مہرباں کیسے کیسے۔۔۔۔ شازیہ ظفر

0
  • 317
    Shares

سراھے جانے کا احساس بھی کتنا پرکیف ھوتا ھے۔۔۔ھم میں سے کون ھوگا جسے ستائشی کلمات یا تعریفی جملے پسند نہیں ہونگے۔۔۔ جب جب ایسے الفاظ ہماری سماعتوں میں رس گھولیں کس قدر خون پڑھتا ھے۔۔۔۔اس حقیقیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعریفی جملے میں ایسی طاقت ہے جو ساری پژمردگی دور کرکے ہشاش بشاش اور تازہ دم کر دیتی ہے۔۔۔ سبک رواں باد صبا کے جھونکوں کی مانند کہ جن کے آنے سے دل کے چمن میں بہار آ جاتی ہے ، پھول کھل اٹھتے ہیں ۔۔۔ دنیا حسین لگنے لگتی ھیں۔۔ طبیعت میں ایک جولانی اور توانائی محسوس ہوتی ہے جو ساری کلفت اور تھکن اتار دیتی ہے۔۔

مگر کبھی کبھار کچھ ایسے تعریفی جملے بھی سننے کو ملتے ھیں جن میں چھپی ایک پنچ لائن آپ کے منہ پہ زوردار پنچ لگانے جیسا کام دکھا جاتی ھے۔۔۔ ایسی دھماکے دار تعریف کہ جسکے بعد آپ “میرا چین وین سب اجڑا” کی تفسیر بن کے رہ جاتے ھیں۔۔ اور یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس پہ ہنسنا بنتا ھے یا رونا۔۔۔ کبھی کبھی آپ کی تعریف کے ساتھ دبی دبی ناکام حسرتوں کا نوحہ بھی سنائی دے جاتا ھے۔۔۔ ان جملوں سے یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ موصوف یا موصوفہ کو آپ کے اس طرز عمل سے مسرت ھوئی ھے۔۔ یا آپکی اس خوبی نے انکی دبی ھوئی حسرتوں کو جنھیں انھوں نے بڑی مشکلوں سے تھپک تھپک کے سلایا تھا یک لخت بیدار کر دیا ھے۔۔۔۔ ایسی تعریف کرنے والے اور اس قسم کی پذیرائی کرنے والے مہرباں ھم سب کی زندگیوں میں موجود ھیں۔۔ جنکے شاھکار توصیفی کلمات ھماری روح کے تار جھنجھوڑتے ہی رہتے ھیں۔۔۔ ایسی ھی کچھ مثالیں ملاحظہ فرمایئے۔۔۔

آپ نے بہت چاھت سے انھیں کھانے پر مدعو کیا ھے۔۔ بڑے دل سے کھانے تیار کیئے ھیں۔۔۔ اور انھوں نے بہت شوق اور رغبت سے تناول بھی کیئے ھیں۔۔۔ باتوں باتوں میں تعریف بھی ھو رھی ھے۔۔۔۔ جو کچھ یوں بھی ھوسکتی ھے۔۔۔ بھئی ماشاءاللہ۔۔ بہت اچھا لگا۔۔ بہت مزیدار ضیافت تھی سارے کھانے بہت اچھے بنائے تم نے۔۔ بریانی بہت لذیذ تھی۔۔۔مگر خیر ۔۔۔۔ اب شان مصالحے والوں نے تو چینی لڑکیوں تک کو بریانی بنانا سکھا دی ھے۔۔۔۔اور آپ ۔۔ میں کس کے ھاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں کی صورت بنے یہ سوچتے ھیں کہ یہ جو ابھی آپ کے ساتھ ھاتھ ھوگیا ھے اس پہ کیسا ردعمل دیں۔۔۔

آجکل یہ ھر دوسرے گھر کا مسئلہ ھے کہ بچے فاسٹ فوڈ کے شیدائی ھیں۔۔ انھیں گھر کے روزمرہ کھانے نہیں بھاتے۔۔۔ سب ھی مائیں پریشان رھتی ھیں ۔۔ اگر اپنی محنت کی بدولت آپ ان ماؤں میں شامل نہیں ھیں تو آپکی اس خوبی پہ یوں بھی پانی پھر سکتا ھے۔۔۔۔آپ کے بچے کھانے میں کوئی نخرے نہیں کرتے کیا۔۔۔ ؟؟ ھیں اچھا۔۔۔۔؟؟ واہ بھئی کمال ھے۔۔ زبردست۔۔۔۔نہیں ویسے اگر کھلاؤں تو میرے بچے بھی سب کچھ کھا ھی لیں گے مگر میں خود اتنی نرم دل ھوں ناں کہ مجھے بچوں پہ ترس آ جاتا ھے۔۔۔ اب کیا کروں میرے اندر وہ ھٹلر ٹائپ ماں ھے ھی نہیں۔۔۔۔ ایسے تبصرے کو سننے کے بعد آپ کو اپنے اندر سے باقاعدہ ایسی آواز آتی محسوس ھوگی۔۔ ” ایک ضروری اعلان سماعت فرمایئے۔۔۔۔ آپکی عزت افزائی کا وقت شروع ھوا جاتا ھے۔۔ حسب توفیق اسے محسوس کجیئے”

آپ لکھتی ھیں ناں۔۔۔؟؟ اچانک کوئی شناسا خاتون سوشل میڈیا پہ آپکی سرگرمیوں کے حوالے سے بھرہور جانکاری رکھتے ھوئے بھی انجان بن کر استفسار فرماتی ھیں۔۔۔ آپ یہ سوچ کر منکسرالمزاجی کا مظاھرہ کرنے کی کوشش فرماتے ھیں کہ شاید یہ اس حوالے سے آپکو کچھ حوصلہ افزاء اور ھمت بندھاتے جملے سننے کو ملنے والے ھیں۔۔۔ مگر ادھر کچھ اس انداز سے پھول جھڑتے ھیں۔۔۔ ھاں بھئی اچھی بات ھے۔۔ فارغ وقت کی اچھی مصروفیت ھے۔۔۔انسان کو کچھ نہ کچھ کرتے رھنا چاھیئے۔۔۔۔ مگر خیر میرے پاس تو فالتو وقت ھوتا ھی نہیں ۔۔ میں تو جب تک گھر کا کونا کونا اپنے ھاتھ سے نہ چمکا لوں چین ھی نہیں پڑتا۔۔۔ مجھ سے کاھل عورتوں کی طرح ھر وقت ھاتھ میں سیل فون لے کر نہیں بیٹھا جاتا ۔۔ ناظرین دور کہیں افق کے اس پار آپکے پھوھڑ پن کا پکا فیصلہ ھو چکا ھے۔۔۔ اب آپ سر پٹخ کے مر جائیں دنیا کی کوئی طاقت آپ کو سلیقہ شعار لوگوں کی فہرست میں شامل نہیں کرسکتی۔۔۔

ایک دنیا دبلے ھونے کے لیے ھلکان ہو رہی ہے۔۔۔ کیا کچھ جتن کر رھی ھے۔۔۔۔ حسن اتفاق کہ آپ ان خوش نصیبوں میں شامل ھیں جو اس فکر سے آذاد ھیں۔۔ مگر کسی تنومند حسینہ کی آنکھوں میں آپ کی یہ بے فکری کانٹے کی طرح کھٹک رھی ھے۔۔۔ تیار ھوجایئے کہ اس میٹھی تعریف میں وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا بہانہ یوں ڈھونڈیں گی کہ آپ اش اش کر اٹھیں۔۔۔۔ آخر راز کیا ھے آپکی فٹنس کا۔۔ھیں۔۔۔۔؟؟ نہ ایک چھٹانک کم نہ ایک چھٹانک ذیادہ۔۔۔ ناپ تول کے کھاتی ھیں کیا۔۔۔؟؟ اور بھئی یہاں ایک ھم ھیں کھاتے پیتے گھرانے کے۔۔۔!! پانی بھی پئیں تو کیلوریز بن کے لگتا ھے۔۔ ھاھاھا۔۔۔۔ اسی لیے فکر چھوڑ دی خوب ڈٹ کے کھاؤ اور لمبی تان کے سو جاؤ ھاھاھا۔۔۔۔ اب آپ اس گھٹیا پن کے عظیم الشان مظاھرے پر دل ھی دل میں پیچ و تاب کھاتے رھیں۔۔ انھوں نے تو اپنے حساب “اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر” کے مصداق آپکی غربت کا طعنہ مار کے اپنے کلیجے میں دل بھر کے ٹھنڈ ڈال ھی لی ھے۔۔۔

چار سہیلیاں آپس میں گفتگو کر رھی ھیں۔۔ کسی معاشرتی یا سیاسی موضوع اگر پر آپ نے تفصیلی رائے کا اظہار فرمادیا کہ جس سے آپ کی قابلیت نہ چاھتے ھوئے بھی چھلک گئی ھے۔۔۔ بس جناب۔۔۔۔ دم سادھ لجیئے کہ ادھر کسی کے صبر کا پیمانہ بھی تو چھلکا جاتا ھے۔۔۔۔ اچانک بات کا رخ بدلتے ھوئے کوئی عقلِ کل فرماتی ھیں ۔۔۔ اچھا چلو چھوڑو یہ بیکار کی باتیں۔۔۔۔بھئی مجھے نہیں آتے یہ لمبے چوڑے بحث و مباحثے۔۔۔۔ میں تو بھئی سیدھی سادی عورت ھوں۔۔ میرا گھر میری جنت۔۔۔ باھر کیا ھو رھا ھے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔یہ سیاستیں وغیرہ مجھے کبھی نہیں آئیں۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔صدقے اور قربان جایئے سادہ لوح عوام پہ ۔۔۔جنکے لیے سیاسی ھونا۔۔ اور سیاسی حالات سے باخبر ھونا۔۔ایک ھی بات ھے۔۔۔

بھابھی۔۔۔۔ کتنا پیارا پرنٹ ھے آپکے ڈریس کا۔۔ فلاں برانڈ ھے ناں۔۔۔ آپ تائید میں سر کو جنبش دی ھی رھی تھیں کہ یک بہ یک رکنا پڑا کہ وہ کچھ اس ادا سے گویا ھیں ۔۔۔۔ ھاں مجھے بھی پسند ھے یہ ۔۔۔ اس برانڈ کا فیبرک بھی بہت عمدہ ھوتا ھے اور اسکے کلرز کی تھیم ھمیشہ جاذب نظر ھوتی ھے۔۔۔ جب جب آپ یہ ڈریس پہنتیں ھیں دیکھ لگتا ھی نہیں اتناااا پرانا سوٹ ھے۔۔۔۔ اب اس “اتنا پرانا” میں وہ سارے اسرار و رموز پوشیدہ ھیں کہ جب جب آپ نے اسے زیب تن کیا وہ سارے تاریخ ساز لمحات ان عفیفہ انکی انگلیوں پہ گنے ھوئے ھیں۔۔۔

بچوں کے امتحانات ھوئے۔۔۔ آپ نے جی جان سے تیاری کروائی۔۔ ایک ایک مضمون پہ دھیان دیا۔۔ کہیں آنا جانا سب موقوف یعنی دنیا تیاگ دی اور خیر سے بچے نمایاں نمبر لے کر کامیاب ھوئے ۔۔ تعریفیں ھو رھی ھیں۔۔ شاباشیاں مل رھی ھیں۔۔ لیکن ایسی واہ واہ کے شور میں ایک جملہ ایسا بھی آ سکتا ھے۔۔۔ واہ بھئی بچے تو بہت اچھے گریڈز لے آئے آپ کے۔۔ یار ۔۔ پتا ھے اتنی محنت کرتی ھوں میں بھی۔۔ مگر میرے بچوں کے دماغ میں تو بھوسا بھرا ھے ۔۔ مجال ھے جو میں سمجھاتی ھوں سمجھ جائیں ۔۔۔بس میری قسمت کہ دونوں کے دونوں بچے ددھیال پہ چلے گئے ھیں ۔۔ یعنی سارے گھریلو راز بچوں کے رزلٹ پہ منظرعام پہ آنے کو بیتاب ھیں۔۔۔

یہ تو بس چند ایک وارداتیں مطلب مثالیں ھیں ورنہ ھمارے ان مہربانوں کے کارھائے نمایاں تو اتنے ھیں کہ ھم اور آپ کتابیں رقم کرسکتے ھیں ان پر ۔۔۔ اب خود ھی بتایئے کہ یہ تحریر پڑھتے ھوئے آپ کے ذھن میں بھی چند شناسا شکلیں گھوم رھی ھیں ناں ؟؟ لیکن یہ بھی تو سچ ھے کہ ھم سب حیران ھونے کے ساتھ محظوظ بھی ھوتے ھیں ان کھٹے میٹھے کلمات سے کہ اسکے بغیر زندگی کا چٹخارہ بھی کہاں ھے۔۔۔

(Visited 437 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20