ابرار الحق سے ایک یادگار انٹرویو —– کرامت بھٹی

0

’’بھائی جی کتنی دیر میں پہنچیں گے‘‘؟
’’راستے میں ہوں‘صرف پانچ منٹ کا سفرہے‘‘’’اچھا! میرا انتظار کیجئے گا‘ مسجد جا رہا ہوں‘ مجھے نماز پڑھنے میں صرف دس منٹ لگیں گے۔ ‘‘
ابرار الحق نماز پڑھ کر لوٹے تو ہم نے پوچھا ’’بھائی صاحب! آپ اچھے رہے‘ لوگوں کو بلّو کے گھر بلایا اور خود خدا کے گھر چلے گئے۔
موتیوں کی طرح چمکتے دانتوں سے قہقہہ فوّارے کی طرح پھوٹا۔
’’بلو کا گھر تو بہانہ ہے بھائی جی! جس نے ہمارے کہنے پر ٹکٹ کٹائی‘ لائن بنائی‘ اسے اگلی منزلوں کا سراغ ملے گا۔ واعظ دن رات بولتا ہے مگر کوئی نہیں سنتا۔ ہم وہی بات اور طرح سے کریں گے، جسے لوگ غور سے سنیں گے اور اثر بھی زیادہ ہو گا۔ ‘‘

سہارا فار لائف ٹرسٹ کے مرکزی دفتر کا کشادہ کمرہ‘ دبیز قالین اور نفیس فرنیچر سے سجا ہوا، قائداعظم کی زندگی کے چھ یاد گارلمحے‘ سنہرے فریم میں جڑے دیوار پہ آویزاں‘ عین نیچے بڑی سی میز، جس کے پیچھے چرمی کرسی پر براجمان سفید شلوار قمیص والے ابرار الحق، کمرے میں اداسی اور آسودگی کا ملا جلا احساس۔ آسودگی گرد وپیش سے واضح تھی جبکہ بے نام اداسی ابرار الحق کی آنکھوں کے بے کنار سمندر میں ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔ ہمیں اب اسی سمندر میں ڈوبنا اور ابھرنا تھا۔ جی ہی جی میںنام خدا جپا او رتجسس کی نیّا پانی میں اتار دی۔

نارووال سے تقریباً سترہ کلومیٹر دور ایک گاؤں بھٹی کاہلوں کے نام سے آباد ہے۔ ابرارالحق کاہلوں کے بزرگوں کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ درویش صفت والد چودھری محمد شفیع محکمہ کسٹم میں افسر تھے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ابرار دنیا میں آئے تو یہ خاندان فیصل آباد میں مقیم تھا۔ ابتدائی تعلیم جونیئر ماڈل سکول گجرات سے حاصل کی۔ والد کا تبادلہ پنڈی ہوا تو میٹرک ‘ ایف ایس سی کے بعد گریجویشن سرسید کالج راولپنڈی اور ایم ایس سی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آبادسے کی۔

زمانہ طالب علمی میں ابرار الحق نے کرکٹ‘ بیڈمنٹن کھیلی‘ نعت خوانی‘ کلام اقبال اور تقریری مقابلوں میں درجنوں ایوارڈ جیتے۔ قبل ازیں کھانے کی ٹیبل بجا کر گھر والوں کو کلام اقبال سے راضی کرنے کا چارہ بھی کیا۔ گھر والے تو خیر کیا راضی ہوتے البتہ اس موقع، بے موقع مشق سے آواز میں نکھار ضرور آ گیا۔ اب یہ دوستوں کے حلقے میں گاتے تو خوب داد ملتی۔ جس سے راہ پا کر انہوں نے یونیورسٹی دور میں بلڈ ڈونر سوسائٹی کی مدد کے لیے فنڈ ریزنگ کنسرٹ کیا۔ اس پروگرام کے ٹکٹ ابرار نے لوگوں کو یہ کہہ کر بیچے کہ ایک شاندار گلوکار وہاں ایسا بھی آئے گا جسے دیکھ کر آپ حیران اور خوش ہو جائیں گے۔ ٹکٹ خرید کر پروگرام دیکھنے والے واقعی اس وقت خوش اور حیران رہ گئے جب انہوں نے ٹکٹ بیچنے والے ابرارکو سٹیج پر ناچتے دیکھا اور گاتے سنا۔

ابرار الحق کی زندگی کا قابل فخر دن وہ تھا جب انہیں ایچی سن میں ٹیچنگ کے لیے منتخب کیا گیا۔ اپنی والدہ محترمہ کی توقعات پر پورا اترنے کا سرور انہیں آج بھی یاد ہے۔ یہ ملازمت کا پروانہ لے کر سیدھے گھر پہنچے اور اسے ماں کے قدموں میں ڈال دیا۔ اپنے ہونہار بیٹے کی صلاحیتوں پر بے پناہ اعتماد کرنے والی ماں نے ایک ہی جملہ کہا ’’میرے بچے! مجھے یقین تھا‘ تم یہ کر سکتے ہو۔ ‘‘ ابرار نے ڈیڑھ سال ایچی سن میں جغرافیہ پڑھایا۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے چپکے چپکے اپنے گانوں کا البم لانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا تھا۔ ’’بلو دے گھر‘‘ کے نام سے البم لانچ ہوا تو اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ناصرف پاکستان بلکہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ان کے گائے گانوں کی دھوم مچ گئی۔ اس البم کی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ عزت‘ دولت اور شہرت کا ستارہ ابرار کی پیشانی پرپوری آب وتاب سے چمکنے لگا تو انہوں نے ایچی سن چھوڑ کر پوری توجہ گلوکاری کی طرف مبذول کر دی۔ ’’بلو دے گھر‘‘ کے بعد ’’بلو آن جی ٹی روڈ‘’ ’ بہ جا سائیکل تے‘ ‘اساں تے جاناں مالومال اور’’ نعرہ ساڈا عشق اے‘‘ کے نام سے البم مارکیٹ میں آئے۔ آج کل یہ’’ کیہہ کرن ڈے او‘‘ کے نام سے شاہ زمان اور اپنے کزن جواد کاہلوں کے ہمراہ البم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یہ البم بسنت تک مارکیٹ میں آ جائے گا۔ ابرار الحق نے خود کو گلوکاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اپنے گائے اکثرنغمے خود لکھے بلکہ ان کی موسیقی بھی آپ ہی ترتیب دی۔ ان کے کئی گانے متنازع بھی رہے۔ معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچا تو ان میں تبدیلی کر دی گئی۔ ’’نچ پنجابن نچ‘‘ اور’’ نی پروین نی تو بڑی نمکین نی‘‘ اس کی واضح مثال بنے۔ انہیں گورداس مان کے ساتھ ایک فلم میں کام کرنے کی پیشکش بھی کی گئی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔

ابرار کی شخصیت میں اعتماد اور محبت کے بیج بونے والی والدہ کی وفات وہ صدمہ تھا، جس نے انہیں ہلا کے رکھ دیا۔ مگر ابرار نے ٹوٹ کر بکھرنے کی بجائے پنی محسن ماں کے نام پر صغریٰ شفیع ٹرسٹ بنایا اور خلق خدا کی خدمت کا آغاز کر دیا۔ پچاس کروڑ کی لاگت سے 160 کنال اراضی پر قائم اس جدید ترین ہسپتال میں دو سو بستر کی گنجائش ہے۔ نارووال میں قائم اس ہسپتال میں روزانہ پانچ سو کے قریب آؤٹ ڈور مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ چھ سال قبل خدمت کا سفر شروع کرنے والے اس ہسپتال میں اب تک چھ لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ساڑھے تین سو انتہائی تربیت یافتہ افراد پر مشتمل سٹاف رکھنے والے اس ہسپتال کا سالانہ خرچہ 16 کروڑ روپے ہے۔ یہاں آنے والے ترانوے فیصد مریض مفت علاج کی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جس نے خود کو مستحق کہہ دیا، اسے ٹیسٹ‘ آپریشن‘ دوائیاں حتیٰ کہ روٹی تک مفت ملتی ہے۔ ابرار اس کام کے لیے رقم اندرون وبیرون ملک پروگراموں سے اکٹھی کرتے ہیں جو خاصا مشکل کام ہے۔ ہسپتال کی طرف سے دوردراز علاقوں میں صحت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہفتہ وار طبی کیمپ بھی لگتے ہیں۔ ابرار الحق کو اس نیک کام میں پوری فیملی خصوصاً بڑے بھائی میجر اسرار الحق کا بھرپور عملی تعاون حاصل ہے۔ ہسپتال کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے مستقبل میں یہاں میڈیکل کالج کے قیام سمیت دیگر منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ سہارا فار لائف ٹرسٹ لیبارٹریز کا نیٹ ورک پوری طرح سے بروئے کار ہے۔

چند سال قبل ابرار الحق نے یوتھ پارلیمنٹ کے نام سے تنظیم کے قیام کا اعلان کیا۔ جس کا مقصد سماجی شعبے میں بے لوث خدمات کے ذریعے سماجی انقلاب لانا قرار پایا۔ اب تک ایک لاکھ نوجوان اس پارلیمنٹ کے ممبر بن چکے ہیںجبکہ روزانہ ایک ہزار کے قریب نوجوان اس پارلیمنٹ کی ممبر شپ کے لیے رابطہ کر رہے ہیں۔ ابرار نے ملک بھر کے بیس اضلاع میں ورکشاپس منعقد کر کے ایک ہزار لائق اور ذہین نوجوانوں کو منتخب کیا۔ یہی لوگ آگے چل کر یوتھ پارلیمنٹ کی کابینہ منتخب کریں گے۔ یوتھ پارلیمنٹ کے تاحیات چیئرمین ابرار الحق اصرار کرتے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ مستقبل میں غیرسیاسی کردار ادا کرتے ہوئے نوجوان سوچ کی نہ صرف صحیح عکاسی کرے گی بلکہ غریب عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں بھی مددگار ہو گی۔

حریم ابرار کے شوہر‘چھ سالہ طہٰ اور دو سالہ حمنہ کے پاپا ابرار الحق اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ شفیق والدہ کے ساتھ ساتھ دردمند اور درویش منش باپ کا سایہ تادیر سر پہ سلامت رہا۔ 10 فروری 2002ء کو ان کے والد دارفانی سے رخصت ہوئے۔ اس دردناک لمحے کی یاد اور والدین کی تربیت کا عکس آج بھی ان کی شخصیت میں نمایاں ہے۔ یہ بتاتے ہیں ’’والد کے آبائی گاؤں میں ہماری زمین گو کم لیکن زرخیز بہت تھی۔ انہوں نے اسے بیچ کر لیہ میں کئی مربعے اراضی خریدی مگر یہ اراضی ایک تو خدا ترس والد کے جذبۂ ایثار کی نظر ہو گئی باقی بہن بھائیوں کی شادیوں کے لیے وقتاً فوقتاً بکتی رہی۔ میرے والد حقیقتاً بڑے دل کے آدمی تھے۔ ہمیں بھی ایسا ہی کرنے کی تلقین کرتے۔ کوئی سوالی ان کے پاس آتا تو خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔ وہ خود انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے مگر دوسروں کی ضرورتوں کا بہت خیال رکھتے۔ نماز‘ خدمت خلق اور وطن سے محبت پر پختہ یقین رکھنے والے والد کو لوگ سادگی‘سخاوت اورتقویٰ کے سبب صوفی کہتے۔ میں بچپن میں انہیں نعت شریف سناتا تو بہت خوش ہوتے۔ جب میری پہلی کیسٹ آئی تو انہوں نے فرمایا ’’ابرار یہ تم نے کیا کام شروع کر دیا ؟ یہ کوئی کام نہیں۔ اسے مستقل شروع نہ کر لینا‘‘۔ جب آس پاس لوگوں نے میری سفارش کی تو لوگوں کی شادیوں اور نجی محفلوںمیں نہ گانے کی پابندی عائد کر دی گئی جسے میں نے بخوبی نبھایا۔ کراچی کے ایک ڈان نے اپنے بیٹے کی شادی کے لیے بک کرنا چاہا۔ میں نے والد سے کیے وعدے کو پورا کرتے ہوئے انکار کیا تو انہوں نے ایک کروڑ روپے کی آفر کر دی۔ دو اڑھائی کروڑ ہسپتال کے لیے شادی میں آئے مہمانوں سے دلوانے کا وعدہ کیا۔ یہ میری زندگی میں کسی ایک پروگرام کے لیے سب سے بڑی پیشکش تھی۔ خدا کا شکر کہ میرے قدم نہ ڈگمگائے۔ جس پر ڈان نے کہا ’’ابرار بھائی! ہمارے کہنے پر اپنا اصول توڑ دو۔ ہو سکتا ہے ہم بھی کبھی تمہارے کہنے پر اپنا کوئی اصول توڑ دیں‘‘ لیکن میں نے نرمی سے معذرت کر لی‘‘۔

انتالیس سالہ ابرار الحق کا یقین ہے کہ جن اداروں میں کارپوریٹ گورننس نہ ہو جلد یا بدیر ڈوبنا ہی ان کا مقدر ہوتا ہے۔ عمران خان کے سماجی کاموں کا مستقبل محفوظ ہے کہ یہ ادارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا ہے لیکن عبدالستار ایدھی کے سماجی کاموں کے مستقبل پر انہیں خدشات ہیں۔ یہ کہتے ہیں ’’ہم نے سماجی خدمت کا بڑا منصوبہ صغریٰ شفیع ہسپتال کے نام سے شروع تو کر دیا، اب اسے ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ فی الحال تو سارا سال اسے چلانے کے لیے بھاگ دوڑجاری رہتی ہے۔ پہلے ارادہ تھا کہ انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیں لیکن اس میں سود کا عمل دخل ہوتا ہے، اس لیے دوست راضی نہیں ہوئے۔ اب سوچ رہے ہیں کہ گنگارام ہسپتال کی طرح رقم اکٹھی کر کے اس سے ہسپتال کے نام پر جائیداد‘ دکانیں وغیرہ خرید لیں جس کی آمدنی سے ہسپتال کا کام چلایا جائے۔

گلوکار‘ نغمہ نگار اور موسیقار ابرار الحق کا کہنا ہے کہ میری زندگی میں جو بھی تبدیلی آئی، وہ آہستہ آہستہ اور فطری طریقے سے آئی۔ چُلبلا پن بھی کم نہیں ہوا اور صوفی ازم سے محبت بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھی۔ زندگی کے ہر دور کی اپنی خوشیاں ہوتی ہیں۔ بچپن ہی میں ٹرائی سائیکل‘ پھر سائیکل‘ موٹرسائیکل‘ گاڑی کا وقت آتا ہے۔ اس ترتیب میں کچھ آگے پیچھے ہو تو گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انسان کی شادی ہوتی ہے، بچے آتے ہیں۔ تب رب کے جلوے دکھائی دیتے ہیں، تو عجب سی مسرت کا احساس جسم وجاں میں دوڑ جاتا ہے۔ جس طرح سائنس پریکٹیکل کے بغیر نامکمل ہے۔ اسی طرح تصوف بھی استاد کے بغیر سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ اس میں انسپائریشن استاد دیتا ہے۔ میں نوجوان تھا، جب بابا جی صوفی برکت علی لدھیانوی سے ملا۔ اس ایک ملاقات میں ان سے بیعت ہوا۔ میرے پھوپھا بڑے ماڈرن تھے۔ صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی تو زندگی بدل گئی۔ صوفی صاحب کی محبت کا اعجاز تھا کہ ہمارے اپنے گھر میں یا حّی یا قیوم کا ورد باقاعدگی سے ہوتا۔ ہمارے لیے روشنی کا مینارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب سے محبت کرنے والوں کو زندہ وجاوید بنا دیتا ہے۔ زندگی کے اس دور میں جب شہرت‘ جوانی اور دولت سمیت ہر طرح کی نعمتوں سے خدا نے نوازا۔ میرے قدم شام ہوتے ہی خودبخود داتا دربار کی طرف اٹھ جاتے۔ میں وضو کر کے وہاں بیٹھتا تو عجب طرح کا سکون ملتا۔ کوئی چیز مجھے داتا دربار کی طرف کھینچتی۔ میں نے بہن سے ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ کے دنیا میں آنے سے قبل والدہ نے داتا دربار جا کر قرآن پاک پڑھ کر خدا سے دعا مانگی تھی۔ اس کے بعد آپ دنیا میں آئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی وہاں جاتا ہوں بے حد تسکین اور اطمینان ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے قرب کا سب سے قوی احساس مدینہ شریف جا کر ہوتا ہے۔ مجھے وہاں دو کیفیتوں سے پالا پڑا۔ پہلی یہ کہ اس جائے قرار پہ خوشی سے لڈیاں ڈالوں‘ چھلانگیں ماروں۔ اس حد تک کہ بے خودی طاری ہو جائے جبکہ کبھی رب کریم سے قرب کا احساس گہرا ہو تو جی چاہتا ہے کسی کونے میں بیٹھ کر بس زاروقطارروتا جاؤں۔ ابرار الحق کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک اس وقت لبرل فاشسٹوں اور انتہاپسندوں کے گھیرے میں ہے۔ ہمیں نہ تو ایسی مادرپدر آزادی ہی چاہئے کہ معاشرہ خدا کو بھول جائے اور نہ ہی ایسی سختی کہ دین کسی کو موقع ہی نہ دے۔ گویا عبادات کو پیچھے کر کے عقوبات کو آگے کرنے کی اجازت نہ ہو کیونکہ سارے مسائل اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی اقدار پر عمل اور صوفی کلچر کو فروغ دے کرہم بہت سی برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ بندوق کے زور پر شریعت نافذ کرنا اور بے گناہ لوگوں کے لہو سے ہاتھ رنگنا، اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

نفسیات اور فلاسفی آف میکنگ لاء میں دلچسپی رکھنے والے ابرار کا کہنا ہے کہ اصول قانون کا مطالعہ انسان کو انصاف کے قریب لے جاتا ہے۔ اس سے انسان کی نفسیات سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ کرکٹ اور شکار کے شوقین ابرار کے بہترین دوستوں میں بریڈ فورڈ میں مقیم عمران حسین چودھری اور معروف سماجی شخصیت چودھری خورشید احمدکاہلوں کا نام نمایاں ہے۔ پاکستان میں صاف ستھرے اور استحصال سے پاک معاشرے کا قیام ان کا خواب ہے۔ ایسا معاشرہ قائداعظم کے اصولوں پر عمل کئے بغیر عمل میں نہیں آ سکتا۔ ابرار الحق کو حسرت ہے کہ زندگی پیچھے کو دوڑے اور انہیں مطالعہ کاجنون پورا کرنے کا پھر سے موقع ملے۔ پتہ نہیں ابرار کی یہ خواہش کس حد تک پوری ہوتی ہے تاہم گلوکاری، سماجی خدمت‘ یوتھ پارلیمنٹ اور روحانیت کے مابین معلق ابرار الحق کی میز پر جو کتابیں مطالعہ کے لیے ہم نے پڑی دیکھیں، ان میں کلیات حبیب جالب‘ تاریخ جنڈیالہ شیر خان‘ وارث لیکھا‘ سکھ کلچر اور ریاض الرحمن ساغر کی ’چاند جھروکے میں‘ خاص طور سے نمایاں تھیں۔

میڈیا کے متحرک کردار کے حوالے سے ابرار کچھ توجہ ان پہلوؤں کی طرف بھی دلاتے ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں مقابلے کی دوڑ میں اخلاقیات کے تقاضے نظرانداز ہو رہے ہیں۔ چھپنے یا نشر ہونے والے مواد کی ایڈیٹنگ کا مناسب بندوبست نہیں، جس سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔ اب دہشت گرد دھماکہ کر کے خود ٹی وی کے آگے بیٹھ کر افراتفری اور سوگ کا تماشا دیکھتے ہیں۔ میڈیا کو اس حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

(Visited 135 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: