میرا تخلیقی عمل ——— محمد حمید شاہد

0
  • 61
    Shares

ذرا تصور باندھیے ایک ایسے گھر کا ‘جس کے وسیع آنگن میں آسمان ہر رات‘ سارے تارے جھولی میں بھر کر‘ اُترا کرتا تھا ۔ آپ گماں باندھ چکے ہیں تو جان لیجئے کہ وہ گھر میرا تھا۔

سہ پہر ہوتے ہی پورے آسمان تلے کھلے آنگن میں چھڑکائو ہوتا اور شام پڑتے ہی بہن بھائیوں اور اماں ابا کی کھاٹیں ایک خاص ترتیب میں بچھا دی جاتی تھیں ۔ اُدھر اوپر کی سمت ابا کے لیے مخصوص تھی‘ دائیں کو اماں اور باجی کے لیے‘ جب کہ بائیں کو‘ جدھر بکائن سے پرے ڈیوڑھی تھی‘ ہماری کھاٹیں بچھتی تھیں ۔ اوپر لینے کو سب کے پاس سفید چادریں تھیں۔  جب ہم ان چادروں کو تان کر سو رہے ہوتے تو رات سارے تارے ان کی سفیدی پر انڈیل دیا کرتی تھی ۔

آپ کو یقین نہیں آئے گا مگر یہ واقعہ ہے کہ تارے اُن اجلی چادروں پر بھی لش لش کرتے رہتے تھے ۔

ہمارے سونے کا ایک وقت مقرر تھا ۔  نیند آئے نہ آئے ہمیں اپنے اپنے بستر وں پر لیٹ کر خامشی سے نیند کا انتظار  کھینچنا ہوتا تھا۔  نیند دبے پائوں آیا کرتی تھی ‘اور ہر روز بلا ناغہ آتی تھی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عین اس وقت‘ جب میں چمکتے تاروں کے آبدار کناروں کو اپنے تصور کی نازک پوروں سے ٹٹول رہا ہوتا تو رات مجھے اپنے آپ سے بے گانہ کر دیا کر دیتی تھی ۔ یہی وہ لمحات تھے جب آسمان کالا چغا پہن کر میرے قدموں کی سمت سے نمودار ہوتا اور اپنی بھری جھولی کے سارے تارے میرے اوپر بچھی دودھ جیسی سفید چادر پر ڈال دیتا تھا۔ یکایک سارے میں یخ لَو ‘بھر جاتی۔ میں بے تابی سے تاروں کو ٹٹولتا جاتا۔ وہ مجھے اتنے نرم اوراتنے ملائم لگتے کہ اُن کا گداز میرے دل میں بھر جاتا تھا ۔

پھر یوں ہوا کہ سب کچھ تلپٹ ہو گیا ۔

مگر یہ اس رات ہوا تھا جب آنگن میں کھاٹیں نہیں تھیں کہ خنکی بڑھ گئی تھی ۔  ہم بستروں پر لیٹا کرتے تو کچھ ہی لمحوں میں ہمارے بستر جادو کاقالین بن کر ہمیں تاروں بھرے کھلے آسمان تلے لے آتے تھے ۔ لیکن جس رات کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ معمول کی راتوں سے کہیں زیادہ تاریک تھی۔  ابا اپنے کمرے میںسو نہیں سکے تھے… اور ہم بھی اپنے اپنے بستروں سے نکل ‘ باہر آنگن میں آکر ہکا بکا اور دل گرفتہ کھڑے تھے ۔ ہم سب کھلے اور کالے آسمان تلے تھے مگر جیسے وہاں تھے ہی نہیں… کہ وہاں تو صرف ابا تھے جو چاروں اور گھوم گھوم کر اوپر آسمان کو تکے جاتے تھے اور سسکاریاں مار مار کر کہتے تھے‘ دیکھو یہ ٹوٹ گیا ۔

وہ آسمان تھا…!
وہ تارے تھے …!
وہ دل تھا…!
کہ وہ دھرتی تھی…!

کچھ بچا تھا یا سب کچھ ٹوٹ گیا تھا میں پوری طرح سمجھنے سے قاصر تھا۔ بس یوں محسوس ہوا تھا جیسے آسمان کے سارے تاروں نے پہلے تو دھماکے سے باہم جڑ کر ایک بڑا سا گولا بنا یا تھا‘ آسمان جتنا  بڑا…اور پھردوسرے ہی لمحے میںیہ گولا ٹوٹ کر ہمار ی دھرتی پر ‘نہیں شاید ہمارے دلوں پر برس پڑا تھا… یوں سب کچھ پاش پاش ہو گیا تھا ۔

مجھے یقین سا ہو چلا ہے کہ یہی وہ رات تھی جب میں نے اچھی طرح چہرہ دِکھانے والے دُکھ اور پوری طرح شناخت نہ ہونے والے تخلیق کے اَسرار کی خوشبو میں رَچے بسے لمحوں کو ایک ساتھ اَپنے بدن کے خَلیے خَلیے میں‘ رگوں میں اور ہڈیوں کے گودے میںمحسوس کیا تھا ۔  اس رات ہمارے گھر میں کوئی نہ سویا تھا کہ ابا کسی طور سنبھلتے ہی نہ تھے ۔ جو بڑے تھے وہ ابا کو سنبھال رہے تھے اور میں اندر ایک کونے میں دبکا بیٹھا کا غذ پر کچھ لکھ رہا تھا یا پھر یوں ہی کچھ لکیریں کھینچ رہا تھا ۔

میں آج تک وطن ٹوٹنے والی اُس رات کا تعلق اُڑتے ستاروں کے بھرا مار کر جڑ نے اور ٹوٹنے سے نہیں جوڑ پا یا ہوں تاہم یوں ہے کہ میں اپنے تخلیقی عمل کو کسی نہ کسی طرح پاکیزہ جذبوں کی اِسی نہج کی لطیف تُندی سے جوڑتا رہتا ہوں ۔ اِس سے کم پر میرے اندر تخلیقیت بیدار ہونے پر راضی ہی نہیں ہوتی۔

وقت ایک سے تنائو میں رہتا ہے نہ وجود کے سارے مراتب … اور غالباً یہی وجہ ہوتی ہو گی کہ میرے ہاں تخلیقی عمل کی برقی رو مسلسل نہیں ہوتی اس میں رخنے پڑتے رہتے ہیں ۔میں تخلیقی عمل کے اس برقی دھارے کے غیر مسلسل بہائو کی بابت اندازے قائم تو کرسکتا ہوں کوئی عقلی توجیہہ نہیں کر پاتا ۔ سچ یہ ہے کہ میں ایسا ضروری بھی نہیں سمجھتا ۔ حقیقت ِکُلی ہو یا تخلیقیت کا بھید دونوں عقل ِمحض کا علاقہ نہیں ہیں ان دونوں منطقوں میں عقل کو وجدان اور روح کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔عقل ہمارے روزمرہ کے تجربوں کو زندگی کے تعمیمی حوالوں سے دیکھتی اور پرکھتی ہے جب کہ وجدان کا معاملہ تخصیصی ہے ۔ عقل کی پیش رفت نزولی اور وجدان کی عروجی ہے ۔ اور اس کا غالبا سبب یہ ہے کہ عقل کو دلیل اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ وجدان ‘علم کا حسی ‘سریع اور براہ راست وسیلہ ہے ۔

جس زمانے میں لاشعور مجھے اپنے ہونے کا احساس دلانے لگا تھا اور وجدان کے اشاروںپرمیرے شعوری فیصلے معطل ہونے لگے تھے‘ یہ وہ زمانہ بنتا ہے جب جدید افسانے کی ڈفلی بڑے زور زور سے بجانے والے ہونکنے لگے تھے مگر لطف کی بات دیکھیے کہ تب تک مجھے اُن کا ہونکنا کَھلتا نہ تھا کہ میں بہر حال اپنے آپ کو دہرانے والوں کے ہاں ہی ایسے افسانوں کو پڑھ چکا تھا جن میں اسلوب اور معنیاتی سطح پر ایسی تہہ داری موجود تھی ‘جو گرفت میں لیتی تھی اورعلامتیں‘ ٹکڑوں میں ہی سہی ‘اپنا ایک نظام وضح کرتی تھیں ۔

اب یوں نہ اندازے لگا بیٹھیے گا کہ میں نے ٹکڑوں میں علامت کا ذکر کیا تو مجھے تجرید کے تجربے سے التباس ہوا۔  معاملہ یہ ہے صاحب کہ اس سارے عرصے میں تجریدی افسانہ تو سونگھنے کو بھی نہیں ملتا تھا‘  ہاں اس کی تنقیدی ہنڈیا اس وقت کے ہر ناقد کے ہاں چڑھی ضرور مگر ہونی پر کس کا یارا ‘ کہ ہر بار عین چوراہے میں ٹوٹی ۔  خیر مجھے اُس عہد کے افسانے پر گرفت نہیں کرنی کہ میں تو اپنے اندر مچنے والے تخلیقی بھانبھڑ میں اس عہد کے ایندھن کو تلاش کر رہا  ہوں اور صاحب مجھے اعتراف کرلینے دیجیے کہ میں کہانی کو باطنی سطح پر برتنے کی طرف راغب اسی عہد کے وسیلے سے ہوا۔  تاہم طرفہ تماشہ دیکھئے کہ جب میں علامت کو کہانی کی نامیاتی وحدت بنالینے کی طرف راغب ہو گیا تھا ‘ بیانیہ کہانی کو حقارت سے دیکھنے والے اسی روایتی کہانی کے پلٹ آنے کی  وعید/نوید (فیصلہ آپ خود فرمالیں) سنانے لگے تھے ۔

شاید یہی وہ دورانیہ بنتا ہے جب میں تخلیقی عمل کے لیے بھیڑ چال اور تحریکوں کو زہر قاتل سمجھنے لگا تھا ۔ میرے سامنے ترقی پسندوں کی مثال بھی تھی اور ان کے رد عمل میں خارج سے مکمل طور پر کٹ کر باطن گزین ہونے والے علامتیوں کی بھی ۔ یہ دونوں گروہ اوران سے پہلے گزر چکے بھی‘ میرے ہاں روایت کے شعور میں خوب کانٹ پھانس کر چکے تھے اور مجھے یہ بھی بتا چکے تھے کہ تخلیق کا ایک عنصر بغاوت ہوتا ہے اور اس بغاوت کا وار تخلیق کار کے ہاں اندر اور باہر دونوں رخ پر ہو سکتا ہے  اور یہ کہ بطون میں سمٹنے یا سماج کی اور لپکنے والی اس بغاوت کاتخلیقی عمل سے تعلق کسی منصوبہ بندی کے تحت قطعا نہیں ہوتا۔  حتی کہ میں فیصلہ کر لیتا ہوں کہ مجھے تخلیق کے کازار میں اکیلے ہی اترنا ہو گا۔

اب اگر میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو صاف صاف دِکھتا ہے کہ تخلیق کار کی حیثیت سے میں جہاں جہاں اور جتنا جتنا اکیلا ہوتا چلا گیا اتنا ہی میرے ہاں تخلیق ہونے والا فن پارہ عمومیت سے بچتا چلا گیا ۔  اِسی تجربے کی اَساس پر میں فیصلہ دے سکتا ہوں کہ تخلیقی عمل میں کسی سہارے اور مرعوبیت کے بغیر آگے بڑھنے سے فن کارکے ہاں اس کا اپنا وجدان اور اس کی اپنی روح جی اٹھتی ہے جو اسے تعمیم سے بچالیتی ہے ۔

میرا خیال ہے کہ چند جملوں کی تکرار ‘ مخصوص زمانے سے اٹھائے ہوئے کرداروں اور شعری وسائل کے استعمال سے فضا بندی کے خارجی وسیلوں یا پھر کچھ علامتوں سے مسلسل وابستگی کو اسلوب نہیں قرار دیا جاسکتا۔  ایسا کرنے والے دراصل تخلیقی جوہر کی کمی کے عارضے کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے اس اسلوبیاتی ناغول میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

اسلوب دراصل عصریت اور مابعد عصریت طبعیات اور مابعد طبعیات‘ رواں اور ہمیشگی اور اسی طرح زمان اور لازمانیت کی امتزاجی شرح سے متشکل ہونے والی شخصیت کا لازمی تخلیقی آہنگ ہوتا ہے جو  فن پارے کے خارج میں نشان قائم کرنے کے بجائے اس کے داخل سے نور کی طرح پھوٹتا ہے ۔

مجھے اجازت دیجئے کہ اُس فضا سے ‘جو تخلیقی عمل کے دوران مجھ پر تنی رہتی ہے ان متنی امکانات کی طرف بڑھوںجن سے میں روبرو ہوتا رہتا ہوں۔  تو اس باب میں‘ میرا پہلا پڑائو لفظ کے ہاں ہوتا ہے ۔  اپنے روزمرہ اور مسلسل استعمال سے الفاظ اعداد کی سطح پر اتر آتے ہیں ۔  تخلیقی عمل کے دوران میرے ہاں متشکل ہونے والے معنیاتی اور جمالیاتی ساختیوں میں ایسے عددی الفاظ خود بخود پسپا ہوتے رہتے ہیں اور غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے لفظ کوایک زندہ اور مہذب انسانی وجود کی طرح جانا ہے ۔  مجھے اپنی بات کے الجھنے کا خدشہ ہو چلا ہے لہذا وضاحت کر نے کے لیے مجھے اوپر تلے تین لکیریں کھینچ لینے دیجئے سب سے اوپر والی لکیر کو میں روح کا نام دیتا ہوں ‘ سب سے نیچے والی کو نفس اور وسطی لکیر پر میں نے جسم لکھ لیا ہے ۔ ان تینوں لکیروں کو قوسین میں رکھ کر مساوی کا نشان ڈالتے ہوئے سامنے لکھتا ہوں ’’لفظ‘‘ ۔  جی ہاں ان تینوں کا مجموعہ آدمی بھی ہے اور ان تینوں کا حاصل جمع لفظ بھی ۔ تخلیقی عمل کے دوران جہاں جہاں لفظوں کو اپنے مخصوص معنی یعنی عددی سطح پر رہنا ہوتا ہے وہاں وہاں وسطی اور زیریں لکیریں مل جاتی ہیں اور جہاں اسے جمالیاتی ساختیہ بناناہوں وہاں وسطی لکیر ‘بالائی لکیر سے جا ملتی ہے۔ میرے ہاں یہ تینوں ‘الگ الگ نہیں ایک دوسری سے اتنی مربوط ہیں کہ تخلیقی برقی رو ان تینوں ہی کے اندر ایک ساتھ بہتی  رہتی ہے ۔

اس طرز عمل کے سبب جملے کی ساخت میں وہ امیجز بیدار ہو نے لگتے ہیں جوا لفاظ کو اعداد کی سطح پر گرنے اور کلیشے ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ لفظ سے تخلیقی جملے کی طرف ہم خود بخود آگئے ہیں ۔ میں اپنے تخلیقی عمل کے دوران اکہرے یعنی اُتھلے اور مہمل یعنی معنیاتی حوالے سے بانجھ‘ دونوں قسم کے جملوں سے ‘ خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ  کوئی بھی جملہ اپنی تخلیقی کل سے جڑ کر ہی  معنیاتی یا جمالیاتی ساختیہ بنا پاتا ہے ۔

میں تخلیقی ریزوں کو الگ الگ نہیں بلکہ پورے تخلیقی تجربے کو ایک نامیاتی وحدت میں دیکھنے کی طرف مائل رہتا ہوں۔  اور یہ جومجھے عادت سی ہو چلی ہے کہ جب تک افسانہ مجھے اپنے پورے وجود کی چھب دکھا نہ دے میں اسے لکھنے بیٹھ نہیں سکتا تو اس کے پیچھے بھی غالبا طبع کا یہی مِیلان ہے ۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں پہلے پورے افسانے کو اپنے اندر بننے دیتا ہوں ‘ اپنی جزئیات سمیت‘ اور پھر اسے کاغذ پر منتقل کرتا ہوں تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ لکھتے ہوئے کہانی عین مین وہی رہتی ہے جیسی اس نے پہلے چھب دکھائی تھی ۔  میرے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ کہانی جوں جوں آگے بڑھتی توں توں نئی وسعتوں اور نئے نئے امکانات کے دریچے اس پر خود بخود کُھلتے چلے جاتے ہیں ۔ اور جب افسانہ مکمل ہوتا ہے تو اپنی کل میں اتنا نیا اور مختلف ہوتا ہے کہ خود مجھ پر حیرتیں ٹوٹ برستی ہیں ۔
(حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کی ایک خصوصی نشست میں پڑھی جانے والی سطور )

(Visited 125 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: