سہیل احمد: شخصیت اور فن کی جہات —- انٹرویو: کرامت بھٹی

0
  • 73
    Shares

پھر یوں ہوا کہ چار سو خوشیوں کی سوغات بانٹنے والا آرٹسٹ‘ پھوٹ پھوٹ کے رو دیا۔ شاعر نے کہا تھا

جو سب سے مل رہا ہے مسکرا کے
کسی کے سامنے روتا بھی ہو گا

مگر ہمیں یہ گماں کب تھا کہ ایسا منظر بھی کبھی دیکھنے میں آئے گا۔ مکالمہ چاروں اور پھیلی غربت اور نا انصافی تک پہنچا تو اپنے دور کے بے مثل فنکار کی آنکھیں جوئے رواں بن گئیں۔ کسی ڈرامے کا سین ہوتا تو بھی سوگوار کردیتا‘ یہاں تو کھلی آنکھوں سے کلیجہ کباب دیکھنے کا منظر تھا۔ آنسو‘ کسی کی آنکھ میں آئے، تو کسی کے حلق میں اترے۔ خاموشی کے طویل وقفے نے بالآخر مومیائی کی تو ’بات سے بات‘ کا ناطہ پھر سے جڑ گیا۔

سہیل احمد یکم مئی 1963ء کو سیٹلائٹ ٹائون گوجرانوالہ میں میاں محمد اکرم کے گھر پیدا ہوئے۔ ملت ہائی سکول سے میٹرک، گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے انٹرکے بعد انہوں نے بی اے پرائیویٹ کیا۔ دوران تعلیم ان کا شمار ہاکی کے نمایاں کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔ بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر سہیل احمد کے نانا ہیں۔ بچپن میں انہوں نے نانا جان کو ٹی وی کے ادبی پروگرام میں دیکھا تو بڑی کشش محسوس ہوئی۔ یہ کشش باقاعدہ خواہش میں اس وقت ڈھلی جب سیکنڈ ایئر کے دوران وہ پہلی بار فلم دیکھنے سینما ہائوس گئے۔ وہاں پر لگی کیفی کی فلم ’تخت یا تختہ‘ نے ان کے اندر کااداکار بیدار کر دیا۔ ممتاز مصنف اور ہدایت کار اعوان جی ان کے محلے دار تھے۔ ایک دن سہیل احمد جو ان دنوں سہیل اکرم تھے، گھر والوں سے نظر بچا کر اس ہوٹل میں پہنچ گئے، جہاں اعوان جی کے لکھے ڈرامے ’’دولت کے پجاری‘‘ کی ریہرسل ہو رہی تھی۔ شاہد اعجاز کی ڈائریکشن میںبننے والے اس ڈرامے کے اندر سہیل احمد کو بدمعاش نما ہوٹل ملازم کا رول ملا، اپنے گاہکوں سے ریکوری جس کی ذمہ داری تھی۔ نامور فنکار مستانہ بھی اس ڈرامے کی ٹیم کا حصہ تھے۔ سہیل احمد کی ان سے شناسائی دوستی میں بدلی تو وہ انہیں فخری احمد کے پاس لاہور لے آئے اوران کا تعارف کراتے ہوئے کہا ’’تایاجی! آج سے یہ بھی آپ کا شاگرد ہے۔ اس کی سرپرستی فرمائیں‘‘ یوں سہیل احمد نے ’’تایا جی‘‘ کی شاگردی میں لاہور کے اندر پہلا ڈرامہ ’’جمالا تے کمالا‘‘ کیا۔ 83ء میں ہونے والے اس ڈرامے کے پروڈیوسر قاسم جلالی تھے۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ بے شمار سٹیج و ٹی وی ڈراموں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ انہیں ریڈیو پر صداکاری کا بھی موقع ملا۔ ’’کھڑکی اور آئینہ‘‘ ’’فشار‘‘ ’’شب دیگ‘‘ ’’دن‘‘ ’’حویلی‘‘ ’’دکھ سکھ‘‘ ’’رنجش‘‘ ’’کرن‘‘ ’’چھوٹو کی کہانی‘‘ ’’چھوٹے‘‘ ’’غریب شہر ‘‘ ’’کچے دھاگے‘‘ ــ ــ’’کاجل گھر‘‘ ’’سسر ان لا‘‘ ’’قاسمی کہانیاں‘‘ میں ان کا کردارشاندار رہا۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی سلور سکرین آرٹ مووی ’’نویں نکور‘‘ میںبطور ہیرو کام کیا۔ نثار حسین نے یہ فلم لندن فلم فیسٹول کے لیے بنائی۔ عثمان پیرزادہ نے کمرشل فلم ’’گوری دیاں جھانجھراں‘‘ بنائی تو ان کی نگہ انتخاب سہیل احمد پرٹھہری۔ دس فلموں میں کام کرنے والے سہیل احمد کا اعزاز ہے کہ انہیں لندن سکول آف آرٹس کی طرف سے بنی ’’پوئٹری آف اقبال‘‘ نامی دستاویزی فلم میں علامہ اقبال کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ یہ اب تک تمغہ امتیاز، اور پرائیڈ آف پرفارمنس کے علاوہ، دس گریجویٹ، چھ بولان ایوارڈز کے علاوہ ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، اور دو باربہترین ٹی وی ایکٹر کا انعام حاصل کرچکے ہیں۔

چار بھائیوں میں تیسرے سہیل احمد کے بڑے بھائی ڈاکٹر جاوید صحافی ہیں۔ وہ ایک ٹی وی چینل پر ’’کلی فقیر دی‘‘ کے نام سے صوفیانہ شاعری کے حوالے سے پروگرام کرتے رہے ہیں۔ ان کے دوسرے بھائی پروفیسر اورنگزیب گوجرانوالہ جبکہ پروفیسر جنید اکرم لاہو کے ایک کالج میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کے نانا بابائے پنجابی کہلائے تو والد اور دادا بھی گہرا علمی و ادبی شغف رکھتے تھے۔ سہیل احمد اس بات کو ماننے پر تیار نہیں کہ انہوں نے گھریلو روایات سے بغاوت کر کے کوئی ناپسندیدہ کام کیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گھرانے کی جو بھی علمی یا ادبی روایات ہیں، وہ بذریعہ پرفارمنس انہیں اگلی نسل تک منتقل کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے کام کی اہمیت مسلمہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے ثقافت کے فروغ کی اس کاوش کو معاشرے میں استحسان کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کی وجہ شاید مخصوص پس منظر کی حامل خواتین کا اس شعبے میںزیادہ عمل دخل ہے۔ نامور فنکار کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ اور محرومی یہ ہے کہ عوام کا بڑا حصہ ان کے شعبے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے نہ اسے اس کا اصل مقام دینے کو تیار ہے۔

سہیل احمد کے خیال میں پپو گجر، ارائیں دا کھڑاک، اشتہاری راجپوت اور غنڈی رن طرز کی فلمیں بنانے کا رحجان بدلنے کی ضرورت ہے۔ اپنی اصلی ثقافت کو فروغ دے کرہی قوم کو شعور دیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی سے جس ملک کے وزیر ثقافت کو یہ معلوم نہ ہو کہ ثقافت کس بلا کا نام ہے، وہاں عوام کیسے باشعور ہوں گے۔ خاص طور پر پچھلے دور حکومت میں تو کسی نے ثقافت کے فروغ کی طرف دھیان نہیں دیا۔ الٹا غلط کام کرنے والوں کی لگامیں ڈھیلی چھوڑ دی گئیں۔ فحاشی کو لبرل ازم کی چادر میں لپیٹ کر روایات کو مجروح کیا گیا۔ پرفارمنگ آرٹ کو انٹرٹینمنٹ کا نام دے کر باقی سب کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ہمارا مذہب دنیا کا سب سے لبرل مذہب ہے۔ لبرل ازم مائی ہندہ کو معاف کرنے کا نام ہے نہ کہ کپڑے اتارنے کا نام۔ جب تک ہمارا تصور نہیں بدلے گا، ہم اپنی اولاد کو جائیداد میںزر و زمین کے بجائے اچھا پاکستان دینے کی کوشش نہیں کریں گے، حالات نہیں بدلیں گے۔

سہیل احمد کا کہنا ہے

’’ہندوئوں نے اپنی مذہبی رسومات کو دلچسپ طریقے سے پیش کر کے ہماری قوم کو سٹار پلس کے ڈراموں کے سحر میں جکڑ لیا۔ وہ بری سے بری فلم میں بھی کچھ نہ کچھ پیغام دیتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں شوبز کا شعبہ یتیم بچے کی طرح ہے۔ اس شعبے کا کوئی والی وارث نہیں۔‘‘

سہیل احمد نے تقریباً پانچ سال قبل سٹیج ڈراموں پر بے ہودگی کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ ان کے نزدیک تھیٹر کے موجودہ دور کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان میں تھیٹر دراصل بوکھلا چکا ہے۔ یہاں کام کرنے والے اکثر لوگ ان پڑھ ہیں۔ مثبت شہرت کے لیے کام کی بجائے مال اکٹھا کرنا جن کا واحد مقصد ہے۔ بھاری بجٹ والے سرکاری محکمے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار نہیں۔ محکمہ ثقافت کے ہوتے ہوئے بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی حکومتوں کو آرٹس کونسلز کے سرپہ بٹھا دیا گیا ہے۔ ان محکموں کا ثقافت کے فروغ سے بھلا کیا تعلق… ڈراموں کی اصلاح کے بجائے یہ محکمے اپنی اصل ذمہ داریاں ہی پوری کر لیں تو بڑی خدمت ہو گی۔ جہالت میں گھٹنوں تک دھنسی قوم کو لبرل ازم کا درس فائدے کے بجائے، الٹا نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔ سہیل کی تھیٹرز میں بے ہودگی کیخلاف مہم سے جہاں تھیٹر کے سنجیدہ ناظرین نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی، وہاں سنگ باری کرنے والوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس جدوجہد کا نتیجہ ان کی توقع کے مطابق تو نہ نکلا تاہم اس حوالے سے ایک ارتعاش کی سی کیفیت ضرور پیدا ہوئی۔ اس جدوجہد کا پس منظر وہ یہ بتاتے ہیں کہ انہیں ایسا کرنے کی تحریک اس وقت بھی ملی جب الحمرا ہال میں ڈرامے دیکھنے کے لیے اعلیٰ انتظامی افسران بھی آتے تھے۔ انہیں اس وقت شدید چڑ ہوتی جب کوئی سرکاری اہلکار فنکاروں کے پاس آ کر تنبیہ کرتا کہ آج فلاں افسر فیملی سمیت ڈرامہ دیکھنے آئیں گے لہٰذا کوئی ایسی ویسی بات یا غیر محتاط جملہ نہ کہا جائے۔ سہیل احمد ایسے موقع پر سوچتے کہ یہ لوگ عام آدمی اور افسروں کی فیملی میں اتنی تفریق کیوں کرتے ہیں۔ کیا اعلیٰ سرکاری عہدیدار عام آدمی سے زیادہ غیرت والے اور باعزت ہیں؟ جب کلچر سب کا ایک ہے تو شرم و حیا کے معیارات بھی سب کے لیے ایک ہونے چاہئیں۔
ـ
نام ور فنکار کا تجزیہ ہے کہ بیمار معاشروں کی ساری نشانیاں ہم میں موجود ہیں۔ لالچ اور کج فہمی نے چار سو پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ یہ جو بندوقیں اٹھا کر جہاد کر رہے ہیں، یہ میری سرکارؐ کی سنت کے مطابق نہیں۔ اگر ہمیں اصل اسلامی احکامات پر چلنا ہے تو بندوق پر بھروسے کی بجائے کردار کی عظمت کو اپنانا ہو گا۔ ہمارے آقاﷺؐ چالیس برس اعلیٰ ترین کردار کے سبب صادق اور امین کہلائے۔ پھروہ تبلیغ کی طرف آئے تو خدا تعالٰی نے شاندار کامیابیاں عطا کیں۔ نماز‘ روزے‘ حج‘ زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو ادا کیے بغیر فلاح کا راستہ ممکن نہیں۔ غیر مسلم کیوں مسلمان ہو رہے ہیں، اسلام کے ان روشن پہلوئوں کو جان کر اپنے ہاں رواج دینے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

فخری احمد اور اجمل خان ایسے فن کار ہیں، جن کے کام نے سہیل احمد کو ہمیشہ متاثر کیا۔ انہیں کریکٹر ایکٹر بننے کی تحریک فلم ہیر رانجھا میں اجمل خان کی طرف سے کیدو کا کردار عمدہ طریقے سے ادا کرنے پر ملی۔ فخری احمد نے پروفیشن کے معاملے میں باریک بینی کے سبب متاثر کیا۔ خود کو مثالیت پسند قرار دینے والے سہیل احمد کا کہنا ہے کہ شوبز ہر روز کنواں کھود کر پانی پینے کا نام ہے۔ جب آپ اپنے کام میں نقص ہی نہیں نکا لیں گے تو خوب سے خوب تر کی جستجو کیسے ہوگی۔ تخلیق زندگی اور ٹھہرائو موت ہے۔ آدمی کی حوصلہ افزائی کو یہی کافی ہے کہ وہ زندہ ہے۔ عبدالستار ایدھی کی سماجی خدمات کے مداح سہیل احمد نے ایک زمانے میں روزنامہ جنگ کے لیے فیچر لکھے، ڈیڑھ سال تک روزنامہ’’تہلکہ‘‘ کی مینجنگ ایڈیٹر ی کی۔ ان کا کہناہے کہ میڈیا کی مثال اس چھلنی کی طرح ہے جو غیر ضروری اشیا کو چھانٹ دیتی ہے۔ اگر یہ جالی ہی پھٹی ہوئی ہو تو مقصد کیسے حاصل ہو۔ میڈیا کے لوگوں کے لیے صرف وسعت ہی واحد ترجیح نہ رہے، فرائض منصبی کو سمجھنابھی اشد ضروری ہے۔ لوگوں نے میڈیا کے روبراب اپنے موقف پر اصر ارکرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے آثار خوش آئند ہیں۔

اے سی سی اے کے طالب علم شاہ زیب، خدیجہ، حرا، شاہ رخ، حمزہ اورنو سالہ محمد علی کے والد سہیل احمد کے مطابق عمران خان بہت ہی پیارا انسان ہے تاہم وہ غلط شعبے میں چلا گیا۔ عمران خان سیاست کی بجائے تعلیم یا صحت کے شعبے تک محدود رہتا تو زیادہ اچھی بات تھی۔

غریبوں کی حالت کا ذکر آئے توآزردگی اس حساس فنکار کے لب و لہجے میں اتر آتی ہے۔ ان کے نزدیک میرے وطن کے غریب تو وہ’فرشتے‘ ہیں جو اینٹیں ڈھوتے، جھاڑو دیتے، ٹانگیں دباتے، ذلت سہتے ساری زندگی گزار دیتے ہیں، بھوک اور بیماری سے لاچاریہ لوگ اپنا حق مارنے والے ناجائز فروشوں کو دولت میں کھیلتا دیکھتے ہیں مگر نہ تو حرف شکایت لب پر لاتے ہیں اور نہ ہی اپنی ایمانداری سے دستبردار ہونے پر خود کو آمادہ پاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ناچنے والی خواتین کو کوئی منع کرے تو کہتی ہیں یہ کام نہ کریں تو کھائیں کہاں سے؟ ایسے میں صد آفریںان خواتین اور بچیوں پر جو کوٹھیوں میں ماہانہ دو ہزار روپے پرکام کر کے کنبے کا پیٹ پالتی اور اپنی عزت اور غیرت کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب معاشرے میں برائی عام ہو جائے اور کوئی اس پر شرمندگی محسوس نہ کرے۔

اس سوال پرکہ الیکشن میں آپ کس پارٹی یا شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں، ان کا کہنا تھا

’’فی الحال ووٹ دینے والے حالات نہیں۔ اخبار کے پہلے صفحے پر خبر چھپتی ہے کہ عام انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں گے۔ اسی اخبار کے آخری صفحے پر ایک بڑی سی تصویر بھی نظر آ جاتی ہے، جس میں پولیس اہلکاروں کو ایک جماعت کے بینر لگاتے دکھایا جاتا ہے۔ جب تک پہلے اور آخری صفحے کا یہ تضاد ختم نہیں ہو جاتا، کسی کو ووٹ دینے کے لیے باہر آنے کا فائدہ…؟ اپنا تو فی الحال یہی نعرہ ہے ’جیتے گا بھئی جیتے گا کوئی نہ کوئی تو جیتے گا۔ قوم میں زیادہ ٹینشن اس لیے بھی ہے کہ یہاں کبھی کسی حادثے کا نتیجہ قوم کے سامنے نہیں رکھا جاتا۔ قائد اعظم کی رحلت سے نوازشریف کی روانگی اور آمد اور بینطیر بھٹو کی شہادت تک آج تک کچھ بھی واضح نہیں ہو سکا۔ ‘‘

سہیل احمد کا کہنا ہے کہ عمر شریف نے حکومتی عہدہ لے کر شعبے کی خدمت کی تاہم مجھے اس قسم کا موقع اگر مل گیا تو یقین ہے کہ لوگ مجھ سے ناراض ہی ہوں گے۔ تاہم ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ ایسے لوگ اس طرف آئیں جو قومی ثقافت کا اصل چہرہ اجال سکیں۔ سہیل احمد قرار دیتے ہیں کہ لاہور کا ہال روڈ فحش سی ڈیز کی فروخت کے حوالے سے بنکاک بن چکا ہے۔ لگتا ہے حکومتی اہلکاروں کا وہاں سے گزر نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے توجانے آنکھیں کیوں موند لی جاتی ہیں۔ دوسری طرف سنسر بورڈ کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے۔ جس کے ارکان ’’منجی دے وچ ڈانگ پھیر دا‘‘ جیسے شرمناک گانے پاس کردیتے ہیں مگر کوئی نہیں جو ان کااحتساب کرنے والا ہو۔

سہیل احمد پاکستانی فنکاروں کی کارکردگی کو دستیاب بجٹ کے حساب سے معیاری خیال کرتے ہیں۔ وہ شان، بابر علی اور معمر رانا کی اداکاری سے خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری ہیروئنیں بھی انگزیزی کے علاوہ پوری طرح باصلاحیت ہیں بشرطیکہ کوئی ان کے ٹیلنٹ کو پہچان کر اس کے مطابق کام لینے والا بھی ہو۔ سہیل احمد اعلٰی تعلیم کو آرٹ کے فروغ کے لیے انتہائی بنیادی چیز خیال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آج کل آدمی سے زیادہ پرفارمنس مشین پر منتقل ہوچکی ہے۔ لہٰذا مشین کو سمجھنے کے لیے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہمارے معاشرے میں فرسٹریشن بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یہاں بلیک کامیڈی بہترین رویہ ہے۔ وہ ففٹی ففٹی، اندھیرا اجالا، الف نون اور اپنے لکھے ڈراموں کو بلیک کامیڈی کی عمدہ مثال قرار دیتے ہیں۔

سہیل احمد کو زندگی میں سب سے زیادہ ان کے والد گرامی نے متاثر کیا۔ وہ انتہائی نفیس، منظم اور با اصول انسان تھے۔ محکمہ پولیس میں ڈی ایس پی ہونے کے باوجود ان کے اندر تکبر نام کو بھی نہیں تھا۔ انہوں نے زندگی بھرسستا مگر صاف ستھرا لباس پہنا۔ جوتا بے شک مرمت شدہ ہوتا مگر اس پر پالش کی چمک کبھی ماند نہ پڑتی۔ وہ ہاتھ دھوئے بغیر کھانے کے قریب بھی نہ جاتے۔ گھر میں جب بھی گوشت پکا‘ انہوں نے ایک ہی بوٹی پر اکتفا کیا۔ والدہ رکابی میں زائد سالن ڈال دیتیں تو واپس کر دیتے۔ محکمانہ سطح پر ان کی دیانت داری کے سبب سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کو ریلیف ملا۔ انہوں نے رزق حلال سے ہم بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ سہیل مستقبل میں ان کے نام پرسماجی خدمت کا کوئی کام کرنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: