قوی خان: ایک یادگار گفتگو —— کرامت بھٹی

0

کالی بلی راستہ کاٹ دے تو انسان کو سفر نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر خوں خوار جبڑوں والا کتا کاٹ کھانے کو آئے تو آدمی کیا کرے؟ کتابوں میں لکھا ہے درخت کی طرح ساکت ہو جائے۔ ساکت اس روز ہم بھی ہوئے مگر اس کا سبب کتابی علم نہیں‘ زمینی حقائق بنے۔ رخصت ہوتے گرما کی ایک خوش گوار صبح تھی جب گارڈن ٹائون لاہور میں واقع محمد قوی خان کے گھر پہنچے۔ اہل خانہ میں سے کسی نے دروازہ کھولا۔ نام دریافت کرنے کے بعد اسے دوبارہ بند کر دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ملازم ہمیں لینے آ گیا۔ ہماری منزل ڈرائنگ روم تھی۔ خرا ماں خراماں اسی سمت پیش رفت جاری تھی کہ اچانک ایک کتا بلکہ ’بہت ہی کتا‘ بجلی کی سرعت سے ہماری جانب لپکا۔ ارد گرد جائے پناہ تھی نہ اسے ڈھونڈنے کا موقع‘ لاچار وہیں گڑے رہ گئے۔ وہ ’خونی‘ جوہماری منحنی ٹانگوں کی دعوت اڑانے کے چکر میں تھا، ہم اچانک ساکت ہو ئے تو کنفیوژ سا ہو کر وف وف کرنا لگا۔ ملازم نے آواز سنی تو دیوانہ وار واپس بھاگا، موذی کوزور سے ڈانٹا اور کمین گاہ میں دوبارہ بند کر دیا۔ اسے حیرت تھی کہ سگ قید، سگ آزاد کیسے ہو گیا۔ اور ہماری کیفیت یہ تھی کہ جان بچی سو لاکھوں پائے۔ خدانے خونی ملا کھڑے سے بچایا اور جان و عزت کی آبرو بھی رکھ لی۔ ملازم نے دل سے معذرت کی، ہمیں چونکہ واپس اسی راستے سے جانا تھا، اس لیے فوراً معذرت قبول کی اور اپنے اوسان بحال کرتے ہوئے ڈرائنگ روم کی طرف چل نکلے۔ تھوڑی دیر بعد ٹریک سوٹ میں ملبوس قوی خان آئے۔ خوش گوار چہرے کے ساتھ ان کی آمد نے ماحول کی ساری کُلفت دور کر دی۔ حال احوال کے بعد چائے پانی کا تکلف‘ اور پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔


دو بھائی، دو بہنوں میں تیسرے محمد قوی خان یوسف زئی 13 نومبر 1942 کوپشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد نقی خان پولیس میں حوالدار تھے۔ کرکٹ کے دلدادہ قوی خان نے بارہ سال کی عمر میں پہلی بار سکول میں ہونے والے سٹیج ڈرامے میں کام کیا۔ انہیں ریڈیو پشاور میں بچوں کے پروگرامز کرنے کا بھی موقع ملا۔ انہیں ریڈیو کی طرف سے معاوضہ پانچ روپے ملا۔ پشاورکا کیپیٹل تھیٹر ان کے بہنوئی کی ملکیت تھا۔ انہیں کئی بار وہاں خود فلم چلانے کا موقع ملا۔ ’’داغ‘‘ اس زمانے میں ان کی پسندیدہ فلم تھی جسے انہوں نے ستر بار دیکھا۔ ایڈورڈ کالج سے گریجویشن کے بعد قوی خان نے ایک غیر ملکی بنک میں ملازمت کر لی۔ اوپننگ بیٹسمین اور وکٹ کیپر کے طور پر معروف قوی خان کالج پھر بنک کرکٹ ٹیم میں بھی شامل رہے۔ ان کی تھوڑی پر زخم کا انمٹ نشان اس وقت پڑا جب انہوں نے ایک فاسٹ بائولر کے لیے بھی وکٹوں کے ساتھ جڑ کر وکٹ کیپنگ کی ’جرات‘ کی۔

لاہور ہمیشہ سے قوی خان کو امکانات سے بھر پور شہر لگا۔ اسی سوچ کے پیش نظر انہوں نے 1961ء میں اپنے بنک کے غیر ملکی افسر کی مدد سے پشاور سے لاہور تبادلہ کروا لیا۔ یہاں آمد کے بعد انہوں نے الحمراء آرٹس کونسل میں پیش ہونے والے ڈراموں میں کام شروع کر دیا۔ ان کے پہلے سٹیج ڈرامے کا نام’ فراز تھا۔ فضل کمال نے ’’نذرانہ‘‘ پروڈیوس کیا تو قوی خان کو پہلی بار پی ٹی وی کے لیے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کھیل کی ریہرسل پورے چھ ماہ جاری رہی۔ قوی اب تک سینکڑوں پی ٹی وی ڈراموں میں غیر معمولی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ پی ٹی وی اور فلموں میں مصروفیت بڑھی تو انہوں نے بنک ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ایس اے آفاقی کی ’’سزا‘‘ اور ’’اجنبی شامل‘‘ ہیں۔ وہ اب تک تین سو فلموں میں بھر پور اداکاری کرچکے ہیں۔ خود انہوں نے تیرہ فلمیں پروڈیوس کیں۔ ان کی آخری فلم ’’ماں بنی دلہن‘‘ تھی، جو آج سے بیس سال قبل بنی۔ ان کی بیشتر فلمیں ناکام رہیں۔ اس سے جہاں جمع پونجی برباد ہوئی، وہیں سر پر قرضوں کا پہاڑ بھی کھڑا ہو گیا۔ قوی خان کو سر سے یہ بوجھ اتارنے میں بائیس سال لگے۔ انہیں ناکام ہدایت کار، گھر پھونک کر تماشا دیکھنے والا، تک کہا گیا۔ شاید اسی وجہ سے یہ موقع بھی آیاکہ وہ یہ تک کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ’’فن کے حوالے سے میرا مستقبل تاریک ہے۔ فلمی صنعت کبھی مجھے وہ کردار نہیں دے گی‘ جس کا میں خواہش مند ہوں۔ ٹی وی پر ملنے والے معاوضے پر کیا کوئی فنکار گزر اوقات کر سکتا ہے۔ کسی اور کاروبار کا مجھے تجربہ نہیں۔ میں فنی اعتبار سے اپنے مستقبل کو تاریک نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔ ‘‘

قوی خان نے1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں حصہ لیا۔ انہیں ایسا کرنے کی ترغیب جمیل فخری نے دی۔ لاہور سے لیاقت بلوچ اور بیگم افسر رضا قز لباش ان کے مد مقابل تھیں۔ یہ بتاتے ہیں’’ فیصل آباد سے ان کا ایک پرستار بینرز کے لیے دس ہزار میٹر کپڑا لے آیا تو دوسرے نے پچیس ہزار پوسٹر مفت چھپوا کر دیے۔ ریاض الرحمن ساغر نے جلسوں میں پڑھنے کے لیے شعر
اندھیرا نہیں اجالا ہوں میں
اندھیروں سے ٹکرانے والا ہوں میں
لکھ کر دیا۔ ا نتخابی مہم کے آخری روز میں گیارہ جلسوں سے خطاب کے بعد گھر آ کر بوٹوں جرابوں سمیت سو گیا۔ مجھے ہارنا ہی تھا کیونکہ منظم افرادی قوت کی کمی کے سبب میں پولنگ ایجنٹ کھڑے کر سکا، نہ ہی ووٹر لسٹیں کہیں پہنچائی جا سکیں۔ میرے حلقے میں75 دیہات بھی شامل تھے۔ اس بات کا علم مجھے الیکشن کے بعد ہوا۔ رزلٹ آیا تو ایک پیسہ خرچ کیے بغیر مجھے دس ہزار کے قریب ووٹ ملے۔ میں خودسے لوگوں کا اس قدر پیار دیکھ کر حیران رہ گیا۔

قوی خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس آج سے 27 برس قبل ملا۔ ، ریڈیو، ٹی وی، تھیٹرکے لیے خدمات پر لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور دو ٹرنکوں میں بھرے انعامات اس کے علاوہ ہیں۔ وہ ان ایوارڈز کا ذکر کرتے ہوئے کوئی خاص سنسنی محسوس نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ان ایوارڈز کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ سب تو کوئی بھی سفارش کے بل بوتے پر حاصل کر سکتا ہے۔ اصل چیزشوبزکے بارے میں میرا امیج ہے۔ مجھے بڑی سکرین پر آنے اور اس سے وابستہ لوگوں سے ملنے کا شوق تھا۔ پردہ سکرین کی ہیروئنیں میرے تصور سے بالکل مختلف تھیں۔ میں جو خوابوں میں ان کے ساتھ زندگی گزارنے کے عہد و پیمان باندھتا تھا۔ وہ خواب بری طرح مجروح ہوئے۔ ہیرو بھی عملی زندگی میں ویسے نہ ملے۔ میں شوبز کی زندگی ادب کے دائرے میں گزارنا چاہتا تھا۔ مجھے یہاں سارے رنگ ملے لیکن ادب نہ ملا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں نوجوانی میں، کہ جسے بہادری سے گزارنا چاہیے تھا، بزدل ہو گیا۔ یوں میری ساری جوانی بزدلی میں گزرگئی۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ تھیٹرز کے بانیوں میں ہونے کے باوجود کمپرومائزز میں وقت گزرا۔ میری زندگی کا بہترین زمانہ اب آیا ہے۔ سارے قرضے ادا کر چکا۔ اب بولڈ ہو چکا ہوں۔ اسی لیے کام کرنے کا مزہ بھی آنے لگا ہے۔ ‘‘

قوی خان کو لگتا ہے کہ پچھلے چند سال میں اخلاقی اقدار اور روایات کو ذہن میں رکھ کر فلمیں سنسر کی جا رہی ہیں۔ اس لیے اب پھر ان کے دل میں کبھی کبھی فلم نگر کی طرف لوٹنے کا جذبہ انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔ یہ بتاتے ہیں’’ضیاء الحق نئے نئے حکمران بنے تو میں نے کسی اخبار میں پڑھا کہ ملک و قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ میں نے ’’پاسبان‘‘ کے نام سے قومی یکجہتی کے فروغ کی خاطر فلم بنائی۔ قسم شہیدوں کے لہو کی‘ اسی فلم کا ایک گانا تھا۔ فلم سنسر کے لیے پیش ہوئی تو نسیم حجازی سمیت دیگر ارکان سنسر بورڈ نے عجیب و غریب اعتراضات اٹھائے۔ ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ فلم کے ٹائٹل پر سرخ رنگ کیوں دکھایا گیا۔ کہیں آپ سرخے تو نہیں؟ میں سرخا بھلا کیا خاک ہوتا مجھے تو اس کا مطلب بھی معلوم نہیں تھا۔ بہر حال مضحکہ خیز سنسر کے بعد فلم ریلیز کرنے کی اجازت تو ملی مگر نمائش کی مقررہ مدت گزرنے کے بعد۔ اسی طرح کا سلوک میری فلم ’’اک ستم اور سہی‘‘ کے ساتھ کیا گیا۔ یہ فلم آج تک ریلیز نہیں ہو سکی اس طرح کی ’’قدردانیوں‘‘ سے بطور فلمساز میری ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

میں نے ’’پاسبان‘‘ کے نام سے قومی یکجہتی کے فروغ کی خاطر فلم بنائی۔ قسم شہیدوں کے لہو کی‘ اسی فلم کا ایک گانا تھا۔ فلم سنسر کے لیے پیش ہوئی تو نسیم حجازی سمیت دیگر ارکان سنسر بورڈ نے اعتراض اٹھایا کہ فلم کے ٹائٹل پر سرخ رنگ کیوں دکھایا گیا۔ کہیں آپ سرخے تو نہیں؟

انہیں یقین ہے کہ سید نور اور شعیب منصور کی صلاحیت جیسے کئی نام موجود ہیں۔ حکومت اگر شعیب منصور سے ’’خدا کے لیے‘‘ بنوا سکتی ہے تو دیگر با صلاحیت لوگوں کی صلاحیتوں سے بھی اسے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ قوی خان خود کو ایشیا کا واحد پروڈیوسر اور ڈائریکٹر قرار دیتے ہیں جو تقریباً بیس سال سے ایک مکمل فلم ’’اک ستم اور سہی‘‘ کو ریلیز کرنے کے بجائے بوجوہ اسے سنبھالے بیٹھا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے نایاب گانوں سے سجی اس فلم کا میوزک نذیر علی نے دیا۔ سنگیتا ہدایت کارہ تھیں۔ ان دنوں قوی خان مناسب کٹنگ کر کے اس فلم کو ٹی وی پر ریلیز کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ قوی خان کہتے ہیں’’ میں فلم انڈسٹری میں چابی گھماتے ہوئے نہیں بلکہ ایک ایک زینہ طے کر کے آیا ہوں۔ مجھے یہاں کی ساری باڈی لینگویج کا علم ہے لیکن آج تک کسی حکومتی ادارے نے مجھ سے استفادہ کرنے کا نہیں سوچا۔ شوبز کا مقصد ہمارے ہاں صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے۔ اگر کوئی اس واحد مقصد میں کامیاب ہے تو اس کے سر پر تاج سجا دیا جاتا ہے۔ خواہ اخلاقاً وہ کیسا ہی شخص کیوں نہ ہوتاہم دلیر اور منصف مزاج یوسف خان کا دم غنیمت ہے۔ اگر ان جیسے پانچ چھ اور ہوتے تو انڈسٹری کی یہ صورت حال نہ ہوتی جو آج ہے‘‘۔

تھیٹر کے زوال پر دل گرفتہ قوی خان بتاتے ہیں کہ ان کے زمانے میں الحمرا آرٹس کونسل انتظامیہ ڈرامہ دیکھنے کے لیے آنے والوں میں حقوق و فرائض سے متعلق کتابچہ تقسیم کیا کرتی تھی۔ اب ایسا تصور بھی محال ہے۔ اس کی ذمہ داری جہاں تھیٹر مالکان پر عائد ہوتی ہے، وہیں عوام بھی اس عمل کے فروغ میں برابر کے شریک ہیں۔ ایک ایکٹر کی زندگی پر مشتمل کردار ادا کرنا قوی خان کی وہ خواہش ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔ وہ خود ایک ایسا ڈرامہ بنانے کا منصوبہ ذہن میں رکھتے ہیں، جس میں مفلوک الحال مگر درجنوں ایوارڈ حاصل کرنے والا فنکار بالآخر سرپر ایوارڈ گرنے سے فوت ہو جاتا ہے۔

سیاسی حوالے سے قوی خان بیک وقت جنرل مشرف‘ پرویز الٰہی‘ خالد مقبول‘ عمران خان‘ قاضی حسین احمد اور فضل الرحمن اور فوج کی خدمات کے معترف ہیں، تاہم ذاتی حوالے سے انہوں نے دل سے سیاست میں دوبارہ حصہ لینے کا خیال کھرچ ڈالا ہے۔ ان کے خیال میں وہ بطور فنکار اپنی معاشرتی ذمہ داریاں زیادہ بہتر طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ پیسے کو زندگی کی اہم ترین ضرورت قرار دینے والے قوی خان کا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کی حرکات و سکنات کا مطالعہ ہے۔ بچوں اور بزرگوں سے انہیں دلی لگائو ہے۔ اس لیے ان کی محفل یا قرب سے انہیں اک عجب روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ ’’وہ کہتے ہیں، میں زندگی میں ایسے کٹھن مراحل سے گزرا کہ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو ختم ہو جاتا۔ مگر میں زندہ رہا۔ اب جس عظیم ہستی نے مجھے محفوظ رکھا، میں اسی کی تلاش میں رہتا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں اشفاق احمد سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ ایسے نیک خصلت انسان تھے‘ جن سے مل کر ہمیشہ سکون ہی ملا۔ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، ان کے ہاں چلا جاتا۔ واپس آنے تک سارا بوجھ ہلکا ہو چکا ہوتا۔ انسانیت سے محبت اور مثبت سوچ کا ڈھنگ میں نے ان ہی سے سیکھا۔ میں تو شیطان کو بھی خدا کی مخلوق سمجھتے ہوئے اس سے نفرت کرنے کے بجائے مسکرا کر مصافحہ کرنے اور ایک طرف نکل جانے کا قائل ہوں۔ میرے چاہنے والے سارے بے غرض لوگ ہیں۔ اسی لیے میں بھی بے غرض ہو کر ان سے پیار کرتا ہوں۔ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ گھسیڑنا میرا شیوہ نہیں۔ پنگھوڑے سے لے کر قبر تک کا یہی پیغام ہے کہ آدمی کو اپنی حد میں رہ کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی بے رحم کارروائیوں پر دکھی قوی خان کہتے ہیں کہ اس طرح کی سفاکی کا مظاہرہ عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ ایسا فعل درندہ صفت انسان ہی کر سکتے ہیں۔ ‘‘

ٹیلی ویژن پر یونس جاوید کے لکھے یادگار ڈرامے’’ اندھیرا جالا‘‘ میں ان کے کردار سے متاثر ہو کر ان دنوں آئی جی سندھ نے انہیں پولیس میں بطور پی آر او بھرتی ہونے کی پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ خود میرے والد گرامی پولیس میں رہے۔ اس لیے مجھے اس محکمہ سے بہت محبت ہے۔ میں نے’’ اندھیرا اجالا‘‘ میں دل جوئی سے کام کیا۔ اس لیے لوگوں نے بدلے میں مجھے بے پناہ پیار اور عزت دی۔ یہ بتاتے ہیں’’اندھیرا اجالا‘‘ میں ایماندار اے ایس پی کا کردارادا کیا تو لوگوں نے مجھے آئیڈیل بنالیا۔ ایک صاحب کا فون آیا۔ ان کا نوجوان بچہ کسی حادثہ میں فوت ہو چکا تھا۔ وہ مجھے سے ملنے کے خواہش مند تھے۔ ان کی آوازمیں اتنا درد اور التجا تھی کہ میں بیوی اور بھابھی کے ہمراہ فوراً ان کے گھر پہنچ گیا۔ جواں بیٹے کی موت سے نڈھال والدین مجھے دیکھ کر بلک پڑے۔ دونوں میاں بیوی نے مجھے اپنے بچے کا بیڈ روم دکھایا۔ وہاں ہر چیز ایک سلیقے اور ترتیب کے ساتھ پڑی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کمرے کا مکیں ابھی ابھی باہر نکلا ہے اور ذرا سی دیر میں واپس آ جائے گا۔ ایک کھونٹی سے بچے کے کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔ ممتا کی ماری ماں دیوانہ وار انہیں چومنے اور سسکنے لگی۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنا چشمہ پہن لیا۔ وہ مجھے بیٹے کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ ماں کی ممتا کا یہ روپ انمول تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کی تصویر لا کر مجھے دکھائی۔ وہ اسے میرے جیسا بنانا چاہتی تھی۔ ‘‘

اداکار قوی خان کی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو وہ سماجی خدمات ہیں، جن پر وہ جلد بات نہیں کرتے۔ پچھلے تقریباً 23 سال سے ملتان میں قائم قوی خان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہر سال پچیس مستحق بچیوں کی شادیاں۔ یہ ایسا کارخیر ہے، جس میں انہیں اپنے چاہنے والوں کا بھر پور تعاون حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، وہ بزرگوں کی بہبود کے لیے قائم ’’آسرا‘‘ سوسائٹی کے صدر ہیں۔ یہ سوسائٹی گلاب دیوی میں داخل مریضوں کے لیے بھی اپنی خدمات فراہم کرتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی‘ منیر نیازی‘ صہبا اختر کے مداح قوی خان کے بڑے بھائی پروفیسر محمد نبی خان انجم گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے استاد رہے۔ وہ پانچ سال قبل خالق حقیقی سے جا ملے۔ قوی خان کی شریک حیات مسز ناہید نقوی پاپولیشن پلاننگ کے محکمہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ملازم رہیں۔ ان کے چاروں بچے ملک سے باہر ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے آئی ٹی انجینئر عدنان قوی اور مہران قوی نے کچھ عرصہ اداکاری کا شو ق بھی پورا کیا۔ آج کل دونوں بھائی کینیڈا میں مقیم ہیں۔ جبکہ دونوں بیٹیاں ملیحہ قوی اور مدیحہ قوی امریکہ میں خوش گوار ازدواجی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ قوی خان کو فخر ہے کہ ان کی اولاد پاکستان کے کسی بھی فنکار کی اولادسے زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔

(Visited 313 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: