے کے اصول پر حقیقت میں ڈھلے۔ اگرچہ آج بھی کچھ ایسے ہیں جو تقسیم ہند کو افسوس سے دیکھتے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ تقسیم کے بغیر برصغیر کے مسلمان ان اقدار و روایات کا تحفظ ہرگز نہ کر سکتے تھے جنہیں وہ بہت عظیم اور ناگزیر مانتے ہیں “

بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ صرف اشوکا اورنگ زیب عالمگیر اور پھر برطانوی دور کا برصغیر ایک وحدت رہا ہے مگر یہ وحدت قدرتی نہیں تلوار اور توپ کی وحشتوں کا نتیجہ تھی۔ 1858 میں برطانوی دار العوام میں جان برائٹ نے کہا تھا” کب تک برطانیہ بھارت پر حکمرانی کر سکتا ہے، کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا، مگر پچاس سال، سو سال یا پانچ سو سال تک؟ کیا کوئی رائی بھر بھی درک رکھنے والا یہ سوچ سکتا ہے کہ بھارت جیسے عظیم ملک کو جو بیس قومیتوں اور بیس زبانوں کا حامل ہے اسے آہنی ہاتھوں سے ایک امپائر کے زیر اثر رکھا جا سکتا ہے، یہ ناممکنات میں سے ہے۔ بھٹو صاحب کا استدلال ہر جگہ یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان کے قیام کو عین فطری اور مسلمانوں کی کاوش عظیم کا ثمر قرار دیتے ہیں، بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیدکر نے بھی تو ٹھوک بجا کر کہا تھا ہر چند بھارت کی تقسیم کانگریس کیلئے ناگوار موضوع ہے مگر تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ ہندوستانی عقدے کا بہترین حل ہے۔

بھٹو صاحب پر اپنے حامیوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ سیاسی ضروریات کی وجہ سے اسلام پسند ہوئے تھے ورنہ کٹر سیکولر اور ترقی پسند لبرل رہنما تھے۔ یہ صریح غلط ہے۔ بھٹو صاحب تاریخ اسلامی کے نہ صرف گہرے طالبعلم تھے بلکہ انہیں تاریخ و تہذیب اسلامی کے روشن ابواب ہمیشہ مسحور کیے رکھتے تھے۔ جیل کی کوٹھڑی سے بھٹو صاحب نے بینظیر کے نام خط میں جہاں اسے قائد اعظم کی داخلی اور خارجی دشمنوں کیخلاف پاکستان کیلئے چومکھی لڑائی سے انسپائر کرتے ہیں وہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ ذرا والدہ سے پوچھنا کہ شادی کے بعد ہنی مون کیلئے میں انہیں کہاں لے گیا۔ مجھے کیلفورنیا یا لندن سے کہیں زیادہ استنبول پسند ہے جہاں سے تہذیب و ثقافت اسلامیہ کے تموج کی لہریں اٹھیں اسی مقام کو میں نے ہنی مون کیلئے منتخب کیا، یہاں بھٹو صاحب اسلامی ممالک میں رائج ارضی نیشنلزم سے بلندتر ملت اسلامیہ کے تصور کے اسیر نظر آتے ہیں۔ جب وہ ایٹم بم کی بنیاد رکھتے ہیں تو کہتے ہیں میرا دل کڑھتا ہے کہ عیسائی تہذیب، یہودی تہذیب اور کنفیوشس تہذیب ایٹم بم رکھتی ہے۔ تہذیب اسلامی ایٹم بم سے کیوں تہی دامن ہے۔ کیا یہاں انہیں پاکستان کا ارضی نیشنلزم رلا رہا ہے یا ملت اسلامیہ کا درد کروٹیں لے رہا ہے۔ کیا پاکستان کا ارضی نیشنلزم انہیں عرب اسرائیل جنگ میں پاکستانی پائلٹ بھیجنے پر مجبور کر سکتا تھا۔ ایک سابق پاکستانی فوجی جو بھٹو دور میں سعودی عرب میں تعینات تھا اس نے ذکر کیا کہ بھٹو صاحب ایک دفعہ تشریف لائے تو انہیں روضہ رسول کو اندر سے دیکھنے کی دعوت دی گئی تو بھٹو صاحب تر آنکھوں سے کہے جا رہے تھے کہ میرے دامن میں کوئی کیا خوبی ہے کہ سرور کائنات کو منہ دکھا سکوں!

بھٹو صاحب نے لبرلز، سیکولرز اور روشن خیالوں کو بھی متاثر کیا مگر ان کا ملت اسلامیہ سے رومانس بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ بھٹو صاحب کو ملت اسلامیہ کے اتحاد اور ملت اسلامیہ کو ایٹم بم ٹیکنالوجی سے سرفراز کرنے کی سزا دی گئی تو ہنری کسنجر کی بھٹو صاحب کو دی گئی دھمکیاں اس بیانئے کو سچ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ بھٹوصاحب کا جرم وہی تھا جو لیاقت علی خان کا تھا تو انجام کیونکر مختلف ہوتا۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم لیڈر تھے اور بڑے لیڈر کو چھوٹے دماغ ٹکڑوں میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں تو انہیں تضادات نظر آتے ہیں۔ تا ہم بھٹو صاحب کے خمیر میں کچھ گہرے درجے کے فطری تضادات تھے۔ ایک طرف جاگیردار باپ کی اولاد تھے مگر ایک غریب عورت کے بطن سے جنم لیا۔ بیرون ملک تعلیمی سفر کیلئے قیام کے دوران والد سے دو کتابیں بھجوانے کی خواہش کی۔ ایک کمیونسٹ مینی فسٹو اور دوسری نپولین بونا پارٹ کی سوانح عمری۔ جاگیردار باپ کے جینز اسے نپولین جیسے عظیم فاتح سے قریب کرتے ہیں دوسری جانب غریب ماں کے جینز بھٹو صاحب کو کارل مارکس کے قریب کرتے ہیں۔ یہ واقعہ بھٹو صاحب کی داخلی اور خارجی ایکالوجی کا مظہر ہے، جو ان کے سیاسی کیرئر میں ایک Symbiotic Relationship کے طور پر چلتا ہے۔ ایک جانب وہ شراب کو غریب کا لہو چوسنے سے کم تر گناہ قرار دیتے ہیں، دوسری جانب جب ضیائی مارشل لاء لگتا ہے تو جیلیں بھٹو مخالفین سے بھر چکی تھیں۔ اے این پی قیادتوں کیخلاف غداری کے تین تین سو گواہ تھے جب چار سال تک صرف چند گواہیاں پوری ہوئیں تو حیدر آباد کی عدالت میں ایک اے این پی رہنما نے کہا جج صاحب میرے اور اپنے لیے آب حیات کا اہتمام کیجئے ابھی تو چند گواہیاں ہوئی ہیں، سینکڑوں باقی ہیں۔ یہ بھٹو صاحب کے اندر کا جاگیردار تھا، مگر بھٹو نے اپنے اندر کے غریب ہاری کو بھی ہمیشہ زندہ رکھا جو ان کی غریب دوست پالیسیوں میں جا بجا نظر آتا ہے۔

بھٹو صاحب نے لبرلز، سیکولرز اور روشن خیالوں کو بھی متاثر کیا مگر ان کا ملت اسلامیہ سے رومانس بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ بھٹو صاحب کو ملت اسلامیہ کے اتحاد اور ملت اسلامیہ کو ایٹم بم ٹیکنالوجی سے سرفراز کرنے کی سزا دی گئی تو ہنری کسنجر کی بھٹو صاحب کو دی گئی دھمکیاں اس بیانئے کو سچ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ بھٹو صاحب کا جرم وہی تھا جو لیاقت علی خان کا تھا تو انجام کیونکر مختلف ہوتا۔

بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو گلی کے باہر تمام منظر بدل چکے تھے، سایہ کوئے یار اتر چکا تھا، سرد جنگ کا خاتمہ یقینی تھا اور اب امریکا سپر پاور بننے جا رہا تھا، بدلے حالات میں بینظیر بھٹو نے Pragmatism کا مظاہرہ کیا۔ محترمہ بے شک عالمی سیاست پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں مگر والد کی طرح تاریخ و تہذیب اسلامی کا گہرا درک نہیں رکھتی تھیں، بے شک وہ بلاول بھٹو کو دبئی میں جمعے پڑھواتی رہی ہیں مگر یہ اسلام سے رسمی تعلق ہے۔ بینظیر بھٹو نے عالمی سیاست سے ہم آہنگ ہونے کی ٹھانی، پرائیوٹائزیشن کو اپنایا، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے رجوع کیا، بھارت کی طرف امریکی دبائو یا ذاتی سوچ کے تحت اپنے قومی مفادات کی قیمت پر ہاتھ بڑھایا۔ بینظیر میں بھٹو صاحب والی وہ رمق نہ تھی جو اکہتر کا شکست خوردہ بھٹو اندرا گاندھی کے سامنے میز پر ایک فاتح دکھائی دیتا تھا، بینظیر راجیو گاندھی سے بڑا ملک ہونے کے ناتے فیاضی کا سوال کرتی تھیں، بھٹو صاحب قومی اور ملی حمیت کیلئے بھارت سے سو سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا کرتے تھے۔ بھٹو اسلامی قائدین کے تعاون سے مسلم امہ کے اتحاد اور خوشحالی کا علم بلند کرتے تھے، جان کی قیمت پر ایٹم بم کی بنیاد رکھ رہے تھے، قذافی وغیرہ بلینک چیک بھیجا کرتے تھے۔ بھٹو صاحب اسلام اور عیسائیت کی تاریخی کشمکش کا درک رکھتے ہوئے عیسائی مغرب کیخلاف مسلم اتحاد اور بیداری پر یقین رکھتے تھے۔ بینظیر بھٹو عیسائی مغرب سے مارشل پلان کی طرز کا پیکج اسلامی ممالک کیلئے مانگ رہی تھیں، وہ نہیں سمجھتی تھیں کہ

خریدیں نہ جس کو اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ بادشاہی

بھٹو صاحب ملت اسلامیہ کو ایٹم بم دینے کیلئے جان کا سودا کر گئے، محترمہ کہہ رہی تھیں کہ ہم اقتدار میں آئے تو ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ایران اور لیبیا کو ایٹم بم ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزام میں دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ سب گلے بجا مگر محترمہ اپنے باپ کے برعکس دشمنوں پر اس قدر بھاری نہ تھیں۔ وہ مخالفین سے مفاہمت پر یقین رکھتی تھیں، وہ عالم اسلام اور امریکا و مغرب کے درمیان بھی مفاہمت چاہتی تھیں۔ ان کی آخری تصنیف ” اسلام، مغرب جمہوریت اور مفاہمت” اسلام اور مغرب کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالے کا مقدمہ اور مشرق و مغرب کے درمیان مفاہمت امن اور خوشحالی کا سسکیاں بھرتا خواب ہے۔ محترمہ نے نواز شریف کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا اور میثاق جمہوریت جیسا معاہدہ کیا۔ محترمہ نے والد کی دلیری اور بہادری کو من وعن نبھایا۔ وہ جان سے گزر گئیں مگر ڈکیٹر سے خوف زدہ نہیں ہوئیں۔ انہیں جو الیکشن کا بائیکاٹ سکھانے گئے تھے الیکشن لڑنے کا عزم لیکر واپس آئے۔

محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کے سامنے کئی دریا در آئے، مگر داد ہے زرداری صاحب کو عملیت پسندی کی بقول جان ایلیا

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
تو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد بھی دے
کہ اب مجھے شوق کمال بھی نہیں خوف زوال بھی نہیں

تا ہم موصوف نے محترمہ کی مفاہمتی پالیسی کو دانتوں سے پکڑا اور خوب نبھایا یہاں تک کہ گجراتی چوہدریوں کو بھی اپنے دامن عافیت میں لینے سے گریز نہیں کیا۔ بلاول بھٹو نے عزم کیا ہے کہ

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

بلاول بھٹو زرداری کو کون بتائے کہ پاکستانی سیاست سالم بھٹو مانگتی ہے۔ برگد کے نیچے چھوٹے پودے اگ نہیں سکتے، والد صاحب جب تک سلامت ہیں بلاول بھٹو زرداری ایک آزادانہ سیاسی کردار نہیں نبھا سکتے۔ بلاول بھٹو کیلئے سب سے بڑا چیلنج پیپلز پارٹی کو سندھ سے نکال کر ملک کے طول و عرض تک لے جانا ہے اور اگر مناسب سمجھیں تو نانا کے افکار و نظریات کا خود سے جائزہ لیں، تاج حیدر، این ڈی خان، رضا ربانی یا دیگر سے ٹیوشن لیں گے تو اپنائیت اور بے ساختگی نہیں آئے گی جو گل لالہ کو جہان گندم و جو پر فوقیت دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے بھٹو صاحب، ساقی گری اور چیئرمین لی شاو چی سے ہَتھ پنجہ —- شاہد مسعود
(Visited 677 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: